Breaking News

Poem by mehar Afroz

سلام و رحمت احباب
ایک نظم آپ کی قیمتی بصارتوں کی نذر ……
.مہر افروز

۔آو نیچے اترو………..
کل شب اس نے کہا تھا جاناں !!
میری چھت پر آکر دیکھو
آدھی رات کے پورے چاند کو
ہاں اس پورے چاند کو
جس کو اپنی آنکھ کی جنبش سے توڑ
توڑ کے تیرے دامن میں رکھ سکتا ہوں
جگ مگ جگ مگ دور چمکتے لاکھوں تارے
جنکو تیرا ایک اشارہ
تیری مانگ میں بھر سکتا ہے
کل شب اُس نے کہا تھا
لیکن
میں اس کہے ہوےء کی جھیل کنارے بیٹھی
اب تک سوچ رہی ہوں
میری چاہت
کیا اس جلتے بجھتے پتھر
(جس کو وہ چاند سمجھ بیٹھا ہے )
کا متبادل ہوسکتا ہے
اک مانگے کی آگ میں جلتے زرّے
(جنکو اس کی آنکھ ستارہ سمجھی ،جن کو مٹ مٹ کر جلنا ،اور جل جل کر مٹ جانا ہے )
میری مانگ سجاسکتے ہیں ؟؟؟؟؟
پگلا ہے وہ بالکل پگلا
جس کو میری محبت
سودا لگتی ہے .
سودا!!!!!!!!!!!!
جو کچھ دے کر لے لینے
یا
لے کر دینے کا عمل ہے ….
میری محبت لا محدود ززمانوں جیسی
جس کو دستِ سوال سے چڑ ہے
جس کا بدلہ بس اک پل ہے
بس اک لمحہ
بس اک حرف نگاہوں جیسا
بس اک لفظ دعاوؤں جیسا
جس میں وہ ہو!!!!
اور نہ میں ہوں !!!!
صرف محبت سانسیں لیتی
جیون جیتی
امرت پیتی
صرف محبت
آج میں چھت پر جاکر اس سے اتنا کہوں گی
میرے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں بھر کر
نیچے اترو
میرے ساتھ چلو
میرے ساتھ چلو
اس گھر تک
جس کے آنگن میں
مٹی کی خوشبو چاہت کے عنبر سے ملکر
اک فضا تخلیق کرے
جس میں مَیں اور تم کھوجایئں
اک دوجے کی کھوج میں نکلیں
چاند ستارہ بن کر خود
روشن ہوجایئں
آؤ نیچے اتریں……
مہر افروز
ھدیٰ فاؤنڈیشن
دھارواڈ
کرناٹک
انڈیا

About meharafroz

Check Also

Short Story By Hamid Siraj

One comment

  1. Beautiful one, their should be a copy option

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *