Breaking News

Poem By Jamshid Gill

ورطہ
۔
اے میرے لخت جگر!
میری امید کے روشن چراغ
تو بجھ گیا بچھڑ گیا مجھ سے
میں تیرے ننھے بدن کا لمس
محسوس نہ کر سکا لیکن
تیرا چہرہ میری آنکھوں میں محفوظ ہے
تو میری روح کی ویرانیوں میں روشن ہے
کہ تیرے خدا نے جو میرا بھی خدا ہے
ہمارے بیچ ناجانے کیوں
تاقیامت ایک حد کھینچ دی ہے
جسے نہ تو پار کر سکے اور نہ میں۔
اے خدا! تو کاش
اس بدنصیب باپ کے دل کی حالت جان سکے
جس نے اپنے ہاتھوں سے
اپنی امید کو لحد میں اتارا ہو۔
اے میرے لخت جگر!
ہم ضعف عقائد کے امین
خدا کو خالق بنا کے زندہ ہیں
ہم یہ کہتے ہیں کہ خالق کو
اپنی تخلیق سے محبت ہے
مگر وہ اس تخلیق کو
تکمیل سے پہلے فنا بھی کرتا ہے؟
نہیں! نہیں! فقط خدا ہی نہیں شاید
خدا سے پہلے، خدا کے بعد
یا خدا کے ساتھ
کوئی اور ہے جس کے آگے
خدا بھی بے بس ہے ۔ ۔ ۔
۔
جمشید گل
جمعرات 10 اگست 2017
گوجرہ

About meharafroz

Check Also

Short Story By Hamid Siraj

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *