Breaking News

Hikayat by Qaisar Nazir Khawar

صوفی سنتوں کی’ کہاوتوں‘ سے انتخاب ۔ 30
کتّن والی
قیصر نذیر خاور

یونان اور ہسپانیہ کے صوفی سنت ایک کہانی سنایا کرتے ہیں جو کچھ یوں ہے ؛

یہ کہانی ملک ہسپانیہ کے قریب واقع وادی اینڈورا کی ہے جہاں ایک کتّن والا رہتا تھا ۔ وہ اپنے علاقے کا سب سے مشہور دھاگا کاتنے والوں میں شمار ہوتا تھا ۔ موٹے سے موٹا سوت ہو، پٹ سن کا ریشہ ہو یا پھر باریک سے باریک ریشم ، اس کا کاتا وادی سے باہر ہسپانیہ اور دیگر جزائر میں بہت مشہور تھا ۔ اس کی ایک بیٹی تھی جس نے باپ کا ہاتھ بٹاتے بٹاتے اس ہنر پر عبور حاصل کر لیا تھا ۔
کاتنے والا یہ شخص سال میں ایک بار اپنا کاتا ہوا مال لے کر سفر پر نکلتا اور اسے بیچ کر واپس لوٹتا تھا ۔ اس کی بیٹی جوان ہوئی تو باپ نے سفر پر نکلتے وقت اس سے کہا کہ وہ اس کے ساتھ چلے، وہ اپنا دھاگہ بیچے گا ، جبکہ وہ اس دوران اپنے لئے کوئی اچھا سا بر تلاش کرلے تاکہ وہ بیاہی جا سکے۔
وہ دونوں سفر پر روانہ ہوئے۔ ایک سے دوسرے جزیرے ہوتے ہوئے باپ سوت ، پٹ سن اور ریشم کا دھاگہ بیچتا رہا اور بیٹی جلد ایک اچھا بر ملنے کے خواب دیکھتی رہی ۔
جب ان کا بحری جہاز بحیرہ روم میں جزیرہ ’ کریٹ ‘ کے پاس پہنچا تو طوفان کی زد میں آ کر ڈوب گیا اور کاتنے والا اس حادثے میں ہلاک ہو گیا جبکہ سمندرکی لہروں نے اس کی بیٹی کو سکندریہ کے قریبی ساحل پر لا پھینکا ۔
سمندری سفر، جہاز کے ڈوبنے اور والد کے مرنے کے صدمے نے اس کے دماغ پر کچھ ایسا اثر ڈالا کہ اس کی یاداشت میں اس کی پچھلی زندگی دھندلا سی گئی ۔ بے یار و مدد گار اور لاچار اس کنیّا کو ایک جولاہے نے اپنی پناہ میں لیا اور اسے گھر لے آیا ۔ جولاہا اور اس کا کنبہ غریب تھا لیکن اس نے لڑکی کا خوب خیال رکھا اور ساتھ ہی ساتھ اسے بنُنے کے فن میں بھی طاق کر دیا ۔ اب وہ جولاہے کے ساتھ مل کر کپڑا بنُتی ، جولاہے کے خاندان کو اپنا ہی جان کر وہاں خوشی خوشی رہنے لگی اور یوں اس کی زندگی اک نئی ڈگر پر چل نکلی ۔
ایک روز وہ ساحل سمندر پر چہل قدمی کر رہی تھی کہ وہاں غلاموں کی تجارت کرنے والوں کا ایک بیڑہ آ کر رکا اور اس میں موجود اٹھائی گیروں نے اس پر جال ڈال ، باندی بنا دیگر قیدیوں کے ہمراہ اپنے بادبانی جہاز پر لا پھینکا اور جہاز کا رخ استنبول کی طرف موڑ دیا ۔ یوں بیڑیوں میں بندھے دیگر مردوں اور عورتوں کے ہمراہ ، غلاموں کے تاجروں کے بہیمانہ سلوک کو سہتے سہتے ’ کتن والی ‘ ترکی کے اس شہر کے بازار میں بکنے کے لئے کھڑی کر دی گئی ۔
اس کی دنیا میں یہ دوسرا بھونچال تھا۔ اتفاق تھا کہ جس روز وہ بازار میں لائی گئی تھی اس روز وہاں بہت کم گاہک تھے ۔ ان میں ایک ایسا شخص بھی تھا جو ترکھان تھا اور اپنے کارخانے ، جہاں وہ بادبانی جہازوں کے لئے لکڑی کے ستون بناتا تھا ، میں کام کے لئے غلام خریدنے آیا تھا ۔ معصوم ’کتن والی‘ کو برے حال میں دیکھ کر اس کا دل پسیجا اوریہ سوچ کراس نے ، کہ وہ شاید اسے کسی دوسرے خریدنے والے کے برعکس نسبتاً بہترزندگی دے سکتا ہے، اسے اپنی بیوی کے لئے بطور خدمت گار خریدنے کا فیصلہ کیا ۔ جب وہ اسے خرید کر واپس اپنے گھر کے لئے روانہ ہوا تو راستے میں قزاقوں کے ہاتھوں لٹ گیا اور اپنا سارا مال و متاع گنوا بیٹھا ۔ وہ بمشکل اپنی اور لڑکی کی جان بچا کر گھر پہنچا ۔ اب اس کے پاس کارخانے میں کام کرنے والے ملازموں کو معاوضہ دینے کو کچھ نہ تھا لہذٰا لکڑی کے کھمبے بنانے کے کام کا سارا بوجھ اس کی بیوی ، ’ کتن والی‘ اور خود اس پرآ پڑا ۔
اپنے مالک کی مہربانی پر مشکور اس لڑکی نے اس کے ساتھ مل کر بادبانی جہازوں کے لئے چھوٹے بڑے کھمبے بنانے میں خوب محنت سے کام کیا اور جلد ہی اس کام میں بھی ماہر ہو گئی۔ اس کی لگن اور محنت دیکھ کر ترکھان نے اسے آزاد کر دیا اور اسے اپنے گھر کا فرد سمجھ لیا ۔ اب وہ ترکھان کے کام میں اس کی بانہہ بن گئی تھی ۔ یہ اس کی زندگی میں تیسرا دور تھا جس میں وہ ایک ماہر لکڑی تراش بنی ۔
ایک دن ترکھان نے اسے کہا ؛
” بٹیا ، میں چاہتا ہوں کہ تم بادبانی کھمبے لے جانے والے جہاز پر میری جگہ جاوا جاﺅ اور انہیں اچھے منافع پر بیچ کر آﺅ ۔“
حکم کی تعمیل کرتے ہوئے وہ اس سفر پر روانہ ہو گئی ۔ جب جہاز چین کے پاس سے گزر رہا تھا تو سمندری طوفان کی زد میں ایسا آیا کہ نہ مال بچا نہ ان کے ساتھ جانے والے تاجر، البتہ ’ کتن والی‘ اپنے ہی بادبانی ستونوں میں سے ایک کے سہارے تیرتی ایک بار پھر ساحل سمندر پر آ پہنچی ۔ ایک انجانے ملک کے ساحل پر لیٹے لیٹے وہ اپنی قسمت پر بلبلا اٹھی؛
’ میرے ساتھ یہ تیسرا حادثہ ہے۔ میں جب بھی یہ سمجھتی ہوں کہ اب زندگی میں ٹہراﺅ آ گیا ہے ۔ نا گہانی ِ قسمت مجھے پٹخ کر چِت کر دیتی ہے۔‘ یہ سوچ کر وہ زار و قطار رونے لگی ۔ پھر اس نے خود کو سنبھالا اور کسی آبادی کی تلاش میں قدم اٹھانے لگی ۔
یہ وہ زمانہ تھا جب چینی ابھی’ تنمبو‘ بنانا نہیں جانتے تھے اور ان کے ہاں یہ یقین کیا جاتا تھا کہ ایک روز ایک عورت ساحل سمندر پر نمودار ہو گی اور وہ چین میں پہلا شامیانہ بنائے گی اور چونکہ وہ پہلا ہو گا اس لئے وہ بادشاہ وقت کے لئے ہو گا اور یوں چینی خیمہ سازی کے فن سے آشنا ہوں گے۔
چین کے بادشاہ وقتاً فووقتاً ملک بھرکے ساحلی علاقوں میں اس بات کی منادی کراتے رہتے تاکہ کوئی ایسی بدیسی عورت نظر انداز نہ ہو جائے جو چین میں سمندر ی راستے سے وارد ہو۔
جب ’ کتن والی‘ چلتے چلتے آبادی میں پہنچی تو بستی میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ۔ اس کی خوب آﺅ بھگت ہوئی ، ایک ترجمان کے ذریعے اسے اس روایت بارے بتایا گیا اور پھر اسے چین کے بادشاہ ِ وقت کے حضور پیش کر دیا گیا ۔
” کیا تمہیں ’ تنمبو‘ بنانا آتا ہے ؟ “ بادشاہ نے سوال کیا ۔
کتن والی نے جواب دیا ؛ ” میرا خیال ہے کہ میں یہ بنا سکتی ہوں ۔ “
اس نے سب سے پہلے رسیوں کا مطالبہ کیا ۔ چینی رسی سے بھی ناوقف تھے۔ کتن والی کھیتوں میں گئی جس کے بعد اس نے جنگلی گھاس کات کر موٹے رسے بنائے۔ پھر اس نے کھردرے اور موٹے کپڑے کے بارے میں دریافت کیا لیکن چینی اس سے بھی نابلد تھے۔ کتن والی نے اپنی زندگی کا وہ دور یاد کیا جب وہ سکندریہ میں تھی اور جولاہے کے ہاں کپڑا بنتی تھی ۔ اس نے مضبوط ، موٹا اور کھردرا کپڑا تیار کیا ۔ اب اسے تمبو کو کھڑا کرنے کے لئے لکڑی کے ستون درکار تھے چنانچہ اس نے ترکھان کے ہاں کی سکھلائی کو برتا اور شامیانے کے لئے لکڑی کے چھوٹے بڑے ستون بنائے۔ جب یہ تینوں تیار ہو گئے تو اس نے اپنے سفروں کی تفصیل یاد کرنی شروع کی ، یوں اس کے ذہن میں تنمبوﺅں ، شامیانوں اور خیموں کی کئی اشکال ابھر آئیں جو اس نے مختلف جگہوں پر دیکھے تھے۔ اس نے بادشاہ کو ان سب کے بارے میں بتایا اور پوچھا کہ اسے کس قسم کا شامیانہ درکار ہے۔ بادشاہ نے اسے اپنی ضرورت بتائی ، جس پر کتن والی نے ویسا ہی تمبو بادشاہ کے لئے تیار کر دیا ۔
بادشاہ شامیانہ دیکھ کر خوش ہوا ۔ کتن والی کو اس کی خواہش کے مطابق چین میں ہی بسنے دیا اور کچھ عرصے بعد اسے اپنے ایک بیٹے کے ساتھ بیاہ دیا ۔ اب وہ کتن والی نہیں رہی تھی ، اب وہ’ شہزادی خیمہ ساز‘ کہلاتی تھی ۔ اس نے کئی بچوں کو جنم دیا ، جو سب جانتے تھے کہ ان کی ماں کیسی کیسی گھٹناﺅں سے گزرتی اور کیا کچھ جھیلتی چین پہنچی تھی ۔

About meharafroz

Check Also

Short Story By Hamid Siraj

57 comments

  1. Great blog right here! Also your site lots up fast!

    What host are you using? Can I get your associate hyperlink to
    your host? I want my website loaded up as quickly
    as yours lol

  2. What’s up, constantly i used to check webpage posts here early in the morning, since i like to gain knowledge of more and
    more.

  3. I’m impressed, I must say. Seldom do I come across a blog that’s equally educative and
    amusing, and let me tell you, you have hit the nail on the
    head. The problem is an issue that too few people are speaking intelligently
    about. I am very happy I stumbled across this during my search for something concerning this.

  4. My developer is trying to persuade me to move to .net from PHP.
    I have always disliked the idea because of the costs.
    But he’s tryiong none the less. I’ve been using WordPress on various websites for
    about a year and am nervous about switching to another platform.
    I have heard very good things about blogengine.net.
    Is there a way I can transfer all my wordpress posts into it?
    Any help would be greatly appreciated!

  5. Hello there! This is kind of off topic but I need some advice
    from an established blog. Is it very hard to set up
    your own blog? I’m not very techincal but I can figure things out pretty quick.
    I’m thinking about setting up my own but I’m not sure where
    to start. Do you have any ideas or suggestions? Thank you

  6. Hello are using WordPress for your blog platform?
    I’m new to the blog world but I’m trying to get started and set up my own. Do you need any html coding knowledge to make your own blog?

    Any help would be really appreciated!

  7. I am regular reader, how are you everybody? This
    piece of writing posted at this site is really fastidious.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *