Wednesday , 13 December 2017
Breaking News

Poem By Mehar Afroz

سلام و رحمت احباب
ایک نظم زرین بصارتوں کی نذر

یقیں کا مدفن

اسے ڈھونڈتی ہوں اکثر
جو کہیں پہ کھوگیا ہے
ابھی رکھا تھا دل کے اندر
کبھی یاد میں رکا تھا
کہیں شعور کی تہوں میں
میری ذات کا نشاں تھا

تھی مشام جاں معطر
اسی خوشبوؤں کے بل پر
میرے یقیں کو کس نے لوٹا
میرا کھوگیا بھروسہ
ہوا اعتبار زخمی
یہ پڑا ہوا ہے لاشہ
بے کفن سی آرزو کا
اسے کس نے ہے کھدیڑا
اسے کس نے آکے نوچا
یہ تن بریدہ سر ہے
میری وفا کی میتوں کا
اگر کر سکو تو کردو
ایک کرم میرے بدن پر
لٹی عظمتوں کا نقصان
میرے یقیں کی ساعتوں کا
جو دے سکو تو دے دو
میرے یقین کا خزانہ
میرا اعتبار دیدو
میرا بھروسہ مجھ میں بھردو
ورنہ یہ کرم تو کردو
کھڑا ہوا یہ بے جان لاشہ
میرے یقیں کا بنا ہے مدفن
دفن تو کردو کہیں پہ جاکر
ورنہ
بے اعتباریوں و بے یقینیوں
کے جرثومے سارے
بکھیر دیگا تری فضا میں
سڑن سے اپنی.
مہر افروز
دھارواڑ
کرناٹک
انڈیا

About meharafroz

Check Also

Short Story by Shamoil Ahmed

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *