Tuesday , 23 May 2017
Latest
Ghazal By Shamsa Najam

Ghazal By Shamsa Najam

غزل
شاعرہ: شمسؔہ نجم
شہ رگ سے بھی تو قریب ہے ترا کرم ہے، کمال ہے
یہ جو خاک میں بھی ہے روشنی ترا عکس روئے جمال ہے

اسے چاہتوں کا کہوں اثر کہ تو ساتھ مرے ہے ہر ڈگر
میں جہاں جہاں بھی کروں نظر ، ترا حسن ہے ، بے مثال ہے

میں تو خاک ہوں وہ تہہِ زمیں مرا ہے نصیب فنا جزا
ترے تاجِ شاہی کی بات کیا نہ فنا اسے نہ زوال ہے

یہی عشق ایسی ہے رہ گزر، ھے بہت کٹھن جو اے ہم سفر
نہ رکھیں سنبھل کے قدم اگر چلے وقت الٹی ہی چال ہے

ترے قرب میں بھی ہیں دوریاں ترا کچھ عجب سا سلوک ہے
وہ سکوں جو تھا ترے قرب میں وہی آج خواب و خیال ہے

وہ رفیق کتنا بدل گیا نہ کرے ہے ذکر کبھی مرا
اسے کیا ھؤا، اسے کیا ھؤا مِرے ذھن میں یہ سوال ھے

وہ شرارتیں وہی شوخیاں مرے عہدِ طفل کے قہقہے
کہیں کھو گئے مرے رات دن اسی بات کا تو ملال ہے

وہ ڈری ڈری سی محبتیں کہ ہیں یاد مجھ کو وہ ساعتیں
وہ جو چاہتوں میں تھیں لذتیں وہ خیال جاں کا وبال ہے

اسی چارہ گر کی تلاش ہے کرے منزلوں کو جو روبرو
اسی رہنما کی ہے جستجو اسی راہبر کا سوال ہے

About meharafroz

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*