Wednesday , 13 December 2017
Breaking News

Poem By Yousuf Aziz Zahid

خواب کا نوحہ۔۔۔۔۔یوسف عزیز زاہد
مرے کچھ خواب ایسے ہیں
جنہیں تعبیر کی دہلیز پر میں چھوڑ آیا ہوں
لہو میں رچ گئے تھے جو وہ رشتے توڑ آیا ہوں
مرے چارہ گروں نے خواب آنگن میں کچھ ایسے خار بوئے تھے
چبھن جن کی بہت آزار دیتی ہے
کچھ ایسے زخم ملتے ہیں جو رونے بھی نہیں دیتے
کچھ ایسے درد ہوتے ہیں جو
سونے بھی نہیں دیتے
کچھ ایسے خواب ہوتے ہیں
جو تعبیروں کی جھوٹی راہ تکتے ہیں
یقیں ہونے نہیں دیتے
یقیں۔۔۔۔۔۔وہم و گماں کی آہٹوں سے ٹوٹ جاتا ہے
کوئی سفاک لمحہ لوٹ آتا ہے
مرے سوئے ہوئے زخموں کو چپکے سے جگاتا ہے
کسی افسردہ ساعت میں شکستہ آہٹوں کا عکس جب نمناک ہوتا ہے
وہی لمحہ بہت سفاک ہوتا ہے
میں اس سفاک لمحے سے رہائی جب بھی پاتا ہو
تصور بھی حسین ہوتا ہے ،
میرا خواب بھی مجھ کو امیدوں کے کنارے سونپ کر
اک خوبصورت مسکراہٹ سے لبھاتا ہے
مگر مین سوچتا ہوں کب،کہاں امید کے نغمے کی لے ٹوٹی
کہاں مجھ سے مری پہچان روٹھی تھی
کہاں ایمان روٹھا تھا؟
مرا وجدان کہتا ہے
لہو کا ایک دریا تھا جہاں سے میں گذر آیا
کنارے پر اتر آیا
کنارے پر مگر اک آس بیٹھی نا امیدی کے نئے اوراق لکھتی تھی
کسی سفاک لمحے کے عجب اسباق لکھتی تھی
اسی لمحے قدم بھی ڈگمگائے تھے
ہوا نے درد کی لے پر سسکتے گیت گائے تھے
لہو کا ایک دریا ہے بھنور میں جس کے رہتا ہوں
نیا اک زخم سہتا ہوں
کہیں جو آئنہ دیکھوں
مرا چہرہ کبھی نمناک لگتا ہے
کبھی بیباک لگتا ہے
کبھی سفاک لگتا ہے

About meharafroz

Check Also

Short Story by Shamoil Ahmed

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *