Breaking News

Afsana By Shamsa Najam

عنوان : جاچ (طریقہ یا ترکیب)
تحریر: شمسہ نجم، لاس اینجلس ، امریکہ
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
میں کتھے جاواں باجی (میں کہاں جاؤں باجی)
ہائے ہائے باجی میری دھی دے نال ظلم ہو گیا اے (میری بیٹی کے ساتھ ظلم ہو گیا ہے)۔
شادو کی ماں حسبِ معمول ہائے ہائے کرتی گھر میں داخل ہوئی۔ سر سے سفید شٹل کاک برقع اتار کر صحن میں بچھے پلنگ کی پائنتی پر رکھا، پھر سلیپر صحن کی دیوار کے پاس اتارے اور وہیں چپلوں کے پاس زمین پر بیٹھ کر اپنا سر پکڑ کر باآواز بلند رونے لگی۔ اس کے رونے سے میں بھی ایک دم گھبرا گئی۔ میں نے فوراً ہی شاہ جی یعنی اپنے شوہرِ نامدار کے کپڑے تہہ کرنا بند کیے اور اس سے پوچھا: “کیا ہوا شادو کی ماں؟”
۔ “باجی کیا بتاؤں آج پھر اس کم بخت نے میری بچّی کو بہت مارا۔ سارے پنڈے(بدن) پہ نیل ڈال دیئے ۔ باجی اسے تیز بخار ہو گیا ہے بستر میں پڑی ہے میری شادو۔ ہائے ہائے رب کرے نعیم تیرے ہاتھ ٹوٹ جائیں”۔ اس نے اپنے داماد کو کوسنے دینا شروع کر دیئے۔ شادو کی مار کا سن کر میرا دل بھی بُرا ہوا۔ مجھے شادو سے کافی انسیت ہو گئی تھی۔
میں ڈپٹی انسپکٹریس آف اسکولز تھی۔ میرے شوہر سیٹلمینٹ کمشنر تھے ان کا زمیندارہ بھی تھا زمینوں سے آمدن بھی اچھی تھی۔ میں شادی سے پہلے بھی نوکری کرتی تھی اس لیے شادی کے بعد بھی میں نے اس کو جاری رکھا ۔ میرے شوہر شخصی آزادی کے قائل تھے۔ روپے پیسے کی ریل پیل تھی۔ نوکری کی ضرورت نہ ہوتے ہوئے بھی انہوں نے میرے نوکری کے شوق میں کبھی خلل نہیں ڈالا۔ یوں بھی میری سالوں کی محنت رنگ لائی تھی۔
میں ضلع جھنگ کی ڈپٹی ایجوکیشن آفیسر تھی۔ استانیوں اور ہیڈ ماسٹرنیوں یعنی ہیڈ مسڑیسز کی تعیناتی و تبادلے اور سکولوں کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے سکولوں کا اچانک معائنہ کرنا میرے فرائض منصبی میں شامل تھا۔ میری نوکری میں اک نشہ تھا بادشاہی کا۔ لیکن اس کے کچھ غیر مثبت نتائج بھی تھے۔ گھر میں ہر وقت استانیوں کا تانتا لگا رہتا تھا۔ میرے شوہر اپنے کمرے میں بند ہو کر بیٹھے رہتے۔کبھی نظر بھر کے کسی عورت کی طرف دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتے تھے۔ میرے آئے دن کے سکولوں کے دوروں کے باوجود میرے اوپر کبھی روک ٹوک نہیں کرتے تھے۔ ان کے اعتبار نے مجھے بہت باہمت اور مضبوط بنا دیا تھا۔ حالانکہ خود ان کا دراز قد تھا بڑی بڑی آنکھیں، براون اور سبز دو رنگ آنکھوں میں جھلکتے تھے، سنہرے بال، بڑا روشن ماتھا، میرا رنگ بھی صاف ہے ان کا رنگ مجھ سے بھی صاف تھا۔ گھر میں زیادہ تر کرتا شلوار پہننا پسند کرتے اور اس میں اور بھی شاندار لگتے۔ لیکن ہمیشہ میری تعریف ہی کرتے۔ میری آنکھوں کو چشمِ آہو پکارتے۔ میرے لمبے قد ، پتلی کمر اور لمبے سیاہ بالوں سے جیسے انہیں عشق تھا۔ اکثر مجھ سے بال کھلے رکھنے کو کہتے انہیں سونگھا کرتے میری کمر کے گرد بازو حمائل کرکے مجھے میری گڑیا کہہ کر بلاتے ۔ میں خوشی سے پھولی نہ سماتی ۔ انہی کی محبتوں کا اثر تھا۔دنیا پہ اعتبار آنے لگا تھا۔ ہمارے گھر کا آنگن کافی بڑا تھا۔ آنگن میں بوگن ویلیا کی بیل کے پاس کبوتر دانہ چگنے آ جاتے تھے۔ جب بھی میں گھر میں ہوتی باقاعدگی سے ان کو دانہ ڈالتی۔ ان پرندوں سے مجھے الفت سی ہو گئی تھی۔ وہ بھی مجھے پہچاننے لگے تھے ۔ میرے پاس جانے پر بھی اُڑتے نہ تھے، دانہ چُگتے رہتے تھے۔ محبت ہر چیز پہ اعتبار کرنا سکھا دیتی ہے۔
کبھی کبھی بہت دور دراز کے گاوں کا دورہ ہوتا۔ لیکن میرے اندر کے اعتماد نے مجھے کبھی ڈرنے یا متزلزل ہونے نہیں دیا۔ ایک اچّھا جیون ساتھی انسان کے حوصلے بلند کر دیتا ہے۔ احمد پور سیال جھنگ کے ایک گاوں کا نام تھا۔ اب تو احمد پور سیال جھنگ کی ایک تحصیل بن چکا ہے ۔ لیکن ان دنوں ضلع جھنگ کی تین تحصیلیں تھیں۔ چنیوٹ ، شورکوٹ اور جھنگ – اور احمد پور سیال شورکوٹ تحصیل کا ایک گاوں تھا۔ جو جھنگ سے پچانوے کلو میٹر کے فاصلے پر ہے۔ وہاں کے مڈل سکول کو چیک کرنا میرے شیڈول میں شامل تھا۔
احمد پور سیال میں پہلی بار میں نے شادو کی ماں کو دیکھا تھا۔ وہ بھاگ بھاگ کر میرے کام کر رہی تھی ۔ اس وقت تو معائنہ یعنی انسپیکشن کے لیے آئے افسر کی بہت اہمیت ہوتی ہے۔ ہیڈ مسٹریس اور ساری استانیاں بھاگ بھاگ کر سارے کام کر رہی ہوتی ہیں۔ آگے پیچھے کام چوری کرنے والے اس وقت اتنے سلیقے سے کام کرنے والے بن جاتے ہیں اور اتنا مثبت رویہ لیے ہوئے ہوتے ہیں کہ بے اختیار ان پر ترس اور پیار آ جائے۔
حتیٰ کہ علاقے کے زمیندار اور وڈیرے اپنے سکول کو قائم رکھنے کے لیے اور علاقے کی عزّت و شہرت اور نیک نامی برقرار رکھنے کے لیے انسپکٹر اور انسپکٹریس کو اپنے گھر بلاتے ہیں۔ کھانے اور لسی پانی سے تواضع کرتے ہیں۔ جب میں سکول کا چکر لگا کر اس کی مکانیت کی درستگی اور نا درستی اور ماحول کا جائزہ لے رہی تھی تو شادو کی ماں ستّاں ایک دم میرے سامنے آ کھڑی ہوئی۔ اور دونوں ہاتھ جوڑ دیئے۔ میں نے پوچھا “کیا بات ہے” “باجی میرا تبادلہ شہر جھنگ میں کر دیں کیونکہ میرا مکان جھنگ میں ہے اور میری بیٹی کو بھی سکول میں نوکری دلا دیں۔ میرا خاوند فوت ہو گیا ہے باجی۔ ہمارا گزارا نہیں ہوتا۔ مجھے اپنی بیٹی کی شادی کرنا ہے۔ جہیز تو ہے نہیں۔ نوکری ہو گی تو چار پیسے آئیں گے تو اس کی شادی کی کوئی صورت نکلے گی۔ میری بیٹی زیادہ پڑھی ہوئی نہیں ہے کسی سکول میں چپڑاسن کی نوکری دلوا دیں۔ ستّاں نے دل کھول کر رکھ دیا۔
میں نے اس کو تسلّی دی اور اس کو ہاتھ جوڑنے سے منع کیا۔ اور اسے کہا اپنی بیٹی کو لے کر کل میرے دفتر آ جانا ۔ اگلے دن ہی دونوں ماں بیٹی میرے دفتر میں آ موجود ہوئیں۔ شادو کی نوکری کا آرڈر جاری کرکے میں نے کلرک کو نقل بنا کر لانے کو کہا۔ ستّاں کے ٹرانفسر آرڈر اور شادو کی نوکری کا پروانہ یعنی اپائنمنٹ لیٹر خود شادو کی ماں کے ہاتھ میں تھما دیا۔ کلرک کے ہاتھ سے دلواو تو پھر ان غریبوں کو کلرکوں کی جیبیں بھرنا پڑتی ہیں۔ یہ الگ کہانی ہے جو کہ افسر کی بدنامی اور غریب کی ناشنوائی پر ختم ہوتی ہے جو کہ تقریباً ہر محکمے کا خاصہ ہے۔ اور ہمارے ملک کا نظام بدلنا آسان کام نہیں ۔
میں یہ نہیں کہتی افسر فرشتے ہوتے ہیں ۔ ایک سے ایک رشوت خور اور خود غرض لوگ دُنیا میں ہیں۔لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ایک افسر کو بُرا بنانے میں اس کے حالی موالیوں اور خوشامدیوں کا بڑا ہاتھ ہوتا ہے۔ شادو کی نوکری ہونے کے بعد شادو اور اس کی ماں نے ہر چھٹی کے دن میرے گھر آ کے میرے گھر کے چھوٹے موٹے کام کرنا شروع کر دیئے۔ میں منع بھی کرتی لیکن وہ باز نہ آتیں۔ ان کا احسان مندی اور شکر گزاری کے اظہار کا یہی طریقہ تھا۔ میری والدہ، میرے دونوں بچّے نوال اور دانیال اور میرے شوہر ان کے آنے سے اتنے خوش نظر نہیں آتے تھے۔ کیونکہ شادو کا حلیہ عجیب تھا۔ الجھے ہوئے بال اور نہانے کی چور تھی۔ جب بھی پاس سے گزرتی عجیب طرح کی مچھلی کی سی بو اس میں سے آتی۔ میں بچوں کو منہ بناتے دیکھ کر ہمیشہ اس سے کہتی “شادو نہا تو لیا کرو”۔ اور وہ “جی اچھا باجی آج گھر جا کے نہاوں گی” کہہ کر کام میں لگ جاتی یا اپنے گھر کی راہ لیتی۔
شادو کی نوکری کو دو مہینے ہی ہوئے تھے کہ اس کی شادی طے پا گئی۔ شادو کی ماں سے میں نے پوچھا بھی کہ ” تمہاری بیٹی کو لڑکا پسند بھی ہے یا نہیں”۔ شادو کی ماں جھٹ سے اس لڑکے کی خوبیاں گنواتے ہوئے بولی: “باجی اُسے کیوں نہیں پسند آئے گا۔ وہ ماسٹر ہے۔ پڑھا لکھا ہے۔ شادو سے صرف چار سال بڑا ہے۔ بہت سوہنا منڈا ہے باجی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہماری برادری میں ایک بھی اس جیسا لڑکا نہیں ہے”۔
شادو کی شادی پکّی ہو گئی۔ اللّٗہ اللّٰہ خیر صلا۔ شادو نے نوکری کو بھی خیرباد کہہ دیا۔ شادی کے اخراجات میں میں نے حتی المقدور مدد کی۔ لیکن شادی کیا ہوئی ایک شکائیتوں کا دفتر کھل گیا۔ ہر روز کے جھگڑے۔ شادو کی ماں ہر دوسرے تیسرے دن شادو کی تکلیف کا رونا شروع کر دیتی۔ میرے شوہر بہت نیک طبیعت اور محبت کرنے والے انسان ہیں۔ انہوں نے مجھے کبھی بھی فلاحی کاموں سے منع نہیں کیا لیکن وہ شادو کی ماں کے روزانہ واویلا کرنے کی وجہ سے تنگ ہوتے تھے۔
مجھے شادو کی ماں سے ہمدردی محسوس ہوتی۔ اس بار شادو ماں کے گھر آئی تو مجھ سے بھی ملنے آئی ۔ جبھی ہلکی ہلکی بارش شروع ہوئی تھی۔ میں نے جلدی سے برآمدے میں آنے کے لیے کہا کہ کہیں زیادہ بھیگ نہ جائے۔ میں نے دیکھا وہ بہت اداس تھی۔ اُترا ہوا چہرہ اور پہلے سے بھی زیادہ برا حلیہ۔
میں نے اس سے پوچھا “یہ سب کیا قصّہ ہے” کیونکہ میں اسے جانتی ہوں نہ وہ جھگڑالو ہے نہ بدتمیز۔ بلکہ بیوقوفی کی حد تک سیدھی تھی۔ ذرا باتیں زیادہ کرتی تھی ۔ بس بولے چلی جاتی۔ بات چھپانا یا لگی لپٹی رکھنا اُسے آتا ہی نہ تھا۔ اس نے مجھے بتایا “اس کا شوہر نعیم ایک بیوہ جو کہ پانچ بچوں کی ماں ہے، کے عشق میں مبتلا ہے۔ وہ عورت بہت بن سنور کے رہتی ہے۔ نعیم کہتا ہے عورت ایسی ہوتی ہے خوشبو میں مہکی ہوئی صاف ستھری اور اسے پیار کرنا بھی آتا ہے”۔ اس نے یہ بھی بتایا “وہ کہتا ہے تم میں سے بدبو آتی ہے”۔ میں نے شادو سے کہا “میں تمہیں پہلے ہی کہتی تھی روزانہ نہایا کرو ۔ دیکھا اب تمہیں اندازہ ہوا کہ نہ نہانے سے جسم سے بدبو آتی ہے”۔ اُسے میں نے اپنے کپڑے دیئے اور صابن اور شمپو دے دیا اور کہا “جاو نہا کے آو”۔
اور اسے سمجھایا “صابن جسم کے ہر حصے پہ لگانا۔ بغلوں کو اچھی طرح صاف کرنا”۔ وہ کپڑے لے کر ملازمین کے لیے مخصوص غسل خانے کی طرف گئی پھر جاتے جاتے پلٹ آئی “باجی بال صفا پاؤڈر تو دے دیں ۔
“یہ کیسا پاوڈر ہوتا ہے۔ میرے پاس تو ایسا کوئی پاوڈر نہیں ہے”۔
“باجی جسم کے فالتو بال صاف کرنے کے لیے ہوتا ہے”۔
“کیا سیفٹی سے بال صاف کرنا آتے ہیں؟” ۔
“نہیں باجی —– کٹ لگ جائے گا”۔ اس نے گھبرا کر کہا –
میں نے اسے بال صاف کرنے کی کریم دی ۔ شادو نے ماں جی سے تولیہ مانگا اور پھر غسل خانے میں بند ہو گئی اور پورے ایک ڈیڑھ گھنٹے کے بعد واپس آئی۔ میں اُسے بیوٹی پارلر لے گئی اس کے بال ٹھیک کروائے۔ وہ ایک دم صاف ستھری اور نکھری نکھری لگنے لگی۔
آج میں نے اسے غور سے دیکھا۔ شادو کا گو کہ رنگ گہرا سانولا تھا لیکن نقش خوبصورت تھے اس کی سیاہ بڑی بڑی آنکھیں بہت خوبصورت تھیں۔ لگتا تھا آنکھوں میں قدرتی کاجل لگا ہو۔ ہونٹ بھی بہت خوبصورت تھے ابھرے ابھرے سے گلابی۔ ستواں ناک۔ کم عمر اور دبلی پتلی ہونے کے ساتھ ساتھ جسم پرکشش تھا۔ میرے کپڑے اسے ذرا کچھ ڈھیلے تھے پھر بھی بہت اچھی لگ رہی تھی ۔
میں نے اس سے کہا کہ “تم روز نہاو گی۔ جب تمہارا صابن اور شمپو ختم ہو جائے تو مجھ سے آ کے اور لے جانا۔ اور اپنے شادی کے نئے کپڑے پہن کر تیار ہو کر رہا کرو۔ اب تم اپنے گھر جاو گی تو تمہارا شوہر تم سے نفرت نہیں کرے گا”۔
پھر وہ اسی دن اپنے گھر چلی گئی لیکن ڈیڑھ ہفتے کے بعد پھر اپنی ماں کے گھر آ گئی۔ مجھ سے شادو کی ملاقات ہوئی تو اس نے بتایا کہ “اس کا شوہر پہلے دن تو بہت اچھی طرح ملا اسے ہاتھ پکڑ کر اپنے پاس بٹھایا اور کافی باتیں بھی کیں ۔ چمیاں شمیاں بھی لیں۔ لیکن اب اس کو شکایت ہے کہ ” تجھے تو پیار کرنا بھی نہیں آتا۔ تو منہ سے بھی کچھ نہیں کہتی ۔ میں نے لاش سے شادی کی ہے۔ اس لیے وہ پھر ناراض ہو گیا ہے اور اُسی دوسری عورت کو روزانہ گھر میں بلا لیتا ہے” ۔
میرے ذہن میں ایک خیال آیا نعیم کا تبادلہ کسی دوسرے علاقے کے سکول میں کروا دیتی ہوں، پھر اس عورت سے شادو کی جان چھوٹ جائے گی۔ لیکن ابھی کچھ کرنے کا وقت نہیں تھا کیونکہ مجھے ضروری دورے پہ جانا تھا۔ تین اسکول چیک کرنا تھے۔ میں نے اُسے کہا “پھر بات کریں گے۔ ابھی مجھے بہت ضروری جانا ہے ۔ واپس آ کے اس کا کچھ نہ کچھ حل نکالتے ہیں۔ گھر کا خیال رکھنا۔ اماں جی کی کام میں مدد کرنا” ۔
مجھے دیر ہو رہی تھی میں اپنے کام پہ نکل گئی۔ میرا دو دن کا دورہ تھا۔ کافی دور دراز علاقوں کے سکولوں کا معائنہ کرنا تھا۔ ایک اسکول کے بارے میں تو یہاں تک شکایت ملی تھی کہ استانی صاحبہ سکول ہی نہیں کھولتی۔ سوئی رہتی ہے۔ مجھے ضروری چھاپا مارنا تھا۔
میرا دورہ دو دن پر مبنی تھا۔ دو دن کے بعد جب میں گھر پہنچی تو شادو گھر پہ تھی اور میری والدہ اور بچوں کے کام میں لگی ہوئی تھی۔ مجھے اچھا لگا اس نے خود کو مصروف کر لیا ہے۔ اس نے مجھے دیکھتے ہی نعیم کے پاس واپس جانے کی بات کرکے بُری طرح حیران کر دیا۔ “باجی آج میں اپنے گھر جاوں گی نعیم کے پاس”۔
“چلو اچّھا ہے تمہیں کچھ عقل آئی ہے۔ جاو چلی جاو”۔
حالانکہ میں تھکی ہوئی تھی لیکن میں اس کو شمپو اور صابن کے لیے پیسے دینا نہ بھولی اور ہاتھ میں ویسے بھی پیسے ہونے چاہئیں ۔ یہ سوچ کر اس کو دو سو روپے اور ہاتھ میں پکڑا دیئے۔ اُس نے جلدی سے اپنی چادر اُٹھائی اور اپنے گرد لپیٹتے ہوئے تیز تیز چلتی ہوئی بقول اس کے اپنی ماں کی طرف چلی گئی۔ کیونکہ اس کی ماں کو اسے نعیم کے پاس پہنچانا تھا۔
اِس بار کی گئی شادو دو مہینے تک واپس نہیں آئی۔ دو مہینے کے بعد اس کی صورت نظر آئی۔ وہ چھٹی کا دن تھا۔ صبح کے دس بجے تھے فروری کے پہلے ہفتے کی خنک ہوا چل رہی تھی۔ آسمان صاف تھا اس لیے دھوپ میں تیزی تھی۔ ناشتے سے فارغ ہونے کے بعد میں گھر کے آنگن میں بوگن ویلیا کی بیل کے پاس کھڑے کھڑے کبوتروں کو دانا ڈال رہی تھی کہ سامنے سے شادو آتی دکھائی دی۔ “باجی جی السلام علیکم”۔ “وعلیکم السلام ، کہاں ہو شادو کیا بات ہے بھئی بہت خوش نظر آ رہی ہو “۔ واقعی وہ بہت بدلی بدلی اور بہت اچّھی لگ رہی تھی۔ چہرے پہ نکھار سا آ گیا تھا۔ خلافِ معمول چہرے پہ مسکراہٹ تھی۔ “چلو تم آ گئی ہو تو اپنے ہاتھ کی چائے پلاو, سبھی کے لیے بنا لینا”۔ میں وہیں آنگن میں بچھے پلنگ پہ بیٹھ گئی ۔ شادو کچن میں چلی گئی ۔ تھوڑی دیر میں ہی وہ چائے کی ٹرے اُٹھائے آ گئی۔ میں نے اپنا کپ اُٹھا لیا ۔ “شادو کیا ہوا بھئی، تمہاری نعیم سے دوستی کیسے ہو گئی؟” ۔
“باجی اب میں روز نہاتی ہوں دیکھیں میرے بال کتنے سوہنے ہو گئے۔ نعیم نے شمپو کی اور بوتل بھی لا کے دی تھی۔ باجی یہ سب آپ کی مہربانی ہے جی۔ ویسے بھی اب مجھے اچّھی طرح جاچ آ گئی ہے مردوں کو کیسے پیار کرنا اچھا لگتا ہے”۔
“کیسے آ گئی تمہیں جاچ” ۔میں نے ہنس کر اس کے چہرے کی طرف دیکھا۔
“باجی اس دن آپ دورے پر گئی تھیں تو اماں جی کی طبیعت خراب ہو گئی تھی , اماں جی نے رات کو مجھے یہیں روک لیا تھا۔ اماں جی کے سونے کے بعد شاہ جی مجھے جاچ سکھانے کے لیے آپ کے کمرے” ۔ ۔ ۔ایک دم بات کرتے کرتے وہ رک گئی اور اپنا نچلا ہونٹ دانتوں میں دبا لیا ۔ اس کی جھینپی شکل اور نظریں چرانا سارا احوال کہہ گیا۔
میرے ہاتھ سے کپ چھوٹ کر زمین پر زور کی آواز کے ساتھ گرا۔ سینے کے اندر کوئی چیز چَھن کرکے ٹوٹ گئی ۔ میں دُھندلائی آنکھوں سے آسمان کو تک رہی تھی۔ اعتبار کے پرندے پرواز کرتے ہوئے دور جا رہے تھے۔ ختم شد

About meharafroz

Check Also

Short Story By Hamid Siraj

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *