Breaking News

Interview Of Salma Jeelani By Gul Bano

مکالمہ فورم کے لئے ” معروف افسانہ نگار سلمٰی جیلانی Salma Jilani ”کی بات چیت

میزبان: گُل بانو

السلام علیکم! میں ہوں گُل بانو اور مکالمہ فورم کی جانب سے آج ہم جس شخصیت کا تعارف آپ سے کروانے جا رہے ہیں ان کا نام ہے سلمٰی جیلانی ۔
سلمٰی جیلانی عصرِ حاضر کے ادیبوں میں تیزی سے اپنی شناخت تراش رہی ہیں اور وہ دن دور نہیں جب آپ کا شمار موجودہ دور کے مایہ ناز ادیبوں میں کیا جا سکے گا آپ اپنی ہر تحریر و افسانے کو تحقیق و تجربے کی بھٹی میں پکانے کے بعد سپردِ قلم کرتی ہیں اور یہی آپ کی تحریروں کا حسن ہے ۔آئیے سُنتے ہیں ان کی زندگی کے نشیب و فراز خود ان کی زبانی
سوال 1: سب سے پہلے تو یہ بتائیں آپ ادبی دنیا میں کب اور کیسے داخل ہوئیں کیا سبب رہا ؟
ہمم ، میں نیو زی لینڈ کے دور دراز جزیرے پر ایک ناسٹلجک سی زندگی گزار رہی تھی اردو سے رابطہ بس گھر والوں سے بات چیت کی حد تک ہی رہ گیا تھا کہ ٢٠١٠ میں فیس بک کی کھڑکی کھلی ، جس کے ذریعے گل بانو آپ سے اور پاکستان کے دوسرے تخلیق کاروں خصوصا ً شعرااور ان کی تخلیقات سے آگاہی ہوئی میں نے کچھ دوستوں کی نظموں کے انگریزی زبان میں ترجمے کئے اس کے علاوہ مولانا رومی کے انگریزی ترجمے اردو میں منتقل کئے انہی میں سے کسی ترجمے کو دیکھ کر نصیر احمد ناصر صاحب نے اپنے گروپ تسطیر کا ایڈمن بنا دیا جہاں میں نے کم ازکم تیس پینتیس ملکی اور غیر ملکی شعرا کی نظموں کو اردو/ انگریزی میں منتقل کیا اسی زمانے میں میرا ایک چھوٹا سا افسانچہ افسانہ فورم کے میلے میں شامل ہوا جسے دوستوں نے کافی پسند کیا بس اس کے بعد افسانہ نگاری کا سلسلہ چل نکلا اور تاحال جاری ہے
سوال 2 : کیا آپ کے خیال میں سوشل میڈیا افسانے کو کامیابی دلوا رہا ہے یا اس پر اثر پزیر ہو رہا ہے ؟
کامیابی تو نہیں کہی جا سکتی کیونکہ اسے جانچنے کے لئے طویل وقت کا پیمانہ درکار ہے لیکن اثر پذیر ضرور ہوا ہے ڈھیر سارے ادبی اور نیم ادبی فورم فیس بک پر کام کر رہے ہیں اور بہت سے نئے اور پرانے افسانہ نگار یہاں موجود ہیں جن میں میں خود بھی شامل ہوں ، اس سے پہلےمناسب تشہیر نہ ہونے کے سبب ادبی جریدوں تک رسائی تقریبا ً ناممکن ہی تھی ، اب جہاں کسی چیز کی کثرت ہو گی وہیں معیار کو ایک خاص سطح پر برقرار رکھنے میں بھی مشکل ہو گی وہی حال فیس بک پر پیش کی جانے والی تخلیقات کا بھی ہے ایک بھڑ چال چل نکلی ہے اور ہر کوئی راتوں رات بڑا ادیب بننے کی تگ و دو میں لگا ہوا ہے اسی لئے فیس بکی ادیبوں کی اصطلا ح بھی وجود میں آ گئی ہے جو کہ مجھے قطعی پسند نہیں ہے مگر ایسا ہے کہ ایک عام رویہ اسے غیر معیاری گرداننے پر مصر ہے حالانکہ بڑے اور مشہور افسانہ نگار بھی اپنی تخلیقات سوشل میڈیا کے توسط سے ہر خاص و عام تک پہنچا رہے ہیں
جبکہ پرنٹ میڈیا پر ڈائجسٹ اور پاپولر ادب کی اجارہ داری کی وجہ سے سنجیدہ ادب جس میں افسانہ نگاری بھی شامل ہے کو خاطر خواہ پزیرائی ابھی بھی حاصل نہیں موقر ادبی جریدوں کی تعداد انگلیوں پر گنی جا سکتی ہے جیسے سہ ماہی فنون ، ادب لطیف اور لوح وغیرہ یہ میں پاکستان کی بات کر رہی ہوں ، جو کہ ایک مایوس کن صورت حال ہے
سوال3 : نئی ٹیکنا لوجی کے ساتھ ہم قدم سے قدم ملانے پر مجبور ہیں اور وقت کیکمی کا شمار بھی ہیں تو کیا ہم اس طرح افسانے کو تا دیر زندہ رکھ پائیں گے ؟
جواب : حال ہی میں سوشل میڈیا کے علاوہ برقی کتابیں اور دوسری ای بکس اب انٹرنیٹ کے توسط سے عام قاری تک پہنچانے کا کام کئی اچھے اداروں نے شروع کیا ہے جن میں انڈیا سے ریختہ اور ادبی دنیا سر فہرست ہیں یہ ایک خوش آئند بات ہے کہ ہم یعنی اردو والے اب ٹیکنالوجی سے قدم ملانے لگے ہیں نئے نئے بلاگ اور ویبسائٹس کھل رہی ہیں
تو اس موجودہ صورت حال کی روشنی میں کہا جاسکتا ہے کہ پرنٹ میڈیا سے کئی قدم آگے افسانہ نگاری کا نیا دور انگڑائی لے کر بیدار ہو رہا ہے جو اسے لمبے عرصے تک زندہ رکھ سکتا ہے بشرطیکہ جینین تخلیقات کی جائز حوصلہ افزائی ہو، غیر جانب دارانہ تخلیقی تنقید کو فروغ دیا جائے اور ایسا کوئی پیمانہ ایجاد کیا جائے کہ تنقید کو تنقیص سے الگ کر کے ایسے بھیڑ کی کھال میں چھپے مصنوعی نقادوں کو بے نقاب کیا جا سکے جو تنقید کے نام پر تخلیق کار کی ذات پر کیچڑ اچھالنے کے قبیح فعل میں ملوث ہیں یا پھر اس کے متضاد متوسط درجے کی تخلیقات کو ادب کے اعلیٰ ترین درجے پر پہنچانے میں اپنی توانائیاں صرف کر رہے ہیں یہ غیر ادبی رویئے تخلیقی ادب کی نمو میں بہت بڑی رکاوٹ ہیں ۔
سوال 4: کیا اب مائکرو فکشن کا دور شروع ہونے کو ہے ؟
جواب : جس طرح حالات بدل رہے ہیں روز مرہ زندگی میں فکر معاش اور دیگر گوناگوں مصروفیات نے لوگوں کو کتاب اور خاص کر طویل مضامین اور داستانوں کے مطالعہ سے دور کر دیا ہے اکثریت موبائل فون اور ٹیبلیٹس پر مختصر تحاریر پڑھنے کو ترجیح دے رہے ہیں تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ آنے والا دور مائکرو فکشن کا ہو سکتا ہے مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ یہ صنف کسی بھی طرح مکمل داستان اور ناول کا نعم البدل نہیں ہو سکتی ہاں اگر لکھنے والا ہمینگوئے کے پائے کا تخلیق کار ہو تو اس کی کہانی ” چائلڈ شوز فور سیل ، نیور یوزڈ بیفور “کو شہرت دوام مل سکتی ہے لیکن پھر بھی اس کا ناول بوڑھا اور سمندر پڑھنے والوں کی تعداد کم نہیں ہو سکتی
سوال 5 : عورت کی ساری زندگی اپنی شناخت کے حصول میں گزر جاتی ہے ۔اور آج بھی یہ وہ واحد عمل ہے جس میں وہ جُتی ہوئی ہے ۔ آپ بتائیں اپنی زندگی سے
کیا کھویا کیا پایا ؟
جواب : یہ تو بہت سارے سوالات کو آپ نے یک جا کر دیا ہے جس کا جواب اگر سہولت سے دوں تو شائد پورا ناول تیار ہو جائے ، میں ذاتی طور پر نہیں سمجھتی کہ عورت کو اپنی شناخت کا مسئلہ ہے کیونکہ عورت کی اپنی شناخت ہمیشہ سے بحثیت انسان کے موجود ہے مگر مردوں کی دنیا میں اسے گرایا بہت جاتا ہے اس کی خدمات اور صلاحیتوں کو کم تر گردانا جاتا ہے ،اس کے اکثر کام کا مالی معاوضہ مقرر نہیں ہوتا مگر وہ انسانی معاشرے کی گراؤنڈ لیول پر تشکیل کرنے میں بنیادی کردار ادا کر رہی ہوتی ہیں جو مادی پیمانے سے کہیں بلند ہیں ، ایک ذہین اور پڑھی لکھی یا گھریلو پڑھی لکھی عورت بھی اپنے گھر اور بچوں کو اتنی عمدگی سے منظم کرتی ہے جو کسی کمپنی کے بڑے مینجر کی انتظامی صلاحیتوں سے کسی طرح کم نہیں ہوتا وہ کم آمدنی میں گھر چلانے کے ہنر سے واقف ہوتی ہیں اور یہی صلاحیتیں جب گھر سے باہر استعمال کرتی ہیں تب باہر کی دنیا کو اس کا اندازہ ہوتا ہے ، لیکن اب ترقی یافتہ دنیا میں ایسے کاموں کا معاوضہ مقرر کرنے پر غور کیا جا رہا ہے اور ملک کی جی ڈی پی یعنی گروس ڈومیسٹک پروڈکٹ میں کو پھیلا کر عورتوں اور رضاکاروں کے اس پرائس لیس کنٹری بیوشن کو تسلیم کیا جا رہا ہے ، یہ تو مختصر جواب ہو گیا آپ کے سوال کے پہلے حصے کا اب آتی ہوں دوسرے حصے کی طرف کہ زندگی میں کیا کھو یا اور کیا پایا جس کا تجزیہ کبھی کیا نہیں بس ایک جہد مسلسل ہے جو جاری ہے زندگی کے آخری سانس تک ہاں پندرہ سال پہلے جب پاکستان چھوڑ کر نیوزی لینڈ کی سکونت اختیار کی تو سمجھ لیں بہت کچھ کھو دیا اب تو بس زندگی ایک مشینی عمل ہے ایک مشن ہے لیکن اپنی فطرت کے مطابق اس میں بھی حتی المقدور دلچسپی اور خوشیاں تلاشنے میں لگی ہوئی ہوں
سوال 6: بچپن کہاں گزرا ؟ تعلیم بعد از تعلیم ، زندگی کے رنگ کیسے رہے ؟
جواب : بچپن میرا کراچی کی پہلی چورنگی ناظم آباد کی گنجان گلیوں میں گزرا ، کراچی یونی ورسٹی سے فرسٹ کلاس میں ایم کام کیا دوران تعلیم ہی شادی ہو گئی تھی اس لئے ایم کام کرنے کے بعد کئی سال تک بچے ہی پالتی رہی تین بیٹیوں کی پیدائش کے بعد ١٩٩٣ کے پرائم منسٹر پروگرام میں بڑی تعداد میں ٹیسٹ اور انٹرویوز پاس کرنے کے نتیجے میں میرا بھی تقرر بحثیت لیکچرار کراچی کے سب سے معتبر کامرس کالج میں ہو گیا جہاں میں نے آٹھ سال تک اکاؤنٹنگ اور مینجمنٹ کے مضامین کی تعلیم دی یہ دور میری زندگی کا دلچسپ ترین دور تھا جہاں میرے طالب علموں نے جن میں لڑکے اور لڑکیاں دونوں ہی شامل تھے میری تدریس کی غیر معمولی پزیرائی کی حالانکہ ٹیوشن سینٹرز اور نمبروں کی دوڑ نے کالج کی تعلیم کو بلکل غیر موثر کر دیا تھا جس کے باوجود میرے پڑھائے ہوئے طلباء و طالبات اکثر آ کر اس بات کا اعتراف کرتے کہ ٹیچر آپ کی مختلف اپروچ کو ہم اپنی جاب میں کامیابی سے استعمال کر رہے ہیں بس یہی میرا انعام ہوتا تھا اسی زمانے کا ایک واقعہ سناتی ہوں جب میری ایک طالبہ کو سری لنکن ایئر لائنز میں ایڈمنسٹریشن مینجمنٹ کی جاب ملی تو وہ خاص طور پر میرا شکریہ ادا کرنے آئی کہ میری پڑھائی ہوئی رپورٹ رائٹنگ اور لیٹر رائٹنگ کے طریقے بہت موثر ثابت ہوئے
٢٠٠١میں ذاتی وجوہات کی بناء پر فمیلی کے ساتھ نیو زی لینڈ منتقل ہو گئی یہاں کے مشکل اور مختلف کاروباری حالات کے ساتھ خود کو ہم آہنگ کرنے کے لئے آکلینڈ یونیورسٹی سے ماسٹر آف بزنس کیا مگر یہاں اس وقت مقامی تجربے کو تعلیم پر ترجیح دی جاتی تھی ہر جگہ اوور کولیفائد کہہ کر ریجیکٹ کر دیا جاتا اسی دوران ایتھنک وومن کی ایک بہت بڑی اَورگنایزشن میں اس وعدے پر کام ملا کہ ان کی بگڑی ہوئی مالی حالت اور گرتی ہوئی ساکھ کو بہتر کر سکوں میں نے اسے ایک چیلنج سمجھ کر نبھایا اور یہ بھی سمجھا کہ امیگرینٹ اور رفیوجی کمیونٹی میں عورتوں کی حالت زار کی داد رسی ممکن ہو ئی یہیں سے پھر انٹرنیشنل اسٹوڈنٹس کے اداروں میں بزنس اور اکاؤنٹنگ کی ٹیچنگ دوبارہ سے شروع کی جو آج بھی اون اینڈ آف جاری ہے جب گھر کے کام کاج زیادہ بڑھ جاتے ہیں تو چھوڑ دیتی ہوں یہ فلیکسبلیٹی یہاں کے غیر روایتی ماحول کی ودیت ہے جو شائد دنیا میں کم ہی ہو –
سوال 7 :عصرِ حاضر کے افسانہ نگاروں میں کس سے متاثر ہیں ؟
جواب : عصر حاضر کے کئی افسانہ نگار پوری تخلیقی توانائی اور دیانت کے ساتھ غیر روایتی موضوعات کو اردو ادب میں متعارف کرانے میں کامیاب ہیں میں کسی کا نام نہیں لوں گی ورنہ دوسروں کو شکایت ہو گی ، متاثر اس سینس میں نہیں ہوں کہ اپنی تحریر پر کسی کا رنگ غالب آ جائے مگر ان کی صلاحیتوں کی معترف ہوں اور پورے خلوص سے ان کی تخلیقات کو سراہتی ہوں
سوال 8 :اب تک کتنے افسانے اور کہانیاں لکھیں ؟
جواب : میں نے بہت زیادہ نہیں لکھا بلکہ یہ کہہ سکتی ہوں کہ میرے لکھے ہوئے افسانوں کی تعداد انگلیوں پر گنی جا سکتی ہے بچوں کے لئے بھی چار پانچ کہانیاں لکھی ہیں فی الحال یہ سلسلہ موقوف کر دیا کیونکہ ایک ہی وقت میں بڑوں اور بچوں دونوں کے لئے لکھنے میں میرا اسلوب متاثر ہو رہا تھا ، بچوں کے لئے لکھتی ہوں تو خود کو بچپن میں لے جانا پڑتا ہے اور اسی وقت بڑوں کی دنیا میں واپس آنا مشکل ہو جاتا ہے
سوال 9: نئے لکھنے والوں کے لئے کیا کہنا چاہیں گی ؟
جواب : چونکہ میں نے تازہ بہ تازہ لکھنا شروع کیا ہے اس لئے نئے لکھنے والوں کے لئے خاص طور پر نوجوانوں کے لئے کافی ٹپس موجود ہیں ویسے بھی اگلی نسل کو ہی آگے بڑھ کر ادب کی اس صنف کی باگ ڈور کو سنبھالنا ہے تو انہیں کافی سنجیدگی سے کام کرنا ہو گا ، سب سے پہلی بات تو ہر لفظ اور ہر حرف بہت قیمتی ہے جسے سوچ سمجھ کر اپنے افسانوں میں موضوعات کی مناسبت سے استعمال کرنا ہو گا ، پرانے افسانے ملکی اور غیر ملکی ، مطالعے کے لئے بہت ضروری ہیں خوب پڑھیں ذہن کی زرخیزی کو بڑھانا بہت ہی ضروری ہے مگر ان کی ٹیکنیکس اور الفاظ کی تراکیب کو کسی ٹیکنکل نقطۂ نظر سے دیکھنے اور سمجھنے کی ضرورت نہیں بس انہیں جذب کرتے رہئے
اس کے بعد خود کچھ بھی لکھیں گے اس میں جان آ جائے گی ، اس کے علاوہ اپنی اطراف میں بکھری ہوئی کہانیوں کو موضوع بنائیں جو تحریر اپنے مشاہدے اور تجربے کی روشنی میں جنم لیتی ہے زیادہ موثر ہوتی ہے کیونکہ دل سے دل تک کا سفر کرنا ہوتا ہے اور یہ اسی وقت ممکن ہے جب خون دل کو روشنائی بنا کر حقیقت کے رنگ بھرے جائیں ورنہ تحریر فنی اعتبار سے کتنی ہی پرفیکٹ کیوں نہ ہو گی قاری کے دل کو نہیں چھو پائے گی
میرے خیال سے میں نے کچھ زیادہ ہی کہہ دیا .. بہت شکریہ آپ کا

About meharafroz

Check Also

Short Story By Hamid Siraj

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *