Breaking News

Article by Abu Fahad

میں الزام ان کو دیتا تھا..
سقوطِ غرناطہ وبغداد اور سقوط دہلی ودکن کے سینکڑوں سال بعد جب ہم سقوطِ لیبیاو عراق اور سقوط ِحلب کے دور میں داخل ہوچکے ہیں تو ہمیں بہت ساری پریشان کن چیزوں، افکار، رد عمل اور پریشان خیالیوں کا سامنا ہے۔اب حقیقت میں ہو یہ ہا ہے کہ ہمارے ہر عمل ، ہر لفظ اور ہر خیال اور اظہار خیال کے ہر زاوئے کو زوال زدہ تاریخ سے جوڑ کر دیکھا جارہا ہے ۔اچانک ایک شخص کھڑا ہوتا ہے اور پکار نے لگتا ہے۔مسلمانوں! تم سجدوں میں پڑے ہو اور خدا تمہیں میدانِ کار کی طرف پکار رہا ہے۔ اسی اثنا میں ایک دوسرا سرپھرا کھڑا ہوتا ہے اور ہانک لگاتا ہے ، لوگو میدانِ کار سے نکلو اور میدانِ کارزار کی طر آؤ ، نہیں تو زوال کی یہ چادر جو تمہارے ، دلوں ، ذہنوں اورسروں پر تان دی گئی ہے وہ کبھی بھی رفع نہ کی جاسکے گی۔ کسی تیسرے کونے سے ایک اور شخص مرغ کی طرح صبح سویرے اٹھ جاتا ہے اور بانگ لگاتا ہے ، لوگو! تم ایسے مباحث میں الجھے ہوئے ہوجن کا موجودہ سائنسی زمانے سے کوئی تعلق نہیں اور اسی لیے ایسا زوال تمہارا مقدر ہے جس کی ابتدا تمہارے پرکھوں نے دیکھی مگرانتہا تمہاری آخری نسل بھی نہیں دیکھ پائے گی۔
آج ہم زوال امت کی ایک طویل تاریخ سے گزرکر سقوطِ حلب کے ایسے پڑاؤ پر پہنچ گئے ہیں جہاں ہمارا حال یہ ہے کہ اب اگر ہم کھانستے بھی ہیں تو سرمئی نگاہ اور پارہ صفت دل ودماغ رکھنے والے بہت سارے لوگ اسے بھی ہمارے زوال کی ایک نشانی کے طور پر دیکھتے ہیں۔ایک صاحب کا ماننا تھا کہ لوگ نماز میں صفیں سیدھی نہیں رکھتے اور خاص اسی لیے وہ زوال کا شکار ہیں۔ ایک محترم بزرگ دانشور جن کاگزشتہ سا ل انتقال ہوگیا اب سے آٹھ دس سال قبل طلبائے مدارس کے ایک چھوٹے سے گروپ کو خطاب کررہے تھے، خطاب کے دوران انہوں نےزوال امت کاذکر کیا اور فرمایا کہ اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ ہم قلعہ بند ہوگئے ہیں۔انہوں نے کسی خاص طبقہ کا نام تو نہیں لیا تھا مگر سیاق وسباق اور لہجہ بتارہا تھا کہ موصوف کا اشارہ ممبر ومحراب کے شہہ نشینوں اور سجادہ وخرقہ پوشوں کی طرف ہے۔ ایک طالب علم سے رہا نہ گیا اور اس نے سوال کرڈالاکہ سوال یہ بھی ہے کہ دانشوروں نے کیا کیا ہے۔ یہ سوال محترم بزرگ کے لیے گرچہ غیر متوقع تھا پھر بھی ان کا تحمل دیدنی تھا اور انہوں نے سوال کی معنویت بلکہ کہئے کہ سچائی کو تسلیم کیا۔ کیونکہ واقعہ تو یہی ہے کہ کیا تو کسی نے بھی کچھ نہیں ہے۔مگر لوگ بھی کیا کریں اپنی فطرت سے مجبور جوہوتے ہیں۔ انسان کی بہت ساری ذلیل عادتوں میں سے ایک عادت یہ بھی ہے کہ وہ ہمیشہ دوسروں کی طرف ہی انگلی اٹھاتا ہے یہاں تک کہ بعض دفعہ خود اپنی غلطی کے حوالےسے بھی۔یہاں جتنے لوگ ہیں اتنی ہی باتیں ہیں البتہ ایک بات جو سب میں مشترک ہے وہ یہ ہے کہ ان سب کےنشانے پر مذہبی ایمانیات واخلاقیات کےحوالے سے پختہ مزاج ہیں ۔ حال یہ ہے کہ الزام عائد کرنے والا خواہ کوئی بھی ہو، مذہبی یا غیر مذہبی البتہ جس پر الزام آئے گا وہ ہرحال میں مولوی یا مولوی نماں فرد ہی ہوگا۔
سوشل سائٹس پر سرگرم لوگوں کو یہ ایک بڑا ہی نیک کام ہاتھ آگیا ہے۔وہ ہر اس عمل، قول اور حرکت کو سیدھے سیدھے زوال سے جوڑ رہے ہیں جو ان کے دماغ کے ان خلیوں سے میچ نہیں کرتا جن کو انہوں نے اپنے طرح کے رنگ میں رنگ لیا ہے۔اب چاہے یہ رنگ فرقہ پرستی کا رنگ ہو، یا تجدد پسندی کا، زبردستی اوڑھی ہوئی دانشوری کا رنگ ہو یا پھر دین بیزار نفسیات کے رنگ میں رنگا ہوا کوئی بھی پھیکا یا گہرارنگ ۔ اس نیک کام میں خودعالم دین بھی مصروف ہیں، صحافی بھی، ادیب بھی، سیاست داں بھی اور بہت سارے ہمارے نادان دوست بھی۔ غرض کہ جس سے بھی دو لائنیں لکھنا اور گھسیٹنا آگئی ہیں وہ علمائے دین کو لعن طعن کرنا اپنا فرض منصبی سمجھنے لگا ہے۔ ابھی حلب کے حوالے سے کچھ لوگوں نے پوسٹس بنائیں۔ ذرا آپ ان کا رخ اور زاویۂ نگاہ دیکھیں۔ ان میں لکھا گیا ہے کہ ایک طرف حلب جل رہا ہے اور دوسری طرف علماء ایک دوسرے کے خلاف فتوے دینے اور الزام تراشی کرنے میں مصروف ہیں۔ ایک پوسٹ میں عید میلادالنبی پر ہونے والی بحث وتمحیص کا حوالہ دیا گیا ہے۔ اور کہا گیا ہے کہ تم لوگ جشن کے صحیح یا غلط ہونے میں الجھے ہوئےہو جبکہ دشمن تمہاری آخری اور فیصلہ کن شکست کا جشن منانے کی تیاری میں جٹا ہواہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسی پوسٹ بنانے یا اس طرح کے کمنیٹس پاس کرنے والے خود اپنے گریبانوں میں کیوں جھانک کر نہیں دیکھتے ۔ وہ خود کیا کررہے ہیں۔ سرکاری وغیر سرکاری عصری جامعات میں کیا چل رہا ہے، پارلیمنٹ میں بیٹھے ہوئے پادری نما ہمارے یہ لیڈر کیوں تماشائی بنے ہوئے ہیں اور پرفیسرز کس طرح کی بحثوں میں مصروف ہیں۔اکاؤنٹینٹ کیا کررہا ہے اور تاجر کہاں آتا جاتا ہے۔انہوں نے اسے اس طرح کیوں نہیں لکھا کہ ایک طرف حلب جل رہا ہے اور دوسری طرف ہمارے ادیب اپنے افسانوں کے نسوانی کردارگھاٹن کا سراپا اتارنے میں مصروف ہیں۔ ایک طرف حلب جل رہا ہے اور دوسری طرف ہمارے پارلیمینٹیرین دعوتیں اڑانے اور اپنی اپنی پارٹی لیڈروں کی خصیہ برداری میں مصروف ہیں ۔حلب جل رہا ہے اور ہمارے شاعر بے معنی شعروں میں سرکھپا رہے ہیں ۔۔۔۔ آخر یہاں ہرچھوٹے بڑے قومی زوال کو ’’زوال ورسس علماء ‘‘ہی کے رنگ و روپ میں کیوں دیکھا جاتا ہے۔؟؟؟؟ ۔۔۔۔۔۔۔ایک عرصہ قبل پڑوسی ملک میں کسی صاحب نے پوسٹ بنائی تھی کہ’’ ہماری کوئی بھی یونیورسٹی دنیا کی سو اہم یونیورسٹیز میں اپنا نام درج نہیں کراسکی۔ ایک طرف یہ صورت حال ہے اور دوسری طرف یہ جنونی علماء میں ہیں ،یہ فقہی بحثوں میں الجھے ہوئے ہیں‘‘۔ اب اس نادان دوست سے کوئی پوچھے کہ بھائی جو لوگ یونیورسٹیوں میں بیٹھے سگریٹ پر سگریٹ پھونکے جارہے ہیں اور پھوکٹ میں لاکھوں روپئے ماہانا لیتے ہیں یہ ذمہ داری تو ان کی تھی نہ کہ علماء کی۔
ہمارے یہاں کا حال یہی ہے کہ اگر کسی کے گھرکے سامنے سے گزرنے والی نالی بند ہوجاتی ہے تو وہ اسی طرح کےکمینٹس کرتا ہے ’’ یہاں نالیاں بند پڑیں ہیں اور یہ ملّا تین طلاق کی بحثوں میں الجھے ہوئے ہیں‘‘۔ایک دانشور صاحب اپنے ایک عمل کو فخریہ بیان کررہے تھے کہ ایک بار ان کے دروازے پر تبلیغ کے کچھ افراد آئے ، وہ اندر سے جل بھن گئے ۔ انہوں نے امیر جماعت کا ہاتھ پکڑکر ایک طرف کو کھینچا ۔ آئیے پہلے ہم یہ نالیاں صاف کرتے ہیں ۔ یہاں نالیاں گندی پڑی ہیں اور آپ ہیں کہ دعوت وتبلیغ میں لگے ہوئے ہیں ۔آخر یہ کیوں لکھا جاتا ہے کہ بغداد پر ہلاکوں خان چڑھائی کررہا تھا اور بغداد کے مفتی وعلماء اس بحث میں الجھے ہوئے تھے کہ کوّا حلال ہے کہ حرام۔جبکہ دیانت داری والی بات تویہ ہے بغداد کو بچانے کی ذمہ داری والیِ بغداد پر زیادہ عائد ہوتی تھی ، تو اس حوالے سے یہ دیکھنا زیادہ ضروری تھا کہ خود والی بغداد، اس کے حوالی موالی اور سپاہی اس وقت کیا کررہے تھے۔ آخر آج تک کسی نے یہ کیوں نہیں لکھا یا کہا کہ ایک طرف دہلی جل رہی تھی او ر دوسری طرف غالب شطرنج کی چالوں میں مگن تھے۔یاازار بند میں گرہیں لگا رہے تھے۔
کل عراق اور لیبیا جل گئے اورآج حلب جل گیا، گجرات جل گیا اور میانمار میں خاک وخون کی ہولی کھیلی جارہی ہے اور دنیا کا ہر مسلمان اپنے روز مرہ کے کاموں میں مصروف ہے، ڈفلی بجانے والا ڈفلی بجارہا ہے، ریلیاں کرنے والا ریلیاں کررہا ہے، ناچنے والا ناچ رہا ہے اور گانے والا گارہا ہے۔کرکٹ کھیلے والے کو اپنے بیٹ اور بال کی فکر ہے اور تاجر کو اپنا پیسہ دوگنا کرنے کی ۔ پر کسی پر کوئی الزام نہیں۔الزام تو بس ایک بے چارے مولوی پر ہی عائد ہوتاہے، مدرسوں پر ہوتا ہے اور ملی تنظیموں پر ہوتاہے۔باقی کوئی بھی ذمہ دار نہیں۔اب چاہے وہ گلی کا گنڈہ ہو،ممبر پارلیمنٹ ہو،بادشاہ ہو،صدرہو یا پی۔ ایم ہو ۔
حالانکہ اس لعن طعن کے وہ لوگ زیادہ مستحق تھے اور ہیں جو سواد امت کے کالے وسفید کے مالک ہیں، جوڈیڑھ سو سے زاید مسلم ممالک کے صدر، بادشاہ یاوزیراعظم ہیں۔ جن کے ہاتھوں میں سیاسی قوت ہے، جن کے اشاروں پر فوجوں کے دل کے دل حرکت کرتے ہیں، جو ایک عرب سے زائد مسلم آبادی کے حصے میں آنے والے قدرتی ذخائر پر بلاشرکتِ غیر قابض ہیں، جو عالیشان محلوں اور قلعہ نما گھروں میں رہتے ہیں اور جن کے پاس پی .ایم. صدرجمہوریہ اورنائب صدر جمہوریہ سے لے کر ایم پی تک اور چانسلر و وائس چانسلر تک کے عہدے ہیں۔لیکن پھر بھی پتہ نہیں کیوں ایسا ہے کہ قوم کے پچھڑے پن کی جب بات آتی ہے تو ہمیشہ ہی ایسا ہوتا ہے کہ نائب صدر جمہوریہ ، پی .ایم. اورڈالرز میں سرکاری تنخواہ پانے والوں کو مودرالزام نہیں ٹہرایا جاتا بلکہ اس کے بلکل ہی الٹ یہ ہوتا ہے کہ قوم کے کچھ بلغمی مزاج کے حامل افراد بلکہ لیڈرمسجد کی کج و پریشاں صفوں سے ایک نمازی کو اٹھالاتے ہیں اور کہتے ہیں دیکھو یہ ہے قوم کا سب سے زیادہ غیر ذمہ دار شخص ، یہی وہ شخص ہے جس کی وجہ سےہمارے ملی زوال کےتابوت میں آخری کیل ٹھونکی جائے گی۔
کیا ابھی وہ وقت نہیں آیا جب ہم اس روش کو بدلنے کی ضرورت پر غوروخوض کرنے کا آغاز کرسکیں گے۔؟؟

About meharafroz

Check Also

Short Story by Shamoil Ahmed

227 comments

  1. I’m not positive the place you are getting your information, but great topic.
    I needs to spend some time studying much more or figuring out more.
    Thanks for excellent information I waas looking for this info
    for my mission.

  2. The main reason why following current web design trends even just a little is all right sort of falls along the lines of pleasing
    the public that is seeing such new trends and expect to
    see it continue; it is also most likely proving to be successful in the internet realm.
    Wordpress delivers an open resource that is
    definitely fully zero expense. We strive to provide
    every customer with excellent customer service and we do it all at a very affordable price.

  3. Hi this is somewhat of off topic but I was wanting to
    know if blogs use WYSIWYG editors or if you have to manually code with HTML.
    I’m starting a blog soon but have no coding skills so I wanted to get guidance from someone with experience.
    Any help would be enormously appreciated!

  4. I constantly spent my half an hour to read this blog’s content daily along with a mug of coffee.

  5. Thank you for any other great post. The place else may anyone get that type of information in such an ideal means
    of writing? I have a presentation next week, and I am on the look for such info.

  6. Hey there would you mind sharing which blog platform you’re using?
    I’m looking to start my own blog in the near future but I’m having a tough time
    deciding between BlogEngine/Wordpress/B2evolution and Drupal.
    The reason I ask is because your design and style seems different then most blogs and I’m looking for something unique.
    P.S Sorry for getting off-topic but I had to ask!

  7. There is certainly a lot to know about this subject.
    I really like all of the points you’ve made.

  8. Having decided to get web designing done, look for a suitable, experienced and well qualified web designer.
    In custom design, chances of being noticed by
    the audience and being impressive to the potential customers are greater.
    The short answer is they don’t, at least not all the time.

  9. A player is robotically entitled to BAF Bonus when he/she refer
    a good friend (Go to BAF T&C for more details). There’s a very skinny line between a cyber crime and a sport of fun and skill and a slight mistake or negligence could make the poker activity
    a punishable offence in India. Online poker is passing by the use of an fascinating part in Unites
    States (U.S.). However, it is nonetheless to be seen whether on-line poker may very well be banned or allowed in U.S.
    New Jersey has reported a very good starting for on-line enjoying
    inside the state. Toutes les variantes de poker sont déclinées dans une gamme d’enjeux qui conviendra à tous les joueurs,
    peu importe leur niveau et la taille de leur bankroll.

    Affordable Web Site Designers India famous for Company Web site design and e-media services.
    Nevertheless, the online poker web sites in India are heading in direction of authorized troubles as they are not
    complying with Indian laws. Nevertheless extra individuals have started making cash
    bets upon prohibited betting and playing actions in India.
    Having been licensed from InfySec Security labs for fair play and Random
    Number Generator (RNG) to make sure card sequences
    are unpredictable, non-repeatable and uniformly distributed.

    Many gamers are drawn in the direction of the game attributable to its invigorative
    nature of the game mixed with a component of likelihood.
    A three way partnership Dabur’s vice chairman Amit Burman,
    poker portal ‘s founder Anuj Gupta and founder of the event India Poker
    Legend Pranav Bagai. Presently, he plays the India Poker Championship held on the Deltin Royale,
    and the Spartan Poker and Poker High tournaments on-line,
    from home, for 4 to 6 hours a day. Been there a number of times,
    you possibly can’t play it onland and the one
    on line casino is in Goa on a ship, apparently it’s
    not on land so you can gamble or one thing weird.

    It is very simple to withdraw from India, but many are concerned about it.

    What I did with an HDFC Bank was merely give moneybookers my SWIFT
    code, Cash Bookers will then ask for bank verification and I gave
    them my debit card details, they verified my account and I got my money in a few days.
    Danish Shaikh from Goa is one other crew member who had first began taking part
    in poker on Zynga and fell in love with the sport. While there are increasing alternatives within the Asia Pacific region, as well as some land-based mostly gambling facilities in India, the comfort of taking part in on-line poker has opened up lots of new
    curiosity within the sport for folks in India, who now have the freedom to enjoy enjoying Texas Hold’em wherever, anytime.

    The poker scene often operates in plush neighbourhoods in prime
    cities in pleasant periods. So as so as to add extra to this online poker having fun with pleasure we’ve now on-line poker tournaments
    that are listed on the principle web page with required particulars.
    BG Poker Room is a Kolkata primarily based
    gaming firm the place technique skilled based games are played.
    Many poker sessions stretch over 10-12 hours with gamers often needing cocaine or different medication to help
    keep alert. Nonetheless, all sites serving India additionally use British Kilos, so it is not a lot hassle for the opposite websites that do not accept Rupees immediately.

    Obtain Shahi India poker for Android cell by torrent – probably the greatest apk video games.
    This is vital, particularly when taking part in in opposition to wonderful
    gamers, as a result of anything you do on the poker desk can give your opponent a sign of energy or weak spot.
    In consequence, it is very difficult to find out exactly what’s legal and what’s not in India.
    One of many biggest casino operators within the nation additionally just lately acquired Indian poker web site Adda52 for a significant sum.
    Indian government has banned the video games like teen patti (flush) nonetheless, then again, playing rummy shouldn’t be punishable.

    Let’s take for granted that India competing with Macau is as possible because
    the sun scorching the sky and Santa Claus coming to avoid wasting us.
    Online is the place this poker factor is going to exist right
    here. Completely- taking part in online free of charge is among the finest
    methods to positive tune your expertise and prepare for some actual
    money motion. Is committed in the direction of a hundred% Legal and Accountable Gaming Players
    under the age of 18 are not entertained on our Money Game Tables.

    My first stay poker tournament was at the India Poker Championship about 3 years in the past.
    Wait until you actually download our poker software
    that is made In India, create a star poker account and get to the deposit
    half. This includes online poker which has six lakh registered Indian customers on a single website, Scores
    of younger folks have given up profitable careers to play full
    time. These factors could be spent on nice merchandise, to enter on-line tournaments,
    and to qualify for major stay events.

    Along with that, online poker is getting increasingly more in style in India and the number of gamers,
    who log into one of the obtainable on-line poker rooms to play Texas Maintain’em is consistently on the rise.
    Although the betting and blinds are identical as in Omaha but the recreation play and showdown is completely different.
    He is proper about poker at the Massachusetts Institute of Expertise however I suspect that there
    are other causes he loves the sport. In its first season, the Poker Sports League will
    include 12 teams, seven of which have already been offered and the remaining
    five shall be made accessible for sale shortly.

    For Texas Holdem or for Blaze Poker, or a Sit n Go, money prizes
    for on-line poker players are merely one of the best in the arena.
    Choose from High Tequila or Tequila Poker on the buttons at the backside of
    your display. Other choices for depositing/withdrawing for players based
    mostly in India embrace Entropay and Webmoney. Day 2 was the weekend kickoff i.e.

    the 10k Friday Night time match A total of 106 players participated
    in this tournament. The opposite authorized concern, according to
    Sayta, is whether or not Bhalla’s sacking was authorized and whether or not he was served with a
    discover as well as given a chance to explain his aspect in accordance with Part 169 of the Firms Act, 2013. http://primemusicschool.com/?document_srl=6760658

  10. Normally I do not learn article on blogs, however I wish to say that this write-up very compelled me to check out and do
    it! Your writing taste has been surprised me. Thank you, very great post.

  11. They should also respond to your suggestions in a timely manner.
    We design logo, E Brochure Design, E mail Marketing Service, Web
    hosting Delhi. They want to deal with the most trustworthy business.

  12. com is a great place for interface collection for design inspiration. In custom design, chances of being noticed by
    the audience and being impressive to the potential customers
    are greater. If you like their work and if their previous clients assure you they are reliable, they could be
    the company for you.

  13. I would like to thank you for the efforts you’ve put in writing this web site.
    I am hoping the same high-grade website post from you in the upcoming as well.
    In fact your creative writing skills has encouraged me to get my own blog now.
    Actually the blogging is spreading its wings
    quickly. Your write up is a great example of it.

  14. Thank you, I have just been searching for information about this topic for a while and yours is the best I’ve came upon so far.

    But, what in regards to the conclusion? Are you certain in regards to the
    source?

  15. The websites aren’t that hard to design once you find the basic layout
    that you like. For Frisky Kitten, I am currently in the process of designing it, while doing other things, like crocheting a
    bunch of can cozies to help raise money for a family
    member who had an accident and doesn’t have insurance, maintaining Purlsand – Puffs.
    Have a mind map of what the website would look like and then write
    it on a piece of paper.

  16. They should also respond to your suggestions in a timely manner.
    Good web design services offer high-quality designs, fast deliveries, user friendly designs, high-quality content management system, SEO based layouts plus a fast loading website but you are affordable too.
    May be not now but definitely later it should be bringing returns on the investment.

  17. I’ve been exploring for a little for any high quality articles or blog posts in this sort of
    house . Exploring in Yahoo I eventually stumbled upon this site.

    Reading this information So i am glad to show that I have an incredibly excellent uncanny feeling I came
    upon just what I needed. I most without a doubt will make sure
    to don?t disregard this website and provides it a glance regularly.

  18. It offers you a holistic overview of your revenue generation. This is very important because such experts know the essence of having a good mobile website
    for your business. When you prioritized based mostly on the over
    general concerns, you will have made your task of choosing a Santa Barbara Website
    Designer a lot easier.

  19. I would like to thank you for the efforts you’ve put in writing this site.
    I’m hoping the same high-grade site post from
    you in the upcoming also. Actually your creative writing abilities
    has encouraged me to get my own website now.

    Really the blogging is spreading its wings fast. Your write up is a good example of
    it.

  20. Thank you for the blog post. Manley and I happen to be saving for
    our new book on this topic and your article has made us to save our money.

    Your thinking really solved all our concerns. In fact, over what we had thought of in advance of
    the time we came across your superb blog.
    We no longer nurture doubts along with a troubled mind because you have attended to our
    own needs right here. Thanks

  21. Merely wanna comment that you have a very decent internet site, I the design it really stands out.

  22. I blog often and I really appreciate your content. The article has really peaked my interest.
    I am going to book mark your website and keep checking for new
    details about once per week. I subscribed to your
    Feed too.

  23. I believe other website proprietors should take
    this web site as an model, very clean and great user friendly design and style.

  24. It’s appropriate time to make some plans for the
    future and it’s time to be happy. I’ve read this post and if I could I want to suggest you few interesting things or suggestions.

    Perhaps you can write next articles referring to this
    article. I want to read even more things about it!

  25. Hey There. I found your blog using msn. This is a very well written article.
    I’ll make sure to bookmark it and come back to read more of your useful information. Thanks for the post.

    I will definitely comeback.

  26. Some time hiring a web design company in Canada could be bit costly for you
    then looking for a freelance website designer could be profitable for you.
    In custom design, chances of being noticed by the audience and being impressive to the potential customers are greater.
    Videos can also be a great option, if you want to explain briefly about your
    products and services.

  27. It’s actually a nice and helpful piece of info. I’m glad that you shared this helpful information with us.
    Please stay us informed like this. Thank you for sharing.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *