Breaking News

Review By Nasir Khan Nasir

محترم فارس مغل صاحب کی گراں قدر تصنیف “ہمجان” پر تبصرہ۔۔۔

پچھلے کئ دنوں سے ہمیں نیا روگ لگ گیا ہے۔ سطر سطر، گھونٹ گھونٹ، جرعہ جرعہ، ذرا ذرا “ہمجان” سے ہم جان ہونے کی سعی کرتے ہیں تو دل کو کچھ ہونے لگتا ہے۔ نجانے کہاں پر کچھ ٹوٹ ٹوٹ سا جاتا ہے۔۔۔ زخم پر ہاتھ نہیں رکھا جاتا۔
نجانے یہ دل ہے کہ من کے چٹختے اداسی بھرے آئینے؟، شاید احساس کی نازک رگیں ہیں ؟ ۔۔۔ روح کو جکڑنے والے عنکبوت جالے۔۔۔ آخر کیا ہے یہ؟
جڑتی نہیں ڈھر کی ٹوٹی- دھری رہے سب دارو بوٹی۔۔۔
تند چھری کی طرح من و تن اور روح کو گہرائیوں تلک کاٹتی ہر سطر۔۔۔
ظالم یہ کیا لکھ دیا ہے؟
ہمجان ایک “کولاژ” (collage) ہے یا اسے ایک “منٹاج” (montage) کہیں؟
یہ تعین تو مستقبل کے ادبی نقاد ہی کریں گے مگر حقیقت ہے کہ اردو ادب میں ایسا تجربہ کرنے کا خیال پہلے کبھی کسی بھی مصنف کو نہیں آیا۔ اس سے قبل اگرچہ کئ ادیبوں نے چند مخصوص کرداروں کی مختلف کہانیاں لے کر ان سے ناول تشکیل ضرور کیا ہے۔ اس قبیل کی اہم مثال محترم عظیم بیگ چغتائی صاحب کا ناول “کولتار” ہے جس میں چند کرداروں کی مختلف کہانیاں مختلف عنوانات کے ساتھ پیش کی گئی ہیں۔
محترم دوست فارس مغل صاحب کا ناول “ہمجان” اردو ادب کا پہلا ناول ہے جس میں مختلف کرداروں کے ایک بنیادی نکتے “جسمانی معزوری” کو لے کر بیاناتی، مکالماتی اور دیگر مختلف تکنیک میں فلاسفی، سائیکالوجی، طبعی، عمرانی، سماجی، اخلاقی، معاشرتی اور جزباتی رنگوں کی آمیزش سے ایسا بےنظیر لکھا گیا ہے کہ وباید و شاید۔۔۔
یہ ایک ایسی تحریر ہے جسے پڑھ کر سانس کا بان گلے میں اٹکنے لگتا ہے تو آنکھیں شدت غم سے پتھرانے لگتی ہیں۔ یہ ناول دراصل چند ٹھکرائ، گہنائ اور پتھرائ ہوئ آنکھوں کے ان منجمد خوابوں کا نچوڑ ہے جن خوابوں کو دیکھتی آنکھوں نے اپنا سرمایہ زندگی سمجھا تھا مگر وہ خواب سارے کے سارے سراب بن کر زندگی کی تشنگی بن گئے۔ حرفوں لفظوں کا بھی دل ہوتا ہے۔ وہ جب دھڑکتا ہے تو معنی خوشبو کی طرح مہک کر پڑھنے والوں کے حواص پر چھا جاتے ہیں اور بے خودی، کیف و مستی کی کفیت، خوشی یا غم کی جبلت کو اجاگر کر دیتے ہیں۔ انسانی شعور کا ادراک موسیقی کی طرح ہے، کانوں سے لے کر دل و دماغ میں بجتا ہوا اوردھڑکنوں کی طرح گونجتا گنگناتا ہوا یہی شعور کا ادراک اپنی تحریر میں پیدا کرنا ہی کسی اچھے لکھاری کی پہچان ہے۔ یہ وہ خوبی ہے جو صرف خدا داد ہی خاص بندوں کو عنایت کی جاتی ہے۔
گیانی سے کہیے کیا، کہت کبیرا لجائے
اندھے آگے ناچنے، کلا اکارتھ جائے
پڑھنے لکھنے کے شائق، حلال غوامض و وقائق محترم فارس مغل صاحب نے اپنی اس مایہ ناز تخلیق میں زبان بلبل رنگین گفتار قلم کو یوں سہپر کیا ہے اور طوطی زبان کو یوں گویا کیا ہے گویا سات طبق زمین اور نو طبق آسمان، سمک سے سما اور فلک الافلاک سے تا بہ تحت الثری کی خبر لے آئے ہیں۔ درد دل کے اتنے قافیے کہ قافیے کا بھی قافیہ تنگ، عقل دنگ ہے۔ خیال بہ کمال کسی پہنچی ہوئ ہستی کی مانند منتہا قصر تلک زنجیر فکر لیے پہنچے ہوئے ہے۔
مصور غم حضرت علامہ راشد الخیری دہلوی مرحوم کی طرح فن میں یکتا، عدیم السہیم تحریر لکھنے والے جناب فارس مغل صاحب کی یہ تحریر از حد غمناکی سے مستور، بے بسی سے معمور، بے کسی سے شرابور، بے چارگی سے مجبور، بے کلی سے مخمور، غم و اندوہ سے رنجور اور بے حسی سے ایسی چور چور ہے کہ دکھ درد کا ماتم کرتےاور حزن و غم کا حق نمک ادا کرتے الفاظ کی نعرہ توصیف و تعریف سے مملو و پروانہ خوشنودی سے مزیں تعریف ممکن ہی نہیں ہے۔
دہل کوب شد بر دہل خشمناک
بر آورد فریاد از آب و خاک
شاعری میں حسن تعلی کی تجلی روا ہے مگر نثر با اثر میں اتنی غمناکی کہ خود حرفوں کا دل چیرا جائے، وہ کپڑے پھاڑ کر اپنا سر پیٹتے، سینہ کوب ہو جائیں۔ خون کے اشک بہاتے، آہیں بھرتے لفظوں سے ارمانوں کا لہو ٹپک پڑے۔۔۔ کچھ ایسی بے نظیر دل آویز خوبصورتی کے ساتھ کہ پڑھنے والوں کا تمام عالم ان کی اپنی نظروں میں تیرہ و تار ہو جائے، چاک پہ دھرا دل غمناک اور صد چاک داعی اجل کو لبیک کہنے لگے، درد جیسے بتیس دانتوں میں زبان کوچہ ہائے گریز کی طرح بند ہو کر جائے۔ المناکی اور اندوہ کے دلائل قاطع و براہین ساطع، سینے پہ دھرے غم و ستم کے پہاڑ، رنج و الم کے دریائے قہار موجزن، اداسیوں کے جنگل میں تند ہواوں کے بربادیوں کے ماتم، تنہائیوں کے شور، المناکیوں کے زور، سراسیمگی اور بدحواسی کے طور، وحشت دل کے غور۔۔۔جب حسرت بڑھ کر قدم چومے، حیرت پلکیں جھکانا اور دل دھڑکنا بھول جائے۔۔۔زتن زخم شستند و از روئے گرد
ع
بآب و رنگ و خال و خط چہ حاجت روی زیبا را
ان کا حرف حرف درد میں ڈوبا ہوا، مجروح ہو کر یوں سسکتا ہے تو پڑھنے والوں کا دل تحریر کے زخموں سے بھرے بدن رنگین سے دشت ستم لالہ زار کیوں نہ بنے؟
شبنم اشک گل عارض کو عرق آلودہ کیوں نہ کرے؟ چشم خونبار دلہن کو یاقوت سے کیوں نہ بھر دے؟
دل غم سرشتہ و حادثہ پرور، درد فرسودہ آشوب گستر، روح زخم خوردہ، تخچیر تیر محن، اضطراب سخن اور سوز لحن سے معمور اور است کو بسط سے ملاتا یہ لاجواب ناول ہر پتھر سے پتھر دل کو بھی از بس بیقرار، اشکبار اور گریہ زار کرنے پر قادر ہے۔ معزوری اور مجبوری کے درد میں گندھے، محبت کے رنگوں رنگے اس کے تمام شہپارہ باب کسی کوہ نور ہیرے کی تراش و خراش کے وہ مختلف زاویئے لگتے ہیں جو تمام مل کر اپنی دلفریب چکاچوند سےستاروں بھرے ادبی آسمان کی کہکشاوں کو شرما دیں۔
“ہمجان” کی سب سے بڑی خوبی اس کا اپنے قاری کو بآسانی بنا کسی دقت کے یوں”ہم جان” کر لینا ہے جیسے کسی نے چھو منتر کہہ کر جادوئ طلسمی چھڑی پھیر دی ہو۔
پیارے محترم دوست فارس مغل صاحب کو اردو ادب کے ایک سنگ میل جیسی بڑی تصنیف کے لیے ڈھیروں مبارکباد اور دعاؤں کے ساتھ۔۔۔

ناصر خان ناصر
نیو اورلینز۔ امریکہ
4 ستمبر 2017

About meharafroz

Check Also

Short Story By Hamid Siraj

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *