Breaking News

Ghazal By Asgar Shameem

غزل

وہ مجھکو دیکھتا ہو مجھے جانتا بھی ہو
اتنے ہجوم میں کوئی چہرہ مرا بھی ہو

کب تک یونہی بھٹکتا رہوں گا میں دربدر
میرے نصیب میں کہیں رستہ لکھا بھی ہو

ان تلخیوں کے ساتھ گزاریں گے کب تلک
اس زندگی میں اپنی کبھی کچھ مزا بھی ہو

اس کی عنایتوں سے تو ڈرتا ہے میرا دل
میں چاہتا ہوں مجھ سے کبھی وہ خفا بھی ہو

کب تک گزاروں ان کے خیالوں میں زندگی
اصغر کبھی تو ان سے مرا سامنا بھی ہو

اصغر شمیم

About meharafroz

Check Also

Hikayat By Qaisar Nazir Khawar

پیسے پورے کرنا ترکی ادب؛ حکایات خواجہ نصیرالدین، مُلا سے انتخاب ۔ 1 اردو قالب؛ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *