Breaking News

Hikayat By Qaisar Nazir Khawar

صوفی سنتوں کی’ کہاوتوں‘ سے انتخاب ۔ 36
میری دنیا اور، تیری اور
اردو قالب ؛قیصر نذیر خاور

یہ کہانی ایک بدو خانہ بدوش کی ہے۔ جو اپنے کنبے کے ساتھ عرب کے صحرا میں وہیں پڑاﺅ ڈال لیتا تھا جہاں کہیں کھجور کے کچھ درخت اسے سایہ و خوراک اور وہاں موجود پانی اس کی پیاس بجھانے کے لئے مل جاتے۔ وہ صحرائی چوہے پکڑتا، ان کی کھالیں اتارتا، انہیں خشک کرتا، کھجور کے درختوں کی نرم چھال سے رسی بُنتا اور گزرنے والے قافلوں کے ہاتھوں انہیں فروخت کرتا۔ وہ یہ کام تب سے کرتا آ رہا تھا جب سے اس نے ہوش سنبھالا تھا ۔ اسے صحرا کے تمام نخلستانوں کی کھجوروں اور پانیوں کے ذائقے کا علم تھا ۔
یہ وہ زمانہ تھا جب اس علاقے کا حاکم وقت ہارون الرشید تھا جس کا محل بغداد میں تھا اور وہ اپنے علم و دیگر خواص کی وجہ سے بہت مشہور تھا ۔
ایک روز، جب بدو اپنے گدھے پر سامان لادے ایک نخلستان سے دوسرے کی طرف نقل مکانی رہا تھا تو راستے میں ایک مقام پر اس کے سامنے ایک چشمہ پھوٹا اور ریت کے نشیب میں اس کا پانی جمع ہو کر تالاب کی شکل اختیار کرنے لگا ۔ بدو نے اس چشمے کا چلو بھر پانی پیا تواسے اس کا ذائقہ ان تمام پانیوں سے مختلف لگا جو وہ اس سے پہلے صحرا میں چکھ چکا تھا ۔ یہ پانی صحرا کے دیگر پانیوں کے مقابلے میں کم کثیف بھی تھا ۔ چنانچہ اس نے اسے عجوبہ جانا اور اس پانی کو ’ جنتی پانی ‘ قرار دیا ۔ اس نے یہ بھی سوچا کہ وہ اس ’ جنتی پانی‘ کا پتہ بادشاہ وقت کو بھی دے ۔
اُس نے اس مقام کی نشانیاں مقامی علم کے مطابق کھڑی کیں ، اس پانی کے دو مشکیزے بھرے، ایک زاد راہ کے لئے جبکہ دوسرا ہارون الرشید کو پیش کرنے کے لئے ، اور بغداد کے سفر پر روانہ ہو گیا تاکہ اس ’جنتی پانی ‘ کا مشکیزہ خلیفہ وقت کو پیش کر سکے اور اسے اس جگہ بارے اسے آگاہ کر سکے۔
اس نے لگاتار سفر کیا تاکہ کم سے کم کھجوریں خرچ ہوں اور وہ جلد حاکم وقت تک پہنچ سکے۔ بغداد پہنچ کر وہ سیدھا اس کے محل پہنچا اور دربانوں کو اپنی آمد کا مدعا بیان کیا ، جس پر انہوں نے اسے دربار عام میں داخل ہونے کی اجازت دے دی ۔
جب ہارون الرشید اپنے تخت پر جلوہ افروز ہوا اوربدو کی باری آئی کہ وہ اپنی آمد کا سبب اس کے گوش گزار کر سکے تو اس نے کہا؛
” علم کے محافظ ، اے آقا ! میں ایک غریب بدو ہوں ، میں اور تو کوئی علم نہیں جانتا، لیکن صحرا کے تمام پانیوں کی کثافت اور ذائقے سے واقف ہوں ۔ صحرا میں میرے سامنے ایک ایسا چشمہ پھوٹا تھا جس کا پانی کثافت میں سب سے ہلکا اور ذائقے میں سب سے منفرد ہے ۔ میں اس کا پانی ایک مشکیزے میں بھر کر آپ کے لئے لایا ہوں کیونکہ میرا خیال ہے کہ اس چشمے کا پانی’ جنتی‘ ہے ۔“
ہارون الرشید نے ہاتھ کا اشارہ کیا ، جس پر اس کے کارندوں نے مشکیزہ بدو سے لے لیا ، ایک گھونٹ پانی سونے کا ایک کٹور ے میں ڈالا اور حاکم کے سامنے پیش کر دیا ۔ اس نے گھونٹ بھرا اور کٹورا اپنے آدمیوں کوواپس تھماتے ہوئے کہا؛
”بدو کو مشکیزے سمیت اپنی حفاظت میں لے لو ۔ رات گہری ہونے تک اس کی مہمانداری اور خوب تواضع کرو۔ “ پھر وہ بدو سے گویا ہوا؛
” تم ٹھیک کہتے ہو، یہ پانی واقعی منفرد ہے اورمیں تمہیں اس کا رکھوالا مقرر کرتا ہوں ۔“ دل میں البتہ اس نے سوچا کہ ہم بغدادیوں کے لئے تو اس پانی کی کوئی اہمیت نہیں کہ یہ نمکین اور کھارا ہے لیکن صحرا میں یہ واقعی جنت کا تحفہ ثابت ہو سکتا ہے ۔“
ہارون الرشید کے کارندوں نے ایسا ہی کیا ۔ پھر اس نے سپاہیوں کا ایک دستہ طلب کیا اور اس کے سردار کو علیحدٰگی میں بلا کر کہا؛
”رات کی تاریکی میں اس بدو کو اپنی نگرانی میں واپس اس مقام پر چھوڑ آنا جہاں سے یہ آیا ہے۔ راستہ وہ اختیار کرنا کہ وہ میٹھے پانی والے ’دجلہ‘ کو بہتا نہ دیکھ سکے ۔ واپس چلنے سے پہلے اسے میری طرف سے ایک ہزار اشرفیاں دینا اور کہنا کہ وہ میرے نام پر یہ پانی گزرتے قافلے والوں کو مفت پلائے۔
ایسا ہی کیا گیا اور بدو مرتے دم تک وہ پانی مسافروں کو مفت پلاتا رہا ۔

About meharafroz

Check Also

Short Story By Hamid Siraj

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *