Breaking News

Ghazal By Ahmed Ali Kaif

کلیوں بھرے شجر پہ گُلِ نم نہیں کھِلا
مرجھا گئی ندی ، لبِ موسم نہیں کھلا

صدیوں کے اَشک جذب گلابوں کے وصل میں
بادِ نوائے ہجر مَیں اِک دم نہیں کھلا

بیلیں خزاں کے درد کی پھیلی ہیں کوبکو
زخمِ بہارِ ابر پہ مرہم نہیں کھلا

خاکستری حجاب سے اُلجھی ہے چشمِ خواب
رُخسارِ حُسن خیز بہ شبنم نہیں کھلا

جسمِ سیاہ بھی مرا پھیلا بے انتہا
حیرت ہے تیرا زہر بھی کچھ کم نہیں کھلا

جلنے لگی سحر میں کھِلی نیند دل بہ کف
یعنی جبیں پہ زُلف کا وہ خم نہیں کھلا

بستی درونِ دل کی ہے ویران آج تک
حسرت کہیں پہ کیف کہیں غم نہیں کھلا

احمد علی کیف

About meharafroz

Check Also

Short Story by Shamoil Ahmed

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *