Breaking News

Introduction Of Shamsa Najam

تعارف حاضر خدمت ہے
انٹر نیشنل ڈائریکٹری آف رائیٹرز (ادیب نامہ) میں شامل میرا تعارف:
نام: شمسہ نجم
سکونت: لاس اینجلس، امریکہ
شاعرہ، افسانہ نگار،مصورہ، مضمون نگار، مائکروفکشنسٹ
جائے پیدائش: جھنگ صدر، جھنگ
تاریخ پیدائش: 22 جنوری
میٹرک: گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول جھنگ صدر ، جھنگ
گریجویٹ: گورنمنٹ کالج جھنگ (affiliate by)پنجاب یونورسٹی لاہور
ماسٹرز ان اردو لٹریچر: کراچی یونیورسٹی، کراچی
ایسوسی ایٹ ڈگری ان چائلڈ ڈویلپمینٹ: ایل اے سی سی ، لاس اینجلس، کیلیفورنیا، امریکہ
ایل اے سی سی، لاس اینجلس، کیلیفورنیا، امریکہ سے آرٹ کی تعلیم حاصل کی۔
حالیہ سکونت: لاس اینجلس، کیلیفورنیا، امریکہ
ملازمت: 8 سال تک Directv سیٹلائیٹ کمپنی میں ملازمت کی۔
فی الحال شعبہ تدریس سے وابستہ ۔
ممبر رائٹر گلڈز
مجموعہ کلام دشت فراق
افسانوں کا مجموعہ “جاچ” زیر طبع ہے
بھارت پاکستان جموں کشمیر اور امریکہ کے اخبارات اور جرائد میں تخلیقات شائع ہو چکی ہیں۔ جن میں افسانے اور غزلیات “اردو لنک” امریکہ میں منتخب افسانوں کے نام سے شائع ہوئے۔ اردو لنک امریکہ میں افسانے اور مضامین باقاعدگی سے چھپتے ہیں۔
روزنامہ نوائے وقت رونامہ ایکسپریس پاکستان اورروزنامہ پندار پٹنہ انڈیا ،ادبی جریدہ سیپ کراچی ، ادبی جریدہ سیاق جموں کشمیر، جریدہ زینب، نئے افق، ندائے گل ، مخزن، تکثیر اور تکبیر (پندرہ روزہ) میں نگارشات شائع ہو چکی ہیں۔
سوشل میڈیا اور ویب سائٹس پر تحریریں پوسٹ ہوتی ہیں۔
اردو لنک امریک میں منتخب افسانوں میں جگہ پانے والے افسانے درج ذیل ہیں:
” جاچ”
“ہندسوں کا ہیر پھیر”
“پیاس”
اندر کی بات”
“التواء”
وہ اک لمحہ”
“خدا ترس”
“ادھورا”
“آئینے میں عکس”
مزید افسانچے اور مائکرو فکشنز:
“خراج”
“جوزلین”
“در ہدایت”
” چھت”
“ایثار”
“سالگرہ کا تحفہ”
“پیغمبری”
“ترسیل”
“گرداب”
” کرموں جلی”
“گول”
” میزان”
“توبہ کی تاثیر”
” نارسائی”
“گرفتار ”
“محبت”
“انتظار”
تنقیدی و ادبی مضامین بھی تحریر کیے جن میں سے بیشتر اردو لنک امریکہ میں چھپ چکے ہیں اور چند پندار پٹنہ انڈیا میں شائع ہو چکے ہیں۔ ان مضامین میں کچھ کے نام یہ ہیں :
” مابعدجدیدیت ”
“ادبی تحریکیں”
“مائکرو فکشن”
“علامت کا نثر میں مقام”
“امرتا پریتم”
“احمد فراز”
“قرہ العین حیدر”
“منشی پریم چند”
“کرشن چندر”
“شبلی نعمانی”
“سر سید احمد خان”
“احمد ندیم قاسمی”
“پطرس بخاری”
“پروین شاکر”
نیشنل لیول پر شطرنج کے مقابلوں میں حصہ لیا اور انعامات حاصل کیے۔
حروف ادب فورم کی بانی اور ایڈمن ہونے کی حیثیت سے ادبی مقابلوں کا انعقاد کیا جس میں سب سے اہم طلباء کو اردو ادب کی طرف راغب کرنے کے لیے اور نیا ٹیلینٹ سامنے لانے کے لیے طالب علموں کے مابین مقابلے کا انعقاد کیا جس کا بنیادی مقصد نئے ادیب اور نئے قاری پیدا کرنا تھا۔انشاءاللہ اس پر کام جاری رہے گا۔ حرف و نقد فورم کی بانی اور ایڈمن کی حثیت سے تنقیدی مضامین اور نقاد کے لیے ایک پلیٹ فارم مہیاکیا۔اس پر مزید کام جاری ہے۔
بین الاقوامی ادبی تحریری مقابلوں میں بے شمار انعامات اور اسناد حاصل کیں ۔ اسکول اور کالج کے دوران تقریری مقابلوں میں مختلف شہروں کے تعلیمی اداروں کے منعقدہ مقابلوں میں انعامات حاصل کیے۔
شاعری اور افسانہ نگاری کے علاوہ تراجم کا کام بھی کیا۔
امرتا پریتم کی نظم
” کی آکھا وارث شاہ نوں” کا پہلا منظوم نثری ترجمہ کیا
فیض احمد فیض کی جن پنجابی نظموں کا اردو منظوم نثری ترجمہ کیا ان کے نام درج ذیل ہیں
1۔ سوچاں سمجھاں والیو لوکو۔۔۔۔
2۔ ربا سچیا۔۔۔۔
پاکستان میں قیام کے دوران کچھ مضامین روزنامہ نوائے وقت اور روز نامہ ایکسپریس اور تکبیر (پندرہ روزہ) کے اسلامی صفحات کی زینت بنے۔ جن میں “قرآن اور سائنس”، “سورۃ فاتحہ کی فضیلت و برکات” اور “شب قدر” جیسے مضامین شامل ہیں۔

About meharafroz

Check Also

Short Story By Hamid Siraj

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *