Breaking News

Poem By Naseer Ahmed Nasir

میں نے شاعری کی انتہا دیکھ لی تھی!
نصیر احمد ناصر

نانا جی کے ساتھ
کھیتوں میں کام کرتے ہوئے
برساتی ندی کے پار بیلے میں
بکریاں چَراتے ہوئے،
مکو کی جھاڑیوں کو چھیڑتے ہوئے
اور کیکر کی چھاؤں میں
اچار کے ساتھ روٹی کی سرشاری میں
نشیبی نالے سے پانی پیتے ہوئے
میں نے دیکھا شاعری کو
انتہا پر، اپنے اصلی روپ میں
ابتدا کا تو معلوم نہیں
تب پتا تھا نہ اب
لیکن انتہا کو پہلے دیکھ لینا
عینک کے بغیر
حقیقت کی بےلباسی میں، سر تا پا برہنہ
زنگی اور موت کے باہم آمیز نشے سے کم نہ تھا
نانا جی کی باتوں سے
میں نے خاموشی سیکھی
اور خدا کی نظمائی ہوئی فطرت سے
آسمانی گیتوں کی بازگشت
جو زمین کی سب سے نچلی تہوں سے پھوٹ رہی تھی
ابھی کسی ارسطو، کسی نیرودا کو میں نہیں جانتا تھا
اور کسی شاعر کا
میرے اندر ظہور نہیں ہوا تھا
فقط نانا جی تھے
اور میں تھا
اور اونچے نیچے کھیت تھے
اور ہوا تھی
اور بادل تھے
اور اچانک امنڈ آنے والی بارش تھی
اور ان سب کے درمیان
خواہ مخواہ پھیلی ہوئی
ایک اَن مَنی سی تنہائی تھی
جو تب سےاب تک
اُسی ایک پوز میں ٹھہری ہوئی ہے
جس پوز میں اسے کائناتی فریم کے اندر چپکایا گیا تھا
بس ہمارے منظر نامے بدل گئے ہیں
نانا جی ہمیشگی کی نیند سو چکے ہیں
اور میں ہموار ہوتی ہوئی آبائی قبروں سے دُور
اپنے نواسے کی انگلی پکڑ کر
قریبی پارک میں
اُسی کی طرح چھوٹے چھوٹے قدموں سے بھاگ رہا ہوں
اور شاعری کسی پلے لینڈ میں
کبھی نہ رکنے والاجھولا جھول رہی ہے !!

About meharafroz

Check Also

Short Story By Hamid Siraj

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *