Breaking News

Poem by Ghani Pahwaal

ارے دوست عمران ذولنون کے نام

بجوکا (۱)۔۔۔۔۔۔۔۔ غنی پہوال

اپنے دل کے ہنگاموں سے بچنے کیلئے
میں اکیلے نہر کے کنارے بیٹھا تھا
اور میری نگاہیں
خود سے دور اس رستے پر لگی تھیں
جو شنو کے گاؤں جاتا ہے
شنو جس کو میں برادری کے خوف سے
پچھلے تین سال سے نہیں دیکھ پایا
مجھے دنیا سوگ میں ڈوبا
اک بے جان پُتلا محسوس ہونے لگی
اور میری آنکھیں تیرگی کی
تپش سے جلنے لگیں
کہ یکایک ایک پیاری تتلی
آکر میری ہتھیلی پر بیٹھ گئی
میں نے حسرت بھری نگاہ سے اُس کی طرف دیکھا اور کہا
کیا میں بھی تتلی بن سکتا ہوں۔۔۔؟
تتلی اُڑ کر سامنے کھیت میں لگے
بجوکا پر بیٹھ کر اپنے
خوبصورت پروں کو لہرانے لگی
شاید وہ مجھ سے یہ کہہ رہی تھی
کہ تم لوگ زندگی کے کھیت میں گڑے بجوکاہو
اور بجوکا زندگی کا دھوکہ بن سکتا ہے
اس کے رنگوں کا ہمسفر نہیں بن سکتا
تتلی بننے کیلئے
زندگی سے رنگ
اور رنگوں سے زندگی کشید کرنی پڑتی ہے

About meharafroz

Check Also

Short Story By Hamid Siraj

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *