Breaking News

دہشت گردی کے خلاف جنگ: حقیقت یا مفروضہ Article by Nadeem Siddiqui

ایک خاص مضمون جسے تمام مسلم والدین اور مسلم نوجوانوں کو پڑھنا چاہیے۔

دہشت گردی کے خلاف جنگ: حقیقت یا مفروضہ
افتخار گیلانی( دہلی)
اگلی بار اگر آپ کا سامنا زاہدانہ وضع و قطع زیب تن کئے کسی مولانا سے ہو اور وہ فصاحت و بلاغت کے دریا بہاتے ہوئے، رِقت آمیز لہجے میں مسلمانوںپر ہونے والے ظلم و ستم کا ذکر کرتے ہوئے، نوجوانوں کو جہاد کی ترغیب دے رہا ہو، تو جذبات میں بہنے کے بجائے مولانا صاحب کا پس منظر معلوم کرنے کی کوشش کریں۔یہ شخص شکار کی تلاش میں کسی خفیہ ایجنسی کا اہلکار بھی ہوسکتا ہے۔دُنیا کی مختلف ایجنسیوں کی طرح بھارت میں بھی ان کے ہم منصب اصل دہشت گردوں کو کیفر ِکردار تک پہنچانے کے بجائے، حکومت اور عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکتے ہوئے ایوارڈ اور شاباشی بٹورنے کیلئے دہشت گرد پیدا کرنے کا گورکھ دھنداکرتی ہیں۔یہ کسی ناول کا پلاٹ نہیں ہے۔بلکہ بھارت کے مرکزی تفتشی بیورو یعنی سینٹر ل بیورو آف انوسٹییگیشن(سی بی آئی) کی ایک رپورٹ ہے، جس کو حال ہی میں دہلی کی ایک عدالت نے تسلیم کرتے ہوئے دو مسلم نوجوانوں ارشاد علی اور نواب معارف قمر کو 11 سال بعد بری کردیا۔یہ دونوں افرادبھارت کے خفیہ ادارے اینٹلی جنس بیورو (آئی بی) اور دہلی کی اسپیشل پولیس کے مخبر تھے، جو بعد میں ان کے عتاب کا شکار ہوکر جیل میں چلے گئے۔ ان کے ہوشربا انکشافات سی بی آئی اور کورٹ کے ریکارڈ پر موجود ہیں۔بھارت کے دار ا لحکومت دہلی کے قلب میں پارلیمنٹ ہاؤس اور پریس کلب آف انڈیا سے چند قدم کی دوری پر نیوز پیپر پبلشیز کا 6منزلہ دفتر واقع ہے۔ اس بلڈنگ میں دہلی سے باہر شائع ہونے والے اکثر اخبارات کے بیورو ہیں۔تقریباً ایک دہائی تک کشمیر ٹائمز کے دہلی بیورو سے وابستگی کی وجہ سے میرے شب و رز بھی اسی بلڈنگ میں گزرتے تھے۔ اس بلڈنگ کے صدر دروازے پر ایک چائے کا کھوکھہ(باکڑا) ہے جو سنجے کی دُکان کے نام سے مشہور ہے۔پریس کلب کے بعد صحافیوں کیلئے ایک اہم میٹنگ پوائنٹ ہے، جہاں شام کو چائے پیتے ہوئے خبروں کی ادلا بدلی ہوتی ہے۔ کئی سیاسی کارکن بھی خبریں دینے کے فراق میں گھومتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ عمر رسیدہ صحافیوں کا کہنا ہے، کہ سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی ، جب صرف ممبر ،پارلیمنٹ ہوتے تھے، تو شام کو واک کرتے ہوئے سنجے کی دُکان پر چائے پینے کیلئے رُکتے تھے اور صحافیوں کے ساتھ تبادلہ خیال کرتے تھے۔غالباً 2007 میں دکان کے مالک سنجے نے آواز دیکر بتایاکہ میرے نام کوئی خط اسکے حوالے کر گیا ہے۔بھیجنے والے کا نام ارشاد علی ولد محمد یونس اور پتہ تہاڑ جیل کے ہائی رِسک وارڈ کا تھا۔طویل خط میں ارشاد علی نے لکھا تھا، کہ وہ اپنے ساتھی معارف قمر کے ساتھ کشمیر میں مخبری کا کام کرتا تھا اور چند افسران اسکو لائن آف کنٹرول پار کرکے لشکرِ طیبہ میں شامل ہونے کیلئے دباؤ ڈال رہے تھے۔ جان کے خوف سے جب انہوں نے انکار کیا، تو ان کو بات چیت کرنے کیلئے دہلی بُلا کر دو ماہ تک قید میں رکھا گیا، بعد میں البدر سے وابستہ دہشت گرد قرار دیکر جیل میں ڈال دیا گیا۔یہ خط من و عن دہلی سے شائع ہونے والے اردو اخبارراشٹریہ سہارا کے اسوقت کے ایڈیٹر عزیز برنی نے خاصی جراًت مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے شائع کیا۔اسی دوران دہلی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے جیل سے ارشاد علی کی اپیل کو منظور کرتے ہوئے، حقائق کا پتہ لگانے کیلئے سی بی آئی کو حکم دِیا۔جس نے اس خط کے مندرجات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا، کہ گرفتاری سے قبل یہ دونوں حضرات آئی بی اور دہلی پولیس کی اسپیشل سیل کے اعلی ٰ افسران سے رابطے میںتھے۔ارشاد علی کے خط کے مندرجات میں یہاں نقل کرتا ہوں۔
’’میں دہلی پولیس کی اسپیشل سیل کیلئے مخبری کا کام کرتا تھا۔ اس سیل کا کام خفیہ ایجنسی آئی بی کے ساتھ مل کر دہشت گردوں کو کیفر ِکردار تک پہنچانا ہے۔ مگر کام کرتے ہوئے مجھے اندازہ ہواکہ بجائے دہشت گردوں کو پکڑنے کے یہ دہشت گردوں کو پیدا کرتے ہیں۔کیا آپ نے کبھی غور کرنے کی کوشش کی ہے، کہ دہشت گردانہ واقعے کے فوراً بعد یہ کتنی سُرعت کے ساتھ ملوث افراد کو پکڑنے کا دعویٰ کرتے ہیں؟آخر کیسے ؟ میرے پاس اسکے جوابات ہیں۔شاباشی اور میڈل بٹورنے کیلئے ان اداروں نے معمولی سے مشاہر ے پر لاتعداد مخبروں کی ایک فوج بھرتی کی ہوئی ہے۔یہ اکثر آوارہ گرد نوجوان ہوتے ہیں، جن کو موبائل فون اور پولیس کی سرپرستی مل جاتی ہے۔وہ شہر کے کسی علاقے میں رہائش اختیار کرکے بے روز گار نوجوانوں کے ساتھ دوستی کرکے انکو اپنے جال میں پھنسا دیتے ہیں۔ ایک گروپ بناکر اور ہتھیار فراہم کرکے کہیں ڈاکہ ڈالنے کا پروگرام بنتا ہے۔ چوری کی گاڑی بھی انکو اسپیشل سیل ہی سے فراہم کروائی جاتی ہے۔ آپریشن کے دن موقع پر وہ مچھلی کی طرح ایک جال میں پھنس جاتے ہیں، کیونکہ وہاں تو پولیس پہلے سے ہی گھیرہ ڈالے ہوئی ہوتی ہے۔ میڈیا میں اگلے دن خبر ہوتی ہے،کہ کس طرح پولیس نے ایک گروہ کو پکڑا ، مگر اس کا سرغنہ چکمہ دے کر فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا ہے اور اسکی تلاش جاری ہے۔ان نوجوانوں کو کبھی بھی یہ ادراک نہیں ہوتا، کہ ان کو پھنسایا گیا۔ وہ پوری عمر اپنی قسمت کو کوستے رہتے ہیں۔اس سے بھی زیادہ خطرناک ان کا دہشت گردی سے نپٹنے کا طریقہ ہے۔یہ ایجنسیاں حکومت اور عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکتی رہتی ہیں۔ آپ نے میڈیا میں اس طرح کی خبریں پر غور کیا ہوگا۔ کہ دہلی یا ممبئی میں دہشت گرد کسی واردات کے فراق میں ہیں ، یا اتر پردیش یا کسی اور علاقے میں پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی نے ٹھکانے بنائے ہیں۔اس کو سچ ثابت کرنے کیلئے کسی مسلم علاقے میں زاہدانہ وضع و قطع کا کئی مولوی صورت شخص روانہ کیا جاتا ہے، جو علوم اسلامی میں دسترس رکھتا ہو۔یہ حضرت یا تو کسی مسجد کے آس پاس مکان کرایہ پر لیتے ہیں یا مسجد میں ہی ڈیرہ جماتے ہیں۔اس کے متقی پن اور پرہیزگاری سے متاثر ہوکر محلہ یا گاوں کے افراد اسکے گرویدہ ہوجاتے ہیں۔یہ حضرت رِقت آمیز بیانات میں مسلمانوں پر ہونے والے ظلم و ستم کی داستانیں سناکر جذباتی اور پڑھے لکھے نوجوانوں کو شناخت کرکے انکو جہاد کی ترغیب دیتے ہیں۔لوہا جب خوب گرم ہوجاتا ہے، تو ایک دن یہ حضرت معتقدین کے اس گروپ پر ظاہر کرتے ہیں، کہ وہ دراصل لشکر طیبہ یا کسی اور تنظیم کے کمانڈر ہیں۔ جذبات میں مغلوب اور برین واش نوجوان اب کسی بھی حد تک جانے کیلئے تیار ہوتے ہیں۔ ان کو ہتھیار چلانے کی معمولی ٹریننگ دی جاتی ہے۔ اب ایمو نیشن اور گاڑیا ں بھی آجاتی ہیں۔ یہ مولوی صاحب اس دوران مسلسل افسران کے رابطے میں ہوتے ہیں۔ ٹارگٹ کا معائنہ بھی کیا جاتا ہے۔ آخر میں یہ نوجوان پکے پھلوں کی طرح ان سیکورٹی ایجنسیوں کے بنے جال میں گر جاتے ہیں اور اگر ان کا انکاؤنٹر نہ ہوجائے ، تو زندگی کا بیشتر حصہ جیلوں میں گزار تے ہیں۔میڈیا میں خبر آتی ہے، کہ دہشت گردوں کے ایک بڑے نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا گیا۔ مگر اس کا سرغنہ یا ایک دہشت گرد فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا ہے۔ان پکڑے گئے افراد کو بتایا جاتا ہے، کہ ازراہ ترحم انکو جیل بھیجا جاتا ہے، ورنہ انکا انکاؤنٹر لازمی تھا۔ وہ بھی اسپیشل سیل کے احسان مند رہتے ہیں، کہ مارنے کے بجائے انکو جیل بھیج دیا گیا، جہا ں اگلے سات تا دس سال گذارنے کے بعد وہ رہا ہوجاتے ہیں۔جن کا انکاونٹر کرنا ہوتا ہے، ان کو یہ ایجنسیاں حوالات کے بجائے دہلی کے نواح میں فارم ہاوسز میں رکھتی ہیں۔یہ اکثر اغوا شدہ افراد ہوتے ہیں اور ان کی گرفتاری کا کہیں کوئی ریکارڈ نہیں ہوتا ہے۔ایک صوبہ کی انسداد دہشت گردی سیل، دوسرے صوبہ کی اسی طرح کی سیل کے ساتھ حراستی افراد کی ادلا بدلی بھی کرتی ہے۔ مثلاً دہلی کی اسپیشل سیل، کشمیر کے اسپیشل آپریشنز گروپ سے دو افراد لیتی ہے اور اسکے بدلے دو افراد فراہم کرتی ہے۔ جن کو کشمیر کے کسی علاقے میں پاکستانی دہشت گر د قرار دیکر ٹھکانے لگایا جاتا ہے۔ چونکہ یہ گیم نہایت ہی اعلیٰ سطح پر کھیلا جاتا ہے، مقامی پولیس یا تو لاعلم ہوتی ہے یا خاموشی ہی میں عافیت جانتی ہے۔حکومت کےضابطے کے تحت وزارتِ داخلہ کی ایک ٹیم کو ہر پولیس مقابلہ کی جانچ کرنی ہوتی ہے۔ مگر وہ بھی اپنی جانچ رپورٹ انکاونٹر سے پہلے ہی تیا رکرکے رکھتی ہے۔کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے، کہ مقابلوں میں مارے گئے افراد کے پاس کس طرح ان کاپورا شجرۂ نسب برآمد ہوتا ہے اور پولیس کا ایک بھی جوان ہلاک یا زخمی نہیں ہوتا ہے؟ اگر ان مقابلوں کا کشمیر میں فوج کی طرف سے کئے گئے آپریشنز سے موازنہ کیا جائے، جہاں ہر مقابلے میں فوج کا کوئی اہلکار ہلاک یا زخمی ہوتا ہے، تو یہی نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے، کہ اسپیشل سیل میں بھرتی اہلکار فوج سے زیادہ تربیت یافتہ ہیںاور کشمیر اور شمال مشرقی ریاستوں میں فوج اور نیم فوجی دستوں کے بجائے ان ہی کو تعینات کیا جانا چاہئے۔علاوہ ازیں ان کی رگ رگ میں مسلمانوں کے خلاف نفرت بھری ہوئی ہے۔ میرا قصور یہی تھا، کہ میں نے ان کے خاکوں میں رنگ بھرنے سے انکار کیا۔ میں دو ماہ ان کی قید میں تھا، جب میرے والد نے گمشدگی کی رپورٹ درج کی ، تو کورٹ میں پیش کرکے اسلحہ کی برآمدگی دکھا کر ہمیں البدر تنظیم کا کمانڈر جتلا کر جیل میں ڈالا۔‘‘
خط کے آخر میں ارشاد نے اسپیشل سیل اور آئی بی کے ان افسران کے نام اور فون نمبر بھی دِئے تھے، جن سے وہ گرفتاری سے قبل مسلسل رابطے میں تھا۔جس کی تصدیق کورٹ اور سی بی آئی کرچکی ہے۔جن افسران کے نام ا رشاد نے لئے ہیں ان میں بد قسمتی سے ایک مسلمان افسر بھی ہے، جس کوگزشتہ 15برسوں میں کئی اعزازاور ترقیاں بھی ملیں ہیں۔ 2001 میں جب اس کی تقرری مغربی اتر پردیش میں ہوئی تھی، تو آئے دن اس علاقہ سے مسلم نوجوان آئی ایس آئی کے ایجنٹ ہونے کی پاداش میں پکڑے جاتے تھے۔جب ہم نے ان معاملات کو بغور سمجھنے کی کوشش کی، تو معلوم ہوا، کہ کم از کم چار الگ الگ معاملات میں تو ہاتھ سے بنایا گیا ایک ہی اسکیچ چارج شیٹ میںشامل ہے، جو استغاثے کے بقول دہلی یا آگرہ کنٹونمنٹ کا نقشہ تھا اور یہ افراد اس کو پاکستان بھیج رہے تھے۔ ٹورسٹ لیٹریچر میں اس سے بہتر نقشہ دستیاب تھا۔یہ افراد کئی برسوں تک جیلوں میں رہے۔دہشت گردی ایک حقیقت ہے، اور اسکے خلاف جنگ سے کوئی بھی انکار نہیں کرسکتا۔ مگر اس عفریت سے لڑنے کا کیا یہی طریقہ ہے؟
کیا اس طرح یہ جنگ جیتی جاسکتی ہے؟ میڈل اور شاباشی کے حصول کیلئے معصوم نوجوانوں کو دہشت گرد قرار دیکر خاندان تباہ و برباد کئے جاتے ہیں، اور دہشت گردانہ واقعہ کے اصل ملزم کہیں دور پھر کسی واقعہ کی پلاننگ کررہے ہوتے ہیں۔ اس جنگ کو منظقی انجام تک پہچانے کیلئے تمام حکومتوں پر لازم ہے، کہ خفیہ ایجنسیوں کا احتساب کریں اور جانچ کریں کہ کہیں وہ ان کی اور عوام کی آنکھوں میں دُھول جھونکے کی کوششیں تو نہیں کر ر ہے ہیں۔
روزنامہ ’’ ممبئی اردو نیوز‘’
جمعہ ۶ جنوری ۲۰۱۷

About meharafroz

Check Also

Short Story By Hamid Siraj

220 comments

  1. Oh my goodness! Amazing article dude! Thank you so much, However I am encountering problems
    with your RSS. I don?t understand why I am unable to join it.
    Is there anybody getting similar RSS issues? Anyone who knows the answer can you kindly respond?
    Thanks!!

  2. The collapse of the Greek financial system has carried out
    nothing to stop the sun glinting off the glowing
    lagoon of this idyllic island within the Aegean Sea.

  3. I am glad for writing to make you be aware of what a beneficial experience my girl undergone visiting your web site.
    She figured out such a lot of things, most notably how it is like to possess an excellent teaching style to let the others
    with no trouble master various specialized things. You undoubtedly surpassed her expected results.
    Thanks for supplying the informative, dependable, edifying and as well as
    cool thoughts on this topic to Tanya.

  4. Lewis didn’t say who owned the jewelry, however
    confirmed it did not belong to Drake.

  5. If you happen to want large jewelry, embellished through the use of gemstones of several
    colour as well as nature, or maybe long treads in small rounds, do not
    forget that from the following season you may
    blend them.

  6. Hi, i read your blog from time to time and i own a similar one and i was just wondering if you get a lot
    of spam responses? If so how do you protect against it, any
    plugin or anything you can recommend? I get so much lately it’s driving me mad so any help is very much appreciated.

  7. Metals embrace gold- or silver-plated brass, and generally vermeil or sterling silver.

  8. I love all of the unique colors in every bit, no two are alike.

  9. I conceive other website proprietors should take this website as
    an model, very clean and superb user friendly pattern.

  10. So what actually constitutes Meenakari work?

  11. For those who search round a bit you’ll be able to often find
    good deals because, as relaxing items like this are
    ever-increasing in recognition, the fee value is coming down on account of
    competition.

  12. Nonetheless if the watch dial is so badly damaged that it’s not readable, then generally one has to bite the bullet and get it repainted.

  13. Take your measuring cup and put some heat water in it.
    The water does not need to be hot, simply warm sufficient
    to let your detergent unfold round and activate.

  14. Howdy! This blog post couldn�t be written much better!
    Looking at this post reminds me of my previous roommate!

    He always kept talking about this. I’ll forward this post to him.
    Fairly certain he will have a great read. Thank you for sharing!

  15. Some lock producers, similar to Squire and ERA, are
    approaching the issue by providing cylinder safety gadgets or
    cylinder enhancers.

  16. Pour flour into the mould, faucet round so every area is covered, then pour
    all the flour out.

  17. This afternoon, questions were raised about security at
    the premises amid experiences guards responded to an alarm on Friday, but
    left without checking inside.

  18. Why visitors still make use of to read news papers when in this technological globe
    the whole thing is presented on web?

  19. Hello there! This post could not be written much better!
    Going through this post reminds me of my previous roommate!
    He continually kept preaching about this. I most certainly will forward
    this information to him. Pretty sure he will have a great read.

    Thank you for sharing!

  20. Just desire to say your article is as surprising.
    The clearness in your post is just great and i
    could assume you are an expert on this subject.
    Fine with your permission let me to grab your feed to keep up to date with forthcoming post.
    Thanks a million and please keep up the enjoyable work.

  21. Wow, that’s what I was searching for, what a data!
    present here at this webpage, thanks admin of this web page.

  22. Dimension reduction.Stretchingmachines and compression.

  23. Hi my family member! I wish to say that this post
    is awesome, nice written and include approximately all
    vital infos. I’d like to peer more posts like this.

  24. In MAY 2013 you’ll be able to learn to create
    some extra spectacular steampunk jewelry items as well as some sewn accessories (sure there
    is my particular secret couture mini top hat in there, and a
    superb cravat sample…) whereas the amazing adventures of Emilly ladybird continue in Steampunk
    Apothecary as she falls through the rabbit gap and right into a realm of Dark
    Fairytale steampunk adventures.

  25. Tobias Kormind, a former Morgan Stanley funding banker who
    co-founded on-line jeweller seventy seven Diamonds in November 2005, is also a fan of the
    ancient quarter despite the fact that he represents probably the most modern type of gem retailing.

  26. It’s an awesome article for all the online users; they will
    obtain benefit from it I am sure.

  27. He quotes the National Association of Traders on the returns of investment clubs.
    Whilst males only golf equipment delivered 15.6
    % returns, ladies solely clubs delivered 17.9 percent.

  28. Constructed of sturdy yet forgiving PVC microfiber, the pouch options a big loop that can accommodate six or more rings, two small loops for bracelets and necklaces, and six zippered compartments of various sizes with clear plastic home windows in an effort
    to discover simply what you’re looking for in a snap.

  29. Remarkable! Its genuinely amazing post, I have got much clear idea on the topic of
    from this article.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *