Tuesday , 23 May 2017
Latest
Article by Qaisar Nazir Khawar

Article by Qaisar Nazir Khawar

موسم بدلا ، رُت گدلائی
قیصر نذیر خاورؔ

بیسویں صدی کی دہائی کا وسط تھا ۔ امریکی ریاست ٹیکساس کے مغربی حصے کے ایک شہر’ مارفا ‘ میں ایک جوڑا ’ جونی ‘ اور ’ اُونا ‘ میتھیو آباد تھا ۔ جونی جدی طور پر سکاٹش تھا ۔ اس کے اجداد کا تعلق نارڈک وائی کنگز (Nordic seafarers) سے جا جڑتا تھا ۔ جونی اس شہر کا مئیر اور چیمبر آف کامرس کا صدر تھا ۔ وہ ایک تاجر ہونے کے ساتھ ساتھ مقامی ’ میتھوڈسٹ‘ گرجے کا آگو بھی تھا ۔ ’ اونا ‘ اس شہر کے اسی فرقے کے سکاﺅٹ بچوں کی تنظیم سے’ مدر آف ڈین‘ کے طور پر جڑی ہوئی تھی ۔ 16 جنوری 1953ء کو اس نے اپنے تیسرے بیٹے کو جنم دیا جسے جونی اور اونا نے ’ رابرٹ جے میتھیو‘ کا نام دیا ۔ یہ بچہ جب 31 برس کا ہوا تو 8 دسمبر 1984ء کو امریکہ کے قانون نافذ کرنے والے وفاقی اداے ’ ایف بی آئی ‘ کے لگ بھگ 80 جدید آٹو میٹک ہتھیاروں سے لیس اہل کاروں نے اس کے گھر، واقع ’ فری لینڈ ،واشنگٹن ‘ ، کو گھیرا اور آگ لگانے والے دستی بم پھینک کر رابرٹ جے میتھیو سمیت جلا ڈالا ۔ رابرٹ جے میتھیو کو کیوں مارا گیا اور وہ کون تھا ؟ اس پر بات کرنے سے پہلے آئیے ذرا تاریخ کے پنےّ پلٹ کر دیکھیں ۔
نسل یا قوم کی برتری کا احساس خاصے پیچیدہ عوامل کے ساتھ جڑا ہے ۔ کب کوئی نسل یا قوم اس احساس کے ساتھ دوسری نسلوں یا قوموں کو حقیر جاننے لگتی ہے؟ اس کی تاریخ انسانی سماجوں کے ارتقاء سے جُڑی ہے ۔ جانی مانی تاریخ میں یوں تو اس کی اور مثالیں بھی موجود ہوں گی لیکن ایک اہم مثال ’ آریہ‘ لوگوں کی ہی ہے جنہوں نے نہ صرف وادی سندھ و گنگا جمنی تہذیبوں کو تاراج کیا بلکہ یورپ میں بھی جا آباد ہوئے ۔ ’ آریہ ‘ انڈو ۔ ایرانین تھے یا اصلاً انڈو ۔ یورپین یا نارڈک ( Nordic) نسل کے لوگ تھے یہ موضوع تاحال تشنہ ہے ۔ سفید فام نسل پرستی یا قومیتی برتری کسی نہ کسی طور اس ’ آریہ ‘ لوگوں سے بھی جڑی ہے ۔
یہ بات بھی اپنی جگہ سب سے اہم ہے کہ ذرائع پیداواراور اس کے لئے درکار خام مال و وسائل ، اس کے ساتھ جڑی معیشت اور ہتھیاروں کا کردار اس برتری کو بڑھاوا دیتے ہیں ۔ دنیا کے مختلف سماجوں میں مانے جانے والے ، غیر مقدس و مقدس ، دونوں طرح کے عقائد میں جہاں نسلی و ذات پات کی تفریق بھی موجود تھی وہاں یہ بھی کہا جا چکا تھا کہ سب جانداروں کے زندہ رہنے کا حق مقدم ہے یا یہ کہ سب انسان برابر ہیں اور کسی عجمی کو عربی یا عربی کو عجمی پر فوقیت حاصل نہ ہے ۔
عربیوں کا زمینی و بحری راستوں کے ذریعے اپنے صحرائی علاقوں سے نکل کر وسط و جنوبی ایشیا اور افریقہ جانا اور یورپی قوموں کا اپنے مختصر خطے، جسے جغرافیائی طور پر ’ بر اعظم یورپ ‘ کہا جاتا ہے ، سے باہر نکلنا اور بحر اوقیانوس ، بحرالکاہل و بحر ہند عبور کرکے نئے ارضی خطوں تک پہنچنا بھی کسی نہ کسی طور اسی سے جڑا ہے ۔
یہ لگ بھگ 15 ویں صدی کی بات ہے کہ پرتگالی اور ہسپانوی سفید فام تجارت کی غرض سے اور اپنے ہاں ذرائع کی کمی کو پورا کرنے کے واسطے ’ پرانی دنیا ‘ سے باہر نکلے اور نئی دنیاﺅں کا رخ کیا ۔ ہسپانوی کولمبس نے 1492ء تا 1502ء کے درمیان نہ صرف ’ امریکہ’ ز ‘ دریافت کئے بلکہ وہاں آباد کاری کے عمل کا آغاز بھی کیا ۔ اسی زمانے میں پرتگالی’ واسکوڈی گاما ‘ وہ پہلا جہازراں تھا جس نے مئی 1498ء میں برصغیر ہند کو کالی کٹ کے مقام پر اپنا بحری جہاز لنگر انداز کیا تھا ۔ 16 ویں صدی میں ہسپانوی ان نئی دنیاﺅں میں اس حد تک چھا گئے تھے کہ یہ محاورہ ’ سلطنت جس میں سورج کبھی غروب نہیں ہوتا ‘ پہلی بار ان کے لئے استعمال ہوا تھا ۔ ہسپانوی اور پرتگالیوں کی دیکھا دیکھی ولندیزی ، فرانسیسی اور برطانوی بھی باہر نکلے ۔ ولندیزی جہازراں ویلم جینسون ( Willem Janszoon) نے آسٹریلیا کی کیپ پارک کی ساحلی پٹی دیکھ لی تھی اور اسے ’ نیو ہالینڈ ‘ کا نام بھی دے دیا تھا لیکن یہاں یورپی آباد کاری برطانوی ولیم ڈیمپئیر کے ہاتھوں 1688ء میں ہی شروع ہوسکی تھی اور 1770ء میں جب امریکہ میں برطانوی نوآبادیات میں ناکامی کا سامنا کرنے لگے تو جیمز کُک نے ’ آسٹریلیا ‘ کی مشرقی ساحلی پٹی کو’ نیو ساﺅتھ ویلز‘ کا نام دے کر اس پر برطانوی حق جتایا تھا ۔
یورپی آبادکار امریکہ میں اپنے ساتھ افریقی غلام بھی لے کر گئے اور انہوں نے امریکہ کے اصل باسیوں کا یا تو قلع قلمع کیا یا انہیں ایسے علاقوں میں دھکیل دیا جن میں اس وقت ان آبادکاروں کو دلچسپی نہ تھی ۔ یاد رہے کہ آریہ لوگوں نے بھی ہند میں ایسا ہی کیا تھا ۔ انہوں نے یا تو مقامی آبادی کو تہ تیغ کیا ، غلام بنایا ، اچھوت قرار دیا یا ایسے علاقوں میں دھکیل دیا جو سندھ ، گنگا اور جمنا کے زرخیز علاقوں سے پرے تھے ۔
پہلے صنعتی انقلاب ( لگ بھگ 1760 ء تا 1840ء ) کے دوران اور بعد میں ہسپانوی ، پرتگالی ، ولندیزی ، فرانسیسی اور برطانوی ’ نوآبادیات ‘ کے حوالے سے آپس میں متحارب رہے ۔’ امریکہ’ ز‘ میں بھی یہ آپس میں لڑے ۔ شمالی امریکہ میں یورپی آباد کاروں کی آپسی خانہ جنگی کی ایک لمبی داستان ہے جو بآلاخر بنجمن فرینکلن کے ’ متحدہ ریاستہائے امریکہ‘ کے نظریے تک پہنچی جس نے جولائی 1776ء میں ارضی شکل اختیار کرنا شروع کی ۔ دوسرے صنعتی انقلاب ( لگ بھگ 1870ء تا 20 صدی کا اوائل ) کے وقوع پذیر ہوتے ہوتے ان سب کی نوآبادیات واضع شکلوں میں وضع ہو چکی تھیں اور اس صنعتی انقلاب کے ساتھ ساتھ نوآبادکاری جو سامراج کی شکل اختیار کر چکی تھی افریقہ کی بندر بانٹ تک آ پہنچی جس میں بلجئیم ، اٹلی اور جرمنی بھی شامل ہو گئے تھے ۔ 1870ء میں جہاں افریقہ میں یورپی تسلط لگ بھگ اس کے دس فیصد حصے پر تھا ، 1914ء میں پہلی جنگ عظیم کے آغاز تک نوے فیصد تک جا پہنچا تھا ۔ امریکہ میں پورپی آبادکاروں نے خود کو پورپی بادشاہتوں تسلط سے بھی آزاد کروایا اور 1789 ء میں’ جارج واشنگٹن ‘ کی سربراہی میں صدارتی نظام کی بنیاد ڈالی ۔ یہ ساری تاریخ کشت و خون ، نسلی برتری ، مالک اور غلامی اور نسل پرستی کی داستانوں سے لبریز ہے ۔ کشت و خون کی داستان یہاں ہی ختم نہ ہوئی ۔ بیسویں صدی کے آغاز سے ہی دنیا بھر میں عام طور پر اور نوآبادیات میں خاص طور پر قوم پرستی کا رجحان پروان چڑھنے لگا تھا ۔ مضبوط ہوتا سامراج ، نوآبادیات سے خاصی حد تک محروم جرمن اورآسٹرین ۔ ہنگرین سلطنتیں ، زوال پذیر سلطنت عثمانیہ اور سب سے بڑھ کر معاشی مفادات جولائی 1914ء میں پہلی جنگ عظیم کے آغاز کا موجب بنے جس کا اختتام نومبر 1918ء میں کچھ ایسے ہوا کہ دنیا کے جغرافیائی و سیاسی نقشے میں خاصی تبدیلیاں آ گئیں جن میں ایک اہم تبدیلی روس میں سوشلسٹ انقلاب جبکہ چین میں جمہوری ، سوشلسٹ خیالات کی ترویج اور جاپانی سامراج کے خلاف بڑھتی مزاحمت کے علاوہ نو آبادیات میں پھلتی پھولتی قوم پرستی اہم تھی ۔ اس جنگ میں لگ بھگ ایک کروڑ ستر لاکھ افراد ہلاک ہوئے ، اس کہیں زیادہ زخمی جبکہ کچھ اتنے ہی در بدر ہوئے ۔ اس جنگ کے بعد کے جرمنی میں’ سفید فام/ آریہ نسلی برتری ‘ کی اس لہر کا آغاز ہوا جس کے نتیجے میں ہٹلر 1933ء میں برسر اقتدار آیا جس نے اٹلی کے مسیولینی اور اتحادی جاپان کے ساتھ مل کر دوسری جنگ عظیم کا آغاز ستمبر 1939ء میں پولینڈ پر حملے سے کیا ۔ معاشی مفادات اپنی جگہ لیکن ‘ سواستیکا ‘ کا نشان سینے سے لگائے ہٹلر دنیا میں برتر جرمن قوم کے غلبے کا خواب ’ فاشزم‘ اور ’ نازی ازم‘ کی شکل میں دیکھ رہا تھا جبکہ سمورائی ذہن کا مالک جاپانی بادشاہ ہیرو ہیٹو ’ زرد نسل‘ پر حکمرانی کی خاطر اس کے ہمراہ تھا ۔ یہ جنگ پہلی جنگ عظیم سے بھی زیادہ ہولناک ثابت ہوئی ۔ اس کا اختتام اگست 1945 ء میں جاپان کے دو شہروں ہیرو شیما اور ناگا ساکی پر اٹیم بم گرائے جانے پر ہوا ۔ اس میں ہوئی ہلاکتوں کے آنکڑے ایک دوسرے سے لگا نہیں کھاتے ۔ بہرحال یہ پانچ کروڑ تا نو کروڑ کے درمیان ہیں ۔ جن میں نصف کے قریب فوجی جبکہ باقی شہری آبادیوں کی ہلاکت ہے ۔ یاد رہے کہ جاپان پر دو اٹیمی بم گرا کر شہری آبادیوں کی لاکھوں ہلاکتوں کے ذمہ دار امریکہ کی اپنی شہری آبادی ( پرل ہاربر جاپانی حملے میں) کی ہلاکتوں کی کل تعداد سو سے بھی کم تھی ۔
یہ جنگ جہاں معاشی مفادات کی جنگ تھی وہیں یہ نسلی برتری کی غماز بھی تھی ۔ ہٹلر نے اپنے دور اثر و اقتدار میں جس نسلی برتری کا مظاہرہ کیا اس کی مثال لکھی تاریخ میں کم کم ہی ملتی ہے ۔ یورپی سفید آباد کاروں کے ہاتھوں امریکہ ، کینیڈا ، آسٹریلیا و دیگر جگہوں پر اصلی باشندوں کی جو بیغ کنی ہوئی سو ہوئی غلام بنائے گئے سیاہ فام بھی گھمبیر نسلی تعصب سے محفوظ نہ رہے ۔ ابراہام لنکن کے 1863ء کے صدارتی حکم کے باوجود امریکہ کے کئی حصوں میں غلامی موجود رہی اور اسے ختم ہوتے ہوتے 1866ء آ گیا تھا جب اوکلاہوما میں اس پر پابندی لگائی گئی اور وہاں غلاموں کو آزاد کئے جانے کے لئے کہا گیا لیکن نسلی برتری صرف قوانین منظورسے ختم نہیں ہوتی ۔ خود سلطنت برطانیہ نے اپنی نوآبادیات میں غلامی کو ختم کرنے والے قوانین بناتے بناتے بیسویں صدی کی تیسری دہائی بھی گزار دی تھی ۔ سفید نسل پرستوں کے پاس اور بھی بہت حیلے تھے جن سے وہ اپنی برتری قائم رکھے رہے ۔
سیاہ فاموں کی امریکہ میں اپنی آزادی کی تحریک کا راستہ ایک لمبا راستہ ہے ۔ ایک طرف اس تحریک کے حامی لگے ہوئے تھے اور ’ انکل ٹام ‘ز کیبن ‘ (1852ء ) جیسا ادب بھی لکھا جا رہا تھا تو دوسری طرف سفید نسل پرست ان کا شکار کرنے کے نت نئے حربے اختیار کرتے رہے ۔ سیاہ فاموں کے لئے الگ گاڑیاں ، الگ ریستوراں ، پانی پینے کے الگ انتظامات۔ اور تو اور 1860 کی دہائی میں ’ کو کلکس کلان (Ku Klux Klan ) جسے ’ دی کلان ‘ بھی کہا جاتا تھا جیسی سفید نسل پرست و سفید قوم پرست دائیں بازو کی انتہا پسند تنظیمیں بھی وجود میں آئیں ۔’ دی کلان‘ کی بنیاد ’پولاسکی ، ٹینیسی ‘ میں کنفڈریشن کے حامی چھ فوجیوں نے رکھی تھی ۔ اس کا منشور سابقہ فوجی جنرل جارج گورڈن نے لکھا تھا جبکہ جنرل ’ نتھن بیڈ فورڈ فوریسٹ‘ اس کا قومی ہیرو تھا ۔ تنظیم کے ارکان نہ صرف سیاہ فاموں کو قتل کرتے تھے بلکہ ایسے سفید فاموں کو بھی موت کے گھاٹ اتارنے سے نہیں چوکتے تھے جو سیاہ فاموں کی آزادی اور ان کے برابری کے حقوق کے حمایتی تھے ۔ سیاہ فاموں کے ریپبلکن حمایتی’ جارج ڈبلیو ایشبورن‘ کو اسی کلان کے ارکان نے قتل کیا تھا ۔ یہ اپنی دہشت گردی کی وارداتیں کرتے وقت سفید نقاب پہنا کرتے تھے ۔ یہ تنظیم صدی کے ختم ہونے تک خود ہی ختم ہو گئی ۔ یہ تنظیم 1910 ء کی دہائی کے وسط میں ایک بار پھر متحرک ہوئی اس بار اس کا آگو ولیم جے سائمنز تھا ۔ اس سے پیشتر 1905ء میں امریکی ادیب تھامس ڈکسن جونئیر’ دی کلان ‘ پر ایک ناول ’ کلان’ زمین‘ ( The Clansman) لکھ چکا تھا ۔ اس دفعہ یہ زیادہ منظم تھی اور لگ بھگ پچاس ملین سفید فام اس کے رکن تھے ۔ اس کی ایک وجہ شاید یہ بھی تھی کہ تھامس ڈکسن جونئیر کا ناول ’ کلان‘ کی حمایت میں لکھا گیا تھا دوسرے اس پر اپنے زمانے کے ایک اہم فلم میکر اور ہدایت کار ’ ڈی ڈبلیوگریفتھ (D. W. Griffith) نے ’ The Birth of a Nation‘ نامی فلم 1915ء میں بنا کر’ کلان ‘ اور سفید فام نسل پرستی کو مقبول عام کیا تھا ۔ یہ تنظیم 1920 کی دہائی کے وسط میں اپنے عروج پر تھی ۔ دوسری جنگ عظیم اس کے تنظیم کی تنزلی کا باعث بنی لیکن جنگ ختم ہوتے ہی یہ پھر سرگرم ہو گئی اوراس کے کئی آزاد گروپ تاحال موجود ہیں ۔ اب یہ سفید نسل و سفید قوم پرست ہونے کے ساتھ ساتھ بدیس سے آ کر امریکہ میں بسے لوگوں ، یہودیوں اور کیتھولک لوگوں کی بھی مخالف ہے ۔ یہ نارڈکزم (Nordicism) پر بھی یقین رکھتی ہے ۔ اسی طرح کا سفید نسل پرست ایک اور گروپ ’ آرین ریپبلکن آرمی‘ (Aryan Republican Army) کے نام سے 1990کی دہائی کے اوائل میں بھی بنا تھا اور صدی کے ختم ہونے کے ساتھ ختم ہو گیا تھا لیکن اسی سوچ کے حامی سفید فاموں کے کئی جتھے ابھی بھی امریکہ میں موجود ہیں ۔
’ رابرٹ جے میتھیوز‘ جسے ایف بی آئی نے 31 برس کی عمر میں زندہ جلا ڈالا تھا ایک ایسا ہی سفید فام نسل پرست تھا جس نے گیارہ سال کی عمر میں’ فوئنکس ، ایری زونا ‘ میں ’ جان برچ سوسائٹی ‘ میں شمولیت اختیار کی جو کمیونسٹ مخالف نظریات اور حکومت کے محدود اختیارات کی داعی تھی ۔ اپنے ہائی سکول کے زمانے میں اس نے ’ میتھیو چرچ‘ سے ہٹ کرمسیحی ’ مورمون (Mormon) فرقے ، جس کو جوزف سمتھ نے 1820 کی دہائی میں ریاست نیو یارک کے مغربی علاقے میں تحریک دی تھی ( یہ پروٹسٹنٹ فرقے سے ہی نکلی مسیحت کی ایک شاخ ہے )، سے جا جڑا ۔ پھر اس نے ’ آزادی کے بیٹے‘ (Sons of Liberty) نامی تنظیم بنائی ۔ اس کے اراکین میں زیادہ تر وہ نوجوان شامل تھے جو مورمون فرقے کے رضارکار (Preppers) تھے ۔ یہ تنظیم بھی کمیونسٹ مخالف تھی ۔ تیس چالیس نوجوانوں کا یہ جتھا ابھی وجود میں آیا ہی تھا کہ’ رابرٹ جے میتھیوز‘ ایک ٹیکس فراڈ میں گرفتار کر لیا گیا اور اسے چھ ماہ کے لئے ’ نگہداشت‘ (probation ) میں ڈال دیا گیا ۔ ’ آزادی کے بیٹے‘ کے ممبران میں’ مورمون حمایت ‘ اور ’ مورمون مخالفت ‘ کی بنیاد پر پھوٹ پڑی اور میتھیوز اس سے الگ ہو گیا ۔ 1974ء میں اس کے والد نے ’ میٹا لائن فالز، واشنگٹن ‘ کے جنگل میں ساٹھ ایکڑ اراضی کا ایک خطہ خریدا اور اپنے خاندان سمیت وہاں منتقل ہو گیا ۔ میتھیوز نے وہاں سکاٹش ’گیلووے ‘گائے بھینسوں کا ریوڑ پالا اور ان کی افزائش نسل کرنے لگا ۔ اس نے 1976ء میںڈیبی نامی لڑکی سے شادی کی ۔ جب پانچ سال تک اس کے ہاں اولاد نہ ہوئی تو انہوں نے کلنٹ نامی ایک بچہ گود لے لیا ۔ اس دوران اس کا معاشقہ ظلحہ کریگ نامی ایک عورت سے بھی چلتا رہا جس سے اس کی ایک بیٹی بھی پیدا ہوئی ۔ وہ امریکی ادیب ولیم گیلے سِمسن (William Gayley Simpson) سے بہت متاثر تھا جو اپنی کتاب ’ Which Way Western Man?‘ میں سفید نسل کو خطرے میں ہونے کا داعی ہے ۔ 1982 ء میں اس نے امریکہ کی شمال مغربی سطح مرتفع کے ان علاقوں کا دورہ کیا جہاں سفید فام نسل پرست سارے امریکہ سے منتقل ہو کر آباد ہو رہے تھے ۔ ان لوگوں کا خیال تھا کہ کثرت ہو جانے پر وہ اسے ’ آرین ‘ علاقے کا نام دیں گے ۔ جلد ہی میتھیوز وہاں مشہور ہو گیا اور بہت سے لوگ اس کے حامی بن گئے ۔ وہ 1978ء کے ناول ’ دی ٹرنر ڈائریز‘ (The Turner Diaries) سے بھی متاثر تھا جسے ولیم لوتھر پیرس (William Luther Pierce) نے قلمی نام اینڈریو میکڈونلڈ کے نام سے لکھا تھا ۔ ولیم ایک سفید نسل و قوم پرست تھا اور پیشے کے اعتبار سے ماہر طبیعات تھا ۔ اس نے 1974 ء میں ’ نیشنل الائنس‘ (National Alliance) نامی سیاسی تنظیم کی بنیاد بھی رکھی تھی ۔ یہ تنظیم اس ’ نیشنل یوتھ الائنس‘ کا ہی تسلسل تھا جو 1968ء میں الباما کے سفید نسل پرست گورنر جارج ویلیس کے صدراتی انتخاب کی مہم میں کھڑا ہوا تھا ۔ نظریاتی طور پر یہ ’ سفید نسل و قوم پرست ، یہودی مخالف اور سفید علیحدٰگی پسند سیاسی تنظیم تھی ۔ یہ تنظیم ابھی بھی موجود ہے ۔ اس کی ویب سائٹ پر یہ نعرہ واضع طور پر لکھا ہے ؛ نو ملٹی ۔ ریشئیل سوسائٹی (No multi-racial society) ۔ 1983ء میں میتھیوز نے نیشنل الائنس کے کنونشن میں خطاب کیا اور چھوٹے کسانوں و باربرداری کرنے والوں (truckers) کو اس سیاسی مہم میں شرکت کی دعوت دی ۔ اسی سال ستمبر میں اس نے اپنے فارم کے ایک ڈیرے میں ’ دی آرڈر‘ (The Order ) نامی گروپ کی بنیاد رکھی ۔ اس میں اس کے دوست اور ہمسائے کین لوف کے علاوہ ’ آرین نیشنز‘ کے پانچ اور’ نیشنل الائنس‘ کے دو افراد بھی شامل تھے ۔ اس گروپ کو ’ Brüder Schweigen‘ بھی کہا جاتا تھا جس کا مطلب ’ خاموش بھائی بندی‘ ہے ۔ یہ گروپ سفید نسل و قوم پرست تو تھا ہی ساتھ ہی ساتھ نیو ۔ فاشسٹ ، نیو۔ نازی ہونے کے ساتھ ساتھ امریکی حکومت کا تختہ الٹنے کا داعی بھی تھا ۔ یہ امریکی حکومت کو ’ زوگ‘ (Zionist Occupied Government ) یعنی ایسی حکومت جس پر یہودی چھائے ہوئے ہیں ، کہتا تھا۔ اس گروپ نے ڈکیتی اور بنک لوٹنے کی وارداتوں سے مالی وسائل پیدا کئے جن میں سب سے واردات ’ اوکیہ ، کیلی فورنیا کی بنک ڈکیتی تھی جس میں اس نے 36 لاکھ ڈالر لوٹے تھے ۔ اپنے استعمال میں لانے کے علاوہ اس گروپ نے یہ پیسہ ’ نیشنل الائنس‘ اور ’ سفید فام محب وطن پارٹی‘ کو بھی دیا ۔ اس گروپ نے ’ دشمنوں ‘ کی ایک ’ہٹ لسٹ ‘ بھی بنا رکھی تھی جن میں اہم سیاہ فام ، حکومتی ارکان اور یہودی شامل تھے ۔ یہ گروپ حکومتی نظر میں اس وقت آیا جب اس کے ممبر بروس پیرس (Bruce Pierce ) نے اپنے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ ’ ڈینور ، کلوریڈو‘ کے ایک وکیل اور ریڈیو ٹاک شو کے اینکر ’ ایلن برگ‘ ( Alan Harrison Berg) کو اس کے گھر کے سامنے قتل کر دیا ۔ ایلن برگ ایک یہودی تھا جو اپنے ٹاک شو میں ’ انسانی حقوق ‘ کے علاوہ روشن خیالی پر مبنی خیالات کا پرچار کرتا تھا ۔ قتل سے پہلے اس نے اپنے ٹاک شو میں ایک لکھاری کی اس تحریر کو چیلنج کیا تھا کہ یہودی شیطان کے پیروکار ہیں ۔ ایلن 18جون 1984ء کو قتل کیا گیا تھا ۔ اس سال کے آخر تک ایف بی آئی نے اس گروپ کے چار ممبران جین کریگ ، بروس پیرس ، ڈیوڈ لین اور رچرڈ سکوتری کو پکڑا ۔ ڈیوڈ لین پیشے کے اعتبار سے پراپرٹی ڈیلر تھا اور پہلے ’ کلان ‘ کا ممبر رہ چکا تھا ، کو 190سال قید کی سزا ہوئی ۔ بروس پیرس کو 252 سال قید کی سزا دی گئی ۔ یہ دونوں قید کے دوران ہی فوت ہوئے ۔ کریگ اور سکوتری کو ایلن برگ کے قتل کے حوالے سے تو سزا نہ ہوئی لیکن انہیں ڈکیتی جیسی دیگر کاروائیوں کے حوالے سے سزا دی گئی ۔
ایف بی آئی اس گروپ کے ایک رکن تھامس مارٹینیز (Thomas Martinez )،جو ’ دی آرڈر‘ میں شامل ہونے سے پہلے ’ کلان‘ کا رکن تھا ، کے تعاون سے میتھیوز اور اس کے دیگر اہم ساتھیوں تک بھی پہنچنے میں کامیاب ہو گئی ۔ یوں اس گروپ کے ممبران کو ایف بی آئی کے اس کریک ڈاﺅن کا سامنا کرنا پڑا جو اس ادارے کے اہم ترین ’ کریک ڈاﺅنز‘ میں سے ایک ہے ۔ لگ بھگ سو کے قریب ارکان ِ’ آرڈر ‘ پکڑے گئے اور ان کے خلاف آٹھ مختلف مقدموں میں سزا سنائی گئی ۔
میتھیوز ’ فری لینڈ ، واشنگٹن ‘ میں ’ آرڈر‘ کے ایک خفیہ ٹھکانے میں جا کرچھپا ہوا تھا ۔ اس نے تھامس مارٹینیز کو ملاقات کے لئے بلایا ۔ وہ اس بات سے بے خبر تھا کہ تھامس ایف بی آئی سے مل چکا ہے۔ یہ ملاقات ’ پورٹ لینڈ کے ہوٹل کپری میں ہوئی جہاں سے ایف بی آئی اس کا پیچھا کرتے ہوئے اس کی کمین گاہ تک جا پہنچی ۔ وہ وہاں اکیلا رہ رہا تھا کیونکہ اس کے ساتھی دیگر کمین گاہوں میں جا چھپے تھے ۔ 7 دسمبر 1984ء کو ایف بی آئی کے ایجنٹوں نے اس کے ٹھکانے کو گھیر لیا اور اسے ہتھیار ڈالنے کو کہا ۔ میتھیوز کے انکار پر انہوں نے اس گھر میں ایسے درجنوں دستی بم پھینکے جو دھواں پیدا کرتے تھے ، ایف بی آئی کا خیال تھا کہ میتھیوز اس دھویں کی وجہ سے باہر نکلنے پر مجبور ہو جائے گا لیکن وہ گیس ماسک سے لیس تھا ، دھواں اس کا کچھ نہ بگاڑ سکا ۔ سر پر ہیلی کاپٹر اور زمین پر ہر طرف سے ایف بی آئی کے ایجنٹوں میں گھرا میتھیوز لگ بھگ چوبیس گھنٹے تک ان کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ کرتا رہا یہاں تک کہ ایف بی آئی نے اس مکان پر آگ لگانے والے دستی بم پھینکنے کا فیصلہ کیا ۔ ایک ایجنٹ نے اوپر تلے تین ایسے دستی بم میتھیوز کے ٹھکانے پر پھینکے جن کے پھٹتے ہی یہ دیکھتے ہی دیکھتے شعلوں کی لپیٹ میں آ گیا ۔ آگ کے سرد ہونے پر اگلے روز اس کی جلی ہوئی لاش ایک غسل خانے کے نہانے والے ٹب میں پڑی ملی ۔ اس کے گروپ کا ’ دھاتی بیج ‘ (medallion) پگھل کر اس کے سینے میں دھنسا ہوا تھا ۔
ایلن برگ ، میتھیوز اورگروپ ’ دی آرڈر ‘ ختم تو گئے لیکن فنون لطیفہ میں ان کی بازگشت دیر تک موجود رہی ۔ ایلن برگ کی زندگی پر امریکی مصنف سٹیفن سنگولر (Stephen Singular) نے ’ Talked to Death ‘ نامی کتاب لکھی ۔ تھامس مارٹینیز نے بھی جان گوینتھر کے ساتھ مل کر ’Brotherhood of Murder ‘ لکھی جو میتھیوز اور گروپ ’ آرڈر ‘ کے بارے میں تھی ۔ ایلن برگ ، میتھیوز اور اس کا گروپ ’ دی آرڈر‘ دو فلموں کے سکرپٹ کے ماخذ بھی بنے ۔ یہ دونوں فلمیں 1988 ء میں سامنے آئیں ۔ ’ ٹاک ریڈیو‘ (Talk Radio ) امریکی ہدایتکار اولیور سٹون کی فلم ہے جس کا مرکزی کردار ایلن برگ سے ماخوذ ہے ۔ ’ بے وفائی‘ (Betrayed) یونانی نژاد فرانسیسی ہدایت کار کوسٹا ۔ گیورس نے بنائی تھی جس کا مرکزی کردار میتھیوز سے اخذ شدہ ہے ۔ ان سے ہٹ کر’ سفید جام نسل و قوم پر ستی اور نیو ۔ نازی ازم ‘ پربنی تین فلمیں’ امریکی تاریخ ایکس ‘ ( American History X) ، ’سبز کمرہ ‘( Green Room) اور ’ شاہی حکم‘ (Imperium) بھی اہم ہیں ۔ اول اکتوبر 1998ء میں ریلیز ہوئی تھی ، دوسری مئی 2015ء میں کینز فلم فیسٹیول میں پیش ہوئی تھی جبکہ یہ اپریل 2016ء میں سنیماﺅں کی زینت بنی تھی ۔ ’ شاہی حکم ‘ اگست 2016ء میں سامنے آئی ۔
امریکہ میں سفید نسل و قوم پرستی ، یہودی کی مخالفت اور سفید علیحدٰگی پسندی اور بدیس سے آ کر بسے لوگوں کے خلاف کام کرنے والی تنظیمیں ، گروپ ، جتھے اور افراد اب بھی موجود ہیں اور ان کی وارداتیں جاری و ساری ہیں ۔ سفید نسل و قوم پرستی کے تحت ہونے والی ایک اہم واردات 17 جون 2015 ء کو’ چارلیسٹن گرجا گھر فائرنگ ‘ تھی ۔ جس میں مرنے والے نو افراد افریقی ۔ امریکی تھے جن میں ریاستی سینیٹر’ کلیمنٹا سی پنکنے‘ بھی شامل تھا ۔ اس سے قبل 13 اپریل 2014ء کو اوور لینڈ پارک یہودی کمیونٹی سنٹر میں فائرنگ تین یہودی مارے گئے تھے ۔ اسی برس 8 جون کو ایک’ نیو۔ نازی ‘جوڑے نے لاس ویگاس پولیس کے دو افسروں اور ایک شہری کو ایک ریستوراں میں کھانا کھاتے ہوئے فائرنگ کرکے مار ڈالا تھا اور وہاں ’ سواستیکا ‘ نشان بنا کر اور انقلاب کا نعرہ لکھ کر فرار ہو گئے تھے (جیرڈ اور ایمنڈا مِلرنامی ایک سفید فام جوڑا اسی دن پولیس مقابلے میں ہلاک کر دیا گیا تھا ) ۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا امریکی صدرمنتخب ہونا اور حلف لینے کے بعد صدر بن جانا ’ امریکی قوم پرستی‘ کے گرد گھومتا ہے ۔ دیکھنا یہ ہو گا کہ اس میں سفید قوم پرستی اور سفید نسل پرستی کی برتری کا کتنا گھول ہے اور یہ اس کی پالیسیوں میں کس طرح اور کیسے کیسے اپنے رنگ دکھاتی ہے ۔ اوباما کے’ ہیلتھ کئیر پروگرام‘ کی قطع و برید خطرے کی وہ گھنٹی ہے جس کی آواز نے نہ صرف امریکہ بلکہ ساری دنیا کو اپنی طرف متوجہ کر رکھا ہے ۔

About meharafroz

37 comments

  1. Great website you have here but I was curious about if you knew of any forums that cover the same topics discussed in this article?
    I’d really love to be a part of online community where I can get comments from other
    knowledgeable people that share the same interest.
    If you have any recommendations, please let me know.
    Thank you!

  2. Hi, every time i used to check weblog posts here in the early hours in the
    daylight, as i like to find out more and more.

  3. Very good blog! Do you have any tips and hints for aspiring writers?

    I’m planning to start my own website soon but I’m a little lost on everything.

    Would you recommend starting with a free platform like WordPress or go for a paid option? There
    are so many choices out there that I’m completely
    confused .. Any ideas? Thanks a lot!

  4. I don’t even understand how I ended up here, but I believed this put up was once great.
    I do not know who you are however definitely you’re going
    to a well-known blogger if you aren’t already. Cheers!

  5. I was recommended this web site by my cousin. I’m not sure whether this post is written by him as nobody else know such detailed about my trouble.
    You are amazing! Thanks!

  6. From scubadiving exploring and and sky-diving to deep sea
    fishing, Oceanside is not empty of issues for you
    to scratch that bucket list off!

  7. Ahaa, its good discussion about this article here at this webpage, I have read all that, so now me also commenting here.

  8. Good web site you have here.. It’s difficult to find good quality writing like yours nowadays.
    I honestly appreciate individuals like you! Take care!!

  9. Hi there, I enjoy reading through your article. I wanted to write a little comment
    to support you.

  10. Amazing! This blog looks just like my old
    one! It’s on a completely different subject but
    it has pretty much the same page layout and design. Excellent choice
    of colors!

  11. What a stuff of un-ambiguity and preserveness of valuable knowledge
    about unpredicted emotions.

  12. It’s very trouble-free to find out any matter on net as compared to textbooks,
    as I found this post at this website.

  13. First of all I want to say superb blog! I had a quick question which I’d like
    to ask if you don’t mind. I was curious to find out how you center yourself and clear your mind prior to writing.
    I have had a difficult time clearing my thoughts in getting my thoughts out there.

    I do enjoy writing however it just seems like the first 10 to
    15 minutes tend to be lost just trying to figure out how to begin. Any suggestions or hints?
    Cheers!

  14. If you are going for most excellent contents like myself, simply pay a quick visit this web site
    every day for the reason that it presents
    feature contents, thanks

  15. Why users still make use of to read news papers when in this technological
    world the whole thing is presented on web?

  16. Howdy! This is my first visit to your blog!

    We are a group of volunteers and starting a new initiative in a community in the
    same niche. Your blog provided us valuable information to work on. You have done a
    marvellous job!

  17. These brief listing of some improvements from your 2008
    for the 2010 California Building Code isn’t comprehensive.

  18. Do you mind if I quote a few of your posts as long as I provide credit and sources back to your blog?
    My website is in the very same niche as yours and my users would definitely benefit from some of the information you provide
    here. Please let me know if this okay with you.
    Many thanks!

  19. Fantastic site. A lot of useful info here.
    I am sending it to several pals ans additionally sharing in delicious.

    And of course, thank you on your sweat!

  20. Can I just say what a comfort to discover somebody who really understands what
    they are discussing on the web. You certainly understand how to bring
    a problem to light and make it important. A lot more people should look at this and understand this side of the story.
    I can’t believe you are not more popular because you surely have the gift.

  21. Middle Minoan interval, in Greece, when speedy social modifications came about, with palaces emerging
    for the first time, but additionally being destroyed and having to be rebuilt.

  22. It had the assay hallmarks (GTV, being one in every of them),
    the diamonds tested real with my selector II diamond tester, but the gold fizzled
    on acid testing.

  23. Jewellery and precious stones, which may very well be value millions of pounds,
    were snatched by thieves from a vault in Hatton Backyard,
    London, over the weekend.

  24. It takes a set of tables to work out the precise age
    of a bit however there are certain pieces of vintage jewelry
    that it is straightforward to work out the age of. One of these is British antique
    jewellery made from 15 carat gold.

  25. Great Hub, I am going to point out it to my daughters.

  26. That is why the inconsistency within the costs, that the
    various sellers supply. So contact more than one shop
    before you sell gold.

  27. You should be a part of a contest for one of the best sites on the internet.
    I most certainly will highly recommend this site!

  28. Aw, this was a really nice post. Spending some time and actual effort to create a really good article… but what can I say…
    I procrastinate a whole lot and never manage to get anything done.

  29. I was recommended this website by means of my cousin. I am now
    not certain whether this put up is written by means
    of him as nobody else recognise such special approximately my problem.
    You’re incredible! Thanks!

  30. Hello, i think that i saw you visited my weblog so i got here to
    go back the favor?.I am trying to in finding issues to enhance my site!I guess its ok to make use of
    some of your ideas!!

  31. I feel that is one of the most important info for me.
    And i’m happy reading your article. But should commentary on some common issues, The web site style is wonderful, the articles is in point of fact excellent :
    D. Good task, cheers

  32. Excellent site. Lots of helpful info here. I am sending it to several friends ans additionally sharing in delicious.
    And certainly, thank you on your sweat!

  33. I visited many web pages but the audio feature for audio songs existing at this web site is really wonderful.

  34. Having read this I believed it was rather informative.
    I appreciate you taking the time and effort to put this content together.
    I once again find myself spending a significant amount of
    time both reading and commenting. But so what,
    it was still worthwhile!

  35. What’s Happening i am new to this, I stumbled upon this I’ve discovered It positively helpful and it
    has aided me out loads. I’m hoping to contribute & help other customers like its aided me.
    Good job.

  36. Link exchange is nothing else but it is just placing the other person’s website
    link on your page at proper place and other person will also do
    similar in favor of you.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*