Breaking News

Kitaben Sarhad Par Say By Hamid Siraj

ہم امر شاہد کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہے اور اک انتظار تھا جو ہم کھینچا کئیے ۔ آخر کار انتظار کی دھوپ ڈھل گئی اور اب کنور مہندر سنگھ بیدی سحر کی آپ بیتی ہاتھوں میں ہے ۔
کچھ لوگ بڑے گھر میں پیدا ہوتے ہیں کچھ اپنی کوشش اور کاوش سے بڑے بنتے ہیں۔ کنور صاحب بڑے گھر میں پیدا ضرور ہوئے مگر وہ اپنی ذاتی صلاحیتوں سے بڑے آدمی بنے۔ لوگوں نے انہیں بڑا آدمی نہیں بنایا بلکہ ان کے بڑا ہونے کا ہمیشہ اعتراف کیا ہے۔ کنور صاحب دہلی کی تہذیبی زندگی کی جان تھے، وہ شاعر بھی تھے اور شاعر گر بھی اور اپنی ادب نوازی اور شاعر نوازی کے لیے مشہور تھے۔ کنور صاحب ایسے خاندان کے چشم و چراغ تھے جن کا سکھوں کی اور پنجاب کی تاریخ میں بہت نمایاں اور اہم رول رہا ہے۔ انہوں نے چوٹی کی تعلیم گاہوں میں تعلیم حاصل کی اور پھر عمر بھر صوبائی اور مرکزی حکومتوں کی ملازمت میں بڑے بڑے عہدوں پر فائز رہے۔ انہیں ملازمت کے دوران اور اس سے سبکدوش ہونے کے بعد بھی ہندوستان و پاکستان کی متعدد برگزیدہ اور صف اوّل کی شخصیتوں سے ملاقات اور اُن سے قریبی تعلقات کا اتفاق ہوا۔ وہ رِندوں میں رِند، شاعروں میں شاعر، امیروں میں امیر، صوفیوں میں صوفی تھے۔ بہت کم لوگ ایسے ہوں گے جنہوں نے ایسی بھرپور زندگی کو ایسے انداز میں بسر کیا ہو گا۔ یہ ایک شخص کی داستانِ حیات ہے۔ جس نے بالکل سچ بولا ہے۔ ’’یادوں کا جشن‘‘ کے متعدد ایڈیشن کنور مہندر سنگھ بیدی لٹریری ٹرسٹ شائع کر چکا ہے۔ بیدی صاحب کی مقبولیت پہلے بھی تھی اور اَب بھی ہے بلکہ کہنے دیجیے پہلے سے بڑھ گئی ہے۔ چند ماہ کے اندر ہی ان کے قدر دانوں میں تمام کتابیں فروخت ہو گئیں۔ اب اس کا نیا ایڈیشن شائع کرنے کی سعادت جناب امرشاہد صاحب مالک بُک کارنر جہلم کے حصے میں آئی ہے۔ وہ پاکستان میں ’’یادوں کا جشن‘‘ کا نیا ایڈیشن شائع کر رہے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ یہ ایڈیشن ہندوستان کی طرح پاکستان میں بھی مقبول ہو گا کیونکہ بیدی صاحب کے چاہنے والوں کی پاکستان میں کمی نہیں ہے۔ (کے۔ ایل۔ نارنگ ساقیؔ) ————— کنور مہندر سنگھ بیدی سحر کی شوخیوں سے بھرپور ایک شاہکار خود نوشت یادوں کا جشن | ترتیب و تدوین: کے ایل نارنگ ساقی | صفحات 528 | تصاویر 52 سرورق پورٹریٹ: آفتاب ظفر | قیمت: 999 روپے | فری ہوم ڈلیوری پبلشر: بک کارنر، جہلم، پاکستان | رابطہ 0544/614977 | 0323/5777931 ————— نیا پاکستانی ایڈیشن خود نوشت سوانح عمری کی اہم ترین خصوصیت یہ ہے کہ اس سے نہ صرف ہمیں اس شخص کی تفصیلی زندگی کے حالات معلوم ہو جائیں بلکہ جس ماحول اور گرد و پیش میں اس کی تعلیم و تربیت ہوئی اور اس نے پوری زندگی بسر کی اس کا نقشہ بھی کھنچ جائے تاکہ ہم یہ دیکھ سکیں کہ خود انہوں نے اس کی کامیابی یا ناکامی، ترقی و تنزل میں کیا کردار ادا کیا۔ اس کی دوسری صفت یہ ہے کہ اس عہد کی پوری تصویر ہو جسے ہم اس ملک کی ادبی، سماجی، اخلاقی اور تعلیمی تاریخ کا حصہ بنا سکیں۔ اگر مصنف اس میں کامیاب ہو جاتا ہے تو اس کی کتاب ملک کی تاریخ، تہذیب و ترقی کی تاریخ کا ماخذ بن جائے گی۔ کچھ لوگ بڑے گھر میں پیدا ہوتے ہیں کچھ اپنی کوشش اور کاوش سے بڑے بنتے ہیں۔ کنورصاحب بڑے گھر میں پیدا ضرور ہوئے مگر وہ اپنی ذاتی صلاحیتوں سے بڑے آدمی بنے۔ لوگوں نے انہیں بڑا آدمی نہیں بنایا بلکہ ان کے بڑا ہونے کا ہمیشہ اعتراف کیا ہے۔ کنورصاحب دہلی کی تہذیبی زندگی کی جان تھے، وہ شاعر بھی تھے اور شاعر گر بھی اور اپنی ادب نوازی اور شاعر نوازی کے لیے مشہور تھے۔ بیدی صاحب نے زلف و بیان کے ساتھ ساتھ دوسرے حقائق پر بھی اظہارِ خیال کیا ہے۔ خاص طور سے قومی یکجہتی کو کنورصاحب نے اکثر اپنی شاعری کا موضوع بنایا ہے۔ کنور صاحب ایسے خاندان کے چشم و چراغ تھے جن کا سکھوں کی اور پنجاب کی تاریخ میں بہت نمایاں اور اہم رول رہا ہے۔ انہوں نے چوٹی کی تعلیم گاہوں میں تعلیم حاصل کی اور پھر عمر بھر صوبائی اور مرکزی حکومتوں کی ملازمت میں بڑے بڑے عہدوں پر فائز رہے۔ انہیں ملازمت کے دوران اور اس سے سبکدوش ہونے کے بعد بھی ہندوستان و پاکستان کی متعدد برگزیدہ اور صف اوّل کی شخصیتوں سے ملاقات اور اُن سے قریبی تعلقات کا اتفاق ہوا۔ وہ رِندوں میں رِند، شاعروں میں شاعر، امیروں میں امیر، صوفیوں میں صوفی تھے۔ بہت کم لوگ ایسے ہوں گے جنہوں نے ایسی بھرپور زندگی کو ایسے انداز میں بسر کیا ہو گا۔ یہ ایک شخص کی داستانِ حیات ہے۔ جس نے بالکل سچ بولا ہے۔ جب ہندو مسلم فسادات نے سارے براعظم کو پاگل کر دیا تھا، لیکن بیدی صاحب کا دِل تعصب اور نفرت سے پاک تھا۔ بیدی صاحب نے اسی زمانے میں دہلی میں امن و امان قائم رکھنے کے لیے جو کوششیں کیں اس کی تعریف کیے بغیر نہیں رہ سکتے۔ بیدی صاحب کی انسان دوستی آج بھی خیالوں میں بسی ہوئی ہے۔ بیدی صاحب ساری عمر بربریت، حیوانیت اور ظلم کے خلاف صف آرا رہے اور یہ کام وہی کر سکتا ہے جو انسانیت پر مکمل یقین رکھتا ہو۔ ’’یادوں کا جشن‘‘ میں اس زمانے کی سوسائٹی، اس کی اہم ہستیوں، لوگوں کے رہن سہن، ان کے مختلف حالات میں عمل اور ردّعمل کی تصویر ابھرتی ہے۔ خود نوشت سوانح عمری میں ہم کسی سے پیچھے نہیں اگرچہ ان کی تعداد زیادہ نہیں، تواضع اور انکسار مشرقی مزاج کا خاصہ ہے اور اپنی داستانِ حیات لکھنے میں قدم قدم پر اپنے عمل اور اقدام کی تعریف کرنی پڑتی ہے۔ چونکہ انہیں اپنی اَنا کی نمائش مقصود نہیں تھی اس لیے ہمارے بہت کم ادیبوں نے اپنی زندگی کے حالات قلم بند کیے۔ اس سے ان کی اخلاقی بلندی میں اور اضافہ ہوا یا نہیں مگر ادب کا نقصان ضرور ہوا ہے۔ اعمال نامہ( سررضاعلی)، یادوں کی دُنیا (ڈاکٹر یوسف حسین خاں)، گردِ راہ ( اختر رائے پوری)، شہاب نامہ ( قدرت اللہ شہاب)، کاغذی ہے پیرہن (عصمت چغتائی)، کارِجہاں دراز ہے ( قرۃ العین حیدر)، سرگزشت (عبدالحمید سالک)، شام کی منڈیر سے (ڈاکٹر وزیر آغا)، عرضِ حال (مہاراجہ ہرکرشن پرشاد)، خواب باقی ہیں (آل احمد سرور)، زر گزشت (مشتاق احمد یوسفی)، قصہ ہے سمت زندگی کا (وہاب اشرفی) اُردو کی چند کامیاب خود نوشت سوانح ہیں۔ انہیں میں ’’یادوں کا جشن‘‘ ہے جو اِن معیاروں پر پوری اُترتی ہے۔ ’’یادوں کا جشن‘‘ کے متعدد ایڈیشن کنور مہندر سنگھ بیدی لٹریری ٹرسٹ شائع کر چکا ہے۔ بیدی صاحب کی مقبولیت پہلے بھی تھی اور اَب بھی ہے بلکہ کہنے دیجیے پہلے سے بڑھ گئی ہے۔ چند ماہ کے اندر ہی ان کے قدر دانوں میں تمام کتابیں فروخت ہو گئیں۔ اب اس کا نیا ایڈیشن شائع کرنے کی سعادت جناب امرشاہد صاحب مالک بُک کارنر جہلم کے حصے میں آئی ہے۔ وہ پاکستان میں ’’یادوں کا جشن‘‘ کا نیا ایڈیشن شائع کر رہے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ یہ ایڈیشن ہندوستان کی طرح پاکستان میں بھی مقبول ہو گا کیونکہ بیدی صاحب کے چاہنے والوں کی پاکستان میں کمی نہیں ہے۔
اکے۔ ایل۔ نارنگ ساقیؔ نئی دہلی (انڈیا) 15اپریل 2017ء مندرجہ بالا سطور راقم نے ’’یادوں کا جشن‘‘ پاکستانی ایڈیشن کے لیے لکھی ہے۔

About meharafroz

Check Also

Short Story By Qaisar Nazir Khawar

ایک تھا ‘ زیگلر ‘ (ہرمن ہیسے کی ’Ein Mensch mit Namen Ziegler ‘ نامی …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *