Breaking News

Translated Short Story By Qaisar Nazir Khawar

اشارے اور علامتیں
ولادیمیر نیبوکوف ، اردو قالب ؛ قیصر نذیر خاور

( کچھ مصنف کے بارے میں )

ولادیمیر نیبوکوف ( پورا نام ؛ Vladimir Vladimirovich Nabokov ) وہ روسی نژاد امریکی مصنف ہے جو 22 اپریل 1890 ء میں سینٹ پیٹرزبرگ میں پیدا ہوا تھا ۔ اس کا باپ روسی اشرافیہ سے تعلق رکھنے والا ایک ’ کلاسیکی لبرل ‘ تھا ۔ وہ پہلے زار کی فوج میں تھا اور پہلی جنگ عظیم میں شامل رہا ۔بعد میں وہ مارچ 1917 ء میں بننے والی عبوری روسی حکومت میں سیکرٹری بھی رہا ۔ اکتوبر میں ‘ بالشیویک انقلاب ‘ کے بعد نیبوکوف خاندان پہلے کریمیا ، پھر مغربی یورپ ( برطانیہ، جرمنی، فرانس ) سے ہوتا ہوا مئی 1940 ء میں مینہٹن ، امریکہ جا آباد ہوا ۔ ’ لولیتا ‘ ( Lolita ) ، شائع شدہ 1955ء کی کامیابی کے بعد نیبوکوف یورپ واپس آ گیا اور 1961 ء میں سوئیزلینڈ میں جا آباد ہوا ۔ وہ وہیں 2 جولائی 1977 ء کو فوت ہوا ۔
ادب اپنی جگہ ، وہ علم حیوانیات ( خصوصی طور پر بھونروں اور تتلیوں ) میں دلچسپی رکھنے کے علاوہ شطرنج کی چالوں کا بھی ماہر تھا ۔ نیبوکوف بھی تمام عمر اپنے باپ کی طرح کلاسیکی لبرل رہا ۔ اسے سوویت روس سے کوئی دلچسپی نہ تھی اور نہ ہی امریکہ میں طلباء کی سیاسی سرگرمیاں اسے بھائیں ۔ وہ 1960 کی دہائی کی ’ نیو لیف‘ کی تحریک کو بھی پسند نہیں کرتا تھا اور اس کے حق میں مظاہرے کرنے والوں کو ‘ goofy hoodlums ‘ کہتے ہوئے ’ مقلد‘ ( Conformists ) قرار دیتا تھا ۔ وہ ویت نام کی جنگ کے حوالے سے رچرڈ نکسن اور امریکی پالیسی کا حامی تھا ۔ وہ خواتین ادیبوں کے بارے میں بھی معتصبانہ خیالات کا حامل تھا ۔ ایسے میں وہ اپنی بیوی ’ ویرا ‘ ، جو اس کی مترجم اور سیکرٹری بھی تھی ، کو بھی نہیں بخشتا تھا اور گلہ کرتا تھا کہ اسے ’ مرد ‘ مترجم / سیکرٹری دستیاب نہیں ۔ مذہب کے حوالے سے وہ ’ خدا ‘ کی خدائی کے بارے میں متذبذب تھا ۔
انگریزی زبان کو ذریعہ اظہار بنانے سے پہلے اس کے نو ناول روسی زبان میں چھپ چکے تھے جبکہ دسواں جو اس نے 1939 ءمیں لکھا تھا 1985 ء میں شائع ہوا ۔’ لولیتا ‘ ( Lolita ) اور ’ زرد آگ ‘ (Pale Fire ) اس کے انگریزی ناولوں میں اہم ہیں گو اس نے اس زبان میں نو ناول لکھے جن میں آخری 1970 کی دہائی کے وسط میں لکھا گیا تھا جو 2009 ء میں شائع ہوا ۔ ‘ لولیتا ‘ اپنے موضوع اور مواد کے اعتبار سے ایک متنازع ناول بھی رہا ؛ بظاہر یہ ایک پکی عمر کے معلم ْ پمبرٹ ‘ اور اس کی بارہ سالہ سوتیلی بیٹی ‘ ڈولیرس ‘ جسے وہ ‘ لولیتا ‘ کہہ کر بلاتا تھا ، کے جنسی تعلق کی کہانی پر مبنی ہے لیکن گہرائی میں جائیں تو اس کی بہت سی توجیہات کی جاتی ہیں کیونکہ اس میں بہت سے اشارے، کنایے اور الفاظ کا بدلائو موجود ہے ( امریکی فلم ڈائریکٹر ‘ سٹینلے ببرک نے 1962ء میں اس پر فلم بھی بنائی تھی جس میں وہ ، اس وقت کے سنسر کوڈ کی وجہ سے ناول کی اصل روح کو پردے پر نہیں دکھا سکا تھا اور اسے ناول سے خاصی تحریف کرنا پڑی تھی ۔ 1997ء میں امریکی نژاد فرانسیسی ڈائریکٹر ‘ اڈرین لائن ‘ نے بھی اس کو اپنی فلم کو موضوع بنایا ، گو اس نے ناول کے قریب ترین رہنےکی پوری کشش کی لیکن وہ بھی اس ناول کے کرداروں ‘ ہیمبرٹ ‘ اور ‘ لولیتا ‘ کے ساتھ انصاف نہ کر سکا ۔ ) اس کا ناول ‘ زرد آگ ‘ جو 999 مصرعوں پر مبنی ایک منظوم ناول ہے ، بھی خود میں کئی توجیہات لئے ہوئے ہے اور ایک اندازے کے مطابق اس پر سو کے لگ بھگ مطالعاتی اور تحیقیاتی مقالے لکھے جا چکے ہیں ۔ ترجمہ نگاری کے علاوہ اس کے چار ڈرامے اور شاعری کے دس مجموعے بھی ہیں ۔ اس کی کہانیوں کے گیارہ مجموعے ان کے علاوہ ہیں ۔
درج ذیل کہانی ‘ Signs and Symbols ‘ اس نے غالباً 1948 ء کے اوائل میں لکھی تھی جو ’ The New Yorker ‘ میں پہلی بار 15 مئی 1948 ء کو الٹ نام ‘ Symbols and Signs ‘ سے چھپی تھی ۔ بعد ازاں یہ اس کے افسانوں کے مجموعے ’ Nabokov’s Dozen ‘ ، شائع شدہ 1958 ء ، میں اپنے اصل نام سے شامل ہوئی ۔ نیبوکوف ’ مشار کے احساس ‘ (Synesthesia ) کا بھی شکار تھا ۔ نوجوانی سے ہی اسے نمبر پانچ اور اس کے سرخ رنگ پر اعتقاد تھا ۔ اس کے کام میں اس ‘ احساس ‘ کا اثر کافی جگہ نمایاں نظر آتا ہے ۔ اس کہانی میں بھی اس نے اس کے تین حصے کرتے ہوئے ان میں 7 ، 4 اور 19 پیرے بنائے ۔ جس سے مراد یہ تھی کہ کہانی کے مرکزی کردار 1947 ء میں موجود ہیں ۔ نقادوں کے مطابق یہ نیبوکوف کی سب سے اہم اور شاید واحد کہانی ہے جس کی سب سے زیادہ توجیحات پیش کی گئیں ۔ اس ضمن میں ’ یوری لیونگ ‘ کی کتاب ’Anatomy of a Short Story ‘ ، شائع شدہ 2012 ء صفحات 410 ، جو صرف اسی ایک کہانی کو ’ decipher ‘ کرتی ہے ، اہم ہے ۔

(نوٹ ؛ کہانی کے ’ Ciphers ‘ کو ’ decipher ‘ کرنا میں قاری پر چھوڑتا ہوں ۔ )

کہانی ؛ علامتیں اور اشارے

چار سالوں میں انہیں ایک بار پھر اس مسئلے کا سامنا کرنا پڑا تھا کہ وہ ایک نوجوان ، جس کا دماغ ناقابل علاج حد تک الٹ چکا تھا ، کے لئے ، سالگرہ کا ، کیا تحفہ لے کر جائیں ۔ اس کی کوئی خواہشات نہ تھیں ۔ اس کے اپنے خیال کے مطابق ، اس کے لئے انسان کی بنائی اشیاء یا تو ایسی شیطانی کارستانیاں تھیں جو مُرتعش مہلک تحریک کا باعث بنتی تھیں یا پھر ایسی پُر تعیش تھیں ، جن کا ، اس کی تجریدی دنیا میں کوئی استعمال نہ تھا ۔ ایسی بے شمار اشیاء بھی تھیں جو اسے خوفزدہ کر یا اکسا سکتی تھیں ؛ مثال کے طور پر ، ہر طرح کے آلات و اوزار پر پابندی تھی ۔ ایسے میں اس کے والدین نے معصومانہ اور مزیدار کھانے کی اشیاء کا انتخاب کیا ۔ ۔ ۔ دس چھوٹے مرتبانوں میں دس مختلف اقسام کے پھلوں کے ذائقے والی جیلیوں والی ٹوکری ۔
اس کی پیدائش کے وقت ، ان کی شادی کو مدت ہو چکی تھی ؛ اور برس ہا سال گزر جانے بعد اب وہ خاصے بوڑھے ہو چکے تھے۔ اس نے اپنے مٹھی بھر سرمئی بالوں کو لاپرواہی سے باندھا ہوتا اور سستے کالے کپڑے پہنے ہوتے ۔ اپنی ہمعمر خواتین کے برعکس ( جیسے کہ مسز سول ، جو اس کی ہمسائی تھی ، کا چہرہ ارغوانی روغن کے استعمال سے گلابی نظر آتا اور اس کی ٹوپی پھولوں کے گچھے سے ڈھکی ہوتی) ، اس کا چہرہ ، بہار کی سپید روشنی کی طرح سفید نظر آتا ۔ اس کا خاوند جو اپنے وطن میں مناسب حد تک کامیاب کاروباری شخص تھا ، اب نیویارک میں ، کلی طور پر اپنے بھائی اسحاق کا محتاج تھا جو امریکہ میں گزشتہ چالیس سال سے جم کر رہ رہا تھا ۔ وہ ان سے کبھی کبھار ہی ملتا تھا اور انہوں نے اس کا نام ’ پرنس‘ رکھا ہوا تھا ۔
جمعہ کے اس روز ، جب ان کے بیٹے کی سالگرہ تھی ، سب کچھ الٹ ہوا ۔ زمین دوز ریل گاڑی دو سٹیشنوں کے درمیان خراب ہوئی اور انہیں ایک چوتھائی گھنٹے تک اخبارات کے صفحوں کی سرسراہٹ اور اپنے دلوں کی دھڑکن کے سوا اور کچھ سنائی نہ دیا ۔ اس کے بعد انہوں نے جو بس پکڑنی تھی وہ بھی تاخیر سے پہنچی اور انہیں گلی کی نکڑ پر کافی دیر انتظار کرنا پڑا ، جب وہ آئی تو ہائی سکول کے باتونی بچوں سے ٹھنسی ہوئی تھی ۔ جب ، انہوں نے، اس بھوری راہداری پر، جو علاج گاہ تک جاتی تھی ، چلنا شروع کیا تو بارش شروع ہو گئی ۔ وہاں پہنچ کر بھی انہیں انتظار کرنا پڑا ۔ مختلف کمروں میں تلاش کے باوجود انہیں اپنا بیٹا نہ ملا جو پہلے ( افسردہ ، پھنسیوں سے بھرے ، برے طریقے سے منڈھے چہرے کے ساتھ ، مضطرب اور متذبذب) انہیں مل جایا کرتا تھا ۔ ایک نرس ، جسے وہ جانتے تھے ، نے پہلے تو ان کے سامنے آنے کی تکلیف ہی گوارا نہ کی اور جب وہ آئی تو اس نے انہیں چمکتی آنکھوں کے ساتھ بتایا کہ ان کے بیٹے نے پھر سے خودکشی کی کوشش کی تھی ۔ ویسے وہ ٹھیک تھا، اس نے بتایا ، لیکن اُن کا اس سے ملنا اسے پریشان کر سکتا تھا ۔ یہ جگہ ہولناک حد تک عملے کی مناسب تعداد سے محروم تھی اور اشیاء اتنی بے ترتیب اور ابتر حالت میں تھیں کہ انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ تحفہ دفتر میں جمع کرانے کی بجائے اگلی ملاقات کے وقت ہمراہ لائیں ۔
عمارت کے باہر اسے پھر انتظار کرنا پڑا کیونکہ اس کا خاوند چھاتہ کھولنے میں مصروف تھا ۔ پھر اس نے اس کا بازو تھام لیا ۔ وہ بار بار کھنکار رہا تھا ، پریشانی کے عالم میں وہ ایسے ہی کرتا تھا ۔ وہ ، گلی کی دوسرے جانب ، جب بس سٹینڈ کے سائے تلے پہنچے تو اس نے چھتری لپیٹ لی ۔ ان سے چند فٹ کے فاصلے پر ایک جھکے اور بوندیں ٹپکاتے درخت کے نیچے ایک بے یار و مددگار ، ننھا بے بال و پر پرندہ کیچڑ میں پھڑپھڑا رہا تھا ۔
زمین دوز سٹیشن تک پہنچنے تک بس کے سفر کے دوران میاں بیوی میں ایک لفظ کا بھی تبادلہ نہ ہوا اور ہر بار ، جب وہ اپنے خاوند کے بوڑھے ہاتھوں ، جو چھتری کو گرفت میں لئے رعشے سے لرزاں تھے ، کی سوجی ہوئی رگوں اور بھورے داغوں والی جلد کو دیکھتی تو اسے اپنی آنکھوں میں آنسوﺅں کا دباﺅ محسوس ہوتا ۔ اور جب اس نے دھیان بٹانے کے لئے ادھر ادھر دیکھنا شروع کیا تو اس نے ایک مسافر لڑکی ۔ ۔ ۔ ایک سیاہی مائل بالوں اور سرخ ناخنوں والے گرد آلود پیروں والی لڑکی جو ایک عمر رسیدہ عورت کے کندھے پر سر رکھے رو رہی تھی ۔ ۔ ۔ کو دیکھ کر ایک تعجب اور ہمدردی سے بھرا ہلکا سا جھٹکا محسوس کیا ۔ یہ عورت کس سے مشاہبہ تھی ؟ وہ ریبیکا بورسوونا سے ملتی جلتی تھی جس کی بیٹی ، کئی سال پہلے ’ مِنسخ‘ میں’ سالویچکس ‘ میں سے ایک کے ہاں بیاہی گئی تھی ۔
پچھلی بار بھی لڑکے نے خودکشی کی کوشش کی تھی : ڈاکٹروں کے مطابق ، اس کا طریقہ ’ دریافت ‘ کا ایک شاہکار تھا ؛ وہ کامیاب ہو گیا ہوتا اگر اس کے ایک حاسد ساتھی مریض نے یہ نہ سمجھا ہوتا کہ وہ اڑنے کی کوشش کر رہا تھا اور اس نے بروقت اسے ایسا کرنے سے روک دیا تھا ۔ وہ تو اصل میں اپنی ’ دنیا ‘ میں ایک سوراخ بنا کر اس سے بھاگ جانا چاہتا تھا ۔
اس کے’ تصوراتی دھوکے ‘ کا نظام یوں تو ایک سائنسی ما ہنامے کے ایک تفصیلی مقالے کو موضوع تھا جو ڈاکٹروں نے انہیں پڑھنے کے لئے دیا تھا لیکن اس سے بہت پہلے ہی انہوں نے اس معمے کا حل سوچ لیا ہوا تھا ۔ مقالے میں اسے ’ ریفرینشیل مینیا ‘ کا نام دیا گیا تھا ؛ ایسی بہت ہی غیر معمولی صورت میں مریض اپنے ارد گرد ہونے والے تمام واقعات کو ایک غلاف گردانتا ہے جس کا مرکز اس کی اپنی ذات اور شخصیت ہوتی ہے۔ وہ حقیقی لوگوں کو اس سازش سے نکال دیتا ہے کیونکہ اس کا خیال ہوتا ہے کہ وہ دیگر تمام سے زیادہ ذہین و فطین ہے ۔ وہ جہاں بھی جاتا ہے اس مظہر کی ہیت اس پر اپنا سایہ تانے رکھتی ہے ۔ اسے لگتا ہے جیسے تکتے آسمان میں بادل ایک دوسرے سے غیر محسوس اشاروں میں ہمکلام ہیں اور اسی کے بارے میں تفصیلی معلومات کا تبادلہ کر رہے ہیں اور رات پڑنے پر تاریک درخت آپس میں اشارے کرتے ہوئے اسی کے من کی باتیں کر رہے ہوتے ہیں ۔ پتھر ، داغ ، دھبے اور دھوپ کے ٹکڑے ، ناگوار اور ہولناک انداز میں ، ایسے خاکے اور نمونے بنا رہے ہوتے ہیں جن میں موجود خفیہ پیغامات کو اُسے لازماً اپنی گرفت میں لینا ہے ۔ وہ ہر شے کا مرکزی خیال ہے اور ہر شے میں ایک خفیہ پیغام چھپا ہے۔ اس کے ارد گرد ہر کوئی جاسوس ہے ۔ ان میں سے کچھ ایک دوسرے سے الگ تھلگ مشاہدے پر مامور ہیں جیسے شیشے جیسی سطحیں اور ساکت تالاب ؛ جبکہ دوسرے ، جیسے دکانوں کی کھڑکیوں میں لٹکے ’ کوٹ ‘ ، دل میں سنگساری کی خواہش لئے متعصب گواہ ہیں ؛ اور دیگر جیسے بہتا پانی یا طوفان ، دیوانے پن کی حد تک اختناق کا شکار ہوتے ہوئے اس کے بارے میں من گھڑت اور جھوٹے خیالات رکھتے ہیں اور اس کی حرکات کی بے ڈھنگی و غلط تعبیریں پیش کرتے ہیں ۔ اسے مسلسل محتاط رہنے کی ضرورت ہے اور اسے اپنے ہر لمحہ اور زندگی کے ہر جزو کو اشیاء کی پیچیدہ لہری نوعیت کو جاننے کے لئے مامور کرنا ہو گا ۔ اس ہوا کا بھی ، جو وہ خارج کرتا ہے ، کہیں نہ کہیں اندارج ہو رہا ہوتا ہے اور اس کے سانسوں کی تالیف کی جا رہی ہوتی ہے ۔ اگر بات اس کے قریبی گرد و پیش کے للکارنے تک ہی محدود ہوتی تو اور بات تھی ، لیکن افسوس ، ایسا نہیں تھا ! دور دراز سے آتے وحشی رسوائیوں کے سیلاب نہ صرف حجم میں بڑے بلکہ فصیح و قوی پوشیدہ معانی رکھتے ہیں ۔ اس کے خون کے ذروں کے خاکے لکھوکھا گنا بڑے کرکے وسیع میدانوں پر پھیلے ہوئے ہیں اور اس سے بھی پرے انتہائی اونچے اور ٹھوس پہاڑ ، گرینائٹ اور چیڑ کے درختوں کی صورت میں اس کی ہستی کی سچائی کا ماتم کر رہے ہوتے ہیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ ، جب ، زمین دوز ریل گاڑی کی گھن گرج اور وہاں کی آلودہ ہوا سے باہر نکلے تو دن کی روشنی کے آخری آثار سڑکوں پر روشن بتیوں میں مدغم ہو رہے تھے ۔ وہ کھانے کے لئے مچھلی خریدنا چاہتی تھی چنانچہ اس نے جیلی کے مرتبانوں والی ٹوکری اپنے خاوند کو پکڑائی اور اسے گھر جانے کے لئے کہا ۔ اس پر وہ اپنے معمولی مسکن کی طرف لوٹ آیا ، جب وہ تیسری منزل پر قدم رکھ رہا تھا تو اسے خیال آیا کہ اس نے تو ، دن میں کسی وقت ، چابیاں اپنی بیوی کو دے دی تھیں ۔
وہ وہیں سیڑھیوں پر خاموشی سے بیٹھ گیا اور اسی خاموشی کے عالم میں وہ تب اٹھا ، جب دس منٹ بعد اس کی بیوی تھکاوٹ اور افسردگی کے باوجود مسکراتی اور اپنے احمقانہ پن پر شرمسا ر بری طرح گھسٹ کر سیڑھیاں چڑھتی اوپر آئی ۔ وہ اپنے دو کمروں والے فلیٹ میں داخل ہوئے اور وہ فوراً آئینے کی طرف گیا ۔ اپنے انگوٹھوں کے دباﺅ سے اپنی باچھیں چیر کر منہ کھولتے ہوئے اور مکھوٹا اتارنے کی اذیت کا احساس لئے اس نے اپنے نئے لیکن تکلیف دہ مصنوعی دانتوں کو الگ کیا ۔ پھر وہ اس وقت تک روسی اخبار پڑھتا رہا جب تک اس کی بیوی نے کھانے کی میز نہ لگا دی ۔ اخبار پڑھتے پڑھتے ہی اس نے وہ زرد کھانا کھایا جس کو چبانے کے لئے دانتوں کی ضرورت نہ تھی ۔ وہ اس کی ذہنی کیفیتوں کو جانتی تھی اس لئے وہ خاموش رہی ۔
وہ ، جب ، سونے کے لئے چلا گیا تو بھی وہ اپنے میلے کچیلے تاش کے پتوں اور پرانی تصویروں کے البموں کے ساتھ اسی کمرے میں ہی رہی ۔ تنگ راہداری کے پرلی طرف جہاں بارش کی بوندیں اندھیرے میں کوڑا دانوں پر ٹپ ٹپ گر رہی تھیں اور کھڑکیوں میں مدہم سی روشنی تھی ، ان میں سے ایک سے بے ترتیب بستر پر کالی پتلون پہنے، الٹا لیٹا ایک آدمی نظر آ رہا تھا جس کی کہنیاں اٹھی ہوئی تھیں اور اس کے ہاتھوں نے سر کو جکڑ رکھا تھا ۔ اس نے اپنی کھڑکی کے پردے گرا دئیے اور تصویریں دیکھنے لگی ۔ بچے کے طور پر وہ عام بچوں کے مقابلے میں کچھ زیادہ ہی حیران نظر رہا تھا ۔ ایک تصویر البم کی ایک تہہ سے باہر نکل آئی جس میں ان کی وہ جرمن خادمہ ، جو اُن کے پاس ’ لیپزک ‘ میں تھی ، اپنے فربہ چہرے والے منگیتر کے ساتھ کھڑی تھی ۔ اس نے البم کے صفحے پلٹنا شروع کئے : منسخ ، انقلاب ، لیپزک ، برلن ، پھر لیپزک ، ایک ترچھی چھت والے گھر کا ماتھا جو بہت ہی دھندلا تھا ۔ ایک باغ میں ایک چار سالہ شرمیلا سا لڑکا ماتھے پر شکنیں ڈالے ، توجہ کی متمنی گلہری سے پرے دیکھ رہا تھا جیسے وہ کسی بھی اجنبی کو دیکھ کر منہ پھیر لیا کرتا تھا ۔ اور یہ خالہ ’ روزا ‘ تھیں جو خشمناک آنکھوں والی ایک جھگڑالو اورکٹیلی عمر رسیدہ خاتون تھیں ۔ وہ بری خبروں اور لرزا دینے والے زمانے میں زندہ تھیں جب دیوالیہ پنے ، گاڑیوں کے حادثوں اورسرطان کے پھیلنے جیسی خبریں عام تھیں ۔ پھر جرمنوں نے انہیں ، ان سب کے ساتھ ، جن کے بارے میں وہ فکر مند رہا کرتی تھیں ، مار دیا تھا ۔ بچہ اب چھ سال کا ہو گیا تھا ۔ ۔ ۔ وہ اپسے پرندوں کی تصویریں بناتا تھا جن کے ہاتھ اور پاﺅں انسانوں جیسے ہوتے اور جو ایسے ’ بڑوں ‘ کی طرح سو نہ پاتے جو ’ جگراتے‘ کے مرض کا شکار ہوتے۔ اس کا ایک عم زاد اب شطرنج کا اچھا کھلاڑی بن چکا تھا ۔ لڑکا ، جو اب آٹھ سال کا تھا ، مشکل سے ہی کچھ سمجھ پاتا تھا ۔ وہ راہداریوں میں سے گزرتے ہوئے ’ وال پیپرز‘ سے خوف کھاتا ، کتابوں میں کئی تصویروں ، جن میں چٹانوں اور پہاڑی علاقوں کی خیالی منظر کشی یا بیل گاڑی کا ایک پرانا پہیہ ایک اجڑے درخت سے لٹکا ہوتا ، کو دیکھ کر ڈرتا ۔ اس تصویر میں وہ دس سال کا تھا ۔ ۔ ۔ وہ سال جب انہوں نے یورپ کو خیر باد کہا تھا ۔ پھر اسے سفر کی ذلت آمیز مشکلات ، شرمندگی اور خود پر کھایا جانے والا ترس یاد آیا ، وہ اکھڑ ، شوریدہ اور پچھڑے ہوئے بچے یاد آئے جو خصوصی بچوں کے اس ادارے میں موجود تھے جہاں انہوں نے اپنے بیٹے کو امریکہ پہنچ کر داخل کرایا تھا ۔ اور، اور پھر ان کی زندگی میں وہ وقت آیا جب اسے نمونیہ ہوا اور اس نے اس سے شفایاب ہونے میں خاصا وقت لیا تھا ۔ شفایابی کے بعد اس کے یہ معمولی وہم وخبط ، جنہیں اس کے والدین ڈھیٹ پنے سے قدرت کی طرف سے عطا کردہ نرالا پن سمجھتے رہے تھے ، کچھ ایسے پختہ ہوئے کہ ان کے منطقی ادغام نے ایک پیچیدہ الجھاﺅ کھڑا کر دیا کہ عام ذہن کے لئے اسے سمجھنا ناممکن ہو گیا ۔
اس نے یہ سب بلکہ اس سے بھی کہیں زیادہ کو حقیقت مان لیا تھا ، کہ آخر ، ایک کے بعد دوسری خوشی کے چھن جانے کو مان لینا ہی تو زندگی ہے ۔ اور اس کے معاملے میں تو خوشی کا دخل کم جبکہ بہتری کے فقط کچھ امکانات ہی ممکن تھے ۔ اس نے بار بار عود کر آتی درد کی ان لہروں کے بارے میں سوچا جن کو وہ اور اس کا خاوند برداشت کرتے چلے آ رہے تھے ؛ جو اس اذیت سے ابھرتیں تھیں جو نظر نہ آنے والے جن بھوت ان کے بچے کو نجانے کس انداز میں پہنچا رہے تھے ؛ جبکہ دنیا میں لا متناہی حد تک نزاکت اور رحم دلی بھری تھی؛ لیکن اس کا ہونا نہ ہونا ان کے لئے بے معانی تھا کہ اسے یا تو ضائع کردیا یا پھر کچل دیا گیا تھا ؛ یا یہ ان نظرانداز کئے گئے بچوں کے پاگل پنے میں بدل دی گئی تھیں جو گندے کونے کدروں میں اپنے آپ سے باتیں کرتے تھے ؛ یہ ایسی جنگلی گھاس پھونس تھی جو کسان کی آ نکھوں سے اوجھل نہ رہ سکتی تھی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نصف شب کے قریب اس نے ، وہیں بیٹھے بیٹھے اپنے خاوند کی دکھ بھری آواز سنی ۔ وہ لڑکھڑا کر چلتا ہوا اندر آیا ۔ اس نے اب ’ نائٹ گاﺅن ‘ اور اس پر اپنا پرانا ’ آگستینی کالر‘ والا اوور کوٹ پہن رکھا تھا جسے وہ ہمیشہ اپنے عمدہ نیلے ’ باتھ روب ‘ پر ترجیح دیتا تھا ۔
” میں سو نہیں پا رہا ! “ ، وہ چلایا ۔
” ایسا کیا ہے ، کہ تم سو نہیں پا رہے“ ، اس نے پوچھا ، ” حالانکہ تم بری طرح تھکے ہوئے تھے ۔“
” میں اس لئے سو نہیں پا رہا کیونکہ میں مر رہا ہوں “ ، اس نے کہا اور کاﺅچ پر لیٹ گیا ۔
” کیا تمہیں معدے میں تکلیف ہے؟ کیا تم چاہتے ہو کہ میں ڈاکٹر سولوف کو بلاﺅں ؟ “
” ڈاکٹر نہیں ، ڈاکٹر نہیں “ ، وہ ماتمی آواز میں چلایا ، ” ڈاکٹر جائیں جہنم میں ! ہمیں جلد ہی اسے وہاں سے نکالنا ہو گا ، ورنہ ہم اس کے ذمہ دار ہوں گے۔ ۔ ۔ ذمہ دار ! “ ، وہ تیزی سے اٹھ کر بیٹھ گیا ۔ اس کے پاﺅں فرش پر تھے اور وہ بند مٹھی سے اپنے ماتھے پر مکیاں مار رہا تھا ۔
” ٹھیک ہے“ ، اس نے دھیمے لہجے میں کہا ، ” ہم کل صبح اسے گھر لے آئیں گے ۔ “
” مجھے چائے کی طلب ہو رہی ہے “ ، اس کے خاوند نے کہا اور باہر غسل خانے میں چلا گیا ۔
وہ مشکل سے جھکی اور اس نے فرش پر گرے تاش کے کچھ پتے اور ایک دو تصویریں اٹھائیں ۔ ۔ ۔ پان کا گولا ، حکم کا نہلا ، حکم کا یکا ، خادمہ ایلسا اور اس کا وحشی عاشق ۔ جب اس کا خاوند لوٹا تو اس کے حوصلہ بلند تھا اور وہ اونچی آواز میں بولا ، ” میں نے سب کچھ طے کر لیا ہے ، ہم اسے سونے والا کمرہ دے دیں گے ۔ ہم دونوں باری باری رات کا ایک ایک حصہ اس کے ساتھ گزاریں گے اور باقی وقت اس کاﺅچ پر ۔ اس کے معائنے کے لئے ہم ہفتے میں کم از کم دو بار ڈاکٹر کو بلائیں گے ۔ یہ اہم نہیں ہے کہ ’پرنس‘ کیا کہے گا ۔ وہ کہہ بھی کیا سکتا ہے ، ظاہر ہے ، یہ نیا انتظام بہت سستا رہے گا ۔ “
ٹیلی فون کی گھنٹی بجی ۔ اس کے بجنے کے لئے یہ ایک نامناسب وقت تھا ۔ وہ کمرے کے درمیان میں کھڑا اپنے ایک پیر سے اترے سلیپر کو پہننے کی کوشش کر رہا تھا ۔ اس نے بچگانہ انداز میں اپنا پوپلا منہ کھول کر حیرانی سے بیوی کی طرف دیکھا ۔ وہ چونکہ اس سے زیادہ انگریزی جانتی تھی اس لئے فون بھی وہی سنا کرتی تھی ۔
” کیا میں چارلی سے بات کر سکتی ہوں؟ “ ، ایک لڑکی کی مدہم اور شکستہ آواز اس تک پہنچی ۔
” تم نے کس نمبر پر فون کیا ہے ؟ ۔ ۔ ۔ نہیں ، یہ غلط نمبر ہے ۔“
اس نے ریسیور کو آہستگی سے کریڈل پر رکھتے ہوئے اپنے دل پر ہاتھ رکھا ۔
” اس نے مجھے خوفزدہ کر دیا تھا “ ، وہ بولی ۔
وہ عجلت سے مسکرایا اور پھر اپنی جذبات بھری خود کلامی میں مشغول ہو گیا ۔ جیسے ہی دن چڑھے گا وہ اسے لے آئیں گے ۔ اس کی حفاظت کے لئے وہ سارے چاقو چھریاں تالے والے دراز میں رکھیں گے ۔ بری سے بری حالت میں بھی اس نے کسی دوسرے کو نقصان نہیں پہنچایا تھا ۔
فون کی گھنٹی دوبارہ بجی ۔
اسی مدہم اور شکستہ نوجوان آواز نے دوبارہ چارلی کے بارے میں پوچھا ۔
” تم غلط نمبر گھما رہی ہو ۔ میں تمہیں بتاتی ہوں کہ تم سے کیا غلطی ہو رہی ہے ۔ تم صفر کی جگہ ’ O ‘ ( او ) دبا رہی ہو ۔“ ، اس نے فون پھر سے بند کر دیا ۔
وہ آدھی رات کے وقت بیٹھ کر چائے کا مزہ لینے لگے ۔ وہ سُڑک سُڑک کر چائے پی رہا تھا ، اس کا چہرہ آسودہ تھا ۔ وہ جب بھی چائے کا گلاس اٹھاتا تو اسے گول گو ل گھماتا تاکہ چینی اس میں اچھی طرح گھل سکے ۔ اس کے ماتھے کے ایک طرف کی ایک رگ غیر معمولی طور پر پھولی ہوئی تھی اور اس کی ٹھوڑی پر سفید بال چمک رہے تھے۔ سالگرہ کا تحفہ سامنے میز پر پڑا تھا ۔ جب اس کی بیوی اس کے لئے چائے کا دوسرا گلاس بنا رہی تھی ، اس نے اپنی عینک ناک پر جمائی اور خوشدلی سے چمکیلے ، زرد ، سبز اور لال ننھے مرتبانوں کا پھر سے جائزہ لینا شروع کر دیا ۔ اس کے لجلجے بھیگے ہونٹوں سے مرتبانوں پر لگی پرچیوں پر لکھے ناموں کی آواز نکلنے لگی ۔ ۔ ۔ ۔ خوبانی ، انگور ، ساحلی آلوچے ، ناشپاتی ۔ وہ سیب والے مرتبان کو پکڑے دیکھ رہا تھا کہ فون کی گھنٹی پھر سے بجی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’ ریفرینشیل مینیا ‘ = Referential mania

About meharafroz

Check Also

Short Story By Hamid Siraj

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *