Breaking News

خاکہ نگاری ایک فن ہے کشور سلطانہ صاحبہ نے اس فن کو بہت خوبصورتی سے نبھایا By Shamsa Najam

unnamed

خاکہ نگاری ایک فن ہے کشور سلطانہ صاحبہ نے اس فن کو بہت خوبصورتی سے نبھایا ہے ۔ آپ کی خوبصورت اور قیمتی بصارتوں کی نذر۔ آپ کی رائے اور تبصرے ہمارے لیے بہت قیمتی ہیں ۔
برائے تنقید و تبصرہ
خالہ اماں
تحریر: کشور سلطانہ
بینر: شمسہ نجم
آج میں آپ کو اپنی ہردلعزیزخالہ اماں سے ملوانا چاہتی ہوں جو نہ صرف میری بلکہ جگت خالہ اماں تھیں نہایت دیندار ،مخلص،ہر ایک کے دکھ درد مین کام آنے والی وہ شکارپور میں ایک بڑی سی حویلی میں رہتی تھیں اولاد کی نعمت سے محروم بس خالو ابا اوروہ اکیلےمال ودولت کی کمی نہ تھی گھر میں ہی بچوں کو ثواب کی نیت سے قرآن پاک پڑھاتیں اور دینی تعلیم سےآراستہ بھی کرتیں،ہر کسی کے دکھ درد میں کام انے والی جب بھی خاندان میں کسی کی شادی بیاہ یا چلہ چھٹیی ہوتاتو وہ بلا تکلف اپنی خدمات پیش کرتیںبس شرط یہ تھی ایک دو ہفتہ پہلے انکو بتایا جاے تا وہ آسانی سے اپنا زادراہ تئار کر سکین،،اب سے چالیس پہلے جب دلہن رخصت ہوتی تو اسکے ساتھ ایک ساتھ والی بھی جاتیتھی جو اسکو ایک اجنبی ماحول سے روشناس کراتی یہ کام بھی انہی کے زمہ تھا وہ یہ کام بھی بخوشی سر انجام دےتیں ہر دلہن کےلئے تحفہ کے علاوہ اپنے ہاتھ سے تئار کی ہوئ کمخاب،اتلس اور بنارسی کپڑے کی رضائ بھی ضرور دیتیںاسکی زئبائش کے لئے اصلی گوٹا گوٹے سے بنےپھول کناری،چمپا،کوکھرو سب لگاتی دیکھنےوالا دور سے جان لیتا کہ یہ کس دلہن کی ہی ہے وہ منہ بولتا شاہکارھوتی،انکی بنائ ہوئ رضائییاں بہت مقبول تھین تقریبا سب شادی شدہ لڑکی کو مل چکی ہونگی،،،،،،،،،،،،،،،
بوٹا سا قدسرخ و سپید رنگت گھنیرے لمبے بال بالوںمیں چمکتے ہوے چاندیکے تار-ان سے گوندھی ہوی تین انچ موٹی چوٹی جسکو وہ آخری سرے تک بل دیتیں اور اس مین ایک ربن بھی باندھتیں،،بڑی بڑی خوبصورت بولتی زہیین آنکھیں گلا بی ھونٹ پان کھانے سے اور بھی یاقو تی ہو جاتے ایک ہاتھ میں گھڑی وقت کی بہت پابند تھین دوسرے ہاتھ مین کنگن، کرتے کے گلے میں سونے کے بٹن،کانوں میں جھمکے یا بالیاں صرور ہوتیں ،،،،زیادہ تر انکالباس چوڑی دار پاجامہ کرتا برڑا سا دوپٹہ جسکے کناروں پر بیل ضرور لگی ہوتی یا پھر غرارہ اور چھوٹی کر تی زیادہ تر کاٹن کازیب تن کرتیں کسی تقریب میں جانا ھوتا تو یہ لباس ریشم،اتلس ساٹن میں تبدیل ہوجاتامگر رہتا یہی،،،،،
سب سے جدا انکا اندازتکلم اور اور خود ساختہ مہاورے جنکو سن کر سب ہی محظوظ ہوتے ان میں سے چند یہ ہیں،،،،،کلموہے،،کمبختیمارے،، جھاڑوپھرے ،، تیری ساس کو لے جائں کوے،،،تیرے سسر کے،،،،،، کتے مر جائں،بھوکے پیاسے،،،،دعائیہ کلمات یہ ہوتے ،،،،،،اللہ کرے تیرا دسترخوان بھرا رھے،،،،،تیرے باغ میں لگ جائیں آم یا سیب ہرشخص یہ کلمات سننے کے لئے انکواکساتا اور خوش ہوتا کسی کو بھی برا نہ لگتاانکا پیار بھرا انداز ہی ایسا تھا,,,,,,,شرعی پردہ کرتیین کیا مجال کوئ نامحرم انکو دیکھ لے حتہ کہ وہ ٹی وی سے بھی پردہ کرتی اگر کبھی نگاہ پڑ جاتی تو کفارا ادا کرتی یا پھرروزہ رکھتی انکے کمرے میں کوئ تصویر نہ ھو نہ کبھی کھنچوای نہ لگائ،،،،،،،،،،نہایت معصوم سیدھی سادی،،،،،،،پاکدامن خاتون انکے ایک بھائ جو انڑیا میں ہوتے تھےان سے وہ بے انتہامحبت کرتی اگر خدانخواستہ انڈیا سے انکے کان گرم ہونے کی اطلاع بھی آ جاتی تو بس پھر ادھر تسبیح کے دانے تیزی سے گھومنے لگتےاوروہ ،،یا سلام،،کا سوا لاکھ کا ختم کرڈالتیںاور آنکھوں سے آنسو نہ تھمتے،لب پر دعائں اور جب انکی خیریت مل جا تی تو بچوںمیں مٹھائ تقسیم کرتی خوب خوش ہوتیں ہر سال تین ماہ اپنے بھائ کے پاس جاتیںاور آتیں،،،،،،،
،،پھرہوا یوں کہ ھمارابھی نمبر اگیا اورشادی کے شادیانے بجنے لگےسبسے پہلے انکو اطلاع کی گئ تاکہ کراچی آنے کی تئاری کر سکں ،،،،انکے انے سے پہلے انکا کمرہ تئیار کیا جا تا جسمیں ایک تخت بھی ضروری ہو جس پر گاوتکیےرکھے ہو جہا ں اپنےپاندان کے علاوہ خاصدان بھی رکھ سکیں آرام سے بیٹھ سکین کوئ نامحرم ادھر سے نہ گزرے ،،نوکر چاکر کا بھی گزر نہ ہوشادی سے پندرہ دن پہلےوہ ہمارے ہاں تشریف لے آئیں سب ہی انکےاستقبال کےلئےمستعد تھے آتے ہی امی کے گلے لگ کے جو رونا شروع کیا پانچ منٹ ہو گئےباقی سب کھڑے اپنی باری کا انتظار کرتے رہے,سب بچے چھپ چھپ کےہنستے رہے یہ کیا ہو رہا ہے ان معصوموں کو نہہی معلوم تھاکہ محبت کا بند جب ٹو ٹتاہےتو یونہی سیلاب آیا کرتے ہیں ،،،باقی سبکو تو فرض کی ادئگی سمجھتے ہو ے فارغ کردیا اب برقع اتارنا شرع ہوا پہلے اوپر کا حصہ جو ایک بڑا سا گول نقاب تھا اس نقاب مین بھی اورچھوٹا نقاب جس میں الگ سے کورشئے سے بنواکر آنکھیں لگی تھںں وہ آتارا اب نیچے ایک پیٹی کوٹ کی طرح گھیردار جو آگے سے کھلا جسمیں کاج بٹن لگے تھے مبادا کہ آگے سے کھل نہ جائے اور بےپردگی نہ ہوجائے وہ اتارا گیا اب زرا صوفے پہ نیم دراز ہویںاور پانی کی فرمائش کی،،،،،،
امی نے جھٹ سےرانی کو پانی لانےکو کہا،جیسے ہی پانی ایا چہرے پرناراضگی کے بادل چھا گئے حکم ہواوہ ڈلیا لا اس میں سے چاندی کا کٹورا نکال کے دیااسکو دھو کے ٹھنڈا پانی لاو آئندہ اسی میں پلانا،،انکے سامان میں دو تین مخصوص چیزیں بھی شامل تھیں ان میں ایک خوبصورت ٹوکری جسے وہ ڈلیا کہتیں وہ کھجور سے بنی تھی اسکےاوپر بھی کامدار غلاف چڑھایا ہواتھا اسکےاندر چھالیہ تمباکو کا خوبصوت کمخاب کابٹوہ اسمییں بھی پرتیں ایک میں تمباکودوسرے میں چھالیہ بٹوے مین دونوں طرف سنہری ڈوریاں لاجواب تھا اور ایک تلہدادنی وہ بھی کمخاب کی جسمیں وہ سوئیاں دھاگے بٹن رکھتیں اور ضرورت کیچھوٹی موٹی چیزیں بھی ھو تیں سبکے درمیان کچھ دیر بیٹھیں پھر انکو بمع سامان انکے کمرے مین پہنچادیا گیا کمرہ دیکھتےہی بہت خوش ہوئں اور پھر پشت در پشت سبکو دعائں دے ڈالیں،،،،،ھماری شادی مین دس دن باقی تھے انکو ہمارے ابٹن کی فکر لاحق شروع ہوگئ ایک بچی کو بلایا ابٹن ،مہندی کےلئے سامان کی لمبی لسٹ تئیار کروائ یہ سب کل تک لے آنا میں خود بناوگی اور خود لگاونگی اگلے دن وہ سامان آگیا تئیاری شروع ہو گئ رات ہوئ کمرے میں ھرے پیلے پردے ڈال دئے گئےاور مجھے بھی ڈھیلے ڈھالےپیلے کپڑے پہنادئےراتگئے ہمیں ایک خوبصورت پیلی چوکی پہ بٹھادیا اوزابٹن لگانا شروع کردیاجب ابٹن ختم ہواتو تیل سےہلکی مالش پہ ختم ہوا اب روزانہ ہی عشاء کی نماز کے بعد ابٹن لگایا جاتا،،جب شادی میں 3 دن رہ گئے لڑکیو ں نے ڈھولک پہ گیتو ں فرمائش شرو ع کردی،اجازت تو مل گی لیکن کچھ شرائط کے ساتھ
مثلا یہی لڑکیوں کے کمرے میں نا محر م داخل نہ ہوں اس طرح سب نےروز رات کویہ محفل سجائ اب تو وہ خور بھی پرانے میر خسرو کے گیت گاتیں یا شمشادبیگم کاپرانا گیت جواس زمانے بیحد مشہور تھا،،،،چھوڑ بابل کا گھر آج جانا پڑا،،،، جیسے ہی سنتیں زارو قطار رونےلگتیں اور سبکو رلاتیں،،آج مہندی کی رات سب سکھیوں بالییوں نے مہندی لگائ میرے ہاتھوںپہ انکی خور تئیار کی ہوئ انہوں نے لگائ اسکے بعد آمد بارات سے لیکر رخصتی تک ہر کام میں پیش پیش رہیں رخصتی کےوقت بس کچھ نہ پوچھے روتے وتےہیی احکامات صادر ہوےایک چادراڑھاکرگاڑی میں بھی ساتھ بیٹھ کر رخصت ہوئین تمام رسومات میں بھی ساتھ رہییں مبادا کہ گھونگھٹ نہ سرک جاے گھونگھٹ پہ کڑی نظر تھی حجلئہ عروسی تک جاتے جاتے نجانے کتنی نصیحتیں کر ڈالیں،،،،،،،،،،
صبح گیارابجےہمیں تئیار کرکے ایک مسند پہ بڑا ساگھونگھٹ نکالکے بٹھایا گیاایک مخصوص اندازتھا جو بھلائے نہیں بھولتادایاں گھٹنادہرا کرکے نیچیے بچھائے اور بایاں گٹھنا دہرا کے برابر میں کھڑا کرئےاب اسکے اوپر دونوں ہاتھوں کاایک کٹورا بنا کر اپنا ماتھا اسپہ ٹیکئے اور سر جھکا کر موئدب بیٹھ جائیےاسکو منہ دکھائ کہا جا تا،اب تمام لوگ باری باری آتے اور خالہ اماں ہمارا چہرہ اپنے ہاتھ سے اوپر اٹھا تیں اورلوگ تعریف کرتے ما شائاللہ کہتےہوئےخالہ اماں کومنہ دکھائکی رقم تھماتے رہے اور ہم ایک بیجان مورتی کی طرح آنکھیں بند کئے سر جھکاے بیٹھے رہے زرا سا سر اوپرکیا توکان میں پیار بھری ڈانٹ پڑ تی یا پھر کمر میں ایک باریک سی چٹکی کا احساس ہمیں کچھ اپنی غلطی کا الارم دیتاجب دپہر کےکھانے اور نماز کا وقفہ ملا تو سانس آیا، تھے تو اپنے میں کھلی فضا میں سانس توآیاشامکو اپنے گھر گئےدو نفل شکر کے اداکئے اورکہاایسی دلہن سے ہم باز آئے،،،،،،خدا خدا کرکے شادی کی تقریب ختم ہوئ
خالہ اماں کا یہ دستور تھا جب خاندان میں 2 یا3 شادیاں ہو جاتییں تووہ ایک ہال بک کراتیں سب نئے جوڑوں اور
انکےلوآحقین کی دعوت کرتیں خوش ہوتیں،جیسے جیسے عمر بڑھتی گئ بیمار رہنے لگین پھر وہ انڈیا چلی گئیں۔
اسکےبعد بہت ہی کم رابطہ رہااوروہیں پہ انتقال کرگیئں انکے سب چاہنےوالے انکی مغفرت کی دعا کرتے ہیی
آج بھی انکی یاد بیس سال گزر جانے کے بعد زندہ جاوید ھے جنہوں نے انکے پیار بھرےجملے سنے تھے وہ اب
سب کہتے ہیں کہ انکے کوے بھی اڑ گےاور کتے بھوکے پیاسے مرگئے آہ پیاری خالہ اماں،،،،،،،

خاکہ نگاری ایک فن ہے کشور سلطانہ صاحبہ نے اس فن کو بہت خوبصورتی سے نبھایا ہے ۔ آپ کی خوبصورت اور قی…

About meharafroz

Check Also

Hikayat By Qaisar Nazir Khawar

پیسے پورے کرنا ترکی ادب؛ حکایات خواجہ نصیرالدین، مُلا سے انتخاب ۔ 1 اردو قالب؛ …

2,104 comments

  1. I’m now not certain the place you’re getting your information, but great topic.
    I must spend a while learning more or figuring out more.
    Thanks for grezt information I used to bbe searching for this information for my
    mission.

  2. This post offers clear idea for the new visitors of blogging, that genuinely how to
    do blogging.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *