Wednesday , 13 December 2017
Breaking News

Hikayat By Qaisar Nazir Khawar

چار درویش
قیصر نذیر خاور

یہ کہانی جس ملک کی ہے وہ تو اب ٹکڑے ٹکڑے ہو ،کئی ملکوں کا حصہ ہوا پڑا ہے ، کبھی ’ خراسان‘ کہلاتا تھا ۔ ہزاروں سال پہلے اسی ملک کے کسی ایک جنگل میں چار درویش آ اکھٹے ہوئے تھے۔ انہوں نے اپنی ملاقات میں یہ طے کیا کہ وہ دنیا چھان ماریں گے اور ایسا کچھ تلاش کریں گے جو انسانیت کی فلاح کے کام آ سکے۔ ان کے گیان دھیان نے انہیں یہی سبق دیا تھا کہ ان کا مشترکہ عمل ہی صالح اور ارفع ہو گا ۔ انہوں نے یہ بھی طے کیا کہ وہ ٹھیک تیس برس بعد اسی مقام پر دوبارہ اکٹھے ہوں گے کہ آگے کا سوچ سکیں ۔
تیس برس گزرنے پر وہ وقت مقررہ پر اسی جگہ پھر ملے۔ ان میں سے ایک جو شمال کی انتہا تک گیا تھا اپنے ساتھ ایک ایسا جادوئی ڈنڈا لے کر آیا جس کو تھام کر یا اس پر بیٹھ کر دور دراز منزل پر پلک جھپکنے سے پہلے پہنچا جا سکتا تھا ۔ دوسرا جس نے مغرب کی خاک چھانی تھی ، ایک ایسی چادر لے کر آیا جسے اوڑھ کر بندہ من چاہا بھیس بدل سکتا تھا ۔ تیسرا جو مشرق میں اس مقام تک ہو آیا تھا جہاں سے سورج کا تھال ابھرتا تھا ، ایک ایسا جادوئی گول آئینہ لے کر آیا جس میں دنیا کے جس مقام کی بھی خواہش کی جاتی تو اُس کا عکس اِس میں ابھر آتا ۔ چوتھا درویش جو جنوب میں ساگروں کی گہرائیوں تک میں موتیوں بھری سیپیوں ، مونگے کے ذخائراور جل پریوں کی بستیاں دیکھ کر لوٹا تھا ایک ایسا پیالہ ساتھ لایا جس میں ڈالی دوائی امرت بن جاتی تھی جسے پینے سے ہر طرح کے مریض کو شفا مل جاتی تھی ۔
ان چاروں نے اپنی اپنی لائی اشیاء بارے معلومات ایک دوسرے کو منتقل کیں اور پھر سب نے اپنی توجہ جادوئی آئینے پر مرکوز کی کہ دیکھ سکیں کہ آب حیات کس چشمے سے پھوٹتا ہے تاکہ اس کا ایک ایک گھونٹ پی کر وہ لمبی عمر پا سکیں اور انسانوں کی خدمت کر سکیں ۔
پھر انہوں نے آئینے سے یہ کھوج لگائی کہ دنیا میں کون سب سے زیادہ ضرورتمند ہے جس کو ، ان کی سب سے ضرورت ہے۔ آئینے نے انہیں ایک ایسا شخص دکھایا جو بیمار تھا اور موت اس کے بہت قریب تھی ۔ ویسے تو اس تک پہنچنے میں کئی دنوں کا سفر حائل تھا لیکن وہ چاروں جادوئی ڈنڈے پر بیٹھے اور پل بھر میں اس کے پاس پہنچ گئے۔ انہوں نے دروازے پر کھڑے دربان سے کہا؛
” ہم ملک خراسان کے مشہور معالج ہیں اور ہم نے سنا ہے کہ تمہارا مالک بیمار ہے ۔ ہم اس کا علاج کرنے آئے ہیں ۔“
دربان نے اپنے مالک کو اطلاع کروائی جس پر انہیں اندر بلا لیا گیا لیکن ان کو دیکھتے ہی اس کی حالت اور بگڑ گئی ۔ اس نے غصے سے اپنے آدمیوں کو حکم دیا کہ انہیں باہر نکال دیا جائے ۔ باہر نکلتے وقت انہوں نے کسی کی آواز سنی جوکہہ رہا تھا کہ اس بیمار شخص کو صوفی سنتوں سے سخت نفرت ہے ۔ درویشوں نے یہ سن کر چادر اوڑھی اور بھیس بدل کر پھر سے اس بیمار کے پاس پہنچ گئے، جادوئی آئینے کی مدد سے انہوں نے اس جڑی بوٹی بارے جانا جو تریاق بن سکتی تھی ۔ اس دوائی کو انہوں نے جادوئی پیالے میں ڈالا، بیمار کو پلا یا اور اسے تندرست کر دیا ۔ بیمار چونکہ ایک امیر آدمی تھا اس نے انعام میں ان کو اپنا ایک مکان دے دیا ۔
درویش اب اس میں رہنے لگے ۔ وہ ہر روز جادوئی آئینے کے ذریعے یہ معلوم کرتے کہ ان کی ضرورت کہاں ہے اور وہاں پہنچ جاتے۔ اب وہ سب اکٹھے نہیں جاتے تھے بلکہ چارالگ الگ مہموں پر نکلتے۔
ایک روز تین درویش تو گھر سے جا چکے تھے البتہ جس کے پاس جادوئی پیالہ رہتا تھا وہ ابھی گھر پر ہی موجود تھا کہ بادشاہ وقت کے سپاہی آئے اور اسے اٹھا بادشاہ کے پاس لے گئے ۔ بادشاہ کی بیٹی بیمار تھی ، اس نے درویش سے اس کا علاج کرنے کو کہا ۔ اس نے وہی دوائی جو شہزادی کے بستر کے پاس پڑی تپائی پڑی تھی ، جادوئی پیالے میں ڈال کر اسے پلا دی ، وہ بھول گیا تھا کہ اس میں تو اس دوائی نے ہی اثر کرنا تھا جو جادوئی آئینے کی مدد سے تلاش کی جانی تھی ۔
شہزادی کی حالت میں افاقہ نہ دیکھ کر بادشاہ نے سپاہیوں کو حکم دیا کہ درویش کو دیوار پر لٹکا دیا جائے اور اس کے ہاتھوں و پیروں میں میخیں ٹھوک دی جائیں ۔ اس نے بادشاہ کو بڑا کہا کہ اسے اپنے ساتھیوں سے مشورہ کرنے دیا جائے، لیکن بادشاہ نے اس کی اس بات کو حیلہ بہانہ جانا اوراس کی ایک نہ سنی ۔
ادھر جب باقی تینوں درویش گھر لوٹے تو چوتھے کو نہ پا کر پریشان ہوئے۔ جادوئی آئینے کی مدد سے انہوں نے اسے دیوار پر ٹنگا دیکھا ، جہاں جہاں میخیں گڑھی تھیں وہاں وہاں سے خون نے دیوار کو لال کر رکھا تھا ۔ گو درویش نے درد کوضبط کر رکھا تھا لیکن اس کے چہرے پر کرب کے آثار نمایاں تھے۔
وہ فوراً وہاں پہنچے اور اسے اس تکلیف سے نجات دلائی ، البتہ وہ جادوئی پیالہ گنوا بیٹھے تھے کیونکہ بادشاہ نے غصے میں آ کر اسے سب سے گہرے سمندر میں پھنکوا دیا تھا۔ جسے انہوں نے اپنے جادوئی آئینے کی مدد سے تلاش اور جادوئی ڈنڈے پر بیٹھ کر اس سمندر میں جا کر اسے دوبارہ حاصل تو کر لیا لیکن ایسا کرنے میں ان کو اتنا وقت لگ گیا کہ شہزادی اپنی جان سے چلی گئی ۔
یہ سوچ کر کہ ان میں سے کوئی بھی دوبارہ ایسی مصیبت میں گرفتار نہ ہو جیسے جادوئی پیالے والا درویش بادشاہ کے ہاتھوں ہوا تھا ، انہوں نے فیصلہ کیا کہ انسانیت کی بھلائی توکریں گے لیکن خود کو روپوش رکھیں گے ۔
یہ چاروں درویش اب بھی لوگوں کے کام آتے ہیں لیکن ایسے کہ کوئی جان ہی نہیں پاتا کہ ان کی مدد کس نے کی ۔

About meharafroz

Check Also

Short Story by Shamoil Ahmed

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *