Wednesday , 13 December 2017
Breaking News

Hikayat By Qaisar Nazir Khawar

صوفی سنتوں کی کہاوتوں سے انتخاب ۔ 39
ہم تک تو یہ کہاوت 11 ویں صدی میں موجود سلسلہ خواجگان ( جو بعد میں نقشبندی کہلائے) کے صوفیوں کے ذریعے پہنچی لیکن اس کی اصل تو سمیری تہذیب سے جڑی ہوئی ہے جو الوہی مذاہب کی سرزمین میں ہی کہیں پروان چڑھی تھی، عروج پر پہنچی اور پھر زوال پذیر ہوئی۔ اس تہذیب میں بھی ، دیگر بہت سی تہزیبوں کی طرح ایک سے زیادہ خداﺅں کو مانا جاتا تھا جو بعد میں ابراہیم کے ایک خدا کے تصور میں بدلا۔ سماریوں کے ہاں ایک دیوتا تھا جسے ’ کوتھار۔ وا ۔ خاسس‘ کہا جاتا تھا ، جس کا مطلب ’ ہنرمند اور دانا ‘ ہے۔ اس دیوتا نے آب حیات پی رکھا تھا چنانچہ وہ ہر زمانے میں لوگوں کا رہبر بنتا ۔ مادی دنیا کا یہ دیوتا دیگر عقیدوں میں بھی کسی نہ کسی نام سے موجود ہے جیسے ’ہند سندھ ‘ میں وشنو۔ اسی طرح کا دانا رہبر الوہی مذاہب میں بھی موجود ہے، یہاں فرق صرف اتنا ہے کہ یہ خدا کا ایک برگذیدہ بندہ ہے جو ’ ہنر مند ، ظاہری وخفیہ علوم کا ماہر، دانا اورازلی رہبر‘ ہے۔ ان میں یہ اور ناموں کے علاوہ ’جان دی بیپٹسٹ‘،’ سینٹ جارج ‘ اور ’ الخضر‘ کے نام سے جانا جاتا ہے ۔ یہ کہاوت اسی ’کوتھار‘ یا ’ برگزیدہ بندے ‘ سے جڑی ہے جو اس عام بندے کی زندگی میں رہبر بن کر آتا ہے جو اس کہاوت کا مرکزی کردار ہے ۔ (ق، ن، خ)

اک ‘ گھڑت کہانی ‘
اردو قالب؛ قیصر نزیر خاور

ہزاروں سال پہلے سلطنت ’ایلبا‘ کا زمانہ تھا ۔ اس کے شہر سمارا میں اوزان اور پیمائشوں کے محکمے میں ایک معمولی کارندہ کام کرتا تھا ۔ لوگوں کے ’ بٹوں‘ اور’ فیتوں ‘ کی جانچ پرتال اس کے فرائض میں شامل تھا جسے وہ ایمانداری سے سرانجام دیتا تھا ۔
ایک روز وہ اپنے گھر کے قریب ایک قدیم کھنڈر کے باغ میں ٹہل رہا تھا کہ اسے’ کوتھار‘ ملا جس کا ذکر اوپر کیا جا چکا ہے۔ برگذیدہ بندے کا روپ دھارے اس نے شوخ جوگیا لباس پہن رکھا تھا ۔ اس نے کارندے سے کہا؛
” تم ایک شاندار مستقبل رکھتے ہو، اپنی نوکری کو خیر باد کہو اور مجھے تین روز بعد دریائے ’تگرس‘ کے کنارے ملنا۔“ اتنا کہہ کر وہ بزرگ غائب ہو گیا ۔
کارندہ اپنے نگران کے پاس گیا اور اس کو بتایا کہ وہ نوکری چھوڑ کر جا رہا ہے۔ اس کے ساتھیوں نے اسے پاگل کہا کہ لگے روزگار کو یوں لات نہیں مارتے۔ اس کے نگران نے بھی اسے سمجھایا لیکن اس کی بھی پیش نہ چلی ۔
کارندہ وقت مقررہ پر دریا پر پہنچ گیا ۔ برگزیدہ بزرگ وہاں موجود تھا، اس نے کارندے سے کہا؛
” اپنے کپڑے اتارو اور دریا میں کود پڑو۔ قدرت مہربان ہوئی تو کوئی نہ کوئی تمہیں بچا ہی لے گا۔“ یہ کہہ کر بزرگ پھر غائب ہو گیا۔
کارندے نے کچھ دیر سوچا اور بزرگ کی بات کو اس کے ذہن کا خلل جانا، لیکن اس کے ذہن میں ’ کوتھار‘ کا خیال آیا اور وہ حسب ہدایت دریا میں کود پڑا۔ تیرنا اسے آتا تھا لہذٰا ڈوبنے کی بجائے وہ لہروں کے دوش پر تیرتا رہا کہ اسے ایک مچھیرا ملا جو اپنی کشتی کو تیزی سے کنارے پر لے جا رہا تھا، وہ بولا؛
”آگے ترائی ہے اور پانی کا بہاﺅ کٹیلا ہے، تم کیا کرنا چاہ رہے ہو؟ “
کارندہ بولا؛
” مجھے خود بھی معلوم نہیں کہ میں کیا کر رہا ہوں ۔“
مچھیرا بولا؛
”تم سچ میں پاگل ہو، میں تمہیں اپنے ساتھ اپنے جھونپڑے میں لے چلتا ہوں ۔ پھر دیکھیں گے کہ ہم مچھیرے تمہارے لئے کیا کر سکتے ہیں۔“
بستی میں پہنچ کر مچھیرے کو جب یہ معلوم پڑا کہ وہ جس کو اس نے دریا سے نکالا تھا، پڑھا لکھا منش ہے تواس نے روٹی ٹکر کے عوض اس سے پڑھنا لکھنا شروع کر دیا ، یوں اس بستی میں علم کی روشنی پھیلنے لگی۔ کارندہ مچھیروں کو پڑھانے کے علاوہ ان کے کام میں مدد بھی دینے لگا۔
کچھ عرصہ گزرا تو ایک رات بزرگ اس کی پائینتی پر آن کھڑا ہوا اور بولا؛
” اٹھو، اس جگہ کو خیرباد کہو ، جہان بہت وسیع ہے، کچھ نہ کچھ آسرا ہو ہی جائے گا۔“
کارندہ اسی وقت اٹھا اور بستی چھوڑ کرسڑک پر چلنے لگا ۔ پو پھٹی تو اس نے دیکھا کہ ایک کسان اپنے گدھے پر سوار شہر کی منڈی کی طرف جا رہا ہے۔ کسان نے بھی اسے دیکھا اور اسے ایک بے روزگار مچھیرا جان کر بولا؛
” مجھے ایک پانڈی کی ضرورت ہے جو شہر سے میرا وہ سامان اٹھا کر لا سکے جسے میں خریدنے جا رہا ہوں ۔ کیا تمہیں کام کی ضرورت ہے؟ “
یوں کارندہ ، کسان کا پانڈی بن گیا ۔ اگلے دو برس تک وہ کسان کے ساتھ رہا اور اس کا سامان ڈھونے کے ساتھ ساتھ واہی بیجی میں مدد کرتا رہا ۔ اب وہ ایک اچھا کسان بن گیا تھا جو فصلیں اگانے کے ساتھ ساتھ مویشیوں کو سنبھالنے میں بھی طاق تھا۔
ایک دوپہر وہ بھیڑوں کی اون اتار کر ان کی گانٹھیں بنا رہا تھا کہ رہبر بزرگ پھر نمودار ہوا اور بولا؛
” اس کام کو چھوڑو، موصل کے شہر جاﺅ، اپنی بچائی ہوئی رقم سے کھالیں خریدو اور ان کی سوداگری شروع کرو۔“
کارندے نے بزرگ کے کہے پر عمل کیا اور جلد ہی شہرِموصل میں کھالوں کا ایک نامی سوداگر بن گیا۔ تین سال میں اسے اتنا منافع ہوا کہ وہ وہاں ایک رہائش گاہ خریدنے کی بابت سوچنے لگا ۔ ایسے میں بزرگ پھر سے اس کے سامنے آ کھڑا ہوا اور بولا؛
”اپنا تمام مال و متاع میرے حوالے کرو اور سمرقند جاﺅ اور وہاں کسی ایسے پنساری کے ساتھ کام کروجو جڑی بوٹیاں بھی بیچتا ہو ۔“
کارندے نے اپنا مال و اسباب بزرگ کے حوالے کیا اور خود سمرقند کی طرف روانہ ہو گیا ۔ راستے میں اسے احساس ہوا کہ اس کا قلب روشن ہونا شروع ہو گیا ہے۔ پنساری کے ساتھ کام کرتے کرتے اس کے ہاتھ میں شفاء بھی آ گئی ، لوگوں کو سودا سلف دیتے کے بعد فارغ وقت میں وہ ان کے دقیق مسائل سنتا اور ان کے حل بھی انہیں بتاتا ۔ وقت کے ساتھ ساتھ اس کے ’ علم‘ کا خزانہ بڑھتا ہی چلا گیا اور اس کی گہرائی ساگر سے بھی زیادہ ہو گئی ۔
اس کی شہرت چار سو پھیل گئی اورکیا مُلا، کیا قاضی، فلسفی و دیگر سب اس کے پاس مشورے کے لئے آنے لگے۔ وہ اس سے یہ سوال بھی کرتے کہ وہ کس کا شاگرد رہا ہے؟
اس بات کا وہ سیدھا جواب دیتا کہ یہ بتانا اس کے لئے مشکل ہے۔ اس کے شاگرد اس سے پوچھتے کہ اس نے اپنی عملی زندگی کی شروعات کیسے کی تھی؟ ، تو وہ کہتا؛
”میں ایک سرکاری کارندہ تھا ۔ “
” اور آپ نے وہ راستہ اس لئے تیاگ دیا کہ اپنے نفس کے سانپ کا پھن کچل کر اسے مار سکیں ۔“
” نہیں ، میں نے بس وہ راستہ چھوڑ دیا تھا ۔ نفس کے سانپ کا پھن تو کچلا جا سکتا ہے لیکن یہ سانپ بھی کبھی مرتا ہے بھلا ! “
لوگوں کو اس کی بات بالکل سمجھ نہ آئی ۔
شہر میں بات پھیلی اور کئی لوگوں کو دلچسپی پیدا ہوئی کہ اس کی زندگی کی کہانی لکھیں ۔
” آپ اپنی زندگی میں کیا کچھ کرتے رہے ہیں ؟ “ ، انہوں نے پوچھا۔
” میں نے دریا میں چھلانگ لگائی تھی اور مچھیرا بن گیا تھا، پھر میں نے مچھیروں کی بستی چھوڑی اور کسان بن گیا، وہاں سے میں موصل گیا اور کھالوں کا تاجر بنا، میں نے خاصی دولت کمائی لیکن اسے دان کر دیا اور پھرمیں سمرقند آ گیا اور اس پنساری کے پاس کام کرنے لگا جہاں آپ لوگ مجھے دیکھ رہے ہیں ۔“
” لیکن! یہ سب، اُس دانائی ، فراست اور فلاحِ انسانی کی خصوصیت جوآپ میں ہیں، ان پر تو کوئی روشنی نہیں ڈالتیں ! “، سوانح مرتب کرنے والوں نے کہا۔
” ہاں یہ تو ہے ۔“ ، وہ بولا۔
ہر بار پوچھنے پر وہ یہیں تک بات کرتا اور چپ ہو جاتا ۔ چنانچہ سوانح نگاروں نے اس’ کارندے‘ کے بارے میں ایک عجیب اور سنسنی سے بھرپور تاریخ لکھی؛ کیونکہ ہر درویش ، صوفی اور سنت کی کوئی نہ کوئی کہانی تو ہوتی ہی ہے اور اس کہانی کو قاری اور سننے والے کی دلچسپی کے مطابق ہونا چاہئیے نہ کہ زندگی میں بیتا جوں کا توں ہی لکھ دیا جائے ۔
ویسے بھی ’ کوتھار‘ کا ذکر ہو،’ جان دی بیپٹسٹ‘ یا سینٹ جارج کا یا پھر ’ خضر‘ کا ، براہ راست تو نہیں کہا جا سکتا کہ سب اس ’ کوتھار‘ یا برگذیدہ بندے کے کارن ہوا جو ’ ہنر مند، ظاہری وخفیہ علوم کا ماہر،دانا اورازلی رہبر‘ ہے ۔ اس لئے یہ کہانی سچی نہیں ہے ، اسے ’کارندے‘ کی زندگی کی ‘ گھڑت کہانی ‘ ہی جانیں جو اپنے وقت کا ایک بڑا صوفی سنت تھا ۔ دل چاہے تو اس صوفی سنت کا نام آپ زید رکھ لیں یا بکر۔

About meharafroz

Check Also

Short Story by Shamoil Ahmed

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *