Breaking News

Ghazal By Suleman Khumar

ایک تازہ غزل فیس بُک کے با شعور قارئین کی نذر، “عکسِ دوراں” کے عنوان سے…

غزل

یوں تو وعدے تھے بہت، لیکن ہوا کچھ بھی نہیں
نعرے بازی کے سوا اُس نے کیا کچھ بھی نہیں

خوب چالاکی سے دکھلائے تھے اس نے سبز باغ
آس تکتی رہ گئی، لیکن ملا کچھ بھی نہیں

ہم نے پوچھا کیا ہوا وعدہ سنہری دؤر کا
چل دیا منہ پھیر کر ظالم، کہا کچھ بھی نہیں

پیار کی اس سے توقع کیا رکھیں معصوم لوگ
ذہن میں اس کے تو نفرت کے سوا کچھ بھی نہیں

بے وفاؤں کے لئے سوغات ہیں، تمغات ہیں
اور وفادارؤں کے حصے میں صلہ کچھ بھی نہیں

اب تو لگتا ہے کہ ان کا ہر گلی ہر شہر میں
شر اُگانے کے علاوہ مدعا کچھ بھی نہیں

ظالموں پر اب نہیں ہے کوئی پابندی خمار
اور سزائیں اس کو ہیں جس کی خطا کچھ بھی نہیں

About meharafroz

Check Also

Short Story By Hamid Siraj

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *