Breaking News

Poem By Javed Sajid

سکوت توڑ سَمُندر سے بات کرتے ہیں
خموش بیٹھے دلاور سے بات کرتے ہیں

ہمارے سبز نظارے بشر نے روندے ہیں
اجاڑ رستے قلندر سے بات کرتے ہیں

وہ لفظ لفظ میں الہام ربّ کا ہوتا ہے
فقیر لوگ جو اندر سے بات کرتے ہیں

علیؓ سا اور کوئی جاں نثار دیکھا ہے ؟
چلو حضورﷺ کے بستر سے بات کرتے ہیں

جنھیں ہو فیض محمدﷺ کے دستِ شفقت سے
وہ دو جہاں کے مصور سے بات کرتے ہیں

کئی زمانے میں ایسے ہیں مقتدی ساجد
نہ ہو دلیل تو خنجر سے بات کرتے ہیں

About meharafroz

Check Also

Short Story By Hamid Siraj

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *