Breaking News

Poem By Suleman Khumar

مِٹتی قدروں کا نوحہ

کس کس کو اب یاد کروگے
کس کس کو اب روؤگے
سارے رشتے ٹوٹ چکے ہیں
دھرتی اور آکاش سے وہ سمبندھ پرانے
روٹھ چکے ہیں
یُگ یُگ سے یہ بہتی ندیاں
نیلے ساگر، کالے پربت
جو انسانوں کے ساتھی تھے
یُگ یُگ کا وہ ساتھ پُرانا چھوڑ چکے ہیں
گاتی صبحیں، جھومتی شامیں
ہنستے دن، مسکاتی راتیں
شہروں کی بیمار، سسکتی گلیوں سے مکھ موڑ چکی ہیں
ساون کی وہ سانولیاں دم توڑ چکی ہیں
برکھا کی دلہنیا وِدھواؤں کی صورت
بھٹک رہی ہے
کرشن کی مورت اُنگلی میں اک چکّر تھامے اونگھ رہی ہے
کس کس کو اب یاد کروگے
کس کس کو اب روؤگے –
( سلیمان خمار)

About meharafroz

Check Also

Short Story By Hamid Siraj

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *