Breaking News

Kitaben Sarhad Par Say, Arundhiti, S Novel By Qaisar Nazir Khawar

مُمکنہ راحت ، پُرفریب دَروازہ اور دَربان
ارون دتی رائے کے ناول ’ The Ministry of Utmost Happiness ‘ پر تبصرہ
قیصر نذیر خاورؔ

انسانی حقوق اور ماحولیاتی آلودگی سے متعلقہ معاملات پر سیاسی طور پر سرگرم عمل ہندوستانی ادیبہ ارون دِتی رائے کا پہلا ناول ’ The God of Small Things ‘ سن1997 ء میں سامنے آیا تھا ۔ اس نے یہ 1992 ء میں لکھنا شروع کیا تھا اور چار سال بعد 1996 ء میں مکمل کیا تھا ۔ اس پر اسے ’ مین بُکر انعام ‘ برائے فکشن ملا تھا ۔ ارون دِتی رائے نے اس ناول کے اکیس ملکوں میں چھاپنے کے حقوق بدیسی ناشر ’ ہارپر کولنز‘ کو پانچ لاکھ پاﺅنڈز میں بیچے تھے ۔ مجھے یہ ناول پڑھتے ہوئے روسی مصنف بورس پیسٹرنک یاد ۤیا تھا جس نے کہا تھا ؛
” ادب آرٹ کی وہ شکل ہے جس میں عام لوگوں کے بارے میں کچھ ‘ خصوصی ‘ تلاشا جائے اور اسے عام الفاظ میں لکھا جائے جو اسے ‘ مخصوص ‘ بنا دیں ۔ ”
یہ دو ایسے بچوں کے بچپن کے تجربات پر مبنی ہے ، جو ہیں تو جڑواں لیکن ماں کے پیٹ میں الگ الگ آنولوں سے پرورش پاتے رہے تھے جس کے باعث وہ ہم شکل نہیں (Dizygotic twins ) ؛ ایک لڑکا ہے ایستھاپن اور دوسری لڑکی ہے راحل ۔ یہ ناول ان کی زندگیوں کی تباہی کی داستان ہے جومعاشرے کے روایتی ’ چاہے جانے کے قوانین‘ ، کس کو پیار کرنا ہے کس کو نہیں اور وہ بھی کتنا ، کے ہاتھوں برباد ہوتی ہیں ۔ یہ ناول اس بات کا پردہ بھی چاک کرتا ہے کہ رونما ہونے والے چھوٹے چھوٹے واقعات کس طرح انسانوں کی زندگیوں اور ان کے رویوں پر اثر انداز ہوتے ہیں ۔ اس ناول کی کہانی کیرالہ کے ضلع کوٹیم کے ایک گاﺅں ’ ایمینیم‘ میں 1969ء کے سال میں دکھائی گئی ہے ۔ اس ناول میں آپ کو ہندوستانی تاریخ ، سیاست ، طبقاتی ڈھانچہ ، ثقافتی کچھاﺅ ، سماجی تفریق ، عورت کی تحقیر ، بےوفائی اور پیار کرنے پر پابندی جیسے سارے موضوعات بھی پلاٹ میں گندھے ملیں گے جو آپ زیادہ تر راحل نامی بچی کے نقطہ نظر اور اس کی نظر سے دیکھ پاتے ہیں ۔ بعد ازاں حقائق ، اشیاء اور لوگ ایک اور روشنی میں نظر آتے ہیں جو شاید اصل میں خود ارون دتی رائے کی اپنی بصیرت کی روشنی ہے ۔
ارون دتی رائے اپنی نان فکشن تحاریر میں ایک واضع موقف لینے سے نہیں ہچکچاتی ۔ یہ کشمیر کی علیدٰگی کا مسئلہ ہو ، افغانستان میں امریکہ کی خارجہ پالیسی ہو ، اسرائیل کا فلسطینیوں سے ناروا سلوک ہو، سری لنکن حکومت کا تامل باشندوں کے ساتھ بہیمانہ سلوک ہو ، ہندوستان کا خود کو جوہری ہتھیاروں سے لیس کرنا ہو ، انڈین پارلیمنٹ پر حملے اور محمد افضل کی سزائے موت کا معاملہ ہو ، ممبئی پر حملوں پر رائے زنی ہو ، نرمدا ڈیم پراجیکٹ کے خلاف مہم کی حمایت ہو ، نکسل باڑی ماﺅسٹ تحریک پر حکومتی فوج کشی کی مخالفت ہو ، بدعنوانی مخالف موقف ہو یا پھر مودی کے وزیر اعظم بننے پر سخت تنقید ہو ، ارون دِتی رائے ہر ایسے معاملے پر ڈٹ جاتی ہے ( وہ اپنے لکھے کی قیمت وصولنا بھی جانتی ہے اور دیس میں رہتے ہوئے اس کو بھگتنا بھی ، جیسے کشمیر کے معاملے پر بغاوت کا مقدمہ ، نومبر 2010 ء جو کہ ایک نہ صرف مسلمان بلکہ ‘ سید ‘ نے اس پر کھڑا کیا یا اس سے کروایا گیا تھا ) ۔
لیکن فکشن کے معاملے میں اس کا قلم کچھ اور طرح سے چلتا ہے ؛ اس کے پہلے ناول ، جس کا میں اوپر ذکر کر چکا ہوں ، کے کردار متذبذب بھی ہیں ، خود بھی ظالم ہیں اورظلم کا شکار بھی اور یہ کہ کامل بالکل بھی نہیں ہیں ۔ اس کا یہ ناول بیس سالوں میں ساٹھ لاکھ کی تعداد میں بک چکا ہے اور ہمارے سامنے اس کا دوسرا ناول ’ The Ministry of Utmost Happiness ‘ پچھلے ماہ ہی سامنے آیا ہے ۔ ارون نے اسے لکھنے کے علاوہ اس کے سرورق کے بارے میں بھی ایک ایسا آئیڈیا منتخب کیا ہے جوعلامتی ہے ( اس نے اپنے پہلے ناول کا ، گدلے پانی کی سطح پر کنول کے پتوں اور ایک گلابی پھول والا ، کور بھی خود منتخب کیا تھا ) یہ دِلی میں واقع کسی قبر کی پتھریلی سِل ہے ۔
یہ ناول ایک بار پھر ویسے ہی ملیدے سے گوندھا گیا ہے جس طرح اس نے اپنا پہلا ناول بُنا تھا ۔ اس میں بھی آپ کو سارا ہندوستان ملے گا ، مرتی ہوئی سنسکرت اور اردو جیسی زبانوں کی چاہ ، بھوپال گیس کے المیہ کا گریہ ، کشن بابو راﺅ ہزاری کی بدعنوانی مخالف تحریک پر تنقید ، زعفرانی بریگیڈ کی مخالفت ، ایودھیا اورگودھرا ، ماضی و حال کے وزراء اعظم ، شمال و مشرق کی تفریق ، گئو رکھشا ، دلِت سیاست اور ہیجڑا کمیونٹی ۔ ۔ ۔ یہ ایک فِکشنل کلیڈیو سکوپ ہے جس میں عکس مسلسل بدلتے ہوئے ، ناکامیوں سے کھلیتے رہتے ہیں ۔ بہت کم ادیب ایسا فِکشنل کلیڈیو سکوپ بنانے کی جرات کرتے ہیں ۔ ارون نے بھی تو یہ جرات دوسری بار ہی کی ہے ، آئیے اس ناول کے آغاز کا کچھ حصہ دیکھتے ہیں :

باب اول
بوڑھے پرندے مرنے کے لئے کہاں جاتے ہیں ۔

وہ قبرستان میں ایک درخت کی طرح رہتی تھی ۔ وہ صبح کے وقت کوﺅں کو الودع کرتی اور چمگاڈروں کو گھر واپسی پر خوش آمدید کہتی ۔شام کے وقت اس کے الٹ کرتی ۔ ان دونوں سَموں کے درمیانی وقت میں وہ گدھوں کے ان بھوتوں سے بات چیت کرتی رہتی جو اس کی سب سے اونچی شاخوں کے پاس منڈلا تے اور ان پر بسیرا کرتے تھے ۔ وہ ان کے پنجوں کی ہلکی گرفت کو ایسے درد کی طرح محسوس کرتی جیسی جسم کے اس حصے میں اٹھتی ہے جسے کاٹ دیا گیا ہو ۔ اس نے یہ جان لیا تھا کہ وہ اس بات سے ناخوش نہیں ہیں کہ ان سے معذرت کر لی گئی ہے اور انہیں کہانی میں سے نکال دیا گیا ہے ۔
جب وہ یہاں آئی تھی تو شروع کے کئی مہینوں تک اسے درد کے احساس کے بغیر ، جیسا کہ درختوں کو نہیں ہوتا ، عام ظلم کو برداشت کرنا پڑا تھا ۔ وہ مڑ کر نہیں دیکھتی تھی کہ کس بچے نے اس پر پتھر پھینکا تھا ، گردن جھکا کرنہیں دیکھتی تھی کہ اس کی چھال پر کیسے کیسے ہتک آمیز جملے لکھے جا رہے تھے ۔ جب لوگ اسے ایسے ناموں ۔ ۔ ۔ سرکس بِنا مسخرہ ، محل بنا ملکہ ۔ ۔ ۔ جیسے نام دیتے تو وہ ان کی اذیت کو اپنی شاخوں کے درمیان موجود ہوا کی طرح اڑا دیتی تھی اور اپنے ہلتے پتوں کی سرسراہٹ کی موسیقی کورافع درد مرہم کی طرح استعمال کرتی رہتی ۔
یہ ضیاءالدین ہی تھا ، نابینا امام ، جو ایک دفعہ دعا مانگنے والوں کو فتحپوری مسجد میں لے گیا تھا ، نے اس سے دوستی کی اور اسے ملنے آنے لگا تھا ۔ تب ہمسایوں نے فیصلہ کیا تھا کہ اسے شانتی سے رہنے دیا جائے ۔
بہت پہلے کی بات تھی ، ایک آدمی جو انگریزی جانتا تھا ، نے اسے بتایا تھا کہ اگر اس کا نام ( انگریزی میں ) الٹا کر لکھا جائے تو یہ ’ مجنوں‘ بنتا ہے ۔ اس نے کہا تھا کہ انگریزی میں مجنوں کو رومیو اور لیلیٰ کو جولیٹ کہتے تھے ۔اسے یہ بات مضحکہ خیز لگی تھی ۔
” تمہارا مطلب ہے کہ میں ان کی کہانی کی کھچڑی ہوں ؟ اس نے پوچھا تھا ، ” جب انہیں پتہ چلے گا کہ لیلیٰ اصل میں مجنوں تھی اور اور رومی اصل میں جولی ، تو پھر وہ کیا کریں گے ؟ “
اگلی بار ، انگریزی جاننے والا جب اس سے ملا تو اس نے کہا کہ اس سے غلطی ہوئی تھی ۔ اس کا نام اگر الٹا لکھا جائے تو وہ ’ مجنا ‘ بنتا تھا جو کوئی نام نہیں اور اس کا کوئی مطلب بھی نہیں ہوتا ۔ اس کی یہ بات سن کر اس نے کہا تھا ؛
” اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ میں یہ سب کچھ ہوں ، میں رومی بھی ہوں اور جولی بھی میں لیلیٰ بھی ہوں اور مجنوں بھی ۔ ۔ ۔ اور مجنا ، یہ بھی کیوں نہیں ؟ کون کہتا ہے کہ میرا نام انجم ہے ؟ میں انجم نہیں ہوں ، میں انجمن ہوں ۔ میں ایک محفل ہوں ۔ میں ایک اجتماع ہوں ۔ ہر ایک کا اور کسی کا بھی نہیں ، ہر ہونی کا اور ہر انہونی کا بھی ۔ کوئی رہ گیا ہے جس کو تم بلانا چاہتے ہو؟ یہاں ہر کوئی مدعو ہے ۔“
اس نے ، جو انگریزی جانتا تھا ، کہا کہ اس نے بہت ہوشیاری سے یہ سب کہا ۔ اس نے یہ بھی کہا کہ وہ ایسا کہنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا ۔ اس پر وہ بولی ؛
” تہارے نزدیک اردو کی کیا حیثیت ہے ؟ تم کیا سمجھتے ہو؟ انگریزی تمہیں اپنے آپ ہی چالاک بنا دیتی ہے ؟ “
اس سے قہقہہ لگایا ۔ جواباً وہ اس سے بڑھ کر ہنسی ۔ انہوں نے ایک فلٹر والا سگریٹ مل کر پیا ۔ اس نے شکوہ کیا کہ’ ولز نیوی کٹ ‘سگریٹ چھوٹے اور بھدے تھے اور قیمت پوری نہیں کرتے تھے ۔ اس نے جواب دیا کہ وہ انہیں ’ فور سکوئر‘ یا بہت ہی مردانہ ’ ریڈ اینڈ وائٹ ‘ پر ترجیح دیتی تھی ۔
اسے اس کا نام یاد نہ تھا ۔ شاید وہ اسے جانتی بھی نہ تھی ۔ انگریزی جاننے والا ، تو ، جہاں اسے جانا تھا ، کب کا جا چکا تھا اور وہ سرکاری ہسپتال کے پچھواڑے ، قبرستان میں رہ رہی تھی ۔ اس نے اپنی رفاقت کے لئے ’ گودریج ‘ سٹیل کی الماری رکھی ہوئی تھی ، جس میں وہ اپنی موسیقی رکھتی تھی ۔ ۔ ۔ خراشوں سے بھرے ریکارڈ اور ٹیپیں ۔ ۔ ۔ اس میں ایک پرانا ہارمونیم ، کپڑے ، زیور ،باپ کی شاعری کی کتابیں ، اپنی فوٹو البمیں اور کچھ اخباری تراشے جو خواب گاہ میں لگی آگ میں بچ گئے تھے ، بھی تھے ۔ اس نے اس کی چابی کالے دھاگے میں بندھے چاندی کے بنے ترچھے خلالیے کے ساتھ گلے میں ڈالی ہوتی تھی ۔ وہ اپنے گھسے پٹے ایرانی قالین پر سوتی تھی جسے دن میں وہ تالے میں رکھ دیتی تھی اور رات کو دو قبروں کے درمیا ن بچھا لیتی ( مزے کی بات یہ تھی کہ ہر رات یہ قبریں مختلف ہوتی تھیں) ۔ وہ ابھی بھی سگریٹ پیتی تھی ، وہی نیوی کٹ کا ولز ۔
ایک صبح جب وہ اونچی آواز میں اندھے امام کو اخبار پڑھ کر سنا رہی تھی ، جو دھیان سے نہ سن رہا تھا ۔ ۔ ۔ وہ لاپرواہی سے بولا ۔ ۔ ۔ تم میں سے جو ہندو ہوتے ہیں انہیں جلایا نہیں جاتا بلکہ دفنا دیا جاتا ہے ؟
اس نے خطرہ محسوس کرتے ہوئے بات پلٹا دی تھی ۔ ” سچ ؟ کیا یہ سچ ہے؟ سچ کیا ہے ؟ “
اپنے سوال سے نہ ہٹتے ہوئے امام میکانکی انداز میں بڑبڑایا ۔ ” سچ خدا ہے ۔ خدا ہی سچ ہے ۔“ یہ حکمت کی وہ بات تھی جوہائی وے پر چلنے والے ٹرکوں کی پشت پر لکھی ہوتی تھی ۔ پھر اس نے اپنی سبز اندھی آنکھیں سکیڑیں اور بدمعاشی بھری سرگوشی میں پوچھا؛ ” مجھے بتاﺅ ، جب تم لوگ مر جاتے ہو تو تمہیں کہاں دفنایا جاتا ہے ؟ تمہاری لاشوں کو غسل کون دیتا ہے ؟ تمہاری نماز جنازہ کون پڑھاتا ہے؟ “
انجم نے کافی دیر تک کوئی جواب نہ دیا ۔ پھر وہ اس پر جھکی اور درخت کے رویے کے الٹ ، جوابی سرگوشی میں بولی ؛ ” امام صاحب ، جب لوگ رنگوں کی بات کرتے ہیں ۔ ۔ ۔ لال ، نیلا ، نارنجی ۔ ۔ ۔ جب وہ دھوپ میں آسمان کو بیان کرتے ہیں یا رمضان میں چاند چڑھنے کی بابت کچھ کہتے ہیں ۔ ۔ ۔ تو تمہارے دماغ میں کیا خیال آتا ہے ؟ “
ایک دوسرے کو گہرے اورجسمانی ایذا دینے والے کچوکے لگا کر رستے زخموں کے ساتھ وہ کسی کی دھوپ بھری قبر پرخاموشی سے ساتھ ساتھ بیٹھے رہے ۔ بالآخر انجم نے خاموشی توڑی ۔
” تم مجھے بتاﺅ“ ، وہ بولی ، ” تم امام صاحب ہو ، میں نہیں ۔ بوڑھے پرندے مرنے کے لئے کہاں جاتے ہیں ؟ کیا وہ آسمان سے پتھروں کی طرح ہم پر آ گرتے ہیں ؟ کیا ہم گلیوں میں ان کے لاشوں کو روندتے پھرتے ہیں ؟ کیا تمہیں نہیں پتہ کہ سب کچھ دیکھنے والا خدا ، جس نے ہمیں اس دنیا میں بھیجا ، نے ہمیں یہاں سے اٹھانے کے مناسب انتظامات نہ کئے ہوں گے ؟ “
اس دن امام معمول سے پہلے ہی وہاں سے چلا گیا ۔ انجم اسے جاتے ہوئے دیکھتی رہی ، تھپ ، تھپ تھپ کرتا وہ قبروں کے درمیان اپنا راستہ بناتا جا رہا تھا ۔ اس کی آنکھیں بنی چھڑی جب راستے میں بکھری شراب کی خالی بوتلوں اور استعمال شدہ سرنجوں سے ٹکراتی تو جل ترنگ سا بج اٹھتا ۔ اس نے اسے روکا نہ تھا ۔ اسے پتہ تھا کہ وہ واپس آ جائے گا ۔ تنہائی جتنے مرضی بہروپ بدل لے وہ اسے پر بار پہچان لیتی تھی ۔ اسے عجیب طرح سے چھوتا اک احساس تھا کہ امام کو اس کا سایہ اتنا ہی درکار تھا جتنا کہ اسے امام کا چاہیے تھا ۔ اور اس نے اپنے تجربے سے سیکھا تھا کہ ’ ضرورت ‘ ایک ایسا گودام ہے جو سفاکی کی اچھی خاصی مقدار کو اپنے ہاں جگہ دے سکتا ہے ۔
خواب گاہ کو چھوڑ کر آنا ، گو ، انجم کے لئے کچھ زیادہ خوشگوار نہ تھا لیکن وہ جانتی تھی کہ اس کے خوابوں اور رازوں نے صرف اس سے ہی بےوفائی نہ کی تھی ۔

باب دوم
خوابگاہ

وہ پانچ بچوں میں سے چوتھی تھی جو اندرون شہر دہلی کے شاہجہان آباد ، میں سردیوں کی ایک یخ رات میں ، چراغ کی روشنی ( بجلی گئی ہوئی تھی) ، میں پیدا ہوئی تھی ۔ دائی ، عالم باجی ، جس نے اسے جنمایا تھا ، اسے دو چادروں میں لپیٹ کر اسے ماں کے ہاتھوں میںدیتے ہوئے کہا تھا ، ” بیٹا ہوا ہے“۔ اس وقت کے حالات میں اس کا غلطی کھا جانا سمجھ میں آتا تھا ۔
حمل ٹہرنے کے بعد پہلے مہینے میں ہی جہاں آرا بیگم اور اس کے میاں نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ اگر لڑکا ہوا تو وہ اس کا نام آفتاب رکھیں گے ۔ پہلے تین بچے لڑکیاں تھیں ۔ وہ اپنے آفتاب کا چھ سالوں سے انتظار کر رہے تھے ۔ جس رات وہ پیدا ہوا تھا ، وہ جہاں آرا بیگم کی زندگی کی مسرورترین رات تھی ۔
اگلی صبح جب سورج نکلا تو کمرہ اس کی گرمائش سے بہتر لگ رہا تھا ، اس نے ننھے آفتاب کو چادروں سے باہر نکالا ۔ وہ اس کے ننھے جسم کو طمانیت اور ابدی خوشی سے دیکھنے لگی ۔ ۔ ۔ آنکھیں ، ناک ، سر ، گردن ، بغلیں ، انگلیاں اور ایڑیاں ۔ تب اس نے یہ جانا ، نیچے، اس بچونگڑے کا وہ حصہ جو اسے مردانہ ثابت کرتا ، ایک چھوٹا ساحصہ ، نامکمل لیکن بلا شک و شبہ زنانہ تھا ۔
کیا یہ ممکن ہے کہ ایک ماں اپنے ہی بچے سے خوفزدہ ہو جائے؟ جہاں آرا بیگم ہو گئی تھی ۔ اس کا پہلا رد عمل یہ تھا کہ اس کا دل بیٹھ گیا تھا اور ہڈیاں راکھ ۔ اس کا دوسرا ردعمل تھا کہ اس نے بچے کے اس حصے کو دوبارہ غور سے دیکھا کہ کہیں اسے غلطی نہ لگی ہو ۔ اس کاتیسرا رد عمل یہ تھا کہ وہ اپنی تخلیق سے پیچھے ہٹی ، اس کی بڑی آنت میں مروڑ سا اٹھا اور اس کا پتلا پاخانہ ٹانگوں تک بہہ گیا ۔ اس کا چوتھا ردعمل یہ تھا کہ وہ بچے کے ساتھ خود کو بھی ختم کر دے ۔ پانچویں ردعمل میں اس نے بچے کو اٹھایا اور ساتھ لگا لیا اور خود اس شگاف میں گرتی چلی گئی جو ، اُس جہان جسے وہ جانتی تھی اور انجان جہانوں ،کے درمیان موجود تھا ۔ وہاں وہ پاتال کے اندھیارے میں اس وقت تک چکر کھاتی گھومتی رہی جب تک ہر شے ، چھوٹی تا بڑی ، جس پر اسے یقین تھا ، بے یقینی میں نہ بدل گئی ۔ اردو ، واحد زبان جو وہ جانتی تھی ، میں ساری اشیاء ، صرف زندہ ہی نہیں ، ساری ہی ۔ ۔ ۔ جیسے قالین ، کپڑے ، کتابیں ، قلم ، ساز ۔ ۔ ۔ سب کی ’ جنس ‘ تھی ۔ ہر شے یا تو مذکر تھی یا پھر موئنث ، مرد یا عورت ۔ اس کے بچے کے سوا ہر شے ایسی ہی تھی ۔ اسے یقینی طور پرمعلوم تھا کہ اس کے بچے جیسوں کے لئے کیا لفظ تھا ۔ ۔ ۔ ہیجڑا ۔ اصل میں دو لفظ تھے ، ہیجڑا اور کنّر ، لیکن دو لفظوں سے تو زبان نہیں بنتی ۔
کیا زبان کے بغیر اور اس سے باہر زندہ رہنا ممکن تھا ؟ قدرتی بات تھی وہ اس سوال کواپنے آپ سے الفاظ میں پوچھ نہ پا رہی تھی یا اسے اس کا قابل فہم جواب ایک جملے میں مل نہیں رہا تھا ۔ یہ اسے درد بھری چیخ کی ابتدا ءکی مانند بے آواز لگا ۔

اس نے اپنے چھٹے ردعمل کے طور پر خود کو صاف کیا اور خود سے یہ فیصلہ کیا کہ وہ فی الحال کسی کو نہیں بتائے گی ۔ اپنے خاوند کو بھی نہیں ۔ اس کا ساتواں ردعمل یہ تھا کہ وہ آفتاب کے ساتھ لیٹ گئی اور آرام کرنے لگی ۔ مسیحیوں کے اُس خدا کی طرح جس نے جنت و عرض بنا کر ایسا ہی کیا تھا ۔ فرق صرف اتنا تھا کہ اس نے وہ کائنات تخلیق کی تھی جس کی کوئی ’ تُک‘ تھی جبکہ جہاں آرا تو اپنی اس تخلیق کے بعد آرام کر رہی تھی جس نے اس کی دنیا کی ’ تُک ‘ کو پھینٹ کر رکھ دیا تھا ۔
یہ اصلی ’مہبل ‘ تو نہ تھی ، اس نے خود کلامی کی ۔ اِس کے رستے کھلے نہ تھے ( اُس نے جائزہ لیا تھا ) ۔ یہ تو بس ایک ذیلی شے تھی ، بچوں کے بہلاوے کا کھلونا ۔ شاید یہ بند ہو جائے ، پک کر بھر جائے یا کسی طور ٹھیک ہو جائے ۔ اس نے سوچا ؛ وہ ہر اس درگاہ پر جائے گی جسے وہ جانتی تھی اور خدا سے رحم کی بھیک مانگے گی ۔ اور وہ سنے گا ۔ اسے پتہ تھا کہ وہ ضرور سنے گا ۔ ۔ ۔ اور شاید اس نے سنا بھی اور اپنے حساب سے اس پر اپنا کرم بھی کیا لیکن وہ اس کے طریقوں کو صیحح طور پر سمجھ نہ سکی ۔ ۔ ۔ ۔

یہ صرف دہلی کے ایک ہیجڑے کی کہانی نہیں ہے ۔ اس میں اور بہت سی کہانیاں ہیں اچھوت بندے کی جو خود کو مسلمان ظاہر کرتا ہے ، اس میں کابل سے ریٹائر ہوا سرکاری افسر بھی ہے ، کشمیر میں مزاحمت کرنے والا جنگجو بھی ہے ، ماﺅسٹ نکسل باغی بھی ہے ، حالات کی ماری عورتیں بھی ہیں جن میں ایک لاوارث بچہ اٹھا کر پالتی ہے اور۔ ۔ ۔ اور بھی بہت سے کردار اس ناول کی بُنت میں شامل ہیں ۔ یہ ناول ایک ایسا شیشہ ہے جو کرچی کرچی ہے اور اس کے کچھ ٹکڑے تو الگ الگ پڑے ہیں جبکہ کچھ ایک دوسرے پر پڑے اپنے اپنے انداز میں کرداروں اور واقعات کو منعکس کر رہے ہیں ۔ یہ انداز ارون نے جان بوجھ کر اپنایا ہے ؟ اسے کوئی اچھا ایڈیٹر نہیں ملا ؟ یا یہ کہ اس نے اسے ایڈٹ کروایا ہی نہیں ؟ کیا یہ ’ جدیدیت ‘ کے تحت لکھا گیا ہے یا ’ پوسٹ ماڈرن ازم‘ کے زمرے میں رکھنا پڑے گا ؟ یہ کچھ سوال ہیں جو اس ناول کو پڑھ کر قاری کے ذہن میں اٹھیں گے ، کم از کم میرے ذہن میں تو اٹھے ہیں ۔
اس ناول کو پڑھ کر مجھے 1924 ء کی ایک خاموش جرمن فلم ’ آخری آدمی ‘ ( Der letzte Mann ) یاد آئی جسے ایف ڈبلیو مرنو ( F. W. Murnau ) نے ڈائریکٹ کیا تھا ۔ اس فلم کا مرکزی کردار ’ جینگز‘ ( Jannings) ہے ۔ یہ ایک مشہور ہوٹل کا وہ ملازم ہے جس کا عمر بھر یہ کام تھا کہ وہ ہوٹل کا دروازہ کھول کر بھانت بھانت کے مہمانوں کو اندر بھیجتا رہے ۔ مجھے ارون دتی رائے بھی ایک ’ دربان ‘ لگی ہے جو بیس سال تک اپنی جادوئی مسکراہٹ کا جھانسا دے کر بھانت بھانت کے کرداروں کو نگلتی رہی اور پھر اس نے انہیں اپنے ’ The Ministry of Utmost Happiness ‘ نامی پُر فریب ’ Trompe-l’œil ‘ دروازے سے نکال باہر کیا ہے ۔

About meharafroz

Check Also

Short Story By Hamid Siraj

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *