Breaking News

Saaz e Zindagi Short Story by Qaisar Nazir Khawar

“سازِ زندگی ”
افسانہ ؛ قیصر نذیر خاور

اُس جیل میں کوٹھی لگے ، قدیر کو یہ چھٹا مہینہ اور چوتھا دن تھا ۔ سورج طلوع ہو چکا تھا جس کا اندازہ اس نے اپنی کال کوٹھری کے ننھے سے روشندان میں آتی ، گنتی کی ان چند کرنوں سے لگایا جو بس طلوع آفتاب کے وقت ہی اس کی کوٹھری میں گھڑی دو گھڑی کے لئے در آتی تھیں اور ننگی دیواروں اور فرش پر رینگتی پھر سے غائب ہو جاتیں تھیں اور اسے ان کو دوبارہ دیکھنے کے لئے اگلے چوبیس گھنٹے کا انتظار کرنا پڑتا تھا ۔ یہ جیل کا وہ حصہ تھا ، جس میں موت کی سزا پائے قیدی کوٹھڑیوں میں بند تھے اور اپنی پھانسی کے منتظر ، اپنے شب و روز ایک ایسی تنہائی میں گزار تے تھے کہ ساتھ ساتھ ہوتے ہوئے بھی وہ تنہا تھے ۔ اس کا وارڈن اس کے سامنے کھڑا تھا ۔ اس نے قدیر کے ہاتھ میں ایک کاغذ تھمایا ۔ قدیر نے اس پر لکھی عبارت کو پڑھنا چاہا لیکن نیم تاریکی اور اپنی دن بدن کمزور ہوتی بینائی کی بنا پر وہ اسے پڑھ نہ سکا ۔ وارڈن نے اس کی مشکل کو سمجھتے ہوئے اسے بتایا کہ موت کی سزا کے خلاف کی گئی اس کی آخری اپیل بھی نامنظور کر دی گئی ہے اور جیسے ہی اس کو پھانسی دئیے جانے کے انتظامات بارے حکم موصول ہوا اس سے اگلی صبح اسے تختہ دار پر لٹکا دیا جائے گا ۔
” یہ حکم کب موصول ہو گا ؟ “ ، قدیر نے وارڈن کی بات سن کر پوچھا ۔
”کسی وقت بھی ، شاید کل ہی ! “ ، وارڈن نے جواب دیا ، ” اب تم ہمارے لئے ایک ایسے مہمان ہو جس کو کسی وقت بھی رخصت جا سکتا ہے ۔ مجھے بتاﺅ ! کیا میں تمہارے لئے کچھ کر سکتا ہوں ؟ “
” کیا تم مجھ سے میری آخری خواہش پوچھ رہے ہو؟ “ ، قدیر نے اس کے دھندلے جُثے کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا ۔
” نہیں وہ تو جیلر صاحب تم سے خود پوچھیں گے اور اسے قلم بند کراتے ہوئے اس کو پورا کریں گے ، وہ بھی اگر ان کے بس میں ہوا تو! “ ، وارڈن بولا ، ” یہ تو میں ایسے ہی اپنی طرف سے تم سے پوچھ رہا تھا ۔ “
وارڈن ایک نرم دل کا مالک انسان تھا اور جیل کے دوسرے ’ بندوبستیوں ‘ کے برعکس قیدیوں سے نسبتاً بہتر سلوک روا رکھتا تھا ، خاص طور پر جن کو کوٹھی لگ چکی ہو ۔
” میں کچھ دیر اس دریا کے بہتے پانی کا نظارہ کرنا چاہتا ہوں جو کہیں نزدیک ہی بہتا ہے ۔ “ ، قدیر نے کہا ۔
” لیکن یہ تو ناممکن ہے کہ میں تمہیں جیل سے باہر لے کر جا سکوں ۔“ ، وارڈن نے اپنی معذوری ظاہر کی ۔
” میں یہ تو نہیں کہہ رہا کہ آپ مجھے جیل سے باہر لے کر جاوٗ ۔ “ ، قدیر نے سکون سے جواب دیا ، ” میں تو بس یہ چاہتا ہوں کہ بہتے بانیوں کو جی بھر کے دیکھ لوں جسے میں نے پچھلے نو سالوں سے نہیں دیکھا ۔ موت کی سزا ہونے کے بعد جب سے مجھے اس جیل میں لایا گیا ہے ، میں ہر رات ، جب ہر طرف ہو کا عالم ہوتا ہے ، بہتے پانیوں کی آواز سنتا ہوں اور ہر آنے والی رات میری ، پانی کی لہروں اور اس کی چھلوں کو دیکھنے کی خواہش میں اضافہ ہو جاتا ہے ۔ کیا دریا جیل کے بہت قریب سے گزرتا ہے ؟ “
” ہاں ! “ ، وارڈن نے روشندان والی دیوار کی طرف اشار ہ کرتے ہوئے کہا ، ” دریا اس دیوار کے پرلی طرف جنگلی جھاڑیوں کے ساتھ سے گزرتا ہے ۔ “
” تو پھر یہ تو آسان ہے ، آپ مجھے کچھ دیر کے لئے اس بیرک کی چھت پر لے جاﺅ ۔ میں وہیں سے دریا کو دیکھ کر اپنی آرزو پوری کر لوں گا ۔“ ، قدیر نے لجاجت سے کہا ۔
” میں ایسا کرنے سے بھی قاصر ہوں ۔ کوٹھی لگے قیدیوں کو یوں چھت پر لے جانے کی بھی مناہی ہے ۔ وہ کود کر بھاگنے یا ‘ آپ گھات ‘ کرنے کی کوشش بھی تو کر سکتے ہیں ۔ “ ، وارڈن نے ایک بار پھر معذوری کا اظہار کیا ، وہ جانے کے لئے مڑا تو قدیر بولا ؛
” میں ایسا نہیں کروں گا ۔ میں نے ایسا کرنا ہوتا تو قتل کرنے کے بعد میں خود کو پولیس کے حوالے نہ کرتا ۔ پولیس کے سامنے میرا پہلا اقبالی بیان ہی ساری عدالتوں کی آخری کاروائی تک ایک ہی رہا ہے ، نہ ایک لفظ زیادہ ، نہ ایک لفظ کم ۔ بہرحال میں آپ کی مجبوری کو بھی سمجھتا ہوں ۔ “
وارڈن نے گردن گھما کر ، بنا کچھ بولے ، قدیر کو نظر بھر کر دیکھا ؛ اسے قدیر کی بات میں سچائی کی پختگی نظر آئی ۔ اس جیل میں گزرے پچھلے دس ماہ کے دوران قدیر کا بطور قیدی اچھا رویہ بھی اس کے ذہن میں گھوم گیا البتہ اسے اس بات پر اکثر حیرت ہوتی تھی کہ اس نے قدیر کو کبھی عبادت گزاری کے عالم میں نہیں دیکھا تھا ۔ کچھ توقف کے بعد ، وہ بولا ؛
” میں وعدہ تو نہیں کرتا لیکن کوشش کروں گا کہ کسی طرح تمہاری یہ آرزو پوری کر سکوں ۔ ہاں اگر میں ایسا نہ کر سکا تو تم اسے اپنی آخری خواہش کے طور پر بھی تو پورا کروا سکتے ہو! “ ، یہ کہہ کر اس نے کوٹھڑی کا دروازہ کھولا اورجب وہ باہر نکل کر قفل لگا رہا تھا تو اس نے سنا ۔
قدیر کہہ رہا تھا ؛ ” میری آخری خواہش اس سے الگ ہے ۔ بہتے پانیوں کو دیکھنے کی خواہش نہ بھی پوری ہو تو خیر ہے ۔ ویسے مجھے امید ہے کہ آپ میری آرزو ضرور پوری کریں گے ۔“
قدیر نے اس دیوار پر جہاں وہ چکنی مٹی کے ڈھیلے سے گنتی لکھ کر دنوں اور مہینوں کا حساب رکھتا تھا ، ایک دن کا اور اضافہ کیا اور لیکن اس بار اس نے اس پر ’ کاٹے‘ کا نشان بنا دیا ۔
رات کے سناٹے میں پہتے پانیوں کی آواز اور چند لمحوں کے لئے در آتی سورج کی کرنیں تو پہلے ہی اس کی ساتھی تھیں اب ان میں امید کی یہ کرن بھی شامل ہو گئی کہ شاید وارڈن اس کی آرزو پوری کر دے ۔
اسے زیادہ دن انتظار نہ کرنا پڑا ، تیسرے روز ہی سہ پہر کے بعد جب دن کی سفیدی میں رات کی سیاہی نے اپنا گھول شروع کیا تو قدیر نے کوٹھڑی کا قفل کھلنے کی آواز سنی تو چوکنا ہوا ، ’ شاید یہ رات میرے جیون کی آخری رات ہے ‘ ، اس نے سوچا ، ’ آنے والا غالباً یہی خبر دینے آیا ہے ‘ ۔ دروازہ کھلا تو وارڈن سامنے تھا ۔
”چلو جلدی کرو ، اٹھو ، میں تمہیں چھت پر لے جاتا ہوں ۔ لیکن وعدہ کرو کہ تم کودنے کی کوشش نہیں کرو گے ۔ بہتے دریا کو دیکھنے کے لئے تمہارے پاس کچھ ہی منٹ ہوں گے ۔ “ وارڈن نے کلائی پر بندھی گھڑی میں وقت دیکھتے ہوئے کہا ، ” مجھے مغرب کی اذان ہونے سے پہلے ، تمہیں اس کوٹھڑی میں دوبارہ مقفل کرنا ہے ۔ “ ، وارڈن نے بیڑیوں میں جکڑے قدیر کو سہارا د یا ، اسے ہتھکڑی لگائی ، اس کی زنجیر اپنی پیٹی سے منسلک کی اور اسے لئے باہر نکل گیا ۔
چھت پر پہنچ کر اسے قدیر کو اس طرف لے جانے کی ضرورت پیش نہ آئی جس طرف دریا بہتا تھا ۔ قدیر کے قدم بہتے پانیوں کی مانوس آواز کی طرف خود بخود بڑھ رہے تھے ۔ بنیرے کے پاس پہنچ کر وہ رک گیا ۔ سامنے اباسین کا پانی اسی سکون سے بہہ رہا تھا جو اس وقت فضا پر بھی طاری تھا ۔ وارڈن اس سے چند قدم پیچھے مضبوطی سے زنجیر تھامے کھڑا تھا ۔
قدیر کو بہتے دریا میں پانی کے کئی رنگ نظر آنے لگے جن میں ایک رنگ اس کی اپنی زندگی کا بھی تھا ؛
اس نے اپنے ایک ہمسائے کو اس وقت قتل کر دیا تھا جب اِس ہمسائے نے اُس کی بیوی کو بدکردار کہتے ہوئے اس کی نِندا کی تھی ۔ اسے تو مر کر بھی سمجھ نہ آئی ہو گی کہ اس کی بیوی اور وہ الگ کیوں ہوئے تھے ۔ قتل کے وقوعے سے تین سال پہلے اس نے اپنی بیوی کو اس بنیاد پر خود سے الگ کر دیا تھا کہ زرینہ نے اس سے کی شادی پر ندامت محسوس کرنا شروع کر دی تھی اور اسے یہ احساس ہونے لگا تھا کہ اس نے اپنے والدین کی خواہش کے خلاف چالیس سال پہلے قدیر سے شادی کرکے غلط قدم اٹھایا تھا اور قدیر کی اشتراکی سوچ ، جس پراس وقت وہ بھی یقین رکھتی تھی ، غلط تھی ۔ وہ دھیرے دھیرے مذہب کی طرف رجوع ہوتی گئی تھی ۔ نوکری اور سیاسی مصروفیات کے باعث وہ اس تبدیلی کو محسوس نہ کر سکا ۔ ) قدیر کو اس بات کا پہلا واضع احساس اس وقت ہوا تھا جب زرینہ نے یہ کہہ کر اپنا کمرہ اور بسترالگ کر لیا تھا کہ وہ ایک اشتراکی کے ساتھ ایک ہی بستر پر نہیں سو سکتی ۔ بہتے پانی نے ایک گِرے درخت کے تنے سے اور پڑے پتھروں سے ٹکرا کر چھل پیدا کرکے شور کیا تو اسے یاد آیا کہ انہوں نے شادی کے بعد سے ہی برابری کی بنیاد پر گھر چلایا تھا ۔ اس نے گھر کے کاموں میں زرینہ کا ساتھ دیا تھا جبکہ وہ بھی نوکری کرکے معاشی طور پر گھر چلانے میں اس کی ہمراہی رہی تھی ۔ دونوں نے محنت کرکے اپنے تینوں بچوں کو ملک کے اچھے تعلیمی اداروں میں اعلیٰ تعلیم دلوائی تھی اور بعد ازاں یہ سب کے سب اعلیٰ روزگار پر لگ گئے تھے ۔
اسے تب یہ بھی یاد آیا : وہ ان کی بڑی بیٹی کے نکاح کا دن تھا ؛ قدیر نے لڑکے والوں کے ساتھ معاملات طے ہونے کے بعد نکاح کے سرکاری فارم ٹائپ کروائے تھے جن میں ملک کے عائلی قوانین کے مطابق اس شق کو بھی اس طرح پُر کروایا تھا جس سے بیٹی کو طلاق لینے کا حق اسی طرح حاصل ہو سکے جس طرح مرد کو حاصل ہوتا ہے ۔ اس شق کو اس طرح سے تحریر کروانے پر زرینہ ہی تھی جس نے اسے غیر شرعی اور غیر اسلامی قرار دے کر اس کی سب سے زیادہ مخالفت کی تھی حالانکہ لڑکے اور اس کے گھر والوں کو یہ حق تفویض کرنے میں کوئی اعتراض نہ تھا ۔ ایسا اس وقت بھی ہوا تھا جب ان کی دوسری بیٹی بیاہی گئی تھی ۔ بیٹا تو اپنی شادی والے دن اس کے سامنے کھڑا ہو گیا تھا کہ وہ اس شق پر ‘ کاٹا ‘ لگوائے گا ۔ وہ تو لڑکی والوں نے اس کا بھرم رکھ لیا تھا کہ وہ انکار پر اتر آئے تھے کہ اگر ان کی بیٹی کو یہ حق نہیں ملے گا تو وہ رشتہ نہیں کریں گے ۔
بہتے پانیوں کے ساتھ اور بھی بہت سے ایسے ہی واقعات اس کی نظروں کے سامنے سے پھسلتے چلے گئے جو بالآخر اس وقت ختم ہوئے جب قدیر کے لئے زرینہ کو ایک ہی چھت تلے برداشت کرنا ممکن نہ رہا تھا ۔ اس کا بیٹا بیوی اور اپنی ماں کو لے کر علیحٰدہ ہو گیا تھا اور قدیر تنہا رہ گیا تھا ۔
قدیر اباسین کے پانیوں میں اور بہت کچھ بھی تلاشنا چاہتا تھا لیکن اس کے ذہنی تسلسل کو وارڈن کی آواز نے توڑ دیا ؛
” چلو ، اب واپس جانے کا وقت ہو گیا ہے ۔ مغرب کی اذان کسی بھی لمحے ہوا چاہتی ہے اور اس سے پہلے تمہارا کوٹھڑی میں موجود ہونا ضروری ہے ۔ “
ساتھ ہی اسے اپنے اور وارڈن کے درمیان بندھی زنجیر میں تناﺅ بھی محسوس ہوا جو اسے پیچھے کھینچ رہی تھی ۔
کوٹھڑی میں پہنچ کر قدیر نے بہتے پانیوں کا نظارہ سامنے پھیلائے رکھا اور اپنی زندگی کے دھارے کے دیگر واقعات کو یاد کرتا رہا جن میں اس کے بچوں کا ماں کی طرح مذہبی ہونا ، بنا کسی معاشی و منطقی جواز کے بدیس جا بسنا اور اپنی دھرتی ماں کی خدمت کرنے کی بجائے اس سے کٹ جانا بھی شامل تھا ۔
اس نے انہیں بھی اسی طرح خود سے الگ کر دیا تھا جس طرح زرینہ کو خیرباد کہا تھا ۔ اس کی بڑی بیٹی جو ایک نامی وکیل بن چکی تھی اور اس کے مقدمے کی پیروی کرنا چاہتی تھی وطن آئی بھی لیکن قدیر نے نہ صرف اُس کی اس پیروی کو رد کیا بلکہ اس سے ملاقات بھی نہ کی ۔ اس کے مقدمے کی تمام کاروائی سرکار کی طرف سے مقرر کردہ وکیل نے ہی بھگتائی تھی ۔
پھانسی سے ایک روز قبل وارڈن کے ہمراہ جیل پولیس کے دو اہلکار اس کی کوٹھڑی میں آئے اور اسے ساتھ لئے جیلر کے کمرے میں گئے ۔ جیلر نے اسے بتایا کہ یہ اس کی زندگی کا آخری دن ہے ۔ اگلے روز پو پھٹنے پر اسے پھانسی دے دی جائے گی اور یہ کہ وہ اپنی آخری خواہش بیان کرے تاکہ اسے پورا کیا جا سکے ۔ قدیر نے جیلر سے استدعا کی کہ اس کی ہتھکڑی کھول دی جائے اور اسے کاغذ اور قلم مہیا کیا جائے تاکہ وہ اپنی آخری خواہش تحریر کر سکے ۔ جیلر نے اس کی استدعا قبول نہ کی اور بولا؛
” تم بولو ، میرا محرر اسے لکھ لے گا اور تم سے انگوٹھا لگوا کر دستخط بھی کروا لے گا ۔
اس نے جو لکھوایا وہ یہ تھا ؛
” میں ایک اشتراکی ہوں ، کسی مذہب کا پیرو کار نہیں ہوں ۔ میری آخری خواہش ہے کہ ؛
میرے پاس کسی مولوی ، پادری یا مذہبی نمائندے کو نہ بھیجا جائے اور نہ ہی ایسا کوئی مذہبی نمائندہ اس وقت میرا ہمراہی ہو جب مجھے پھانسی کے لئے لے جایا جائے ۔
میرے ’کلبوت‘ کو نہ تو کسی کے حوالے کیا جائے اور نہ ہی کسی مذہبی رسم کے ساتھ جوڑا جائے اور اسے اس وقت تک نذر آتش کیا جائے جب تک یہ مکمل طور پر سرمئی راکھ میں تبدیل نہ ہو جائے ۔
میرے کلبوت کی اس راکھ کو لاہور کے نواح میں واقع سائفن کے اس مقام پر بہایا جائے جہاں سے پانی ’ بی آر بی ‘ نہرمیں داخل ہوتا ہے تاکہ یہ کھیتوں میں جا کر میرے ’جنم بھوم ‘ کا حصہ بن سکے ۔ “
محرر نے یہ سب لکھتے ہوئے کئی بار اس کی طرف اچنبھے سے دیکھا اور بجائے اس سے دستخط کروانے اور انگوٹھا لگوانے کے ‘ لکھا بیان ‘ جیلر کے سامنے رکھ دیا ۔ جیلر ، وارڈن اور کمرے میں موجود دیگر اہل کار اُس کے اِس بیان پر حیران تھے ۔ باریش جیلر کے چہرے پر ایک رنگ آ رہا تھا اور ایک جا رہا تھا ۔ اس نے داڑھی پر ہاتھ پھیرتے اور دانت پیستے ہوئے غصیلی نظروں سے وارڈن کو اشارہ کیا کہ وہ قدیر کو واپس لے جائے ۔ قدیر کو واپس لے جاتے ہوئے وارڈن سوچ رہا تھا کہ اشتراکی کون ہوتا ہے ؟ کیا یہ خدا کا منکر ہوتا ہے جو خود کو دفن کروانے کی بجائے جلوانے کی خواہش کرے ۔
قدیر کو کوٹھڑی میں پہنچے کچھ دیر ہی ہوئی تھی کہ جیل کا ڈاکٹر وارڈن کے ہمراہ اندر داخل ہوا اور اس کا سرسری طبی معائنہ کرکے واپس چلا گیا ۔ ابھی رات بھیگی نہ تھی کہ اس کی کوٹھڑی کا قفل پھر کھلا اور وارڈن اندر داخل ہوا ۔
” تمہیں صبح پھانسی نہیں دی جا رہی ، جیلر صاحب نے اس کی معطلی کا حکم نامہ حاصل کر لیا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر کی رپورٹ کے مطابق تمہارا ذہنی توازن درست نہیں ہے ، پہلے اسے درست کرنا ہو گا ۔ “ ، وارڈن نے کہا ۔
اگلی صبح ہتھکڑی اور بیڑیوں میں جکڑے قدیر کو جیل کی گاڑی میں بٹھایا گیا اور کڑے پہرے میں ذہنی امراض کے ہسپتال کی طرف روانہ کر دیا گیا جہاں سازِ زندگی کی ایک نئی ’ دھن ‘ اس کی منتظر تھی ۔

About meharafroz

Check Also

Short Story By Qaisar Nazir Khawar

ایک تھا ‘ زیگلر ‘ (ہرمن ہیسے کی ’Ein Mensch mit Namen Ziegler ‘ نامی …

126 comments

  1. Hi, I check your blogs daily. Your humoristic style is awesome, keep doing what
    you’re doing!

  2. Undeniably believe that that you stated. Your favorite justification appeared to be at the
    web the easiest thing to have in mind of. I say to you,
    I definitely get annoyed at the same time as other folks consider issues that
    they plainly don’t recognise about. You controlled to hit the nail
    upon the highest and defined out the whole thing with no need side-effects , other folks
    can take a signal. Will likely be back to get more.

    Thank you!

  3. Hello there, just was alert to your weblog through Google,
    and found that it’s truly informative. I am gonna be careful for brussels.
    I will appreciate should you continue this in future.
    Numerous other people might be benefited out of your writing.
    Cheers!

  4. Hey I know this is off topic but I was wondering if
    you knew of any widgets I could add to my blog
    that automatically tweet my newest twitter updates. I’ve been looking for a plug-in like this for quite some time
    and was hoping maybe you would have some experience with something
    like this. Please let me know if you run into anything.
    I truly enjoy reading your blog and I look forward to your new updates.

  5. Site visitors don’t arrived at your website being entertained simply by all the great
    effects your website designer has added.
    This is very important because such experts know the essence of having a good mobile website for
    your business. If you like their work and if their previous clients assure you they are reliable, they could be the company for you.

  6. Highly descriptive post, I loved that bit. Will there be a part 2?

  7. Undeniably consider that which you said. Your favourite
    reason seemed to be on the net the easiest factor to have in mind of.
    I say to you, I definitely get irked even as people think about concerns that they just do not
    understand about. You managed to hit the nail upon the highest and also outlined
    out the entire thing with no need side effect ,
    other folks can take a signal. Will probably be again to
    get more. Thank you!

  8. I got what you mean,bookmarked, very nice site.

  9. I’ve been exploring for a little for any high-quality articles or blog posts on this kind of space .
    Exploring in Yahoo I eventually stumbled upon this site.
    Studying this information So i’m glad to show that I have a very excellent uncanny feeling I
    found out exactly what I needed. I such a lot without a doubt will make certain to do not disregard this website
    and give it a glance regularly.

  10. You could definitely see your enthusiasm in the paintings you write.
    The world hopes for even more passionate writers
    like you who are not afraid to mention how they believe.
    Always go after your heart.

  11. Many stylists and designers believe that the scale of earrings is
    necessary as it has an impression on the wearer’s life.

  12. Hi there! This article could not be written any better!
    Reading through this post reminds me of my previous roommate!
    He continually kept preaching about this. I’ll send this
    information to him. Pretty sure he’ll have a very good read.
    I appreciate you for sharing!

  13. I believe other website proprietors should take this site as an model,
    very clean and wonderful user friendly design.

  14. Hurrah, that’s what I was looking for, what a stuff!
    existing here at this blog, thanks admin of this site.

  15. Hey I know this is off topic but I was wondering
    if you knew of any widgets I could add to my blog that automatically tweet my newest twitter updates.
    I’ve been looking for a plug-in like this for quite some time and was hoping maybe you
    would have some experience with something like this.
    Please let me know if you run into anything. I truly enjoy reading your blog and I look
    forward to your new updates.

  16. If you are going for most excellent contents like myself, simply go to see this
    website everyday as it presents quality contents,
    thanks

  17. You could definitely see your skills within the work you write.

    The sector hopes for even more passionate writers such as
    you who are not afraid to say how they believe.

    At all times follow your heart.

  18. fantastic issues altogether, you simply received a new reader.
    What may you suggest about your publish that you made some days in the past?
    Any certain?

  19. There is much more to proudly owning jewellery than being
    flashy and spending extravagant quantities of cash. It might probably change into your legacy and is
    a very good funding. You want to soak up the entire recommendation which you can, which will show you the best way
    to select quality jewelry and correctly care for it.

  20. Hey I know this is off topic but I was wondering if you knew of any
    widgets I could add to my blog that automatically tweet my newest twitter updates.

    I’ve been looking for a plug-in like this for
    quite some time and was hoping maybe you would have some experience with something like this.
    Please let me know if you run into anything.
    I truly enjoy reading your blog and I look forward to your new updates.

  21. I’ve been exploring for a bit for any high-quality articles or weblog posts in this sort of area .
    Exploring in Yahoo I ultimately stumbled upon this site. Reading this info So i’m happy to express that I’ve an incredibly just right uncanny feeling I found out exactly what I needed.
    I such a lot indubitably will make certain to do not put out of
    your mind this website and give it a look regularly.

  22. In an indication of extra prosperous occasions, British Asian brides today insist on a complete diamond set amongst
    their golden wedding ceremony jewels, fairly than having
    simply the 22-carat gold of ancient times, stated John Jacob, advertising and marketing manager of Joyalukkas at
    number 284.

  23. Only wanna remark that you have a very decent web site, I love the style
    it really stands out.

  24. Hi there, just became aware of your blog through Google, and found that it is really informative.
    I�m going to watch out for brussels. I�ll be grateful
    if you continue this in future. Lots of people will be benefited from your writing.
    Cheers!

  25. It’s an amazing paragraph in support of all the internet people; they will get
    benefit from it I am sure.

  26. I for all time emailed this web site post page to all my friends,
    because if like to read it afterward my links will too.

  27. What’s more, it’s all reasonably priced, and
    is accessible at your neighborhood flea market too!

  28. Hmm is anyone else having problems with the images on this blog
    loading? I’m trying to find out if its a problem on my end or if it’s the blog.
    Any responses would be greatly appreciated.

  29. It’s truly very difficult in this active life to listen news
    on Television, therefore I simply use internet for that purpose, and get the
    latest news.

  30. Jewellery is at all times a great gift that will likely
    be saved and cherished eternally. Too many
    items have a limited time to be used and will be discarded finally however never jewellery.
    Inexpensive jewelry can be the perfect gift to commemorate particular events.

    This text might help you to make great selections when it comes to buying jewelry.

  31. It’s appropriate time to make some plans for the longer term and it’s time to be
    happy. I have read this publish and if I may I wish to suggest you few attention-grabbing
    issues or suggestions. Perhaps you could write subsequent articles referring to this article.
    I desire to read even more things about it!

  32. Whats up very nice blog!! Man .. Excellent .. Superb ..
    I will bookmark your web site and take the feeds additionally?
    I am happy to find a lot of helpful info right here in the put up, we’d like
    work out extra techniques in this regard, thanks for sharing.

    . . . . .

  33. Awesome issues here. I am very glad to peer your article.
    Thank you a lot and I’m having a look ahead to touch you.
    Will you please drop me a e-mail?

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *