Wednesday , 13 December 2017
Breaking News

Hikayat Qaisar Nazir Khawar

صوفی سنتوں کی کہاوتوں سے انتخاب ۔ 41
کھرا کھوٹا
قیصر نزیر خاور

یہ قصہ اس صوفی بزرگ سے وابستہ ہے جو گیارہ ، بارہ سو سال پہلے بغداد میں علم کا فیض بانٹتا رہا۔ آپ اسے، اس کی نوعمری کے اِس واقع سے پہچان لیں گے :
جب اس کی ماں نے اسے علم کے حصول کی خاطر بغداد روانہ کیا تھا توماں نے اس کی گڈری میں چالیس اشرفیاں سی دیں کہ بغداد میں اس کے کام آ سکیں ۔ یہ نوعمرجس قافلے کے ساتھ بغداد جا رہا تھا ، اس پر ڈاکو پڑ گئے اور سب مسافروں سے مال ومتاع چھین لیا ۔ جب انہوں نے اس نو عمر سے پوچھا کہ اس کے پاس کیا ہے تو اس نے جواب دیا کہ اس کے پاس ، گڈری میں چالیس اشرفیاں ہیں ۔ ڈاکوﺅں نے اس کی بات کو مذاق جانا اور اسے اپنے سردار کے پاس لے گئے ۔ سردار نے بھی اس سے یہی سوال کیا ۔ اس نے پھر وہی جواب دیا ۔ سردار نے اسے اشرفیاں دکھانے کو بولا ۔ نوعمر نے گڈری پھاڑ کر اشرفیاں سامنے کر دیں ۔ سردار اشرفیوں کو دیکھ کر حیران ہوا اور بولا کہ اس نے اس چھپے مال کو از خود کیوں آشکار کیا تو نو عمر بولا؛
” میں جب بغداد کے لئے نکلا تھا تو میری ماں نے نصحیت کی تھی کہ بیٹا جھوٹ سے پرہیز کرنا ورنہ جس علم کے حصول کے لئے تم بغداد جا رہے ہو وہ فاسد ہو جائے گا اور تمہارے ہاتھ کچھ نہ آئے گا ۔ “
ڈاکوﺅں کا سردار اس نوعمر کی یہ بات سن کر بہت متاثر ہوا اور اس نے اپنے ساتھیوں سمیت لوٹ مار سے توبہ کر لی ۔
نوعمری میں ہی اس کردار کا حامل یہ بزرگ بغداد میں صوفیوں میں افضل کہلایا اور اس کے شاگردوں میں مقامیوں کے علاوہ دور دراز سے بھی لوگ آ کر شامل ہوئے اور اس کی شہرت ہر سو پھیل گئی ۔
ایک دفعہ خراسان ، عراق اور مصر کے تین شیخ ، جو مقدس مقامات کی زیارت کرکے خچروں پر سفر کرتے واپس جا رہے تھے۔ وہ ان خچر بانوں سے اچھوتوں والا سلوک کرتے اور انہیں نیچ جانتے ۔ اس بزرگ کی شہرت نے ان شیوخ کو مجبور کیا کہ وہ اس کے آستانے پر حاضر ہوں تاکہ اپنے اپنے وطن پہنچ کر شیخی مار سکیں کہ وہ اس افضل بزرگ سے بھی مل کر آئے تھے۔
آستانے کے عمومی دستور کے برخلاف یہ بزرگ اپنے حجرے سے نکلا اور خود چل کر دروازے پر آ یا اور ان کا استقبال کرکے ڈیرے میں لے گیا ۔ رات ہوئی تو کھانے کے بعد جب بزرگ سے ملاقات کو آئے لوگ سونے کے لئے حجروں میں جانے لگے تو اس بزرگ نے ان شیوخ کے خچر بانوں کو خصوصی طور پر شب بخیر کہا اور ان کے ہاتھوں پر بوسہ دے کر انہیں رخصت کیا جبکہ شیوخ کو صرف ہاتھ کے اشارے سے جانے کی اجازت دی ۔ شیوخ کو اس بات پر حیرت ہوئی لیکن وہ جا کرچپ چاپ سو گئے۔
پو پھوٹی تو شیوخ نے عبادت سے فارغ ہو کر اپنے خچر بانوں سے پوچھا کہ کیا افضل بزرگ انہیں جانتا تھا ؟ انہوں نے مسکرا کرجواب دیا؛
”نہیں ، لیکن اس بزرگ کو کھرے اور کھوٹے کی خوب پہچان ہے۔ “

About meharafroz

Check Also

Short Story by Shamoil Ahmed

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *