Wednesday , 13 December 2017
Breaking News

Translated Story By Qaisar Nazir Khawar

سفید ہاتھیوں جیسے پہاڑ
تحریر؛ اَرنسٹ ہیمنگوئے ، اردو قالب ؛ قیصر نذیر خاور

(کچھ مصنف کے بارے میں )

” چلو اب چلتے ہیں ۔ ”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

”شکست انسان کا مقدر نہیں ۔ وہ مر سکتا ہے لیکن ہار نہیں سکتا ۔ “
” کون کیسے جیا اور کس جرات سے جیا ، اصل میں اسے دوسروں سے ممتاز کرتا ہے ورنہ انت تو سب کا موت ہی ہے ۔ “
یہ سوچ امریکی ادیب اور صحافی اَرنسٹ ہمینگوئے (Ernest Hemingway ، جولائی، 21 ، سن 1899ء تا جولائی ، 2 ، سن 1961ء ) کی ہے ۔
ایک جگہ اس نے لکھا ؛
” میں سننا پسند کرتا ہوں ۔ میں نے غور سے سنا اور بہت کچھ سیکھا ، اکثر لوگ تو سنتے ہی ںہیں ۔ “
اس نے ادب کی شدید لگن میں کالج کی روایتی تعلیم کو خیر باد کہا ، فوج میں بھرتی ہوا اور پہلی جنگ عظیم میں بطور ایمبولنیس ڈرائیور جنگ کی تباہ کاریوں کا مشاہدہ کیا اور بری طرح زخمی ہوکر موت سے دست بدست لڑا ۔ دیس دیس پھرا ، سپین کی سول وار (1936ء تا 1939 ء) میں ایک بار پھر موت کی تباہ کاریاں اور حق و باطل کو آمنے سامنے دیکھا ۔ واپس آ کر اپنے تجربات کو ناول ” For Whom the Bell Toll “ میں ڈھالا ۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران وہ اتحادی فوجوں کی نارمنڈی میں آمد اور پیرس میں جرمنوں کی پسپائی کے وقت بھی جان ہتھیلی پہ لئے صحافتی فراض سرانجام دیتا رہا ۔
اس کی زندگی میں اس کے سات ناول ، افسانوں کے چھ مجموعے اور مضامین کے دو مجموعے شائع ہوئے جبکہ اس کے مرنے کے بعد مزید تین ناول ، چار افسانوی مجموعے اور مضامین کے تین مجموعے منظر عام پر آئے ۔
امریکی ادب کے قارئین اور طلباء کے لئے اس کا کام کلاسیکی ادب کا درجہ رکھتا ہے ۔ اس کی اہم ترین تحریروں میں اس کے ناول ٹو ہیو اینڈ ہیو ناٹ ( To have and Have Not) ، اے فئیر ویل ٹو آرمز (A Farewell to Arms ) “ ، فار ہوم دی بیل ٹال (For Whom the Bell Toll ) ،“ اور بوڑھا اور سمندر ”Old Man and the Sea“ نہ صرف امریکی ادب میں ممتاز ہیں بلکہ عالمی ادب میں بھی بلند مقام رکھتے ہیں ۔ اس کی ادبی خدمات کے پیش نظر 1954ء کا نوبل انعام برائے ادب اس کی نذر کیا گیا ۔ انداز بیاں میں اس کے اختصار نے پوری دنیا کے ادب کو متاثر کیا اور اس کی مہم جُوانہ زندگی نے بعد کی نسلوں کو پیروی کرائی کہ کیسے سفر اور اس کا عمیق مشاہدانہ ادب میں رس گھولتا ہے ۔ 1952ء میں اپنے سمندری سفروں پر مبنی تجربات کو ” بوڑھا اور سمندر“ کی شکل دینے کے بعد جب وہ افریقہ گیا تو دو بار جہازوں کی تباہی میں موت کو بھر سے غچہ دیا ۔
وہ اپنے جدیدیت پسندی کے رجحانات ، سپین سول وار میں رپبلکنز کی حمایت ، جنرل فرانکو کی مخالفت اور کیوبا سے اپنے تعلقات کی بنا پر امریکی حکومت کی نظروں میں کھٹکتا رہا اور ایف بی آئی نے اسے اپنی نظروں سے کبھی بھی اوجھل نہ ہونے دیا ۔ اس مہم جو صحافی اور ادیب نے جس نے موت کو کئی بار لانگڑی مارکر گرایا تھا ، اپنی 62 ویں سالگرہ کے منانے سے چند روز پہلے ہی اپنی پسندیدہ شاٹ گن سے خود کو گولی مار کرموت سے کہا تھا؛
” چلو اب چلتے ہیں ۔ “
اس کی درج ذیل کہانی ‘ Hills like white Elephants ‘ پہلی بار1927ء میں پیرس سے نکلنے والے اپنے وقت کے مشہور ادبی رسالے ’ Transition ‘ کے اگست کے شمارے میں شائع ہوئی تھی ۔ بعد ازاں یہ کہانی اسی سال اس کی کہانیوں کے دوسرے مجموعے ’ Men Without Women ‘ کا حصہ بنی ( یاد رہے کہ جاپانی ادیب ہاروکی موراکامی نے اپنے ایک افسانے اور اپنی کہانیوں کے چھوتھے مجموعے کا نام اسی سے مستعار لیا ہے جو 2014 ء میں سامنے آئی تھی ) ، درج ذیل کہانی اس مجموعے کا تیسرا افسانہ ہے اور مصنف کے بہترین افسانوں میں سے ایک شمار کی جاتا ہے اور دنیا کی کئی یونیورسٹیوں میں ‘ تخلیقی تحریر ‘ کے نصاب میں شامل ہے ۔
سفید ہاتھیوں جیسے پہاڑ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وادی ِ’ اِبرو‘ کے پار پہاڑیوں کا سلسلہ طویل اور سفید تھا ۔ اِس طرف نہ تو درخت تھے اور نہ ہی کوئی سایہ ۔ سٹیشن کی عمارت ریل کی دوپٹریوں کے درمیان تپتی دھوپ میں ایستادہ تھی ۔ سٹیشن کے ایک طرف ،بالکل ساتھ ہی ، عمارت کے گرم سائے میں مئے خانے کا کھلا دروازہ بانس کے بنٹوں سے بنی لڑیوں والے پردے سے ڈھکا ہوا تھا تاکہ مکھیاں اندر نہ آ سکیں ۔ امریکی اور اس کی ساتھی لڑکی عمارت کے باہر اس سائے میں ایک میز کے گرد بیٹھے تھے ۔ سخت گرمی تھی اور بارسلونا سے آنے والی ’ ایکسپریس‘ نے اگلے چالیس منٹوں میں آنا تھا اور دو منٹ کے لئے رک کر میڈ رڈ کے لئے روانہ ہو جانا تھا ۔
” ہمیں کیا پینا چاہیے ؟ “ ، لڑکی نے پوچھا ۔ اس نے اپنی ٹوپی اتار کر میز پر رکھی ہوئی تھی ۔
” سخت گرمی ہے “ ، آدمی نے کہا ۔
” چلو بیئر پیتے ہیں ۔“
” دو بئیردیں “ ، آدمی نے پردے کی طرف منہ کرکے آواز دی ۔
” بڑی والی ؟ “ ، اندر سے ایک عورت نے پوچھا ۔
” ہاں ۔ دو بڑی والی ۔ “
عورت بئیر کے دو گلاس اور پھروں کے بنے دو چھوٹے چپٹے ’ بچھونے‘ لے آئی اور انہیں میز پر رکھتے ہوئے مرد اور لڑکی کو دیکھا ۔ لڑکی دور پہاڑیوں کی قطار کو دیکھ رہی تھی ۔ یہ دھوپ میں سفید نظر آ رہی تھیں جبکہ وادی کے مضافات خشک اور بھورے تھے ۔
” یہ سفید ہاتھیوں کی مانند دکھائی دیتے ہیں “ ، لڑکی نے کہا ۔
” میں نے سفید ہاتھی کبھی نہیں دیکھا “ ، مرد نے بئیر پیتے ہوئے کہا ۔
” درست ، تم نے نہیں دیکھا ہو گا ۔ “
” میں نے شاید دیکھا ہو “ ، آدمی نے جواب دیا ، ” تمہارا یہ کہہ دینا کہ میں نے نہیں دیکھا ہو گا کچھ ثابت نہیں کرتا ۔ “
لڑکی نے بنٹوں والے پردے کی طرف دیکھا ۔ انہوں نے اس پر کچھ لکھ رکھا ہے “ ، وہ بولی ، ” یہ کیا لکھا ہے ؟ “
” اینس ڈیل ٹورو۔ یہ ایک مشروب ہے ۔“
” کیا ہم اسے پی کر دیکھیں ۔ “
آدمی نے پردے کی طرف منہ کرکے آواز دی ؛ ” سنو ! “
مئے خانے سے عورت باہر آئی ۔
” چار ریلس “
” ہمیں دو ’ اینس ڈیل ٹورو‘ درکار ہیں “
” پانی کے ساتھ ؟ “
” کیا تم اسے پانی کے ساتھ لینا چاہتی ہو ؟ ”
” مجھے نہیں پتہ “ ، لڑکی بولی ، ” کیا یہ پانی کے ساتھ اچھا ہوتا ہے ؟ “
” ٹھیک ہی ہوتا ہے ۔ “
کیا آپ کو یہ پانی کے ساتھ چاہئیں ؟ “ ، عورت نے پھر پوچھا ۔
” ہاں ، پانی کے ساتھ ۔ “
” اس کا ذائقہ ملیٹھی جیسا ہے “ ، لڑکی نے کہا اور گلاس رکھ دیا ۔
”یہاں سب ، کچھ ایسا ہی ہے ۔ “
” ہاں “ ، لڑکی بولی ، ” ہر شے کا ذائقہ ملیٹھی جیسا ہی ہے ۔ خاص طور ان سب اشیاء ، جن کا تم عرصے سے انتظارکر رہے ہو جیسا کہ ’ ناگ دانہ‘ ۔ “
”چھوڑو ، جانے بھی دو ، “
” تم نے ہی بات شروع کی تھی “ ، لڑکی بولی ، ” میں تو یونہی تمہاری ٹانگ کھینچ رہی تھی ورنہ میرا وقت تو بہت اچھا گزر رہا تھا ۔ “
” ٹھیک ہے ، چلو کوشش کرتے ہیں کہ ہمارا وقت اچھا ہی گزرے ۔ “
” ٹھیک ہے ۔ میں تو یہی کوشش کر رہی تھی ۔ میں نے کہا تھا کہ پہاڑ سفید ہاتھیوں جیسے نظر آ رہے ہیں ۔ کیا دن واقعی کچھ زیادہ ہی روشن نہیں ۔ “
”ہاں کچھ ایسا ہی ہے ۔ “
” میں نیا مشروب پینا چاہتی تھی ۔ ہم سب ایسا ہی کرتے ہیں چیزوں کو دیکھتے ہیں اور نئے نئے مشروب پیتے ہیں ۔ “
” ہاں شاید ایسا ہی ہوتا ہے ۔ “
لڑکی نے پھر پہاڑوں کی اوّر دیکھا ۔
یہ بہت خوبصورت پہاڑ ہیں “ ، اس نے کہا ، ” یہ حقیقت میں سفید ہاتھیوں کی طرح نہیں ہیں ۔ میرا مطلب تو صرف یہ تھا کہ درختوں کے درمیان سے دیکھتے ہوئے ان کی سطح ایسی نظر آ رہی تھی ۔ “
” کیا ہم بیئر کا ایک ایک گلاس اور پی لیں ؟ “
” ٹھیک ہے ۔ “
گرم ہوا کے جھونکے نے بنٹوں والے پردے کو میز سے لا ٹکرایا ۔
” بئیرنے اچھا اور ٹھنڈک بھرا احساس دلایا ہے“ ، آدمی نے کہا ۔
” ہاں یہ مزیدار ہے “ ، لڑکی نے جوب دیا ۔
” یہ بہت ہی معمولی جراحی ہے ، جِگ “ ، مرد بولا ، ” بلکہ یہ سرے سے جراحی ہے ہی نہیں ۔ “
لڑکی یہ سن کر زمین کو تکنے لگی جس پر میز کی ٹانگیں جمی تھیں ۔
” جِگ ، مجھے معلوم ہے کہ تم برا نہیں مناﺅ گی ۔ حقیقت میں یہ کچھ ہے بھی نہیں ۔ بس ہوا اندر لے جانے کی بات ہے ۔ “
لڑکی کچھ نہ بولی ۔
”میں تمہارے ساتھ جاﺅں گا اور سارا وقت تمہارے ساتھ ہی رہوں گا ۔ وہ بس ہوا اندر داخل کریں گے اور پھر سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا ۔ “
” پھر ہم بعد میں کیا کریں گے ؟ “
”ہم بعد میں اسی طرح خوش و خرم رہیں گے جیسے پہلے تھے ۔ “
” تمہیں ایسا کیوں لگتا ہے ؟ “
” یہی ایک چیز ہے جو ہم کو پریشان کر رہی ہے ۔ یہی وہ واحد بات ہے جس نے ہمیں ناخوش کر دیا ہے ۔ “
لڑکی نے بنٹوں والے پردے کی طرف دیکھا ، اپنا ہاتھ آگے کیا اور بنٹوں کی دو لڑیوں کو تھام لیا ۔
” اور تمہارا خیال ہے کہ اس کے بعد سب ٹھیک ہو جائے گا اور ہماری ناخوشی ختم ہو جائے گی ۔ “
” میں جانتا ہوں کہ ایسا ہی ہو گا ۔ تمہیں ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ میں بہت سے لوگوں کو جانتا ہوں جو یہ کر چکے ہیں ۔ “
” اور بعد میں وہ سب خوش تھے “ ، لڑکی بولی ، ” چنانچہ میرے ساتھ بھی ایسا ہی ہو گا ۔ “
” اچھا ٹھیک ہے “ ، آدمی بولا ، ” اگر تم یہ نہیں کرنا چاہتیں تو مت کرو ۔ میں تمہیں ایسا کرنے کے لئے نہیں کہوں گا کیونکہ تم ایسا نہیں کرنا چاہتیں ۔ لیکن مجھے پتہ ہے کہ یہ بہت ہی سادہ سا عمل ہے ۔ “
” اور تم چاہتے ہو کہ یہ عمل کر لیا جائے ؟ “
” میرا خیال ہے کہ ایسا کرنا ہی سب سے بہتر ہے ۔ لیکن میں نہیں چاہوں گا کہ تم کرو ، اگر تم واقعی نہیں کرنا چاہتیں ۔ “
” لیکن اگر میں کر لوں تو تمہیں خوشی ہو گی اور چیزیں پہلے کی طرح ہو جائیں گی اور تم سے پیار کرتے رہو گے ؟ “
” مجھے معلوم ہے ۔ اور۔ ۔ ۔ اور اگر میں کرتی ہوں تب سب کچھ پھر سے اچھا ہو جائے گا ، چاہے میں یہ بھی کہوں کہ تمام اشیاء سفید ہاتھیوں کی طرح کی ہیں ، اور تمہیں یہ بات پسند آئے گی ؟ “
” مجھے بہت اچھی لگے گی بلکہ یہ مجھے ابھی بھی اچھی لگی ہے لیکن ابھی میں اس بارے میں سوچ نہیں پا رہا ۔ تمہیں تو پتہ ہی ہے کہ جب میں پریشان ہوتا ہوں تو کیسا ہو جاتا ہوں ۔ “
” اگر میں ایسا کر لیتی ہوں توکیا تمہاری پریشانی ہمیشہ کے لئے ختم ہو جائے گی ؟ “
” میں اس کے بارے میں بالکل متفکر نہیں ہوں گا کیونکہ یہ بہت ہی سادہ عمل ہے ۔ “
”تب ٹھیک ہے ، میں اسے کر لوں گی کیونکہ مجھے اپنے بارے میں کچھ زیادہ تردد نہیں ہے ۔ “
”تمہارا کیا مطلب ہے ؟ “
” مجھے اپنی کچھ زیادہ پرواہ نہیں ہے ۔ “
” خیر ، مجھے تو تمہارا بہت خیال ہے ۔ “
” ہاں ٹھیک ہے ، لیکن مجھے اپنا خیال بالکل نہیں ہے ۔ اور میں یہ کر لوں گی اور پھر سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا ۔ “
” تم اسے جیسا محسوس کر رہی ہو تومیں نہیں چاہوں گا کہ تم ایسا کرو ۔ “
لڑکی کھڑی ہو گئی اور سٹیشن کے آخر تک چلتی گئی ۔ پرلی طرف اناج کے کھیت تھے اور دریائے اِبرو کے کناروں پردرخت بھی موجود تھے ۔ دریا سے دور ، ان کے بہت پیچھے پہاڑ تھے ۔ ایک بادل کا سایہ اناج کے ایک کھیت پر امڈ آیا اور وہ درختوں کے درمیان سے دریا کو دیکھنے لگی ۔
” اور ہم یہ سب حاصل کر سکیں گے “ ، وہ بولی ، ” اور ہم سب کچھ پا لیں گے اور ۔ ۔ ۔ اور ہر آنے والے دن ہم سب کچھ ناممکن بنا ڈالیں گے ۔ “
” تم نے کیا کہا ؟ “
” میں نے کہا کہ ہم ہر شے پا لیں گے ۔ “
” ہم سب کچھ حاصل کر سکتے ہیں ۔ “
” نہیں ، ہم نہیں کر سکتے ۔ “
” ہم ہر جگہ جا سکتے ہیں ۔ “
” نہیں ، ہم نہیں جا سکتے ۔ اب یہ ہمارا نہیں رہا ۔ “
” یہ ہمارا ہے ۔ “
” نہیں ، یہ نہیں ہے ، جب وہ اسے ہم سے چھین لیتے ہیں تو ہم اسے پھر کبھی واپس نہیں لے پاتے ۔ “
” لیکن ابھی تو انہوں نے ہم سے کچھ لیا ہی نہیں ہے ۔ “
” ہم ا نتظار کریں گے اور دیکھیں گے ۔ “
” سائے میں واپس آ جاﺅ “ ، وہ بولا ، ” تمہیں ایسا نہیں سوچنا چاہیے ۔ “
” میں کچھ بھی محسوس نہیں کر رہی “ ، لڑکی بولی ، ” مجھے بس چیزوں کا پتہ ہے ۔“
” میں نہیں چاہتا کہ تم کچھ ایسا کرو جو تم نہیں کرنا چاہتیں ۔ ۔ ۔ ۔ “
” اور یہ میرے لئے اچھا بھی نہیں ہے “ ، اس نے جواب دیا ، ” مجھے معلوم ہے ۔ کیا ہم ایک اور بئیر پی سکتے ہیں ؟ “
” ٹھیک ہے ۔ لیکن تمہیں یہ بات سمجھنا ہو گی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “
”میں سمجھتی ہوں“ ، وہ بولی ، ” کیا ہم بولنا بند نہیں کر سکتے ؟ “
وہ میز کے گرد بیٹھ گئے اور لڑکی نے وادی کے پرلی طرف خشک پہاڑوں کو دیکھنا شروع کر دیا جبکہ مرد کبھی اسے اور کبھی میز کو دیکھتا ۔ ” تمہیں یہ سمجھنا ہو گا “ ، ” وہ بولا ، ” کہ میں نہیں چاہتا کہ تم وہ کرو جو تم نہیں کرنا چاہتیں ۔ میں مکمل طور تمہارے ساتھ کھڑا ہوں گا اگر یہ تمہارے لئے کوئی معانی رکھتا ہو ۔ “
” کیا یہ تمہارے لئے کوئی معانی نہیں رکھتا ؟ ہم دونوں ساتھ ساتھ بھی تو چل سکتے ہیں ۔ “
” بالکل معانی رکھتا ہے ۔ لیکن میں تمہارے علاوہ کسی اور کو نہیں چاہتا ۔ میں کسی اور کو نہیں چاہتا ۔ اور تمہیں معلوم ہے کہ یہ بہت ہی سادہ سا عمل ہے ۔ “
” ہاں تم جانتے ہو کہ یہ ایک سادہ سا عمل ہے ۔ “
” ٹھیک ہے ، تم ایسا کہہ سکتی ہو لیکن میں واقعی جانتا ہوں ۔“
” کیا تم اس وقت میرے لئے کچھ کر سکتے ہو ؟ “
” میں تمہارے لئے کچھ بھی کر سکتا ہوں ۔ “
” تو برائے مہربانی ۔ ۔ ۔ بڑی مہربانی ہو گی ۔ ۔ ۔ مہربانی کرو اور چپ ہو جاﺅ ؟ “
وہ کچھ نہ بولا اور خاموشی سے سٹیشن کی دیوار کے ساتھ پڑے بکسوں کو دیکھنے لگا ۔ اِن پر اُن سب ہوٹلوں کی پرچیاں لگی ہوئیں تھیں جن میں انہوں نے راتیں گزاریں تھیں ۔
” لیکن میں نہیں چاہتا کہ تم ۔ ۔ ۔ “ ، اس نے کہا ، ” خیر، مجھے اس سب کی کوئی پرواہ نہیں ہے ۔ “
” میں چیخنا شروع کر دوں گی “ ، لڑکی جھلا کر بولی ۔
عورت پردے کے پیچھے سے بئیر کے دو گلاس لئے باہر آئی اور اس نے انہیں لا کر پہلے سے نم ہوئے ننھے بچھونوں پر رکھ دیا ۔
” ریل گاڑی پانچ منٹ میں آنے والی ہے ۔ “ ، وہ بولی ۔
” اس نے کیا کہا ہے؟ “ ، لڑکی نے پوچھا ۔
” کہ گاڑی پانچ منٹ میں نے والی ہے ۔ “
” لڑکی نے عورت کی طرف ایک روشن مسکراہٹ اچھال کر اس کا شکریہ ادا کیا ۔
” بہتر ہو گا کہ میں صندوق سٹیشن کے پرلی طرف چھوڑ آﺅں “ ، آدمی نے کہا ۔ اس پرلڑکی نے اسے بھی مسکرا کر دیکھا ۔
” ٹھیک ہے ۔ تم انہیں چھوڑ کر واپس آﺅ تو بئیر ختم کرتے ہیں ۔ “
اس نے دونوں بھاری بکس اٹھائے اور انہیں لئے سٹیشن کے پرلی طرف دوسری پٹری کے پاس لے گیا ۔ اس نے نظر اٹھا کر پٹری پر دیکھا لیکن اسے گاڑی نظر نہ آئی ۔ واپسی پر وہ مئے خانے کے اندر سے ہوتا ہوا آیا ، جہاں لوگ گاڑی کے انتظار میں شراب پی رہے تھے ۔ اس نے مئے خانے میں لوگوں کو دیکھتے ہوئے ایک ’ سونفی‘ مشروب پیا ۔ وہ سب معقول انداز سے گاڑی کا انتظار کر رہے تھے ۔ وہ بنٹوں والے پردے سے باہر آیا ۔ وہ میز کے گرد بیٹھی تھی ۔ وہ اسے دیکھ کر مسکرائی ۔
” کیا تم اب بہتر محسوس کر رہی ہو ؟ “
” میں بالکل ٹھیک ہوں “ ، اس نے جواب دیا ، ” مجھے کیا ہوا ہے ، میں بالکل ٹھیک ہوں ۔ “
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اِبرو ( Ebro ) = شمالی سپین کے ایک دریا اور وادی کا نام
ریلس ( Reales ) = ہسپانوی سکہ
’ ناگ دانہ ‘ ( Absinthe ) = فرانس کی ایک مشہور شراب

About meharafroz

Check Also

Short Story by Shamoil Ahmed

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *