Breaking News

Ghazal By Khalid sajjad Ahmed

موج در موج اگر اتنی پزیرائی ہے !!!
کس سمندر کی مرے جسم میں گہرائی ہے

اب ترے پیار سے انکار کروں میں کیسے
میں نے اے یار ترے سر کی قسم کھائی ہے

کیا بتاوں میں تمہیں اس کا بدن ہے کیسا
ایک تتلی ہے جو چھونے سے بھی گھبرائی ہے

اس کی خوشبو بھی ہے بالکل تری سانسوں جیسی
یہ ہوا جیسے ترے شہر سے ہو آئی ہے

مجھ کو اندازہ ہوا کھلتے ہوئے پھولوں سے
اب کے موسم میں ترے حُسن کی رعنائی ہے

پہلے تنہائی سی ہوتی تھی ترے ہوتے ہوئے
اب تو اس شہر میں ہر اک سے شناسائی ہے

اپنے چہرے سے وہ اب جتنا بھی معصوم لگے
اُس کی آنکھوں سے پتہ چلتا ہے ہرجائی ہے

نیند میں کیسے بھلا اس کو بُھلا دوں خالد
جس کے خوابوں سے مری آنکھ میں بینائی ہے

About meharafroz

Check Also

Short Story By Qaisar Nazir Khawar

ایک تھا ‘ زیگلر ‘ (ہرمن ہیسے کی ’Ein Mensch mit Namen Ziegler ‘ نامی …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *