Wednesday , 13 December 2017
Breaking News

Poem By Kausar Jamal

“کمیاب ہیں ہم نایاب نہیں”

اے گردوں، اے دہر، اے ساکنانِ ارض
تم نے تو دیکھی ہیں وہ بے خطر جوانیاں
جو ایک آدرش کے عشق میں
اپنی اپنی ذات کے راحت کدوں کو چھوڑ گئیں
افتادگانِ خاک کی سرفرازی کے واسطے
جو جبر کی تند ہواوں کے مقابل آئیں،
خارزاروں میں آبلہ پا چلیں
صحراوں میں اتر گئیں
بگولوں کی نذر ہوئیں
اور بالآخر زمین کی تہوں میں کہیں جا چھُپیں
۔۔۔۔
صحرا میں اگے کمیاب درختوں کو
لوگ ناموں سے پہچان لیتے ہیں
جیسے چے گوئیرا،
جیسے بھگت سنگھ ، جیسے حسن ناصر
یہ گھنے سایہ دار سدا بہار شجر
تپتے صحرا میں زندگی اور امید کا استعارہ ہیں
ان درختوں کی شاخیں جن پتوں سے لدی ہوئی ہیں
بےنام تو وہ بھی نہیں
ان کے بھی نام ہیں
وہ ان گنت نام
جو زمیں زادوں کے لیے جنت کی تلاش میں
وقت بگولوں کی نذر ہوئے
۔۔۔۔۔

[کوثر جمال] –
نوٹ: کامریڈ راجہ عارف کی یاد میں جو ۶ ستمبر ۲۰۱۷ کو راہی ملکِ عدم ہوئے

About meharafroz

Check Also

Short Story by Shamoil Ahmed

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *