Breaking News

Short Story By Maher Afroz

نعیم کو قدرت،جاندار،پرندے،پیڑ پودے ،پھول تتلیوں سے بہت محبت تھی۔اس طرح قدرت سے محبت کرنا اسکے دادا جی نے اسے سکھایا تھا۔ان دنوں یہ محبت کچھ زیادہ ہی بڑھ گئی تھی کہ انکے گھر پچھلے دنوں اسکا چھوٹا بھائی ندیم پیدا ہوا تھا۔بارہ سال کے نعیم کے بعد دوسری اولاد کی آمد گھر میں بہت زیادہ خوشیاں تھیں۔نعیم کو لگتا وہ نظر انداز کیا جارہا ہے ،مگر جیسے ہی چھوٹے بھائی کو دیکھتا تو سب بھول جاتا۔مگر ماں باپ کی کم توجہ نے اسے قدرت کی نیرنگیاں دیکھنے کی طرف زیادہ مصروف کردیا تھا۔
اسکول کے بعد اسکا زیادہ تر وقت اسکے اپنے دادا جی کے ساتھ گزرتا،جب دادا جی سو جاتے تو گرمیوں کی لمبی دوپہر اس سے کاٹے نہیں کٹتی تھی ۔تب وہ اپنے گھر کے پچھواڑے والے باغ کے پیڑوں ،پودوں پر بیٹھے پرندے،جاندار اور اڑتی تتلیوں پر نظریں دوڑاتا اور توجہ لگ جاتی ۔
ایک دن اسی مشغولیت کے دوران اسے لگا دو چھوٹی چھوٹی چنچل آنکھیں اسے مسلسل گھور رہی ہیں ۔وہ ایک چھوٹی سی معصوم گلہری تھی ،جو شاید بھوکی تھی اور اسکے ہاتھ میں موجود مونگ کو دیکھ رہی تھی ۔نعیم نے کچھ مونگ پھلیاں، اسکی جانب اچھال دیں۔وہ تیزی سے ایک ایک مونگ پھلی کا دانہ چٹ کر گئی، اور پھر کسی پیڑ کے پیچھے غائب ہوگئ۔
کچھ دنوں بعد نعیم اور گلہری کی دوستی پکی ہوگئی ، وہ اپنے حصے کا کچھ کھانا گلہری سے ضرور شئیر کرتا اور اس سے باتیں کرتا رہتا ،گلہری ٹکر ٹکر اسے تکتی رہتی، جیسے اسکی تمام باتیں سمجھ رہی ہو۔اب گلہری کبھی کبھی اسکے کمرے کی کھڑکی تک آجاتی، جب کبھی وہ کمپیوٹر پر گیم کھیل رہا ہوتا ۔وہ آکر اسکے پیروں میں لوٹ جاتی ،تب اسے بڑا پیار آتا اور وہ کہتا “ارے دوست تو یہاں تک آگیا، چل میں تجھے کچھ کھلاتا ہوں ۔گرمی اور بارشوں کی کمی نے باغ کے سارے پیڑ پودے زرد کر رکھے تھے۔ جانداروں کا کھانا اور پانی کم ہوگیا تھا ۔وہ صبح صبح مٹی کی کٹوریوں میں پانی بھر دیتا، پھل کاٹ کر مٹی کی تشتریوں میں ڈالتا، اور اناج کے سالم دانے پھیلا دیتا۔یہ سب اس نے اپنے دادا سے سیکھا تھا۔
چار بجے کے بعد کبھی وہ پڑوس کے عباس کے ساتھ کھیلنے چلا جاتا۔ایسا ہی ایک حبس بھرا دن وہ اپنے کمرے کی کھڑکی بند کرنا بھول گیا۔ اور کھیلنے کے لئے باہر چلا گیا، رات میں سوتے وقت اس نے دیکھا کہ اسکے پیروں کے پاس پڑی رضائی کتری گئی ہے، جگہ جگہ چھوٹے چھوٹے کاٹ تھے اور رضائی کی روئی باہر نکل آئی تھی ۔وہ ڈر گیا ۔کھڑکی کو اس نے بند کیا اور سو گیا
دوسرے دن سب سے پہلے اس نے دادا جان کو اپنے اس راز کا رازدار بنا لیا ،کہ اسکی رضائی کتری گئی ہے ۔
دادا جان نے کترنوں کو دیکھ کر کہا یہ کسی چوہیا کا کام ہوسکتا ،جو بچے دینے والی ہو ۔ مگر نعیم کا دھیان گلہری کی طرف گیا ،پھر اس نے سوچا وہ تو اس کا دوست ہے، ایسا نہیں کرسکتا ۔
دوسرے دن کی واپسی پر اس نے دیکھا کہ ساری کترنیں ایک کونے میں جمع کردی گئی تھیں ۔حیرت کے مارے وہ کترنوں کو دیکھتا رہا۔تیسرے دن اس نے کھیل سے چھٹی لی ،اسے آج اس کمرہ کے نئے مہمان کو پکڑنا تھا جس نے اسکے کمرے میں تخریب کاری پھیلا رکھی تھی۔
بھری دوپہر میں اس نے عجیب سی چیخ سنی اور کھڑکی تک آگیا، گلہری اوپر چڑھنے کی کوشش میں گر چکی تھی اور عجیب بے بسی سے اسکی طرف دیکھ رہی تھی۔وہ بھاگ کر باغ میں گیا، اور گلہری کو اٹھا کر اندر لے آیا۔جب اسے اندر لے آیا تو دیکھا اسکا پیٹ کچھ پھولا ساتھا،اور وہ عجیب طرح سے کراہ رہی تھی ۔کرب کے مارے اسکی آنکھیں باہر کو نکل رہی تھیں ۔گلہری کو دیکھ کر اسے اپنی امی کا تکلیف دہ چہرہ ،کرب سے ابلتی آنکھیں اور کراہیں یاد آئیں جب وہ اسکے بھائی کو پیٹ سے نکلوا لانے دو اخانے جارہی تھیں ،اچانک دادا جان کی بات اسے یاد آئی
“یہ کسی ایسی چوہیجا کا کام ہے جو عنقریب بچے دینے والی ہو۔ “تو کیا یہ گلہری بھی ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟جیسے ہی گلہری کو اسنے ہاتھ سے نیچے اتارا وہ رضائی کی کترنوں میں گھس گئی اور چند کترنوں سے خود کو ڈھانپ لیا۔ نعیم کی سمجھ میں نہیں آیا وہ کیا کرے وہ بھاگ کر دادا کے کمرے میں پہنچا، اور دادا کو ہانپتے ہوئے ساری روداد سنائی ۔
دادا اور وہ جب تک کمرے میں داخل ہوتے ،وہاں تو کمال ہوگیا تھا،گلہری کے پاس چار بچے کلبلا رہے تھے۔ اور وہ انکو چاٹ کر صاف کر رہی تھی ۔چھوٹے چھوٹے بچوں کو دیکھ کر اسے اپنا گل گوتھنا بھائی یاد آیا، جو دواخانہ میں پہلے دن سو رہا تھا۔
دادا نے چپکے سے اسکے کان میں کچھ کہا اور اپنے ساتھ اسے سونے کے لئے اپنے کمرے میں لے گئے ۔۔۔۔۔۔
جاتے جاتے اس نے گلہری کو پلٹ کر دیکھا جو خاموش نگاہوں سے اسے شکریہ کہہ رہی تھی۔اس نے دھیرے سے کہا شب بخیر دوست، آج سے کچھ دن تم یہیں رہنا ۔میں دادا جی کے ساتھ سو جاؤنگا۔اس رات نعیم بہت سکون سے سویا اور ساری رات اسکے خواب میں گلہری کے بچے اور اسکا بھائی کلبلاتے رہے ۔
مہر افروز
دھارواڑ
انڈیاا۔

About meharafroz

Check Also

Short Story By Hamid Siraj

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *