Tuesday , 23 May 2017
Latest
Hasile Mutaliya Programme of Karnataka Urdu Accadamy and Hudafoundation

Hasile Mutaliya Programme of Karnataka Urdu Accadamy and Hudafoundation

4

موہن ناگمنور کی افسانہ نگاری

ایک تعارف

موہن ناگمنور ایک شخصیت کا نام نہیں بلکہ ایک تحریک ایک انقلاب اور ایک اجتماعی سوچ کا نام ہے جو بدستور تبدیل پذیر رہتی ہے ۔سماج کی ہلچل اور ابلتے لاوے کو اگر ادیب اور افسانہ نگار محسوس نہیں کرسکتا تو وہ ادیب کہلانے کا مستحق نہیں ۔موہن ناگمنور نہ صف ایک حساس روح ہیں بلکہ ایک ایسا زیرک ذہن بھی ہیں جو آنے والے وقت کی چار کو بہت پہلے پہچان لیتا ہے اور وہ بات کہتا ہے جو صدیوُں پر محیط ہوتی ہے ۔پچھلی صدی کے اواخر کا لکھا گیا افسانہ لگے ہے کہ آج کے حالات پر لکھا گیا ہے ۔موہن ناگمنور ضلع ہا ویری جو پرانے اکھنڈ دھارواڈ ضلع کا حصہ تھا،کی پیداوار ہیں ۔ہا ویری کی سرزمین اپنی ادبیت ،موسیقیت ،اور بھکتی تحریک کے لئے بہت مشہور ہے ۔یہ تینوں عناصر موہن ناگمنور کے قلم کا حصہ ہیں ادب و زبان میں موسیقی ایسی گھل مل گئی ہے کہ انکی افسانوی زبان گنگناتی نغمہ سرائی کرتی ہے کہ بے ساختہ زبان سے محبت ہو جاتی ہے ۔اور انکی کہانیوں کی بنیاد اور مرکزی خیال وہ فلسفہ ہوتا ہے جو سماج کا آئینہ بن جاتا ہے کبھی طنزیہ عکس لئے تو کبھی رجائیت لئے تو کبھی مایوسیوں کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں مثبت سو کی روپہلی کرن بن کر نمودار ہوتا ہے ۔ مگر جہاں طنز ہے وہاں گرتے اقدار کا رونا ہر جگہ صاف طور پر محسوس کیا جاسکتا ہے۔

موہن ناگمنور کی بنیادی تعلیم ہا ویری ضلع کی رہی ۔پی یو اور انٹر میڈیا کے لئے آپ نے کرناٹک کالج میں داخلہ لیا ۱۹۸۱کی گوکاک تحریک نے آپ پر اتنا اثر کیا کہ آپ نے سائنس کو خیر باد کہہ کر کھڑی ادب کا دامن تھام لیا ۔جو ابھی تک گلے کا ہار بن چکا ہے ۔موہن ناگنمور کنجی ادب کی خدمت کے لیئے ہی بنائے گئے ہیں ۔

اپنی عمر کے چوپن بہاریں دیکھ چکے موہن ناگمنور نے اپنی انقلابی تحریک کی ابتداءً ۱۹۸۱سے کی جب انہوں نے دولت اسٹوڈنٹس یونین سے کی جو بعد میں گوکاک تحریک کا حصہ بن گئ ۱۹۸۲میں کنڑ کریا سمیتی کے سیکریٹری کی ذمہ داریاں آپ نے سنبھالیں ایک صدی پوری کر کا و دیا وردھک سنگھ جہاں پر ریزر ویشن کا کوئی موقعہ نہیں ہے۔پھر بھی آپ مسلسل پانچویں مرتبہ کارکردگی سمیتی کے ممبر منتخب ہوئے ہیں ۔۔سماج کے کئی شعبے موہن ناگمنور کے مر ہون منت ہیں خاص کر دھارواڈ ہائی کورٹ کے قیام کے لئے آپ کی کوشیشیں قابل ستائیس ہیں ۔ہیلی دھارواڈ مہانگر پالی کے کی رکنیت کے ساتھ آپ اسپیشل ٹاسک فورس فار سیانیٹیشن کمیٹی کی رکنیت بھی آپکے حصے میں آئی ہے ۔آپکے تیار کردہ پلان کو ریاستی سطح پر بھی سراہا گیا ہے ۔

کیرلہ، مہاراشٹرا، تمل ناڈ،آندھر پردیش کی حدود پر کنڑی زبان کی حفاظت و فروغ کے لئے کی گئی آپکی تمام تر کاوشیں قابل ستائش اور سرِاہنی ہیں ۔

۱۹۹۸سے سن ۲۰۰۰تک آپ ریاستی کھڑا ساہتیہ اکادمی کے رکن رہے اورکئ کتابوں کی اشاعت کا سبب بنے ۔اور خود انکی سولہ کتابیں اشاعت پذیر ہویئں اکادمی کے اخبار کے آپ مدیر بھی رہ چکے ہیں ۔

ودھان سودھا اگرہار دا وندو سنجے،مہانرگمن،سوریہ گیت انکے شعری مجموعے ہیں ۔

افسانوی مجموعہ سنکٹ پور کا ناٹک پرسنگ آج کی حاصل مطالعہ کتاب ہے جو انکے دس چنندہ افسانوں کا مجموعہ ہے جس کا ترجمہ مہر افروز نے کیا ہے ۔یہ دس کہانیاں دس دنیاوؤں کی سیر کراتی ہیں اور موجودہ ان تمام سماجی مسائل کا احاطہ کرتی ہیں جوکہ فی آلوقت ملک کا عام مسئلہ بنی ہوئی ہیں ۔ان افسانوں میں آپکا کہانی کہنے کا فن پورے عروج پر ہے گندھا ہوا پلاٹ مضبوط کردار نگاری ۔نفسیاتی اندرونی کشمکش اور چونکا دینے والا انجام ان کہانیوں کو لازوال ادب پارے بناتی ہیں ۔

سواتنترشرنیہ رو،سواتنتریہ چنتن،سواتنتریہ آندولن دا پر مکھیہ دھارے،کتھن کوتوہل، بیل بیرو چی گُرو کتھےکوتے۔

ان کتابوں کے علاوہ آپ نے کنڑی زبان کی ضلعی ریاستی ملکی اور غیر ملکی سطح کے سیمیناروں کی صدارت سنبھالی اور اس سمینار کو چار چاند لگا دئے ۔۔

کدعا ہے آپکا قلم چلتا رہے اور آپکی صحت و تندرستی بنی رہے

آج کی یہ محفل آپکو مودبانہ سلام پیش کرتی ہے ۔

About meharafroz

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*