Wednesday , 13 December 2017
Breaking News

Poem By Suleman Khumar

بےحسی
( انیل ٹھکرکےنام)

انیل ٹھکر!
تُو ایک ڈرامہ نگار ہے
اور……
میں ہوں شاعر
ترا مرا المیہ یہی ہے
ہم ایسے شہروں میں جی رہے ہیں
جہاں کے لوگوں نے
اپنی اپنی سماعتوں اور بصارتوں کو
فروخت کر کے
اب اُن کے بدلے میں
بےحسی کی متاعِ رنگین خرید لی ہے

انیل ٹھکر!
مجھے تو لگتا ہے
اک تہائی صدی تلک ہم نے
فن کی خاطر
فضول راتوں میں جاگ کر اپنا خوں جلایا
کہانیاں اور ڈرامے لکھے
جدید غزلوں کی فصل بوئی
اچھوتے لہجوں میں لکھیں نضمیں

انیل ٹھکر !
تُو یہ ڈرامے کسے دکھائے گا……؟
….. تیرے کردار
کس کو اپنے مکالموں سے جگا سکیں گے؟

میں سوچتا ہوں
کسے سناؤں گا اپنی غزلیں
کسے جھنجھوڑیں گی
میرے نرم اور انوکھے لہجے کی تیکھی نظمیں

انیل ٹھکر!
یہ بےحسی کے سہانے جنگل
جو شہر بن کر اُگے ہوئے ہیں
ترے مرے فن کو کس طرح جذب کر سکیں گے
ہمارے لفظوں کے عطر کی قدر کیا کریں گے

انیل ٹھکر !
ترا مرا المیہ یہی ہے
ہم ایسے شہروں میں جی رہے ہیں…..۔

About meharafroz

Check Also

Short Story by Shamoil Ahmed

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *