Tuesday , 23 May 2017
Latest
Article By Shamsa Najam

Article By Shamsa Najam

مابعدِ جدیدیت
تحریر : شمسہ نجم، لاس اینجلس، امریکہ
مابعدِجدیدیت تنقید کی ایسی کسوٹی ہے جو مغرب میں ادبی تنقید کے علاوہ آرٹ ، آرکیٹیکچر اور فنونِ لطیفہ میں انقلاب رونما کر چکی ہے۔ حتیٰ کہ نصابِ تعلیم میں معیار کے پیمانے کے طور پر رائج ہو چکی ہے لیکن اردو ادب کے مفکر اور نقاد ابھی تک اس کی ماہیت اور انعقاد کے طریقِ کار کی گتھی کو سلجھانے میں لگے ہیں ۔
اور مابعدِجدیدیت کے مطابق تنقید اور پرکھ کے پیمانے وضع کرنے کے بجائے ایک دوسرے کی اس سلسلے کی تحقیق کو جھٹلانے اور نیچا دکھانے میں مصروفِ عمل ہیں۔ یہ اتنا بڑا ہوا نہیں جتنا اس کو چند جید افراد نے بنا ڈالا ہے ضرورت اس بات کی ہے اس کی پرتوں کو کھول کر عرق کشید کیا جائے۔ مابعدِجدیدیت دراصل جدیدیت کے رحجانات کے خلاف ردِعمل کا اظہار ہے۔ یہ بنیادی طور پر ثقافت کی تشریحات، فنونِ لطیفہ یعنی ادب، مصوری ، موسیقی، فکشن، آرٹ فنِ تعمیر اور فلسفہ ، تاریخ معاشیات اور ادب میں نقل و حرکت کی پیمائش اور معیار ناپنے کی کلید ہے اور عموماً تاریخی عناصر اور تراکیب کی تشکیلِ نو کی نشاندہی کرتی ہے۔تاریخ ، پسِ منظر اور بیرونِ منظر ماحولیاتی تاثر اور زمانہ مابعدِجدیدیت کا ڈھانچہ تخلیق کرتے ہیں۔
معاشرتی سطع پر ثقافت اور ذیلی ثقافت کی حرکات و سکنات تغیر پذیری کی طرف مائل ہیں۔ مابعدِجدیدیت میں ثقافتی بایافت کے مسئلے کو مرکزی حیثیت حاصل ہے-
مابعدِجدیدیت کے نظریے کے مطابق فنونِ لطیفہ کی جمالیات ثقافتی پسِ منظر میں ہی پروان چڑھتی ہیں۔ اُن کے جُلو میں نہ صرف جمالیات بلکہ ادب و فن از خود خُلق ہوتا ہے اور اس کی نکھری ہوئی واضح تصویر سامنے آتی ہے۔ اس کی آئیڈیالوجی کی فلسفیانہ جمالیات کا دائرہ عمرانیات، بشریات، ابلاغِ عامہ ، ثقافت اور سیاسی نظریات تک وسیع ہے۔ کسی سکہ بند سوچ اور نظریاتی جمود کے باعث اور دائرۂ فکر محدود ہونے کے سبب مابعدِجدیدیت کو آزادی اور مساوات کی بنیاد پر قائم ایک سیاسی فلسفہ یا دنیاوی مشاہدے کا نظریہ بھی تصور کیا جاتا ہے۔ دنیاوی مشاہدہ کا نظریہ سماجی مساواتی نظام میں زیادہ نظر آتا ہے جب کہ سیاسی فلسفہ کلاسیکی مساواتی آزاد نظام کی نشاندہی کرتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں جمہوریت اور مساوات کا نیا نظام کہہ سکتے ہیں۔ مابعدِجدیدیت کی رو سے عمرانیاتی اور بشریاتی علوم کا وجود فنونِ لطیفہ کی جمالیات کی نوک پلک سنوارتا ہے۔ لیکن جدیدیت نے عمرانیاتی اور بشریاتی علوم کو رد کر دیا تھا۔ مابعدِجدیدیت نے ان کو دوبارہ داخلِ دفتر کرکے نئے فکری اور تنقیدی عوامل کو خلق کیا۔
مابعدِجدیدیت کی روشنی میں تنقید اور نظریاتی مسائل کی جانچ ایک طے کردہ پیمانے پر کی جاتی ہے اور معروضی عقلیت و منطق کی کسوٹی پر پرکھ کر ادبی مواد اہم اور غیر اہم ہونے کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔
جدیدیت
مابعدِجدیدیت کو جدیدیت کی ترویج سمجھنے والوں کو اس بات کو اچھّی طرح ذہن نشیں کر لینا چاہیے کہ جدیدیت میں تجدید پرستی پوشیدہ ہے۔ کیونکہ روایات اور تکنیکی عوامل میں جدیدیت کا امتزاج کرکے نئے سرے سے اپنانا، دوبارہ تحریر کرنا یا ہو بہو نقل بنانا لیکن اس نقل کو اصل کی نسبت زیادہ بہتر طور پر پیش کرنا جدیدیت کے کچھ پہلو ہیں۔ اس کے لیے تجدید یا تجدید پرستی کا لفظ استعمال کیا جائے تو زیادہ بہتر ہو گا۔ جدیدیت انیسویں صدی کے اواخر اور بیسویں صدی کے اوائل میں مغربی معاشرے میں ثقافتی رحجانات اور ان رجحانات میں خارجی اثرات سے پیدا ہونے والی تبدیلیوں کے امکانات کی وسیع پیمانے پر دور رس فکرو نظر کی ایک فلسفیانہ تحریک ہے ۔ یہ شہری زندگی کی جدید خطوط پر تیزی سے نشو و نما اور انڈسٹری میں نئی مشینری کے اطلاق یعنی صنعتی معاشرے کی جدید تشکیلِ نو کی تحریک ہے جو اک جمالیاتی تجزیہ کے طور پر استعمال کی گئی اور یہ پہلی جنگِ عظیم میں ٹیکنالوجی کے استعمال کے لیے مخصوص ردِ عمل کے طور پر اور فریڈرک نطشے کے دور کے مختلف دانشوروں اور فنکاروں کے کام کی تکنیکی مخالفت اور نظریۂ لا یعنیت اور لا مذہبی پہلوؤں کو اجاگر کرنے کے طور پر استعمال ہونے والی اصطلاح ہے۔
مذہبی تنقیدی نقطۂ نظر اور مابعدِجدیدیت
جدیدیت کے نظریۂ لا یعنیت اور لامذہبی پہلوؤں کے بارے میں اس تبصرے کی ضرورت اس لیے ہے کیونکہ مابعدِجدیدیت کےذریعے مذہبی تنقیدی نقطۂ نظر سے رویہ اور عقیدہ کی تبدیلیوں کو پیش کیا گیا ہے یہاں یہ بھی قابلِ غور امر ہے کہ تنقید کا دائرہ کار مذہبی تنقید تک بڑھانا اور جدیدیت کے انتشارِ رائے سے فرار ہونا مابعدِجدیدیت کی ترویج اور موجودگی کی اہم وجہ و مقصد ہے۔ یہ الہیات سے بھی بحث کرتی ہے۔ الہیات خدا اور مذہبی خیالات کی نوعیت کے تصورات کی منظم شکل اور منطقی مطالعہ ہے۔ لیکن عام طور پر اس پر عبور کسی الہیات کی یونیورسٹی ، مدرسہ ، دارلعلوم یا اسکول میں مذہبی علوم کی خصوصی پیشہ ورانہ تربیت حاصل کرکے کیا جا سکتا ہے۔ بہت سے مذاہب میں گرو چیلے، پروہت۔ پیری مریدی وغیرہ کے ذرائع بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔ لیکن اس وقت میرا موضوع الہیات نہیں۔ اس پر سیرِ حاصل تبصرہ الگ سے کیا جا سکتا ہے اور مختلف ادوار میں مختلف افراد نے کیا بھی ہے۔ انشاءاللہ بشرط حیات اس پر روشنی ڈالی جائے گی۔
مابعدِ جدیدیت کا اطلاق اسلامی معاشرے میں ہمیشہ ہوا لیکن اس کو باقاعدہ ایک اصطلاح کے طور پر متعارف کروانے کے لیے کسی مفکر کا فکر انگیز مواد موجود نہیں۔ بلکہ اسے دیوانے کی بڑ خیال کیا جاتا ہے۔ ایسے لوگوں کے لیے جو اسلامی معاشرت کو گئی گزری چیز گردان کر مغربی معاشرت کو اس پر فوقیت دیتے ہیں ان کے اطمینانِ قلب کے لیے صرف مغربی ترکی کی اسلامی معاشرت کے ایجاد کردہ کوٹ پینٹ کی ایک مثال ہی کافی ہے۔ قدیم عربی چوغے کا بٹن کے ساتھ بند گلا اور پوری آستین ترکی کے اس لباس میں شامل کی گئی اور جسمانی اعضاء کے پردہ کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے نئے انداز کا ایک لباس تخلیق کیا جس کو آج پینٹ کوٹ کا نام دیا جاتا ہے ۔ یہ وہ لباس ہے جس کی نفاست اور خوبصورتی نے بعد میں سارے مغرب کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اس مثال کا مقصد یہ ہے کہ مابعدِ جدیدیت اسلامی معاشرت کا حصّہ بہت پہلے تھی لیکن اس کی ہیت اور واضح شکل کو کوئی نام یا اصطلاح دینے والے مفکر نہیں تھے۔
مابعدِجدیدیت کی اصطلاح سب سے پہلے 1870 کے لگ بھگ استعمال ہوئی۔ فرانسیسی مصور جان واٹ کنز چیپ مین نے یہ مصوری میں سب سے پہلے روشناس کروائی ۔ یہ فرانسیسی مصوری کے تاثرات سے اخذ کی گئی بلکہ فرانسیسی تاثرات برائے مصوری کا ایک جُز تھی۔
جے ایم تھامسن J. M. Thomson نے 1914ء میں ہیبرٹ Hibbert جرنل ( یہ فلسفیانہ جائزوں پر مبنی رسالہ تھا ) میں چھپنے والے اپنے آرٹیکل میں رویہ اور عقیدت کی تبدیلیوں کو مذہبی تنقیدی نقطۂ نظر کے آہنگ کے ساتھ پیش کرکے مابعدِجدیدیت کے مفہوم کی جامع تشریح کی۔
1921ء سے 1925ء کے دورن مابعدِجدیدیت سے آرٹ اور موسیقی کے تنقیدی عوامل کے ایک نئے سفر کا آغاز ہوا۔ 1939ء میں آرنلڈ جے ٹوئن بی نے اس کی اصطلاح تاریخی تحریک کے عام اصول کے طور پر بیان کی۔ انہوں نے اپنی کتاب اے سٹڈی آف ہسٹری A Study of History میں صفحہ 43 پر لکھا ہے کہ ہماری مابعدِجدیدیت کے زمانے کی ابتداء 1914ء سے 1918ء کی ہونے والی جنگ سے ہو گئی ہے۔ ایچ آر ہیز H. R. Hays نے 1942ء میں اسے ادب کی نئی تقسیم قرار دیا۔
1949ء میں مابعدِجدیدیت کی اصطلاح فنِ تعمیر میں جدیدیت سے عدم اطمینان کے لیے استعمال کی گئی۔ اور مابعدِجدیدیت کو فنِ تعمیر میں تعمیری تحریک کی حیثیت حاصل ہوئی۔ اور اس کو بین الاقوامی اندازِ فنِ تعمیر کے نام سے پہچانا جانے لگا۔
مابعدِجدیدیت میں فنِ تعمیر کا الگ نکتۂ نظر جس میں سطح کی سجاوٹ اور گردو نواح کی عمارات کی تعمیر کے حوالہ جات اور سجاوٹ کی اقسام کے تاریخی حوالہ جات اور غیر عمودی زاویوں کی نشاندہی کو شامل کیا گیا۔ پیٹر ایف ڈرک کر Peter F Drucker آسٹریا میں پیدا ہوئے وہ امریکہ کے ایک معروف ادیب ہیں جو کہ انتظامی مشیر اور ایجوکیٹر بھی تھے ، نے 1937ء سے لے کر 1957ء کے درمیان کے عرصہ کو مابعدِجدیدیت کے عمل میں آنے کا دور قرار دیا۔
پیٹر نے اسے “بے نام دور” کے نام سے منسوب کیا۔ ایسا بے نام دور جو کہ میکانکی عوامل کی بجائے دنیا کے تصوراتی نظام جو کہ روایتی عوامل و مقاصد پر انحصار کرتا ہے , کی طرف تبادلے پر مبنی ہے۔ اس نے مابعدِجدیدیت کے ادوار پر اور زماں و مکاں پر اثرات کے حوالے سے چار نئے حقائق کی نشاندہی کی ۔
1 ۔ تعلیم یافتہ معاشرے کا خروج
2۔ بین الاقوامی ترقی کی اہمیت
3۔ قومی ریاست کو مسترد کرنا یعنی قومی ریاست کی کمی
4۔ غیر مغربی معاشرت و ثقافت کی کامیابی کے آثار یا مواقع کا خاتمہ
پیٹر ایف ڈرککر کے یہ چاروں حقائق تمام مشرقی اقوام کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔ انتظار ہے ہو چمن میں دیدہ ور پیدا۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر مفکر اپنے نکتۂ نظر کو بیان کرتا ہے اور دنیا کو اسی طرح دکھاتا ہے جیسے کہ وہ خود متصور کرتا ہے۔
1971ء میں لندن کے ایک آرٹ کے ادارے ، انسٹیٹیوٹ آف کون ٹیمپوریری آرٹ لندن Institute of Contemporary Art میں ایک سیمینار میں اپنے ایک لیکچر میں تصوراتی تصاویر اور تنصیبی آرٹ کے مصور میل بوشنر Mel Bochner نے جیسپر جونز Jester Johns جو کہ ایک امریکن مصور اور پرنٹ میکر تھا کو مابعدِجدیدیت کا بنیاد کار متصور کرتے ہوئے کہا کہ جیسپر نے حساس مواد sense data اور واحد نقطۂ نظر کو آرٹ کی بنیاد کے طور پر پرکھا ہے , لطیفہ کے حلقے میں آنے والے چاہے وہ آرٹ ہو ادب، فکشن یا موسیقی ان کا تنقیدی تحقیقات سے گزرنے کا عمل سونے کا بھٹی سے گزر کر کندن بننے کا عمل ہے۔۔
والٹر اینڈرسن جو کہ 1933ء میں پیدا ہونے والے سوشل سائیکولوجسٹ اور ادیب ہیں اور سیاسی شعور رکھتے ہیں, انہوں نے اپنے ایک پبلک لیکچر میں مابعدِجدیدیت کو الہامی کتاب انجیل مقدس سے جڑے چار دنیاوی نظریات کے طور پر شناخت کیا۔
۱۔ سماجی تعمیر کی واضح اور ٹھوس سچائی یعنی Post modern-Ironist
۲۔ سائنسی حکمت عملی کی سچائی یا سائنس کا بصیرت افروز خاکہ (اصول و ضوابط کا پیمانہ)
۳۔سماجی روایتی سچائی(جو کہ امریکن اور مغربی تہذیب کا حصہ ہے)
۴۔ رومانوی سچائی (جو کہ اپنے اندر کی روحانی قوت کو دریافت کرکےقدرت سے ہم آہنگی حاصل کرتی ہے۔
فلسفے میں مابعدجدیدیت کا اطلاق
فلسفے میں مابعدِجدیدی نظریات کے تحت معاشرے اور ثقافت کے تجزیے کا دائرۂ کار بڑھ کر تنقیدی نظریےکی اہمیت کو محسوس کرتے ہوئے ڈیزائینگ، فنِ تعمیر اور ادب کی اور رواں دواں ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ نظریات مارکیٹنگ یعنی توسیعٔ کاروبار کی تگ و دو میں بھی نظر آتے ہیں۔ اور ثقافت اور تاریخ کی تشریح تک پھیل چکے ہیں۔
مابعدِجدیدیت کا فلسفہ ساختیاتی ڈھانچے کی خصوصیات کے ضمن میں قائم کردہ مخالفت کی حدود کے بارے میں جزوی طور پر شبہات کا نام ہے۔ زیادہ تر یہ سماج میں تبدیلی کے عمل کی ترقی ، نظر اندازی کے عمل کے علم میں موجود تفرقات، برائی سے اچھائی کی طرف پیش قدمی ، آمریت سے نجات اور اس پر اختیار ، لایعنیت سے یعنیت کا سفر جیسے مسائل پر زور دیتا ہے۔
زیادہ تر فلاسفرز کے نزدیک مابعدِجدیدیت ایک ایسی فلسفیانہ سوچ ہے جو بنیادی مفروضات پر مبنی ہے اور مغربی فلسفہ کے رجحان کو عام بلکہ اس میں اضافہ کرتی ہے۔ یہ فلسفیانہ سوچ کی طرف ایسا قدم ہے جو قوتِ تعلقاتِ باہمی، ذاتیات و سچائی اور دنیا کے نظریات کی تعمیر کی اہمیت پر زور دیتا ہے۔
احب حسن 1925ء میں پیدا ہونے والے مصری نژاد امریکن ادبی نظریہ نگار تھے۔ اپنے آرٹیکل ٹو ورڈز اے کنسیپٹ آف پوسٹ ماڈرن ازم Towards a Concept of Post modernism میں ان کا کہنا ہے، کہ “مابعدِجدیدیت کا لفظ بہت غیر مہذب اور عجیب لگتا ہے یہ بذاتِ خود جدیدیت کو کچل کا آگے نکلنے کا نام ہے۔ مابعدِجدیدیت کی اصطلاح جدیدیت کی دشمن ہے۔ رومانیت اور کلاسیکیت سترھویں اور اٹھارویں صدی کے یورپین انداز کے آرکیٹیکچر سے جُڑی ہے”۔ اور دیکھا جائے تو اپنے اس بیان میں احب نے مابعدِجدیدیت کی طرف درست رہنمائی کی ہے.
اپنے بنائے ہوئے جدیدیت اور مابعدِجدیدیت کے تقابلی چارٹ میں احب نے جدیدیت کو منصوبہ، مرکزیت، اقسام و حدود، قابلِ مطالعہ، یقین، گہرائی، تاریخ، غلبہ ، گوڈ آف فادر جبکہ ان سب کے برعکس مابعدِجدیدیت کو علی الترتیب حادثہ، انتشار، متن، تحریری مواد، غیر یقینی ، سطحی، تاریخِ معمولی، تھکن یا خاموشی اور مقدس بھوت کے طور پر متعارف کروایا ہے۔ جیکویس دریدؔا 1930ء میں پیدا ہونے والا نو آبادیات اور ساختیات پر کام کرنے والا بیسویں صدی کا مغربی فلاسفر ہے۔ جو ایک مورخ کے طور پر جانا جاتا ہے۔ دریداؔ نے مغربی فلسفیانہ روایت کے مفروضات کو وسیع پیمانے پر مغربی ثقافتی پسِ منظر میں رکھنے کی سعی کی۔ دریداؔ نے مارکسزم کی خاص روح کی بنیاد پرستی کرتے ہوئے نو آبادیات پر بحث کی۔ جو کہ ہم ادب اور تنقید میں تعمیرِ نو کے نام سے متصور کرتے ہیں۔ آج کل ہمارے نقاد نو آبادیات کا لفظ ہر جگہ فٹ کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو کہ صحیح نہیں۔ نو آبادیات کا لفظ فنِ تعمیر میں اور نئی بستیاں بسانے کے عمل کے لیے تو صحیح ہے لیکن ادب اور تنقید کے لیے تعمیرِ نو کا لفظ زیادہ موثر اور درست نظر آتا ہے۔ لیکن ایک بات کہنے سے مجھے کوئی ہچکچاہٹ نہیں کہ نو آبادیات مشرقی اقدار کے علمبرداروں کے لیے ایک لمحۂ فکریہ ہے جو مابعدِجدیدیت کا شاخسانہ ہے لیکن اس وقت میرا موضوع اس سے بحث کرنا نہیں ہے ۔ اس کے لیے الگ سے کام اور تحقیق کرنے کی ضرورت ہے۔ بشرط حیات انشاءاللہ یہ بھی ہو گا۔ جان ڈیلؔی 1942ء میں پیدا ہونے والا مبادیات پر لکھنے والا ایک امریکن فلاسفر ہے۔ جان ڈیلؔی نے مابعدجدیدی نظریہ کے بارے میں دریدا کی سوچ کو بچگانہ قرار دیا۔اس کا کہنا ہے کہ مابعدِجدیدیت کا فلسفہ ایک نئی راہ کی تلاش میں مخصوص کاوش ہے۔ یہ نہ تو مادی چیزوں کا پرانا طریقہ ہے نہ ہی خیالات کا جدید طریقہ ہے۔ یہ قدیم اور جدید دونوں کو مکمل تحقیقی، پیشہ ورانہ اور یکساں موقع فراہم کرتا ہے۔ اس کی سوچ کو ایڈورڈ سعید نے تقویت دی۔ ایڈورڈ سعید 1935ء میں یروشلم فلسطین میں پیدا ہوئے۔ ان کا زیادہ تر کام مغربی فلسفیانہ نظریات پر ہے۔ سعید کا نظریہ جان ڈیلؔی کی طرح فلسطین کی دو قومی ریاست پر مبنی تھا۔ وہ الگ الگ اپنی اپنی ریاستوں کی بجائے مسلمان اور یہودی ایک ساتھ رہتے ہوئے ایک ریاست کے قیام کے نظریے کے حامی تھے۔جو دریداؔ کے خیالات کی نفی میں تھا۔
ان مختلف مفکروں کے نظریات سے مغرب میں مابعدِجدیدیت کی واضح تصویر کینوس پر ابھرتی ہے۔
اردو ادب میں مابعدِجدیدیت باقاعدہ تحریک کی حیثیت سے کافی دیر سے متعارف ہوئی۔ اور اب تک یہاں کے مفکرین کے لیے معمہ بنی ہوئی ہے۔ ایسا بھی نہیں ہے کہ ہمارے ہاں مابعدِجدیدیت پر کام نہیں ہوا ۔ ہمارے ہاں بھی بہت سے جید افراد ہیں ان میں سے اکثر وہ ہیں جو جدیدیت کی طرف سے مابعدِجدیدیت کی طرف راغب ہوئے۔اردو ادب میں مابعدِجدیدیت کی ضابطہ بندی اور طریق کار کی جستجو اس وقت تک مکمل نہیں ہو گی جب تک کہ اس پر تبصرہ کرنے والوں کی تحقیق پر ایک نظر نہ ڈالی جائے۔ مابعدِجدیدیت پر خاطر خواہ تحقیق کرنے والوں میں ڈاکٹر گوپی چند نارنگ وزیر آغا، احمد سہیل، وہاب اشرفی ، حامد کاشمیری ، قمر جمیل، بلراج کومل، شوکت حیات، طارق چھتاری، ابوالکلام قاسمی، صلاح الدین پرویز، شافع قدوائی ، غضنفر ، فرحت احساس, عتیق اللہ ۔نظام صدیقی, ستیا پال آنند اور شمس الرحمان فاروقی جیسے قابل افراد کے نام قابل ذکر ہیں۔
اس میں گوپی چند نارنگ کی تحقیق کی صحت کی جامع حیثیت مشکوک ہے۔ عمران شاہد بھنڈر نے ڈاکٹر گوپی چند نارنگ کے متن کا جائزہ لیتے ہوئے ثابت کیا کہ نارنگ نے بغیر حوالے کے مابعد جدید مفکرین کے متن کا جوں کا توں ترجمہ پیش کیا اور یہ سرقہ ہے۔ بھنڈر صاحب کی تحقیق اور محنت سے انکار نہیں, بے شک نارنگ نے جدید مفکرین کے متن کے جوں کے توں بغیر حوالہ جات کے ترجمے کیے لیکن ایک ایسی اصطلاح جس کے بارے میں کسی کو اردو ادب میں شعور نہیں تھا۔ اسے اردو ادب سے روشناس کروانے والوں میں گوپی چند نارنگ کا نام ہمیشہ شامل رہے گا۔
ان کے علاوہ دیگر معتبر شخصیات نے بھی اس پر کام کیا اور ماخذ کی تلاش جاری رکھی ۔
شمس الرحمان فاروقی کا مابعدِجدیدیت کے بارے میں کہنا ہے کہ “وہ جدیدیت سے پھوٹ نکلی ہے”۔ مشرق کے نقاد کے مطابق مابعدِجدیدیت معنی کی مرکزیت اور ادبی معیاروں کی آفاقیت سے مکمل انکار کرتی ہے۔ وزیر آغا نے بھی اپنے مضمون “جدیدیت اور مابعدِجدیدیت” میں مابعدِجدیدیت کی تفہیم بے معنویت سے کی ہے۔
وزیر آغا کہتے ہیں کہ “مابعدِجدیدیت میں آخری نکتہ معنی کی مرکزیت سے انکار ہے اور میرے نزدیک یہ واحد نکتہ تھا جو مابعدِجدیدیت کے امتیازی اوصاف میں سے ایک ہے” ۔ صفحہ 213 پر اپنی کتاب “مابعدِجدیدیت اور تناظر” میں ان کے بیانات کی روشنی میں تو وزیر آغا کا پورا فلسفہ ہی رد ہو جاتا ہے وزیرآغا کہتے ہیں “مابعدِجدیدیت نے دراصل ساختیات سے انحراف کیا” اسی کتاب میں صفحہ 212 پر لکھتے ہیں کہ مابعدِجدیدیت کا مطالعہ کریں تو اس کے مندرجہ ذیل پہلوؤں سے تعارف حاصل ہوتا ہے-
1- منضبط علم کا حصول ناممکن ہے
2- سبجیکٹ subject کی اکائی پارہ پارہ ہے
3- انسان دوستی کا تصور ایک قصۂ پارینہ ہے
4- ماورائیت اور مابعدالطبیعاتی تصورات سے نجات پانا ضروری ہے
5- گم شدہ ابتداء origin کی تلاش بے سور ہے
6- شگاف اور عدم تسلسل کی جانکاری ضروری ہے۔
وزیر آغا کا صفحہ 217 پر کہنا ہے کہ “مابعدِجدیدیت مغرب کی سائیکی کی پیداوار ہے جو مشرق کی سائیکی سے ایک الگ مزاج رکھتی ہے اس لیے میرا خیال ہے کہ اردو میں مابعدِجدیدیت کے اس خاص مزاج کے فروغ پانے کے امکانات بہت کم ہیں جو مغرب میں عام ہوا ہے” ۔اور جیسا کہ ابھی اوپر ذکر کیا وزیر آغا نے اپنے مضمون “جدیدیت اور مابعدِجدیدیت” میں مابعدِجدیدیت کی تفہیم بے معنویت سے کی۔
والٹر اینڈرسن جو کہ سوشل سائیکولوجسٹ اور ادیب ہیں اور سیاسی شعور رکھتے ہیں, انہوں نے مابعدِجدیدیت کو سماجی تعمیر کی واضح اور ٹھوس سچائی یعنی Post modern-Ironist, سائنسی حکمت عملی کی سچائی یا اصول و ضوابط کا پیمانہ اور سماجی روایتی سچائی اور رومانوی سچائی کہا ہے ، والٹر کے بیان کی روشنی میں وزیر آغا کا لایعنیت کا فلسفہ رد ہو جاتا ہے۔
وہاب اشرفی اپنے مضمون مابعدِجدیدیت میں کہتے ہیں کہ مابعدِجدیدیت تسلیم کرتی ہے کہ معنی کی وحدانیت گم ہو گئی ہے۔
وہاب صدیقی اپنے مضمون مابعدِجدیدیت میں کہتے ہیں کہ” مابعدِجدیدیت کی حتمی تعریف ممکن ہی نہیں، مغرب میں مابعدِجدیدیت پسِ ساختیات کے آگے کا مرحلہ ہے۔ ہمارے ہاں مابعدِجدیدیت جدیدیت سے آگے کا سفر ہے”۔ ان کے خیال میں مابعدِجدیدیت زندگی کی پوری وسعت کو سمیٹنا چاہتی ہے یہی وجہ ہے کہ اس کی تعریف کرنےوالے کہیں نہ کہیں خود گم ہو جاتے ہیں جیسے کہ احب حسن، لیو تاژ اور ٹرونٹ اینڈرسن.لیکن کیا ان کا بیان دیکھ کر ایسا نہیں لگتا کہ وہ خود بھی گم گشتہ راہوں میں کھو گئے.
.اکثر ادباء پسِ ساختیات کا سفر مابعدِجدیدیت کی طرف موڑ دیتے ہیں حالانکہ پسِ ساختیات ادب کی ایک ایسی تحریک ہےجو ابتدائی بنیادی عوامل اور تھیوری سے بحث کرتی ہے اور صنف میں سمیٹی جا سکتی ہے جب کہ مابعد جدیدیت ہمہ گیر تحریک ہے جو معاشرہ اور معاشرت کو لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ دونوں کی ماہیت الگ الگ ہے۔ ساختیات مابعدِجدیدیت کے دائرہ کار میں آتی ہے۔
وہاب اشرفی کہتے ہیں کہ گوپی چند نارنگ نے مابعدِجدیدیت اور پسِ ساختیات میں جو حدِ فاصل مقرر کی وہی اصل حد ہے۔ وہ اپنی کتاب “ساختیات پسِ ساختیات اور مشرقی شعریات” میں فرماتے ہیں کہ “پسِ ساختیات کا زیادہ تعلق تھیوری سے ہے اور مابعدِجدیدیت کا معاشرے مزاج اور کلچر کی صورتِ حال سے”۔ انہوں نے مابعدِجدیدیت اور پسِ ساختیات میں فرق کو تو جانچا لیکن پسِ ساختیات کا دائرہ بہت محدود کر دیا۔ جو کہ نو آبادیات تک جا پہنچتا ہے۔پسِ ساختیات کے سلسلے میں احمد سہیل کی تحقیق کا حوالہ نہ دینا نا انصافی ہو گی انہوں نے اپنی کتاب ساختیات تاریخ نظریہ اور تنقید میں صفحہ 28 پر 13 تنقیدی دبستانوں کے میلان سے ایک دبستان تخلیق کیا جس میں پسِ ساختیات تنقید کا سلسلہ پسِ نو آبادیات اور ردِ نو آبادیات تک پہنچتا ہے۔
جدیدیت کا دور تین دہائیوں 1940ء سے 1970ء تک رہا۔ اس کے بعد مابعد جدیدیت کا دور شروع ہوا ستیا پال آنند نے مابعدِجدیدیت کو صرف اسلوب اور متن کے جدتِ خیال کے طور پر لیا ۔ ان کے مابعدِجدیدیت کے نظریہ پر اتنی گرفت اور پختگی نظر نہیں آتی جس کا یہ موضوع متقاضی ہے صرف بحثیت اسلوب ان کی رائے کو قابلِ توجہ سمجھا جا سکتا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ ستیا بال آنند اپنےمضمون “ادب اور جدیدیت” میں بیکٹؔ کو بموجب اسلوب وبیاں مابعدِجدیدیت کاجنم داتا قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ
” بیکٹؔ نے موضوع سے زیادہ ’فارم‘ اور اسلوب کی طرف توجہ مبذول کی۔ جب 1969میں اسے نوبل پرائز سے نوازا گیا تو وہ Meta-literary تجربات کے لیے تیار تھا۔ انہی تجربات سے مملو اس کی زندگی کی آخری تحریر Stirrings Still تھی۔ اس میں بیکٹ نے ڈرامہ، فکشن اور شاعری کے درمیان حدودِ فاصل کو ملیا میٹ کرتے ہوئے (اپنی دانست میں) ایک نئی صنفِ ادب ایجاد کرنے کی سعی کی۔ لیکن نتیجہ جو برآمد ہوا وہ خاطر خواہ نہیں تھا۔ یہ تحریر اس کی پرانی تحریروں کی صدائے باز گشت بن کر رہ گئی اور نقادوں نے اسے substance کی جگہ پر shadow کہا۔ پھر بھی یہ بات مسلّم ہے کہ بیکٹ “پوسٹ ماڈرنزم” کا جنم داتا ہے”۔
بلراج کومل نے ما بعد جدید ناول کے بارے میں کہا کہ بڑھتی ہوئی آبادی، ہجرت اور نقل مکانی، اقدار کا انہدام، رشتوں کی نئی ترتیب، سماجی سرو کار ۔۔۔۔۔۔یہ سب مابعد جدید ناول کا حصہ ہیں، لیکن غور طلب بات یہ ہے یہ سب عوامل تو جدید ناول کا حصہ ہائی ماڈرن ازم کے دور میں بھی تھے جب کہ مابعدِجدیدیت دراصل انتہائے جدیدیت سے انحراف یا بغاوت کی صورت میں معرضِ وجود میں آئی۔ اس کا یہی مطلب ہوا کہ ناول پہ اس کا خاطر خواہ اثر نہیں پڑا تھا.
احمد سہیل ادبی رسالے “شاعر” میں شائع ہونے والے اپنے مضمون “مابعدِجدیدیت اور اردو تنقید” میں کہتے ہیں کہ “مابعدِجدیدیت کا نظریہ زمانی صداقتوں پر مبنی آئیڈیالوجیکل موقف ہے جس میں بیانیہ کو دریافت کیا گیا ہے اور معروضی صداقتوں کو تسلیم کرتے ہوئے تجریدی اور چیستانی مخاطبے کو رد کیا۔ ما بعد جدید نظریہ، مابعدِجدیدیت ، نئی مارکسزم، نو نتائجیت اور ثانثیت کے نظریاتی اجزائے ترکیبی سے تشکیل پاتا ہے یہ بنیادی طور پر 1975ء کے بعد کی تنقید ہے اور اس کے تنقیدی رویے بنیاد پرست نظریات کا رد ہیں جو کہ مغرب کی عمرانیاتی نظامِ ترتیب کی وابستگی کی مبادیات تصور کیا جاتا ہے”۔ اسی مضمون میں وہ کہتے ہیں کہ “مابعدِجدیدیت کے نظریے کے دوسرے انتہائی قطبین پر لبرل ازم بھی نظر آتا ہے جو کہ انفرادیت پسند خودمختاری کے تصور سے پُر ہوتا ہے اور اپنے طور پر آزاد تصور کرتا ہے”۔یہ قابلِ غور پہلو ہے انہوں نے نو نتائجیت اور مغرب کی عمرانیاتی نظامِ ترتیب کی وابستگی کی مبادیات کہا صرف لایعنیت کہہ کر پورے فلسفے کو محدود نہیں کیا.
ہمارے ہاں 1975ء سے پہلے جدیدیت کا زور تھا۔ لیکن 1975ء سے 1980ء کے عرصہ میں اس رحجان میں کمی آئی۔
رحجان کا لفظ اس لیے استعمال کیا ہے کہ جدیدیت کو تحریک سے زیادہ رجحان کہنا زیادہ مناسب ہو گا۔ اس کے اثرات حلقۂ اربابِ ذوق میں نمایاں نظر آتے ہیں۔ پاکستان اور ہندوستان میں جدیدیت کے علمبرداروں نے سائنس اور مذہب کو پسِ پشت ڈال دیا۔اخلاقی اقدار کی بجائے جنسیات ادب میں بھرپور طریقے سے سرایت کر گئی۔ ترقی پسند تحریک اور جدیدیت نے قیدو بند اور عام نظریہ و فکر سے آزاد اور مشاہدہ سے بے نیاز ادب کو تخلیق کیا۔ ان تحاریک کو اپنانے والے مذہب کے ماننے والوں کے برعکس دنیا کو معجزاتی تجربہ گاہ خیال کرتے تھے۔
جدیدیت نے سرمائے کی تنظیم سازی اور تقدس کو نشانہ بنایا اور اپنے غیر نظریاتی عقیدے کے ساتھ صنعتی سرمایہ داری کے کردار اور سرکاری کارندوں کے روز و شب پر نکتہ چینی کرتی رہی۔عمرانیاتی اور بشریاتی علوم کو جدیدیت پسندوں نے ناقابلِ اعتناء متصور کیا۔
ادبی جریدے “نیا ورق” میں شائع شدہ مضمون “مابعدِجدیدیت کی صداقتیں” میں احمد سہیل کہتے ہیں کہ “یہ نظریہ تکثیریت کا نظریہ بھی ہے اس سے قبل عمرانیاتی اور بشریاتی علوم کو جدیدیت پسندوں نے اپنی لغت سے باہر نکال پھینکا تھا وہ اب دوبارہ ادب و فن کے جمالیاتی مخاطبے کا حصہ بن چکا ہے اور ادب کی مخصوص میکانیت کو دریافت کرتے ہوئے مابعد جدیدیت نے نئے فکری اور تنقیدی مخاطبے کو جنم دیا”۔
1975ء کے بعد سے ادب میں نئی نفسیات، نئی شعری جہتیں اور نئےافسانے کے شاخسانے پھوٹنا شروع ہو چکے تھے۔ مابعدِجدیدیت از خود جدیدیت کو رد کر رہی تھی۔ مابعدِجدیدیت مغربی علوم سے خاموشی سے اردو شعروادب اور تہذیب میں سرایت تو کر رہی تھی لیکن اسے تسلیم کرنا اور اس پر خاطر خواہ عمل درآمد کرنا ہمارے نقاد کے بس میں نہیں تھا۔ کیونکہ وہ اس گتھی کو خود ہی سلجھا نہیں پایا تھا۔ ایک اچھا افسانہ نگار یا مصور اپنی تخلیقات میں حقیقت کا رنگ بھرنے کے لیے طوائف کے کوٹھے تک جا سکتا ہے۔ ہوم لیس بن کر بے گھر افیمچیوں کے ساتھ گھوم سکتا ہے۔
ہندو دیو مالائی صدیوں پرانی گوپاؤں کی خاک چھان سکتا ہے۔ لائیبریریوں میں گھس کر صدیوں پرانے علمی مواد میں ڈوب کر اس سے استفادہ کرتے ہوئے اپنی تحریروں کو دوام بخش سکتا ہے تو ایک اچھا نقاد کیوں یہ سب نہیں کر سکتا۔
امریکہ اور یورپ میں مابعدِجدیدیت پر کام پہلی جنگِ عظیم سے شروع ہوا جو دوسری جنگِ عظیم میں زور پکڑ گیا۔اس کا مافی الضمیر مغربی اصلاحات کا نفاذ تھا۔ اس میں معاشرتی، ماحولیاتی، سیاسی، آلودگی سے پاک ماحولیات، جوہر توانائی، اینٹی آمریت،آبادی کی بیشی کا شاخسانہ، فنِ تعمیر اور کئی دوسرے عوامل کو جگہ دی گئی۔ لیکن اپنے اوپر لاگو ہونے والی بیشتر اجنبی اصطلاحات اور نقصانات کے باوجود اردو ادب کا نقاد و مصنف اس کو سمجھنے سے قاصر رہا۔ اور اسی کے باعث مشرق میں دوسرے بیرونی مغربی عوامل کے نقصانات کی روک تھام کے لیے کچھ نہیں کیا گیا کم از کم ادب میں اس کا اطلاق کرکے اپنے ادب کودوسری قوتوں کے مقابل توکھڑا کر دیا جاتا لیکن شعور کی کمی اور باہمی حسدو عناد نے ذہین سوچ کو پنپنے ہی نہیں دیا ۔ اور یہی سبب ہے کہ اردو تنقید اور ادب میں ذہین دماغ ہوتے ہوئے بھی اس کا اطلاق نہیں ہو پایا۔ بلکہ حیران کن امر یہ ہے کہ بجائے سمجھ کر اردو تنقید پر اس کا نفاز کرنے کے اسے ایک معمہ کی شکل دے دی گئی۔ اپنی ڈفلی اپنا راگ کے مصداق ہر ایک اپنا مطلب نکال کر اپنے آپ کو مفکر گردان کر خود کو چھپوانے اور شہرت کمانے میں لگ گیا۔ نتیجتاً اردو ادبی تنقید نظری اور فکری طور پر بہت پیچھے رہ گئی۔ لیکن ایسا نہیں ہے کہ ہمارے ہاں مابعدِجدیدیت پر کام نہیں ہوا۔ چند معتبر لوگ ہیں جنہوں نے لکھا لیکن ان میں بھی تین طرح کے افراد ہیں ایک وہ جنہوں نے تراجم کرکے لوگوں کو مابعدِجدیدیت کے وجود سے آشنا کیا لیکن خود کوئی خاطر خواہ پیش رفت نہیں کی۔ دوسرے وہ جنہوں نے اس کے متن اور اس کے مختلف میدانوں کے مقاصد و مفہوم کو سمجھا اور اس میں نہاں مفر اور مضر پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔ تیسرے وہ جنہوں نے اس کے ماخذ کو سمجھ لیا لیکن صرف اپنی برتری قائم رکھنے کے لیے دانستہ طور پر اس کے سارے ممکنہ فوائد اور ان میں چھپے اغراض و مقاصد کو نہاں رکھا اور جن چند جید افراد نے اس کے مشرقی اقدار کے لیے مضر پہلوؤں کی نشاندہی کی ان کو مجنوں اور ان کی باتوں کو دیوانے کی بڑ قرار دیا کیونکہ اپنی پرتعیش زندگی کے اللے تللے پورے کرنے کے لیے مال دینے والوں کی نمک خواری بھی تو کرنا لازم ہے۔ اگر دیکھا جائے تو گنتی کے چند افراد نے مابعدِجدیدیت کو اصل معنوں میں اور تفصیلاً بیان کیا لیکن افسوس ان کے خوبصورت طویل و بالتفصیل مضامین سے استفادہ کرنے والا کوئی نہیں۔ یا یہ کہ ان کی فصیح بیانی اور زیرک سوچ تک پہنچنے والا کوئی نہیں۔
آخر میں ایک بات کہنا چاہوں گی کہ میرے اس مضمون کا واحد مقصد اردو ادب کے ان تمام نقاد و ادباء اور قارئین کو صحیح سمت گامزن کرنا ہے جن میں اسپارک ہے بس ایک اشارے کا منتظر ہے ۔ ادب سے محبت رکھنے والوں سے گزارش ہے کہ اس تحقیق اور عرق ریزی سے حاصل شدہ نتائج اور آراء سے مستفید ہوں۔ براہِ کرم تحریر کے اندر چھپے مواد کی اہمیت کو سمجھیں اور اس سے خود بھی فائدہ اٹھائیں اور دوسروں کو بھی فائدہ اٹھانے دیں اور مابعدِجدیدیت کے منہاجیاتی پس منظر کی روشنی میں تنقید کی بہتری کا سفر جاری رکھیں تو صحیح سمت کی طرف رہنمائی ہو گی اور اردو ادبی دنیا کا بھی بھلا ہو گا۔ کیونکہ بہتر تنقید بہتر ادب تخلیق کرتی ہے۔ شمسہ نجم

About meharafroz

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*