Breaking News

Hikayat by Qaisar Nazir Khawar

صوفی سنتوں کی’ کہاوتوں‘ سے انتخاب ۔ 35
عقل ِ محدود
اردو قالب ؛قیصر نذیر خاور

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ خراسان میں دریائے آمو کے کنارے اُگی جھاڑیوں پرکافی سارے پرندے بیٹھے تھے ۔ ان میں سے ایک پرندہ شکاری کے ہتھے چڑھ گیا ۔
پرندے نے اس سے کہا ؛
” میں قید میں رہنے کا عادی نہیں ہوں، اور اگر تم مجھے آزاد کر دو تو میں تمہیں تین کام کی باتیں بتاﺅں گا ۔“
پرندے نے اس سے وعدہ کیا کہ ایک تو وہ اسے اسے وقت بتا سکتا ہے، جبکہ وہ اس کی قید میں ہی ہے۔ دوسری وہ اس وقت بتائے گا جب وہ اڑ کر شاخ پر جا بیٹھے گا اور تیسری اس وقت ، جب وہ پرواز کرکے پہاڑ کی اونچائی تک پہنچ جائے گا ۔
شکاری نے پرندے کی بات مان لی اور بولا؛
”بولو، اگر تمہاری پہلی بات مجھے اچھی لگی تو میں تمہیں چھوڑ دوں گا ۔“
پرندے نے کہا ؛
”تو سنو، اگر تمہاری کوئی ایسی شے گم جائے جو تمہیں جان سے بھی زیادہ عزیز ہو تو اس پر غم نہیں کرنا ۔ یہی جاننا کہ وہ تمہارے لئے تھی ہی نہیں ۔ “
شکاری کو یہ بات پسند آئی اور اس نے پرندے کو ہوا میں چھوڑ دیا ۔ پرندہ اڑا اور ایک ڈال پر جا بیٹھا اور بولا ؛
” کسی ایسی بات کا یقین نہ کرنا جو لگے کہ منطقی نہیں ہے اور عقل کے خلاف جاتی ہے ۔“
پھر پرندے نے اڈاری بھری اور دور اوپر ہوا میں پہنچ کر بولا ؛
” اے بدقسمت انسان ! تم نے جانا ہی نہیں کہ میرے اندر دو بڑے بڑے ہیرے موجود تھے۔ اگر تم مجھے نہ چھوڑتے اور مجھے مار دیتے تو تمہیں میرے پیٹ سے یہ ہیرے مل جاتے۔“
شکاری بری طرح پچھتایا کہ اس سے کیا غلطی سرزد ہو گئی کہ اس نے پرندے کو چھوڑ دیا ۔ اس نے پرندے سے کہا؛
”چلو، اس بات کو چھوڑو، مجھے کام کی تیسری بات تو بتاتے جاﺅ ۔“
” تم خاصے بیوقوف ہو، کہ مجھ سے مزید نصحیت کے متقاضی ہو جبکہ تم نے پہلی دو پر ہی صحیح طور پر غور نہیں کیا ! میں نے تمہیں کہا تھا کہ اس پر افسوس نہ کرو جوتمہارے ہاتھ سے نکل گیا، اور دوسرے غیر منطقی بات پر کان نہ دھرو ۔ تم ہو کہ دونوں کے مرتکب ہو رہے ہو۔ ہیروں والی بے عقلی والی بات پر یقین کرکے تم کڑھ رہے ہو ۔ تم نے ذرا نہیں سوچا کہ میرے پیٹ میں دو بڑے بڑے ہیرے کیسے ہو سکتے ہیں؟
تم انسانوں کا مسئلہ ہے کہ ہر شے پر قابض ہوتا چاہتے ہو، ذرا سی شے چھن جانے پر ملال کرتے ہو اور عقل سے کم کام لیتے ہو ۔ “

About meharafroz

Check Also

Short Story By Hamid Siraj

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *