Wednesday , 13 December 2017
Breaking News

Poem By Yusuf Aziz Zahid

مجھے گماں تھا
مجھے گماں تھا کہ تیرگی نے
حسیں اُجالوں کو راستوں میں دبوچ رکھا ہے
اور آندھی نے آسماں کو سیاہ چادر سے ڈھانپ کر
روشنی کی راہیں بھی بانجھ کر دی ہیں
ایسی راہیں کہ جن میں رکھے ہوئے صحیفے
اس آگہی کا سراغ دیتے
جو میری نسلوں کی دھڑکنوں کو ثبات دیتی
مگر گماں تو فقظ گماں ہے
خلا میں بھٹکا ہوا دھواں ہے
زمین زادے کہاں بھٹکتے
یقیں کی خاطر چراغ ِ امید جب جلایا
یقین کو اپنی دھڑکنوں کا نصیب پایا
یقین جو راز داں ہے میرا
وہی یقیں صوتِ کن فکاں ہے
یقین تخلیقِ دو جہاں ہے
یقین تتلی ،یقین جگنو
یقین گلشن ،یقین خوشبو
یقین شبنم کا پہلا قطرہ
جو صبحِ نو کی نوید دیکر
ہر اک گماں سے نجات بخشے
یقین ہی تو لہو میں میرے رواں دواں ہے
اسی یقں نے گماں کے سارے بتوں کو توڑا
مرے لہو کی صداقتوں نے نئی کرن کے حسین رستوں
میں اپنی آنکھیں بچھائیں اور پھر
شبِ مبارک ملا اشارہ
اک آگہی کا
اس آگہی کی بصارتوں نے مجھے سنوارا
وہ آگہی ہے اک استعارہ
جو میری نسلوں کو روشنی کے نئے صحیفوں سے آشنائی کا
اسمِ اعظم بھی سونپ دے گا
سراب رستوں کو آفتابِ یقیں بھی دے گا
یوسف عزیز زاہد(چند گھنٹے پہلے ہوئی یہ نظم)

About meharafroz

Check Also

Short Story by Shamoil Ahmed

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *