Wednesday , 13 December 2017
Breaking News

Ghazal By Arif Imam

تازہ غزل، اہلِ نظر کی نذر

موجود میں عدم کا تماشا ہی دیکھیو
ہونا نظر نہ آئے تو دھوکا ہی دیکھیو

نظّارگی میں خیرہ نگاہی فریب ہے
جیسا وہ حسن ہے اُسے ویسا ہی دیکھیو

پیدا ہے اس کے پیچ سے اک نسبتِ جمال
یوسف نہو تو زلفِ زلیخا ہی دیکھیو

اِس آئینے میں خود کا نظر آنا شرک ہے
شیشے میں دل کے اُس کا سراپا ہی دیکھیو

رکھیو نگاہ میں بھی نہ امکانِ اندمال
بھر بھی گیا ہو زخم تو گہرا ہی دیکھیو

اک رات پر محیط ہے یہ عشرتِ وصال
باغِ بدن سے جانبِ صحرا ہی دیکھیو

آنکھیں جلا بھی سکتا ہے وہ قدِّ آتشیں
گر دیکھنا پڑے بھی تو چہرا ہی دیکھیو

چلتا نہیں یہاں بھی مِرا سکۂ قدیم
بازارِ حرف میں مجھے عنقا ہی دیکھیو
فقیرعارف امام

About meharafroz

Check Also

Short Story by Shamoil Ahmed

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *