Tuesday , 23 May 2017
Latest
Hikayat by Qaisar Nazir Khawar

Hikayat by Qaisar Nazir Khawar

صوفی سنتوں کی’ کہاوتوں‘ سے انتخاب ۔ 31
نصیب
قیصر نذیر خاور

بحیرہ روم میں واقع جزائر کے قہوہ خانوں میں آپ کو آج بھی کوئی نہ کوئی صوفی سنت ایسا مل جائے گا جو یہ کہانی سنا رہا ہو گا؛
اکثر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے جو جانا اور جس پر ان کا وشواس ہے وہی حتمی ہے ۔ انہیں جزیروں میں سے ایک جزیرے پر جو بادشاہ حکومت کرتا تھا اس کا بھی یہی خیال تھا ۔ اس کے فیصلے کئی معاملات میں درست بھی ہوتے تھے لیکن وہ اپنی ہی جانکاری اور یقین کا پکا قیدی تھا ۔ اس کی تین بیٹاں تھیں ۔
ایک روز اس نے ان تینوں کو بلایا اور کہا ؛
”حقیقت ہے کہ میری ساری دولت اور دھن ابھی بھی تمہارا ہے اور کل بھی رہے گا ۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ تم تینوں نے مجھ سے ہی حیات پائی ہے ۔ چنانچہ میری ہی مرضی تم تینوں کے مستقبل اور تقدیر کا فیصلہ بھی کرے گی ( تقدیر اس کے تخت کے اوپر ہوا میں اپنے پر پھڑپھڑا رہی تھی ۔ اس نے ’ ہونہہ‘ کہا ، طنزیہ طور پر مسکرائی اور ایک کھلی کھڑکی سے در آتی روشنی کی کرنوں کو چوم کر آ ، سب سے چھوٹی بیٹی کے سر منڈلانے لگی ۔) ۔
باپ کے کہے کی سچائی کو مانتے اور اس کی بات کا پالن کرتے ہوئے بڑی دو بیٹیوں نے اس سے اتفاق کیا جبکہ سب سے چھوٹی بیٹی نے باپ کو جواب دیا؛
” گستاخی معاف ، ابا حضور، آپ کا کہا بجا ہو گا اور مجھ پر یہ فرض ہے کہ میں آپ کے کہے کو حکم جانوں ، لیکن میں اس بات پر یقین نہیں کر سکتی کہ آپ کا کہا ہی ہمیشہ میری قسمت اور تقدیر کا تعیّن کرے گا ۔“
بادشاہ اس کے جواب پر ناخوش ہوا اور اس نے کہا؛
” ٹھیک ہے ، دیکھتے ہیں کہ تمہاری قسمت اور تقدیر میرے ارادوں کے خلاف کیسے جاتی ہے۔“
اس نے اپنے سپاہیوں کو حکم دیا کہ اسے زندان خانے کی کال کوٹھری میں ڈال دیا جائے۔ سپاہیوں نے حکم کی تعمیل کی اور چھوٹی شہزادی سالوں اس کوٹھری میں پڑی رہی ۔ اس دوران اس کی دونوں بڑی بیٹیاں اور بادشاہ خود دھن دولت خرچ کرتے رہے ، یہاں تک کہ وہ بھی جو کال کوٹھری میں پڑی بیٹی کے حصے کا تھا ۔
ایک روز بادشاہ نے خود کلامی کرتے ہوئے کہا؛
” میری بیٹی اپنی مرضی سے زندان میں نہیں ہے ، بلکہ میرے ہی حکم کے تحت وہاں پڑی ہے ۔ چنانچہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اس کا کہا اہم نہیں بلکہ میری خواہش اور حکم کی ہی ترجیح ہے جس نے اس کی قسمت طے کر رکھی ہے۔“
ادھر جزیرے کے لوگ بھی شہزادی کی بپتا پر ایک دوسرے سے کچھ اس طرح بات کر رہے تھے؛
” اس سے ‘ بادشاہت ‘ کے خلاف ضرور کوئی بھیانک جرم سرزد ہوا ہو گا ، ورنہ کون ہے جو اپنے ہی خون کو اس طرح بندی وان بناتا ہے۔ ویسے بھی بادشاہ کے فیصلے تو ہم سب کے لئے درست ہی ہوتے ہیں ۔ “
بادشاہ وقتاً فوقتاً زندان خانے میں جاتا اور اپنی بیٹی سے سوال کرتا کہ کیا اس کی عقل ٹھکانے آئی یا نہیں ۔
بیٹی جو کہ کال کوٹھری میں پڑے پڑے لاغر اور کملا گئی تھی، ہر بار وہی جواب دیتی جو اس نے پہلی بار باپ کو دیا تھا ۔ ( بادشاہ جب بھی اسے ملنے جاتا ، تقدیر اپنے پر پھڑپھڑاتی شہزادی کے سر پر چکر لگاتی اور ان دونوں کی گفتگو سن کر کھکھلا کر ہنستی اورکال کوٹھری کے منُے سے روشندان سے آتی کرنوں کی سیڑھی بنا کر باہر نکل جاتی ۔ )
اور پھر یوں ہوا کہ بادشاہ کی قوت برداشت جواب دے گئی اور اس نے کال کوٹھری میں جا کر شہزادی کو کہا؛
” تمہارا مسلسل انکار ، میرے ادھیکاروں کو کمزور کر رہا ہے ۔ اگر تم میری اقلیم کی حدود میں مزید رہیں تو میرے پاس تمہیں قتل کروانے کے علاوہ اور کوئی راستہ نہ ہو گا لیکن میں ایک رحم دل انسان ہوں اس لئے تمہاری جان بخشی کرتے ہوئے تمہیں جلاوطن کرتا ہوں ۔ اب سے تم میری مملکت کی حد سے باہر اس جنگل میں رہو گی جو جانوروں کا مسکن ہے۔ تم ہمارے مہذب اور منطقی سماج میں رہنے کے قابل نہیں ہو۔ وہاں رہ کر جلد ہی تمہیں یہ احساس ہو جائے گا کہ ہمارے بغیر تمہاری بقا ممکن نہیں ۔“ ( پر پھڑپھڑاتی تقدیر نے قہقہہ لگایا اور شہزادی کے سر پر ہوا میں منڈلاتی رہی ۔)
بادشاہ کے حکم کی تعمیل ہوئی اور شہزادی کو مملکت کے باہرجنگل میں پھینک دیا گیا ۔ محل کے نازوں اور کال کوٹھری کی قیدی شہزادی کے لئے کھلا کھلا سا یہ ماحول نیا تھا لیکن اس نے جلد ہی رہنے کے لئے پہاڑی کی ایک کھوہ تلاش کر لی ، درختوں ، پودوں اور جھاڑیوں سے طرح طرح کے پھل اور میوہ جات اس کا کھاجا بن گئے جو وہ سونے کی تھالیوں میں تو نہیں براہ راست توڑ کر کھاتی تھی ۔ سونے کی تھالیوں کی کمی سورج نے پوری کر دی تھی جس کی سنہری کرنیں اسے گرمائش مہیا کرتیں ۔ اس بن کے اپنے موسم تھے، اپنا رہن سہن تھا ۔ شہزادی جلد ہی ان کی عادی ہو گئی اور بہت سے چرند پرند اس کے دوست بن گئے ۔ یہ سب اس کے بادشاہ باپ کے حکم کے پابند نہیں تھے ۔ یہاں کا اپنا نظام تھا جس میں ہر شے ایک دوسرے سے ایک طرح کی برابری کے ساتھ منسلک تھی اور ان کا ایک اہرام کھڑا تھا ۔ اب وہ بھی اس اہرام کا حصہ تھی ۔
پھر ایک روز ایک بھٹکا مسافر اس جنگل میں آیا جو اپنے علاقے کا ایک امیر کبیر نوجوان تھا ۔ وہ شہزادی کی محبت میں گرفتار ہوا اور اسے لے کر اپنے وطن لوٹ گیا ۔ انہوں نے شادی کی اور خوشی خوشی رہنے لگے ۔ کچھ عرصے بعد ان دونوں نے واپس اسی جنگل میں جانے کا فیصلہ کیا اور وہاں ایک ایسا شہر آباد کیا جس کے باسی دانا تھے، عاقل تھے ، ہنر مند تھے اور ہر طرح کے فنون میں ماہر تھے۔ اس شہر میں کوئی بادشاہ نہ تھا اور نہ ہی رعایا کا تصور تھا ۔ سب باہمی صلاح مشورے سے رہتے تھے اور مل بانٹ کر کھاتے پیتے تھے۔ جلد ہی یہ شہر ایک مملکت میں بدل گیا جس کی باگ ڈور باسیوں نے صلاح مشورے سے ایک پرہیا کو سونپ رکھی تھی جس کی سر پنچی جلاوطن شہزادی اور اس کے خاوند کے پاس تھی ۔ ایک طرح سے یہ وہ مملکت تھی جس کو بسانے کا خواب افلاطون نے دیکھا تھا ۔
جلد ہی اس مملکت کی شہرت دور دور تک پھیل گئی اور لوگ اسے دیکھنے کے لئے آنے لگے ۔ شہزادی کے باپ کو بھی تمنا ہوئی کہ وہ اس عجیب اورانوکھی مملکت کو دیکھے۔ جب وہ وہاں پہنچا توخوشحالی ، دانائی اور علوم و فنون کی ترقی دیکھ کر دنگ رہ گیا اور جب بیٹی کو اپنے خاوند کے ساتھ مملکت کے اعلیٰ ترین مقام پر دیکھا تو اس پر گنگ طاری ہو گیا ۔
ایسے میں بیٹی نے سرگوشی کے سے انداز میں ، کہ کوئی اور نہ سنے، باپ کو کہا؛
” ابا حضور، آپ نے یہ سب دیکھا ، اب تو مان لیں کہ ہر بندے کی اپنی ہی تقدیر اور قسمت ہوتی ہے، جس کے لئے وہ کسی دوسرے کا محتاج نہیں ہوتا ۔ “
بادشاہ کے پاس سوائے خاموش رہنے کے اور کوئی حل نہ تھا ۔ ( تقدیر اس سمے شہزادی کے سر پر منڈلا تے ہوئے بادشاہ کومنہ چڑھا رہی تھی ۔ )

About meharafroz

23 comments

  1. I have been surfing on-line greater than 3 hours as
    of late, but I never found any fascinating article like yours.
    It’s beautiful price enough for me. In my opinion,
    if all site owners and bloggers made just right content material as you probably
    did, the internet can be a lot more helpful than ever
    before.

  2. You need to take part in a contest for one of the
    highest quality blogs online. I am going to highly recommend this blog!

  3. Aw, this was an incredibly good post. Taking the time and actual effort to create a great article… but
    what can I say… I hesitate a lot and never manage to get nearly anything done.

  4. I think this is among the most significant information for me.
    And i am glad reading your article. But want to remark on few general
    things, The site style is perfect, the articles is really great : D.

    Good job, cheers

  5. Normally I do not learn post on blogs, but I would like to say that this write-up very forced me to take a look at and do it!
    Your writing taste has been surprised me. Thank you, quite nice post.

  6. Hello my family member! I want to say that this post is amazing, great written and include almost all important infos.
    I would like to see more posts like this .

  7. whoah this weblog is fantastic i really like studying your articles.
    Keep up the good work! You understand, a lot of
    individuals are hunting round for this info, you can aid them greatly.

  8. Hi there I am so grateful I found your webpage, I really found you by
    mistake, while I was looking on Yahoo for something else,
    Anyhow I am here now and would just like to say kudos for a incredible post and a all round interesting
    blog (I also love the theme/design), I don’t have time to go through it
    all at the minute but I have book-marked it and also included your RSS feeds, so when I
    have time I will be back to read much more, Please do keep up
    the superb jo.

  9. Today, while I was at work, my cousin stole my apple ipad and tested to see if it
    can survive a 40 foot drop, just so she can be a youtube sensation. My apple ipad is now destroyed and she has 83 views.
    I know this is completely off topic but I had to share it with someone!

  10. I absolutely love your blog and find almost all of your post’s to be exactly I’m looking for.

    can you offer guest writers to write content for you? I wouldn’t mind producing a post or elaborating on a
    few of the subjects you write about here. Again, awesome weblog!

  11. First off I would like to say great blog! I had a quick question which
    I’d like to ask if you do not mind. I was curious to find out how you center yourself and clear your thoughts prior to
    writing. I have had trouble clearing my mind in getting my thoughts
    out. I truly do enjoy writing but it just seems like the first 10 to 15 minutes
    are lost just trying to figure out how to begin. Any
    recommendations or hints? Appreciate it!

  12. This is a topic that’s near to my heart… Many thanks!

    Exactly where are your contact details though?

  13. Hi, all the time i used to check web site posts here in the
    early hours in the dawn, as i love to learn more and more.

  14. First of all I want to say wonderful blog! I had a
    quick question in which I’d like to ask if you do not mind.
    I was curious to find out how you center yourself and clear your mind before writing.
    I have had a difficult time clearing my thoughts in getting my thoughts out.
    I do take pleasure in writing however it just seems like the first 10 to 15
    minutes tend to be lost simply just trying to figure out how to
    begin. Any recommendations or tips? Many thanks!

  15. Hi mates, how is everything, and what you would like to say on the
    topic of this paragraph, in my view its actually amazing designed
    for me.

  16. I enjoy what you guys tend to be up too. This type of clever work and coverage!
    Keep up the fantastic works guys I’ve incorporated you
    guys to my own blogroll.

  17. Why visitors still use to read news papers when in this technological globe
    the whole thing is accessible on web?

  18. First off I would like to say terrific blog!
    I had a quick question in which I’d like to ask if you don’t mind.
    I was interested to know how you center yourself and
    clear your thoughts prior to writing. I’ve had a tough time clearing my mind in getting my thoughts out there.
    I do take pleasure in writing however it just seems like the first 10 to 15 minutes are generally lost
    simply just trying to figure out how to begin. Any ideas or hints?
    Many thanks!

  19. Ridiculous quest there. What happened after? Take care!

  20. You made some fine points there. I did a search on the issue and found nearly all people will go along with with your blog.

  21. Undeniably imagine that which you stated. Your favorite justification seemed to be on the net the easiest factor to understand of.
    I say to you, I definitely get irked while folks consider worries that they just do
    not understand about. You controlled to hit the nail upon the highest
    as well as defined out the whole thing with no need side effect
    , people can take a signal. Will likely be
    again to get more. Thank you

  22. Hi there it’s me, I am also visiting this website regularly, this web
    site is truly good and the visitors are really sharing fastidious thoughts.

  23. Hey! Do you know if they make any plugins to assist with SEO?
    I’m trying to get my blog to rank for some targeted
    keywords but I’m not seeing very good gains. If you know of any please share.
    Kudos!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*