Breaking News

Short Story by Abu Fahad

سلام علیكم ورحمۃ الله
امید كه مع الخیر هوں گی۔
افسانه ارسال كررها هوں۔
دعائے خیر كی درخواست كے ساته۔
والسلام
محمد الیاس

نیچے سروں کا احتجاج
ایک کشادہ کمرے میں آٹھ تخت ایک ایک بالشت کے فاصلے پر قرینے سے لگے ہوئے تھے، ان پر آٹھ دس لڑکے دو دو اور تین تین کے گروہ میں بیٹھے کھانا کھانے میں مصروف تھے، چھت کے وسط میں لوہے کے ہک سے لٹکا ہوا پنکھا اس طرح چل رہا تھا جیسے ماضی کے دنوں کی سرمستیوں کو یاد کر کے رقص کر رہا ہو۔مدرسہ کی مسجد سے آتی ہوئی عشا کی اذان کی آواز کانوں میں رس گھول رہی تھی، نوعمر بنگالی مؤذن جب دو کلموں کے درمیان وقفہ کے لئے رکتا اور اپنی سانس درست کرتا تو پنکھے کی تیز گھومتی ہوئی پنکھڑیاں کمرے کی خاموش فضا میں سرسراہٹ پیدا کرنے لگتیں اور اس دوران لڑکے اپنے منہ کی باتوں کو جلدی جلدی اگلنے کی کوشش کرتے، ایسا کرنے کی غیر اختیاری کوشش میں کبھی کبھار سب ایک ساتھ ہی بول پڑتے، اتنے میں بنگالی مؤذن کی آواز میناروں کی بلندیوں سے پھر ابھرتی اور دفعتاً سب خاموش ہو جاتے۔
عقب کی دیوار میں دو بڑی بڑی کھڑکیاں تھیں جو سبزی کے کھیت کی طرف کھلتی تھیں۔ یہ کھیت کسی بدمزاج آدمی کا تھا، وہ اکثر سبزیاں ہی بویا کرتا تھا اور سبزیوں میں بھی زیادہ تر آلو۔ شہر کے گندے پانی کی ایک پتلی سی نالی کھیت کے درمیان سے گزرتی ہوئی قریب کے ایک چھوٹے سے گندے تالاب میں جا گرتی۔بائیں ہاتھ کا کوئی کھلاڑی جب زوردار شارٹ لگاتا تو گیند کمرے کی چھت کو پھلانگتے ہوئے سیدھے کھیت میں جا گرتی تھی۔کھیت کے مالک کی موجودگی میں کوئی بھی گیند اٹھانے کی جرات نہ کر سکتا تھا۔جب رات اپنی کالی چادر تان دیتی تو دو تین سائے چھوٹی سی دیوار کود کر کھیت میں رینگ جاتے، دس پندرہ منٹ کے بعد جب وہ سفیدے کے لمبے درخت سے لٹکے ہوئے بلب کی روشنی کے نیچے سے گزرتے تو ہم دیکھتے کہ ان کے ایک ہاتھ میں گیند ہے اور دوسرے کئی ہاتھوں میں تازہ نرم مٹی میں سنے ہوئے چھوٹے چھوٹے آلو۔امتحان کے دنوں میں جب ہم ساری ساری رات پڑھا کرتے تو یہ آلو رُت جگے میں کافی مدد دیتے۔جب رات تیسرے پہر میں داخل ہونے لگتی تو چپکے چپکے آلوؤں کی تہاری تیار کی جاتی اور اس خوف سے کہ کہیں دوسرے لڑکوں کو بھنک نہ لگ جائے گرم گرم نوالے بنا چبائے حلق سے اس طرح اتارے جاتے جیسے انگارے نگلے جا رہے ہوں۔کھیت کا مالک کئی مرتبہ ہماری شکایت کر چکا تھا۔
اس کمرے میں دو دروازے تھے جو سامنے میدان میں کھلتے تھے، یہ میدان انگریزی حرف ’ LL‘کی شکل میں بنے ہوئے ایک درجن کمروں کا برآمدہ تھا اور پچھم کی طرف سے مسجد کا کھلا ہوا حصہ۔عید کے دنوں میں یہاں چونے کے ذریعہ صفوں کے نشان بنا دئے جاتے اور باقی کے دنوں میں یہ لڑکوں کے لیے کرکٹ کا میدا ن ہوا کرتا۔مدرسہ کی طرف سے جب کوئی جلسہ ہوتا تب بھی یہی میدان کام آتا۔
کمرے میں فرش کی جگہ اینٹیں بچھی ہوئی تھیں، دروازوں کے بیچ میں دیوار سے لگی ہوئی لکڑی کی ایک بڑی سی الماری کھڑی تھی، جس میں لڑکوں کا سامان الٹا سیدھا بھرا رہتا، صندوق، بریف کیس، گتے کے ڈبے اور کھانے کے برتن، پیالیاں، پلیٹیں اور پلاسٹک کے مگ وغیرہ، بعض لڑکے اپنے بنا دھلے کپڑے بھی کونوں کھدروں میں ٹھونس دیا کرتے تھے۔ہر روز صبح سات بجے سے دوپہر ایک بجے تک یہ کلاس روم ہوتا تھا اور اس کے بعد اگلے دن صبح تک رہائشی کمرہ۔ ایک مسجد اور بارہ کمروں پر مشتمل یہ ایک مدرسہ تھا۔ یہاں ہر چیز کی دہری حیثیت تھی، مسجد نماز کے اوقات میں مسجد ہوتی اور کلاس کے وقت میں درس گاہ، کمرے تعلیم کے وقت میں کلاس روم ہوتے اور دوسرے وقت میں ہاسٹل۔لڑکے طالب علم بھی ہوتے اور مدرسہ کے خدمت گار بھی، اساتذہ معلم بھی ہوتے، ممتحن اور ایڈمنسٹریٹر ز بھی۔
دو ٹیوب لائٹس 15×12کے اس بڑے سے کمرے کو دودھیائی روشنی میں نہلا رہی تھیں۔اور اس وقت آٹھ دس لڑکے شام کا کھانا کھانے میں اس طرح مصروف تھے جیسے ان کے سروں پر فرشتے بیٹھے ہوں اور وہ احتراماً سر جھکائے ہوئے ہوں۔
’’لا الٰہ الا اللہ‘‘ بنگالی مؤذن آخری کلمہ ادا کر رہا تھا۔
’’استاد!۔۔ کھانا کھا لیا آپ نے۔۔۔ آپ کو دال میں مہک نہیں آ رہی۔۔۔؟‘‘
درجۂ حفظ کے دو تین لڑکے کمرے میں داخل ہوتے ہی مجھ سے مخاطب ہوئے۔ عصر سے مغرب کے درمیانی وقفہ میں چند لڑکے مجھ سے کراٹے سیکھا کرتے تھے، اور اسی نسبت سے بعض لڑکے مجھے ’استاد‘ بھی کہا کرتے تھے اور ہر طرح کے ہنگامی حالات میں مجھ سے یہ توقع کی جاتی تھی کہ میں ان کی اگوائی کروں، بطور خاص ایسے معاملات میں جہاں پٹنے پٹانے کا خدشہ لگا ہو۔
’’مہک۔۔ہاں۔۔۔آ تو رہی ہے۔۔مگر اب تو میں پیٹ بھر کے کھا چکا ہوں ‘‘میں نے لقمہ ناک کے پاس لے جا کر دو تین لمبے لمبے الٹے سانس کھینچے۔
’’اور اس میں ہے ہی کیا سوائے پانی کے۔۔۔دال تو اس میں کہیں سے کہیں تک نظر ہی نہیں آ رہی۔۔۔‘‘دوسرا لڑکا آگے بڑھ کر بولا اور ہمارے سامنے سے پلیٹ اٹھا لی۔کمرے کے دوسرے تمام لڑکے بھی ان کی طرف متوجہ ہو چکے تھے۔
’’جب سے مہتمم صاحب باہر دورے پر گئے ہیں تب سے منشی جی نے روز روز یہی ناٹک کر رکھا ہے۔ چلئے۔۔ ۔۔۔آج اسٹرائک کریں گے۔۔ ۔۔۔۔نہیں چاہئے ہمیں ایسا کھانا۔۔۔۔چلئے اٹھئے۔۔۔دال واپس بھگونے میں ڈال دیتے ہیں۔۔‘‘نو واردوں کے چہروں پر غصہ صاف دکھائی دے رہا تھا۔
’’اور روٹی بھی کتنی کچی ہے ‘‘ہمارے کمرے کے ایک لڑکے نے لقمہ دیا۔
’’ہاں۔۔! جب سے یہ نئی باور چن آئی ہے تب سے کھانا ڈھنگ کا مل ہی نہیں رہا ہے۔۔ میرا تو من ہی نہیں کرتا اس کے ہاتھ کی روٹی کھانے کو۔۔ڈھنگ سے ہاتھ بھی نہیں دھوتی۔۔اس سے تو وہ پہلے والی دادی اماں ہی ٹھیک تھیں۔۔۔‘‘میرے ساتھ کھانے والے لڑکے نے ایسے منہ بنایا جیسے کوئی بدبو دار جگہ سے گزرتے ہوئے منہ بناتا ہے۔
’’تم کہتے ہو تو ٹھیک ہے۔۔ ۔۔۔۔میں تمہارے ساتھ ہوں۔چلئے۔۔۔‘‘
میں نے اپنے ہاتھ کا آخری نوالہ منہ میں رکھتے ہوئے کہا۔ حالانکہ میرا پیٹ بھر چکا تھا۔ میری پلیٹ میں تھوڑی سی دال باقی تھی اور شاید ڈیڑھ روٹی۔میں ان کے ساتھ ہولیا اور باقی کے تمام کمروں میں گھوم کر دیگر لڑکوں کو بھی کھاتے سے اٹھا لیا۔۔ ۔۔۔۔۔اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے سب نے اپنی پلیٹوں میں بچی ہوئی دال واپس بھگونے میں ڈال دی۔ذرا سی دیر میں بھگونہ آدھا بھر چکا تھا۔۔ ۔۔۔۔۔ایک شریر لڑکا بھاگا بھاگا گیا اور ایک جگ پانی لے کر دال میں ڈال دیا۔دال جو پہلے ہی سے پتلی تھی اب نینی تال کے تلّی تال کا منظر پیش کر رہی تھی۔
یہ جمعہ کی ایک کالی رات تھی، جو در و دیوار، میدان اور کمروں کے سامنے کھڑے سفیدے کے اونچے اونچے درختوں سے اسی طرح لپٹی ہوئی تھی جس طرح اجگر چندن کی ڈالیوں سے لپٹے رہتے ہیں۔اگلے دن چھٹی تھی، قرب و جوار کے بہت سارے طلبہ اور اساتذہ اپنے اپنے گھروں کو چلے گئے تھے، درجۂ حفظ کے لڑکوں کو سبق یاد کرنے کی فکر نہ تھی۔اور اس لیے بھی ان کی رگِ شرارت تیزی کے ساتھ پھڑک رہی تھی۔
عید تو سال میں دو بار ہی آتی ہے مگر مہتمم صاحب جب جمعہ کے خطبہ میں فضائلِ جمعہ بیان کرتے تو یہ بھی بتاتے تھے کہ جمعہ ہفتہ کی عید ہے۔ اور لڑکوں کے لئے جمعہ عید ہی کا دن تھا، شاید اس لیے کہ یہ دن چھٹی کا دن جو ہوتا تھا۔اس دن وہ شہادت کی انگلی کے برابر موٹی اور ایک ہاتھ لمبی شہتوت کی چھڑی کے خوف کا بھوت اپنے سروں سے اتار پھینکتے تھے۔جمعرات کی دوپہر سے لے کر جمعہ کو مغرب کی اذان تک یہ بھوت ان سے اسی طرح بھاگتا تھا جس طرح کچی مسجد کے امام صاحب کے تعویذ سے بھاگا پھرتا ہے۔لڑکوں کو تو یقین نہیں آتا تھا مگر کھانا بنانے والی چاچی کہتی تھیں کہ امام صاحب کے تعویذ سے بڑے سے بڑا بھوت بھی اس طرح بھاگتا ہے کہ پھر کبھی واپس نہیں لوٹتا۔مگر جیسے ہی مغرب کی نماز ختم ہوتی یہ بھوت دوبارہ ان کے سروں پر سوار ہو جاتا اور انہیں لگتا کہ چاچی جھوٹ بولتی ہیں۔ہم میں سے کسی نے بھی اپنی آنکھوں سے بھوت نہیں دیکھا تھا پھر بھی ایسا لگتا تھا کہ بھوت ہوتے ضرور ہوں گے۔
’’عارف۔۔۔اقبال۔۔۔سہیل۔۔چلو باہر نکلو کمروں سے۔۔‘‘
نماز کے بعد جب نمازی اپنے گھروں کو لوٹ جاتے اور درجۂ حفظ کے طلبہ پڑھائی کے وقت سے چند منٹ چرا کر اپنے کمروں میں جا گھستے اور مٹر گشتی کرنے لگتے تو معاً بعد قاری صاحب کی گرجدار آواز اندھیرے اور ہوا کا سینہ چاک کرتی ہوئی لڑکوں کے اعصاب پر اس طرح گرتی کہ اگلے پانچ منٹ میں تمام لڑکے قرآن شریف کھول کر بیٹھ جاتے اور آگے پیچھے ہلتے ہوئے زور زور سے سبق یاد کرنے لگ جاتے۔قاری صاحب اکثر انہیں لڑکوں کا نام لے کر پکارا کرتے تھے۔
’’کھوں۔۔۔کھوں۔۔کھوں۔۔حرام خورو! کچھ تو شرم لحاظ کرو۔۔۔۔کیوں گال پھول رہے ہیں تمہارے۔۔۔پکی پکائی مل رہی ہے نا۔۔ اس لیے۔۔۔ارے شیطان کے بچو!۔۔کچھ تو خدا کا خوف کھاؤ۔۔ ۔۔۔۔۔‘‘منشی جی کھانستے ہوئے کمرے سے نکلے اور چھوٹے لڑکوں پر برس پڑے۔ منشی جی مہتمم صاحب کی عدم موجودگی میں لڑکوں کی دیکھ بھال کرتے تھے، انہوں نے پہلے تو خود ہی اس مسئلہ کو سلجھانے کی کوشش کی مگر جب حالات حد سے زیادہ بگڑتے اور بے قابو ہوتے دیکھے تو فوراً قاری صاحب کو بلا بھیجا، جو آج جمعہ کی چھٹی کی وجہ سے اپنے گھر چلے گئے تھے۔قاری صاحب پانچ چھ لڑکوں کے جلو میں دروازے سے ہی ہانک لگاتے ہوئے مدرسہ میں داخل ہوئے۔
’’باہر نکلو سب لوگ۔۔۔۔ادھر آؤ میدان میں۔۔۔بتاؤ کیا بات ہے۔۔۔چلو نکلو باہر۔۔۔ارے سنا نہیں تم لوگوں نے۔۔۔۔نکلو باہر‘‘
تھوڑی بہت نان نکر اور گھسر پسر کے بعد ایک ایک کر کے تمام لڑکے میدان میں جمع ہونے لگے، پہلے چھوٹے لڑکے باہر نکلے اور پھر بڑے لڑکے زبردستی اپنے پیروں کو گھسیٹتے ہوئے میدان میں جمع ہونے لگے۔
’’کیوں بے نسیم! کھانا کھایا تو نے۔۔ ۔۔۔۔۔۔؟‘‘
قاری صاحب کی مخصوص چھڑی جسے درجۂ حفظ کے لڑکے اچھی طرح پہچانتے تھے، ہوا میں لہرائی اور قطار کے ایک سرے پر سہمے سہمے کھڑے آٹھ سالہ نسیم کی آنکھوں کے درمیان سے گزرتی ہوئی اس کے سینے پر خاص دل کے مقام پر آ کر ٹھہر گئی۔ان کی آواز میں گرج تھی اور آنکھوں میں لال لال ڈورے، وہ سفید کرتہ پاجامہ پر کالی صدری پہنے ہوئے تھے، چہرے پر جلال تھا اور سینہ میں یہ عزم کہ وہ اس بغاوت کو چشم زدن میں فرو کر لیں گے۔
نسیم کی ایک اچٹتی ہوئی نگاہ اس کے کاندھے کے اوپری حصہ کو چھوتی ہوئی ان لڑکوں کی آنکھوں کی پتلیوں پر جا کر چپک گئی جنہوں نے اسے کھانے سے روکا تھا اور پھر دوسری نگاہ اس کے سینے میں اترتی ہوئی چھڑی اور قاری صاحب کے ہاتھ پر پھسلتی ہوئی ان کی ناک کے دونوں طرف کے ڈھلان پر اتر کر رخساروں پر پھیل گئی۔ایک لمحے کے لیے اس نے سوچا کہ اگر آج اس نے ’نہیں ‘ کہا تو وہ قاری صاحب کی نظروں سے ہمیشہ کے لیے گر جائے گا اور ان کی محبت اور پیار کو کھودے گا۔ چار ماہ پہلے جب اس کے ابو اسے یہاں لے کر آئے تھے تو قاری صاحب نے کتنی محبت سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا تھا اور اس کے ہم عمر اپنے بیٹے کے پہلو میں بیٹھنے کو جگہ دی تھی۔اور پھر محض ایک ہفتہ کے اندر دونوں ایک دوسرے کے جگری دوست بن چکے تھے۔اس کے گاؤں کا لڑکا اشرف اسی لیے اس سے جلنے بھی لگا تھا کیونکہ وہ خود قاری صاحب کے لڑکے سے دوستی کرنا چاہتا تھا۔۔یکبارگی اسے لگا کہ اس ’نہیں ‘ کا اثر سیدھا اس کی دوستی پر بھی پڑ سکتا ہے۔اور اشرف اس موقع کا فائدہ اٹھا سکتا ہے۔اس نے خیالوں میں اشرف کو کھل کھلا کر ہنستے ہوئے دیکھا، پھر اس نے دیکھا کہ وہ قاری صاحب کے لڑکے کے گلے میں ہاتھ ڈالے اس طرح گھوم رہا ہے جیسے وہ خود ہی قاری صاحب کا لڑکا ہو۔اس نے ایک لمبا سانس کھینچا۔۔ ۔۔۔۔۔پوری قوت جمع کی اور ایک لفظ باہر ہوا میں اچھال دیا۔
’’جی۔۔۔‘‘
’’جی کیا۔۔ ۔۔۔۔۔؟‘‘قاری صاحب نے چھڑی کو ہلکا سا جھٹکا دیا۔۔۔۔اور وہ پیچھے کو گرتے گرتے بچا۔
’’جی۔۔ ۔۔۔جی کھا لیا‘‘ اس سے پہلے کہ چھڑی کو ایک اور جھٹکا لگتا اس نے جلدی جلدی جگالی کی اور پورا جملہ اگل دیا۔
’’پیٹ بھر گیا۔۔؟‘‘
’’جی۔۔۔بھر گیا‘‘
چشم زدن میں چھڑی اس کے سینے سے اٹھی، ہوا میں لہرائی اور تڑاخ تڑاخ دو بار اس کے کولہوں سے ٹکرائی۔
’’تو چل یہاں سے۔۔۔۔کمرے میں جا کر بیٹھ چپ چاپ‘‘
نسیم کولہے کو سہلاتا ہوا کمرے کی طرف بھاگا اور کواڑ کی اوٹ لے کر کھڑا ہو گیا۔
چھڑی ایک سینے سے دوسرے سینے کی طرف منتقل ہوتی رہی اور چھوٹے بڑے جبڑے اسی ایک جملہ کی جگالی کرتے رہے جو نسیم نے ان کے سامنے اگلا تھا۔
’’اور تو نے۔۔ ۔۔۔۔؟‘‘
’’جی۔۔۔کھا لیا‘‘
اور تو نے۔۔ ۔۔۔۔حامد؟‘‘
’’جی۔۔میں نے بھی کھا لیا‘‘
جو لڑکے شعوری یا غیر شعوری طور پر یہ جملہ دہراتے گئے وہ دو دو قمچیاں انعام کے طور پر پاتے گئے۔یہاں تک کہ اب ان لڑکوں کی باری آئی جواس پورے معاملے میں لیڈر بنے ہوئے تھے۔
’’کیوں بے ارشد۔۔۔۔تو نے کھایا۔۔؟‘‘
چھڑی کی نوک ایک چوڑے چکلے سینے پر جم گئی۔قاری صاحب نے اپنے حوصلوں کو یکجا کیا، ایک دو بار پلکیں جھپکائیں اور اعصاب میں تناؤ پیدا کرتے ہوئے چھڑی کو جنبش دی۔ایک لمحے کے لیے انہیں لگا کہ اصل معرکہ تو اب شروع ہوا ہے۔
’’بول۔۔ ۔۔۔۔بولتا کیوں نہیں۔۔ایسے کیا دیکھ رہا ہے۔۔ ۔۔۔کھا جائے گا مجھے۔۔‘‘ اب وہ پہلے سے زیادہ تن کر بول رہے تھے۔
میں سب سے آخر میں تین چار لڑکوں کے بعد کھڑا تھا، میرا دماغ پھرکی کی مانند تیزی سے گھوم رہا تھا، میں سوچ رہا تھا کہ یہ لڑکے کچھ ہمت دکھائیں گے اور پانسہ پلٹ جائے گا۔پھر سب کچھ ویسا ہی ہو گا جیسا ہم نے پلان کیا ہے۔ہماری بات سنی جائے گی اور منشی جی اور کھانا بنانے والی چاچی کو ڈانٹ پلائی جائے گی۔ اور پھر ہمیں اس پانی کی طرح پتلی دال سے اور ادھ پکی روٹیوں سے چھٹکارا مل جائے گا۔ہوا کا ایک جھونکا میر ی پیشانی کے بالوں کو چھوتا ہوا گزر گیا، اس نے میرے دماغ کی ہانڈی میں پکتے ہوئے اس خیال کو اس طرح بدل دیا جس طرح ریموٹ کنٹرول کا بٹن دبانے سے چینل بدل جاتا ہے۔ ابھی کچھ ہی دنوں پہلے کی بات ہے جب میں اکیلا کھڑا رہ گیا تھا۔ میرے جسم میں جھری جھری پیدا ہوئی۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔کیا اس بار بھی۔۔۔۔میرے اعصاب میں کرنٹ دوڑنے لگا۔ ہم پانچ لڑکے تھے جو بلا اجازت باہر گھومنے چلے گئے تھے اور جب شام کو اندھیرے منہ مدرسہ میں داخل ہوئے تو اچانک مہتمم صاحب سے مڈبھیڑ ہو گئی۔جیسے وہ ہمارے انتظار میں بیٹھے تھے۔پوچھ تاچھ شروع ہوئی اور سب ایک دوسرے کے کاندھے پر بندوق رکھ کر چلا نے لگے، سب نے جھوٹ بولا اور بہانے کیے۔۔کچھ چھوٹ بھی گئے اور کچھ کو سزا بھی ملی۔حالانکہ مدرسہ میں داخل ہونے سے پہلے سب نے پلان بنایا تھا کہ سب ایک ہی بات کہیں گے۔ میں اس وقت بھی سچ بولا تھا اور اپنی بات پر قائم رہا تھا۔۔اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ سب سے زیادہ مار مجھ ہی کو لگی تھی۔
’’جی۔۔۔ کھا لیا۔۔۔‘‘
ارشد کے منہ سے بھی جب یہی جملہ نکلا اور میری سماعتوں سے ٹکرایا تومیں خیالات کی وادی سے نکل کر لمحۂ موجود میں آ کھڑا ہوا۔مجھے اس سے ایسی توقع نہ تھی۔ یہ وہی لڑکا تو تھا جس نے مجھے کھانا کھاتے سے اٹھایا تھا اور احتجاج میں شریک کیا تھا۔مجھے لگا جیسے میرے پیروں تلے سے زمین آہستہ آہستہ کھسک رہی ہے اور یہ کالی رات مجھ پر اسی طرح آگرے گی جس طرح کالی چمگادڑیں اپنے شکار پر گرتی ہیں۔
’’تڑاخ۔۔۔تڑاخ۔۔۔‘‘ دو چھڑی ارشد کے داہنے بازو پر لگیں۔۔۔اور وہ بے پروائی کے ساتھ قطار سے نکل کر دوسری طرف جا کھڑا ہوا۔ارشد کے اس طرح پگھل جانے سے باقی لڑکوں کی بھی سٹی گم ہو گئی، ان کے سروں میں سمایا ہوا احتجاج کا بھوت بغلیں جھانکنے لگا۔اور وہ بھی قاری صاحب کی آتش نگاہ سے اسی طرح پگھل گئے جس طرح جون کے مہینے میں گرم لو سے آئس کریم پگھل جاتی ہے۔
تاریخ اپنے آپ کو دہرا رہی تھی، آج بھی بالکل وہی منظر تھا۔میں نے ارشد کو کھا جانے والی نظروں سے دیکھا، جی میں آیا کہ اس کی ناک توڑ دویا اس کی ریڑھ کی ہڈی پر اتنی زور سے لات ماروں کہ یہ پھر کبھی اٹھ نہ سکے۔۔۔۔میں ابھی سوچ ہی رہا تھا کہ چھڑی کی نوک مجھے اپنے سینے میں اترتی ہوئی محسوس ہوئی۔۔۔
’’اور۔۔ تو نے۔۔۔؟‘‘قاری صاحب نے میرا نام لیے بغیر اور مجھ سے نظریں چار کئے بنا مجھے مخاطب کیا۔
دوسرے لڑکوں کے برعکس میں کھانا کھا چکا تھا۔۔۔اس لیے میں اگر ’ہاں ‘ کہتا تب بھی جھوٹ نہ ہوتا اور اگر ’’نہیں ‘‘کہتا تب بھی میرے پاس اس کا جواز تھا کہ دوسری صورت میں احتجاج کا فائدہ ہی کیا نکلتا۔۔۔مگر اب تو میں تنہا ہی میدان میں کھڑا تھا باقی سب لڑکے دروازوں اور درختوں کی اوٹ لیے کھڑے تھے۔۔۔اس لیے اب میری ’’ہاں ‘‘ یا’’ نہیں ‘‘ سے کچھ بھی ہونے والا نہ تھا۔۔میری آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا۔۔ ۔۔۔۔۔میں دل ہی دل میں ان لڑکوں کو لعن طعن کر رہا تھا جنہوں نے مجھے اس احتجاج میں گھسیٹا تھا۔۔ ۔۔۔اور اب مجھے اس طرح تنہا چھوڑ دیا تھا۔۔ ۔۔۔۔۔میرا سر چکرانے لگا اور مجھے پہلی بار زمین گھومتی ہوئی معلوم ہوئی۔۔ ۔۔۔۔میں نے اپنی چھوٹی سی زندگی میں پہلی بار ان لوگوں کو موٹی سی گالی دی جنہوں نے ایک سائنسداں کو صرف اس لیے سزا دی تھی کہ وہ زمین کی گردش کا قائل تھا۔۔ ۔۔۔اتنی موٹی گالی میں نے آج تک کسی اور کو نہیں دی تھی۔۔ ۔۔۔میں نے ایک لمبا سانس کھینچا۔۔اپنے بھاری جبڑوں تلے چند حروف چبائے اور ذہن میں ایک جملہ ترتیب دیا۔۔۔مجھے اپنی آنکھوں کے سامنے چھڑی ناچتی ہوئی دکھائی دی۔۔۔۔اور اس کے لمبے لمبے نوکیلے دانت بھی۔۔۔۔ایسا لگ رہا تھا کہ یہ ابھی چشم زدن میں میرے جسم میں پیوست ہو جائیں گے۔۔۔۔میں نے جملہ کی ترتیب مکمل کی اور اگلے لمحے قاری صاحب کے کانوں کی سیدھ میں اچھال دیا۔۔۔
’’میں نے نہیں کھایا۔۔ ۔۔۔۔دال میں کچے تیل کی مہک آ رہی تھی۔۔۔اور۔۔ ۔۔۔۔اور روٹیاں بھی کچی تھیں۔۔۔۔‘‘یہ کہتے کہتے میری آنکھیں خود بخود مند گئیں۔
فیصلہ ہو چکا تھا، احتجاج فرو کیا جا چکا تھا اور میرا کچھ بھی بولنا بے کار تھا۔۔۔میں نے آنکھیں کھولیں۔۔۔۔میری نظر قاری صاحب کی پیٹھ سے ٹکرائی۔۔ ۔۔۔وہ دوسری طرف منہ کئے منشی جی کو تاکید کر رہے تھے کہ آئندہ کھانے میں احتیاط برتی جائے۔۔۔۔اب میں حیرت کے سمندر میں غوطے کھا رہا تھا۔۔۔دور کھڑے ہوئے لڑکے بھی تیز تیز پلکیں جھپکا رہے تھے۔۔۔جیسے انہیں اپنی آنکھوں پر یقین نہ آ رہا ہو۔۔ ۔۔۔۔۔۔مجھے دوقمچیاں انعام میں کیوں نہ ملیں۔۔۔جبکہ سب نے سچ بولا تھا اور میں نے جھوٹ۔۔۔سب نے سرینڈر کیا تھا اور میں نے احتجاج جاری رکھا تھا۔۔ ۔۔۔۔۔میں نے سوچا اور فتحمندی کے گرم احساس سے ایڑیاں اچکاتا ہوا اپنے کمرے کی طرف بڑھا اور چادر سے منہ ڈھک کر لیٹ گیا۔چند منٹ بعد ارشد اور اس کے ساتھی آئے اور معذرت کرنے لگے۔۔ ۔۔۔وہ پکار رہے تھے۔۔۔۔استاد۔۔ ۔۔۔۔۔استاد۔۔ ۔۔۔۔۔اور میں ایسے بودے لڑکوں کے ساتھ آئندہ کسی احتجاج میں شریک نہ ہونے کی قسم کھا رہا تھا۔

About meharafroz

Check Also

Short Story By Hamid Siraj

30 comments

  1. Hello There. I found your blog using msn. This is a really well written article.

    I’ll be sure to bookmark it and come back to read more of
    your useful info. Thanks for the post. I will definitely comeback.

  2. You can certainly see your skills within the work you write.
    The sector hopes for more passionate writers like you who are not afraid to mention how they
    believe. All the time follow your heart.

  3. Amazing! This blog looks exactly like my old one!
    It’s on a totally different subject but it has pretty
    much the same page layout and design. Superb choice of colors!

  4. I believe everything posted was very logical. However, think on this, suppose you composed a catchier title?
    I am not saying your content isn’t good, but suppose you added
    a title to possibly grab a person’s attention? I mean Short Story by
    Abu Fahad – Huda Foundation is kinda plain. You ought
    to look at Yahoo’s home page and note how they create news titles to
    get people to click. You might add a related video
    or a related picture or two to grab readers excited about everything’ve got to say.
    Just my opinion, it would bring your website a little livelier.

  5. Great post. I used to be checking constantly this blog and
    I am inspired! Very useful info specially the last part 🙂 I deal with such
    information a lot. I was looking for this certain information for a long time.
    Thanks and best of luck.

  6. Howdy! This is kind of off topic but I need some guidance from an established blog.
    Is it very hard to set up your own blog? I’m not very techincal but
    I can figure things out pretty fast. I’m thinking about setting up my own but I’m not sure where
    to start. Do you have any points or suggestions? Thanks

  7. You really make it seem so easy with your presentation but I find this topic to be actually something which I think I would never understand.

    It seems too complicated and very broad for me. I’m looking forward for your next post, I will try to get the hang of it!

  8. I think this is among the most important information for me.
    And i am glad reading your article. But should remark on some general things, The website style
    is perfect, the articles is really nice : D. Good job,
    cheers

  9. Heya i’m for the first time here. I found this board and I in finding It really helpful & it
    helped me out much. I am hoping to present something back and
    aid others like you helped me.

  10. An impressive share! I’ve just forwarded this onto a friend who has
    been doing a little homework on this. And he in fact ordered me lunch
    due to the fact that I found it for him…
    lol. So allow me to reword this…. Thanks for the meal!! But yeah, thanks for spending the time to
    discuss this issue here on your blog.

  11. Highly energetic post, I loved that a lot. Will there be a part 2?

  12. I am really impressed with your writing abilities as smartly as with the structure on your
    weblog. Is this a paid theme or did you customize it yourself?

    Anyway keep up the nice quality writing, it’s uncommon to see a great blog like this one these days..

  13. Thanks to my father who shared with me regarding this weblog, this web site is actually awesome.

  14. great points altogether, you just won a emblem new reader.

    What might you recommend in regards to your publish that you simply made some days in the past?
    Any positive?

  15. Link exchange is nothing else however it is simply placing the other person’s webpage link on your page at
    appropriate place and other person will also do similar for you.

  16. Great beat ! I would like to apprentice while you amend your website, how could i subscribe for a weblog website?

    The account helped me a acceptable deal. I have been a little bit familiar of this your broadcast provided vibrant clear
    concept

  17. Hi there it’s me, I am also visiting this website
    daily, this web page is genuinely pleasant and the visitors are
    really sharing nice thoughts.

  18. It is very important open and close the leap rings accurately
    otherwise it will likely be inconceivable to keep the circular design.

  19. For other materials corresponding to jewellery findings,
    settings, and metallic, storage containers ought to be
    used.

  20. I was curious if you ever considered changing the structure of your website?
    Its very well written; I love what youve got to say.
    But maybe you could a little more in the way of content so people could connect with it better.
    Youve got an awful lot of text for only having 1 or two
    pictures. Maybe you could space it out better?

  21. Hello would you mind letting me know which hosting company you’re using?
    I’ve loaded your blog in 3 completely different browsers and I must say this blog loads a
    lot faster then most. Can you recommend a good hosting provider at a reasonable price?
    Cheers, I appreciate it!

  22. Greetings from Colorado! I’m bored at work so I
    decided to browse your site on my iphone during lunch break.

    I love the knowledge you provide here and can’t wait to take a look when I get home.
    I’m amazed at how fast your blog loaded on my mobile ..

    I’m not even using WIFI, just 3G .. Anyways, superb site!

  23. It’s really a nice and useful piece of information. I am glad that you shared this useful
    information with us. Please keep us up to date like this. Thank you for sharing.

  24. Appreciation to my father who shared with me on the topic of this webpage,
    this webpage is actually awesome.

  25. I love your blog.. very nice colors & theme. Did you design this website yourself or did you hire someone
    to do it for you? Plz answer back as I’m looking to design my own blog and would like to know where
    u got this from. appreciate it

  26. Very shortly this site will be famous among all blogging users,
    due to it’s pleasant articles or reviews

  27. You’re so cool! I do not think I’ve read through anything like that before.

    So nice to find another person with unique thoughts on this subject matter.
    Really.. thank you for starting this up. This website is something that is needed on the
    internet, someone with a bit of originality!

  28. Hey I know this is off topic but I was wondering
    if you knew of any widgets I could add to my blog that automatically tweet my newest twitter updates.
    I’ve been looking for a plug-in like this for quite some time
    and was hoping maybe you would have some experience with something like this.
    Please let me know if you run into anything.
    I truly enjoy reading your blog and I look forward
    to your new updates.

  29. I’m not sure why but this weblog is loading incredibly slow for me.
    Is anyone else having this issue or is it a issue on my end?

    I’ll check back later on and see if the problem still exists.

  30. What i don’t understood is in fact how you’re not
    actually much more neatly-appreciated than you may be right now.
    You’re very intelligent. You already know thus considerably with regards to this matter, made me individually imagine it from numerous
    numerous angles. Its like men and women aren’t involved unless it’s one thing to accomplish with Lady
    gaga! Your individual stuffs nice. Always take
    care of it up!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *