Breaking News

Translated Story By Qaisar Nazir Khawar

ایک نیا ’ یوٹوپیا ‘
کہانی ؛ جیروم کے جیروم ، اردو قالب ؛ قیصر نذیر خاورّ

( کچھ مصنف کے بارے میں )
کلیڈ مور، واسال ، برطانیہ میں پیدا ( 2 مئی 1859ء) ہوا ادیب جیروم کلیپکا جیروم ( Jerome Klapka Jerome ) ایک مزاح نگار تھا اور اپنے مزاحیہ سفرنامے ’ Three Men in a Boat ‘ ، شائع شدہ 1887ء ، کی وجہ سے پہچان رکھتا ہے ۔ اس نے کئی ناول ، کہانیاں ، ڈرامے اور مضامین لکھے ۔ اس نے ’ My Life and Times ‘ نامی اپنی آپ بیتی بھی لکھی جو 1925ء میں سامنے آئی تھی ۔ وہ 14 جون 1927ء کو دماغ کی نس پھٹ جانے سے 68 برس کی عمر میں فوت ہوا ۔
وہ سیاست کو سنجیدگی سے نہیں دیکھتا تھا ؛ 25 برس کی عمر میں وہ خود کو ’ ٹوری‘ کہتا تھا ، اس نے لبرلز کی طرف سے نششت بھی ٹھکرائی ، آکسفورڈ یونیورسٹی لیبر پارٹی کا نائب صدر بھی رہا ۔ یہ بھی خیال کیا جاتا ہے کہ اس نے لندن کے ’ ایسٹ اینڈ ‘ میں غربت کا مشاہدہ بھی کیا تھا لیکن وہ ایک سوشلسٹ تھا یا نہیں ، اس پر نقاد مختلف آراء رکھتے ہیں ۔
اس کی کہانی’ The New Utopia ‘ پہلی بار 1891ء میں شائع ہوئی تھی ۔ اس وقت وہ 32 برس کا تھا اور دنیا میں ’ ریاستی استبداد ‘ (Totalitarianism) پر مبنی کوئی معاشرہ وجود میں نہیں آیا تھا ۔ اس کہانی کا پورا ٹیکسٹ اس کے 150 سالہ جشن ولادت پر شائع ہونے والی کتاب ’ Idle Thoughts on Jerome K Jerome ‘ میں بھی شامل ہے جو 2008 ء میں اس کے نام پر بنی سوسائٹی نے شائع کی تھی ۔
یہاں یہ بات اہم ہے کہ برطانوی مصنف جارج اورویل ( اصل نام ؛ ایرک آرتھر بلئیر 1903 ء تا 1950ء) ریاستی استبداد پرہپلا ناول ’ Animal Farm‘ سن 1945 ء میں جبکہ دوسرا ’ Nineteen Eighty-Four ‘ سن 1949 ء میں لکھ پایا تھا ۔ اس وقت تک دنیا میں جمہوریت کے علاوہ سوشلزم اور فاشزم کے تجربے عملی طور پر ہو چکے تھے ۔
کہانی ؛ ایک نیا ’ یوٹوپیا ‘
میری شام بہت اچھی گزری تھی ۔ میں نے ’ نیشنل سوشلسٹ کلب‘ میں اپنے کچھ بہت ہی روشن خیال دوستوں کے ساتھ کھانا کھایا تھا ۔ یہ کھانا کھمبیوں بھرے چکوروں پر مشتمل تھا جو ایک عمدہ نظم کی طرح شاندار تھا اور اپنی قیمت 49 فرانسیسی شاہی سکوں کا صحیح حق ادا کر رہا تھا ۔ میں اس کی تعریف اس سے زیادہ اور کیا کروں ۔
کھانے کے بعد ہم نے سگار ( یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ ’ نیشنل سوشلسٹ کلب ‘ والے جانتے ہیں کہ اچھے سگاروں کا ذخیرہ کیسے کرنا ہے ) پیتے ہوئے مستقبل میں سرمائے کو قومیانے اور انسانوں کی برابری کے بارے میں مفید اور معلوماتی گفتگو کی ۔
میں اس بحث مباحثے میں کچھ زیادہ حصہ نہ لے سکا کیونکہ میں تو لڑکپن سے ہی دو وقت کی روٹی حاصل کرنے کے لئے محنت مشقت میں لگ گیا تھا اور مجھے ایسے سوالات کے بارے میں مطالعہ کرنے کا موقع ہی نہ مل سکا تھا ۔
میں نے ، البتہ ، وہ سارا کچھ بہت غور سے سنا جو میرے دوست بیان کر رہے تھے کہ ان کے آنے سے قبل ہزاروں صدیوں سے عدم مساوات اور دیگر خرابیاں اس دنیا پر موجود رہیں اور یہ کہ وہ اگلے کچھ سالوں یا لگ بھگ اتنے ہی عرصے میں یہ سب ٹھیک کرنے والے تھے ۔
تمام انسانوں کی برابری ان کا نعرہ تھا ۔ ۔ ۔ ہر شے میں کامل برابری ۔ ۔ ۔ ہر طرح کی ملکیت میں برابری ، رتبے و اثر و رسوخ میں برابری ، فرائض کی انجام دہی میں برابری اور ان سب کے نتیجے میں طمانیت اور خوشی میں برابری ۔
دنیا سب کے لئے یکساں تھی لہذٰا اس کی تقسیم بھی برابر ہونی چاہئیے ۔ ہر آدمی کی محنت اس کی ملکیت تھی ، صرف اس کی اپنی نہیں بلکہ ریاست کی بھی جو اسے کھلاتی پلاتی اور کپڑے مہیا کرتی تھی ، چنانچہ اس کا استعمال اس کی اپنی سرفرازی کے لئے نہیں بلکہ پوری نسل کی بھلائی اور بڑھوتی کے لئے ہونا چاہئیے تھا ۔
انفرادی دولت ۔ ۔ ۔ وہ سماجی زنجیر تھی جس نے ’ چند ‘ کو ’ بہت سوں‘ سے باندھ رکھا تھا ۔ یہ ایک ایسے رہزن کی پستول تھی جس کے ذریعے لٹیروں کے ایک مختصر ٹولے نے سب کو لوٹ رکھا تھا۔ ۔ ۔ اسے اُن ہاتھوں سے چھیننا ضروری تھا جنہوں نے اسے عرصے سے تھام رکھا تھا ۔
سماجی درجہ بندی ۔ ۔ ۔ وہ قیود تھیں جنہوں نے اس وقت تک انسانیت کو پریشان اور پابند کر رکھا تھا ۔ ۔ ۔ اسے ہمیشہ کے لئے ختم کرنا ضروری تھا ۔ انسانی نسل کو اپنے مقصد حیات ( یہ جو کچھ بھی تھا ) کی طرف بڑھنا ضروری تھا ، ایسے نہیں جیسے اِس وقت تھا ، اک منتشر مجمع کی طرح ، عدم مساوات کی بنیاد پر پیدائش اور قسمت کی ناہموار زمین پر ، ہر بندہ اپنے ہی لئے جلد بازی سے چلتا جائے۔ ۔ ۔ جہاں سبزہ زاروں کی نرم گھاس تو لاڈلوں کے لئے تھی جبکہ مظلوموں کے پیروں کے لئے چٹیل و سنگلاخ پتھریلے راستے ۔ ۔ ۔ جبکہ سب کو ایک منظم فوج کی طرح مساوات اور برابری کے ہموار میدان پر ایک ساتھ چلنے کی ضرورت تھی ۔
دھرتی ماں کے عظیم سینے کو اپنے سارے بچوں کی پرورش یکسانیت کے ساتھ کرنی چاہئیے تھی؛ یہ نہیں کہ کوئی بھوکا ہو اور کسی کو زیادہ ملے ۔ طاقتورکو اتنا ہی درکار تھا جتنا کہ کمزورں کو؛ چالاک کو جوڑ توڑ کرکے عام لوگوں کے مقابلے میں زیادہ اکٹھا کرنے کی ضرورت نہ تھی ۔ دنیا سب انسانوں کی تھی اور اس کی ہر شے کو برابر مقدار میں حاصل کرنا ان کا حق تھا کیونکہ انسانیت کے قانون کے مطابق سب انسان برابر تھے ۔
عدم مساوات کا غربت ، مصائب و الم ، جرم ، گناہ ، خود غرضی ، گھمنڈ اور منافقت سے چولی دامن کا ساتھ رہا تھا ، اگر دنیا میں لوگ برابر ہوتے تو برائی کی طرف کسی کا دھیان نہ جاتا اور ہماری فطری شرافت برقرار رہتی ۔ ۔ ۔ اوردنیا خدا کے ذلت آمیز استبداد سے آزاد ایک جنت ہوتی ۔
ہم نے ’مساوات ۔ ۔ ۔ مقدس مساوات ‘ کے نام پر اپنے جام بلند کئے اور انہیں پی لیا اور پھر بیرے کو بلا کر اسے سبز’ چارٹریوز‘ نامی شراب اور مزید سگار لانے کو کہا ۔
میں سوچ میں ڈوبا گھر گیا لیکن دیر تک سو نہ سکا بس لیٹا ، دنیا کو دیکھنے کے اس نئے ڈھنگ کے بارے میں سوچتا رہا جو میرے سامنے پیش کیا گیا تھا ۔
اگر میرے سوشلسٹ دوستوں کے خیالا ت کوعملی جامہ پہنایا جا سکے توزندگی کتنی حسین و دلشاد ہوجائے گی ، میں نے سوچا ، ایک دوسرے سے رگڑ اور آپسی مقابلہ ختم ہو جائے گا ، حسد مٹ جائے گا اورنا امیدی و غربت کے خوف سے بھی خلاصی ہو جائے گی ۔ پیدائش سے لے کر موت تک ریاست ہماری ذمہ داری اٹھا لے گی اور کھٹولے سے لے کر تابوت سمیت ہماری ہر ضرورت کا خیال رکھے گی اور ہمیں ان معاملات پر کوئی سوچ بچار کرنے کی ضرورت نہ ہو گی ۔ میری سوچ کا دھارا اور آگے بڑھا ؛ زیادہ مشقت بھی نہ کرنا پڑے گی ( تین گھنٹے؛ میرے دوستوں کے حساب کتاب کے مطابق ہر بالغ شہری کو صرف تین گھنٹے کام کرنا ہو گا ؛ روزانہ بس تین گھنٹے کی محنت ؛ اس سے زیادہ کسی کو زیادہ کام نہیں کرنے دیا جائے گا ۔ ۔ ۔ مجھے تو خاص طور پر اس سے زیادہ نہیں ۔) کسی غریب پر ترس نہیں ، کسی امیر سے حسد نہیں ۔ ۔ ۔ کوئی ہمیں حقارت سے نہیں دیکھے گا اور نہ ہی ہم کسی کو اس طرح دیکھ پائیں گے ( یہ دوسری والی بات کچھ زیادہ خوشگوار نہیں ہے ) ۔ ۔ ۔ ہماری زندگیوں کو ایک ترتیب دے دی جائے گی اور ان میں نظم پیدا ہو جائے گا ۔ ۔ ۔ اور سوچنے کے لئے صرف شاندار انسانیت اوراس کا مقصد ( یہ جو کچھ بھی ہو ) رہ جائے گا ۔
پھر میرے خیالات گڈ مڈ ہو گئے اور میں سو گیا ۔
****
جب میری آنکھ کھلی تو میں نے خود کو شیشے ایک بکسے میں لیٹا ہوا پایا جو ایک اونچی چھت والے اور مایوسی بھرے کمرے میں پڑا تھا ۔ میرے سر کی جانب ایک پرچے پر کچھ لکھا تھا ۔ میں نے سر گھمایا اور اسے پڑھا ، اس پر لکھا تھا ؛
‘ یہ آدمی ، 1899ء کے انقلاب کے بعد ، لندن کے ایک گھر میں سویا پایا گیا تھا ۔ اس گھر کی مالکن کے کہنے کے مطابق ایسا لگتا ہے کہ جب اس نے اسے کمرے میں پایا تھا تو اسے سوئے ہوئے دس سال ہو چکے تھے ( وہ اسے معمول کے مطابق اٹھانا بھول گئی تھی ) ۔ سائنسی مقاصد کی خاطر یہ طے کیا گیا کہ اسے جگایا نہ جائے اورر یہ دیکھا جائے کہ یہ اور کتنا سوتا ہے ۔ چنانچہ اسے 11 فروری 1900 ء کو اس ’ تجسس بھری اشیاء کے عجائب گھر‘ میں لایا گیا ۔
اسے دیکھنے کے لئے آنے والوں سے درخواست ہے کہ وہ ہوا کے لئے کئے گئے سوراخوں میں پانی ڈالنے سے گریز کریں ۔ ‘
دیکھنے میں ذہین ، ایک بوڑھا ، جو ساتھ والے شوکیس میں حنوط شدہ چھپکلیوں کو ترتیب دے رہا تھا ، پاس آیا اور اس نے میرے شوکیس کا ڈھکن اٹھایا ۔
” کیا بات ہے “ ، اس نے پوچھا ، ” کسی چیز نے تمہیں پریشان کیا ہے کیا ؟ “
” نہیں “ ، میں نے جواب دیا ، ” میں جب سمجھتا ہوں کہ میں نے کافی سو لیا ہے تومیں تب ہی اٹھتا ہوں ۔ یہ کونسی صدی ہے؟ “
” یہ“ ، وہ بولا ، ” 29 ویں صدی ہے ۔ تم لگ بھگ ہزار سال تک سوتے رہے ہو ۔ “
”اوہ ! اچھا ، تبھی میں بہتر محسوس کر رہا ہوں “ ، میں نے میز سے نیچے اترتے ہوئے جواب دیا ، ” دنیا میں اچھی نیند سے بہتر اور کوئی شے نہیں ہے ۔ “
” میں سمجھ گیا ، یہ تمہارا معمول ہے “ ، بوڑھے نے مجھ سے اس وقت کہا جب میں نے شوکیس میں پاس پڑے اپنے کپڑوں کی طرف ہاتھ بڑھایا ، ” کیا تم چاہو گے کہ جب تم شہر میں گھومنے نکلو تو میں تمہارے ساتھ ساتھ رہوں اور اس وقت تمام تبدیلیوں کے بارے میں بتا سکوں جب تم ان کے بارے میں احمقانہ تبصرے کرتے ہوئے سوال کرو گے ۔ “
” ہاں“ ، میں نے جواب دیا ، ” میرا خیال ہے کہ مجھے ایسا ہی کرنا چاہئیے ۔ “
” میرا بھی یہی خیال ہے “ ، وہ منہ میں بُڑبُڑایا ، ” آﺅ ، تاکہ یہ مرحلہ بھی طے ہو جائے ۔ “ ، یہ کہتا ہوا وہ مجھے لئے کمرے سے باہر نکل گیا ۔
جب ہم سیڑھیوں سے نیچے اترے تو میں نے کہا ؛
” کیا اب سب ٹھیک ہے ؟ “
” کیا واقعی سب ٹھیک ٹھاک ہے؟ “ ، اس نے جواب دیا ۔
” کیوں ، یہ دنیا “ میں نے جواب دیا ، ” میرے سونے سے کچھ دیر پہلے میرے کچھ دوست اسے اکھاڑ کر پھر سے صحیح ترتیب چاہتے تھے ۔ کیا وہ اس بار ایسا کرنے میں کامیاب ہو گئے تھے؟ کیا اب سب لوگ برابر ہو چکے ہیں اور گناہ و رنج اور اس طرح کی تمام خرافات ختم ہو گئی ہیں ؟ “
” اوہ ، ہاں “ ، میرے رہبر نے جواب دیا ، ” تمہیں اب ہر شے درست حالت میں ملے گی ۔ ہم اس کے لئے خاصی مشقت کرتے رہے ہیں جبکہ تم اس دوران سوتے رہے ہو ۔ ہم نے اس دنیا کو کامل کر دیا ہے اور مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ اب کسی کو غلط ، برے اور احمقانہ کام کرنے کی اجازت نہیں ہے ؛ اور جہاں تک مساوات کا تعلق ہے ، اب ہم میں ٹر ٹر کرنے والے مینڈک نہیں رہے ۔ “
( وہ کچھ بیہودہ اندازمیں چل رہا تھا ، میں نے سوچا ، لیکن میں ، اِس بارے میں اُسے کچھ کہنا نہیں چاہتا تھا ۔ )
ہم شہر میں چلتے رہے ۔ یہ صاف ستھرا تھا اور اس میں ہر طرف خاموشی تھی ۔
گلیاں ، جن پر نمبر لگے ہوئے تھے ، ایک دوسرے کو عمودی طور پر کاٹتی تھیں اور دیکھنے میں ایک جیسی لگتی تھیں ۔ ان میں نہ گھوڑے تھے اور نہ ہی گھوڑا گاڑیاں ؛ ساری ٹریفک برقی گاڑیوں پر مشتمل تھی ۔ راستے میں ہمیں جو لوگ بھی ملے ان کے چہروں پر اک سنجیدگی طاری تھی اور وہ ان میں بہت مشاہبت تھی جیسے ان کا تعلق ایک ہی خاندان سے ہو ۔ انہوں نے ویسا ہی لباس پہن رکھا تھا جیسا میرے رہبر نے پہنا ہوا تھا ، سرمئی پتلون اور کرتہ جو گلے کے پاس بٹنوں سے بند تھا اور کمر پر ایک پیٹی سے کسا ہوا تھا ۔ ہر شخص کی داڑھی منڈھی ہوئی تھی اور بال کالے تھے ۔
میں بولا ؛
” کیا یہ سب جڑواں ہیں ؟ “
” جڑواں ! ارے بھئی ، نہیں “ ، میرے رہبر نے جواب دیا ، ” تمہیں ایسا خیال کیوں آیا ؟ “
” یہ سب ایک جیسے کیوں دکھائی دے رہے ہیں “ ، میں بولا ، ” سب کے بال بھی کالے ہیں ! “
” اوہ، اس لئے کہ یہ بالوں کے رنگ کا قانون ہے ۔ “ ، میرے ساتھی نے وضاحت کی ، ” ہم سب کے بالوں کا رنگ کالا ہے ۔ اگر کسی کے بال قدرتی طور پر کالے نہیں ہوتے تو اُسے ان کو رنگنا پڑتا ہے ۔ “
” کیوں ؟ “ ، میں نے پوچھا ۔
” کیوں! “ ، بوڑھے نے چڑ کر ترکی بہ ترکی کہا ، ” کیونکہ ، میرا خیال تھا کہ تم سمجھ گئے ہو گے کہ اب سب برابر ہو چکے ہیں ۔ اگر ایک بندے کو سنہرے بالوں میں اِترا کرپھرنے دیا جائے جبکہ دوسرا بیچارہ گاجر رنگے بالوں کے ساتھ چلتا نظر آئے توہماری مساوات کا کیا بنے گا ؟ ان خوشحال دنوں میں لوگوں کو نہ صرف برابر رہنا ہے بلکہ جہاں تک ممکن ہو ایک جیسا نظر بھی آنا ہے ۔ اسی لئے سارے مردوں کی داڑھی منڈھی ہوئی ہے ، سب مردوں اور عورتوں کے بال کالے ہیں اور ایک ہی طرز میں برابر کٹے ہوئے ہیں ۔ ہم قدرت کی غلطی کو جہاں تک ممکن ہو سکے سدھار رہے ہیں ۔ “
میں بولا ؛ ” کالے ہی کیوں ؟ “
اس نے جواب دیا کہ اسے اس بارے میں پتہ نہیں البتہ یہی وہ رنگ تھا جس پر فیصلہ ہوا تھا ۔
”یہ کس نے کیا تھا ؟ “ ، میں نے پوچھا ۔
” اکثریت نے “ ، اس نے اپنی ٹوپی سر سے ہٹاتے اور نظریں جھکاتے ہوئے ، جیسے وہ عبادت کرنے لگا ہو ، جواب دیا ۔
ہم چلتے رہے اور کئی لوگوں کے پاس سے گزرے ۔ میں بولا ؛
” کیا شہر میں عورتیں نہیں ہیں ؟ “
” عورتیں ! “ میرا رہبر چلایا ، ” بالکل ہیں ۔ سینکڑوں ہمارے پاس سے گزری ہیں ۔ “
” میرا خیال تھا کہ جب کوئی عورت میرے پاس سے گزرے تو میں اسے پہچان لیتا ہوں “ ، میں نے جواب دیا ، ” لیکن مجھے نہیں لگا کہ کوئی عورت بھی ہمارے پاس سے گزری ہے ۔ “
” عجیب بات ہے ، وہ دیکھو ، دو جا رہی ہیں “ ، اس نے میری توجہ دلانے کے لئے پاس سے گزرتے دو لوگوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ، وہ دونوں بھی قانون کے مطابق سرمئی کرتے اور پتلون میں ملبوس تھے ۔
” آپ کو کیسے پتہ ہے کہ یہ عورتیں ہیں؟ “ ، میں نے پوچھا ۔
” کیوں ، کیا تم نے ان کے کالروں پر دھاتی تختی نہیں دیکھی ۔ “
” ہاں دیکھی ہے اور میں سوچ رہا تھا کہ یہاں اتنی پولیس کیوں ہے اور عام لوگ کہاں ہیں ! “
” خیر ، جن تختیوں پر طاق نمبر لگا ہے وہ عورتیں ہیں اور جن پر جفت نمبر ہے وہ مرد ہیں ۔ “
” یہ تو بہت آسان ہوا “ ، میں نے جملہ کسا ، ” ذرا سی مشق کے بعد بندہ ایک ہی نظر میں ہر ایک کی جنس کو دوسرے سے الگ کر سکتا ہے ۔ ہے نا ؟ “
” اوہ ، ہاں “ ، اس نے جواب دیا ، ” اگر تم چاہو تو ۔ “
ہم کچھ دیر خاموش چلتے رہے اور پھر میں بولا ؛
” ہر ایک کو نمبر کیوں دیا گیا ہے ؟ “
” تاکہ اس سے انہیں پہچانا جا سکے“ ، میرے ساتھی نے جواب دیا ۔
” تو مطلب یہ ہوا کہ اب لوگوں کے نام نہیں ہیں ۔“
” نہیں ۔“
” کیوں ؟ “
اوہ ، ناموں میں بھی بہت سی عدم مساوات تھی ۔ کچھ لوگ ’ مونٹمورینسی‘ کہلاتے تھے اور وہ ’ سمتھ ز‘ کو حقیر گردانتے تھے ، اسی طرح’ سمیتھایز‘ جو تھے وہ ’ جونیسس‘ کے ساتھ گھلنا ملنا پسند نہ کرتے تھے۔ چنانچہ ایسے مسائل سے بچنے کے لئے یہی فیصلہ کیا گیا کہ نام سرے سے ہی ختم کر دئیے جائیں اور ہر کسی کو ایک نمبر الاٹ کر دیا جائے ۔ “
” کیا مونٹمورینسیوں اور سمیتھایز نے اس پر اعتراض نہیں کیا ؟ “
” ہاں کیا تھا لیکن سمتھ ز اورجونیسس کی اکثریت تھی ۔ “
” تو اب کیا ایک یا دو نمبر تین یا چار والے کو حقیر نہیں جانتے اور اسی طرح آگے بھی ؟
” ہاں شروع میں ایسا ہوا تھا لیکن دولت کے خاتمے کے بعد نمبروں کی اہمیت ، سوائے صعنتی و شماریاتی مقاصد کے ، ختم ہو گئی ۔ اب سو نمبر والا خود کو کسی حال میں دس لاکھویں نمبر والے سے زیادہ برتر نہیں سمجھتا ۔ “
میں جب سے جاگا تھا ، نہایا نہیں تھا کیونکہ عجائب گھر میں مجھے ایسی کوئی سہولت نظر نہ آئی تھی ۔ مجھے اب گرمی لگ رہی تھی اور اپنا آپ گندہ بھی لگ رہا تھا ۔
” کیا میں کہیں نہا سکتا ہوں ؟ “ ، میں نے پوچھا ۔
اس نے جواب دیا ، ” نہیں ؛ ہمیں خود نہانے کی اجازت نہیں ہے ۔ تمہیں ساڑھے چار بجنے کا انتظار کرنا ہو گا پھر تمہیں چائے کے لئے نہلا دیا جائے گا ۔ “
” نہلا دیا جائے گا ! “ ، میں چلایا ، ” کس سے اور کون ؟ “
” ریاست سے بھئی اور کس سے ! “
اس نے کہا ، ” دراصل جب لوگوں کو خود نہانے کی اجازت تھی تو ریاست کو اس حوالے سے مساوات قائم رکھنے میں مشکلات پیش آئی تھیں ۔ کچھ لوگ دن میں دو تین دفعہ خود کوصاف کیا کرتے تھے جبکہ دوسرے کئی ، صابن اور پانی کو سال سال تک ہاتھ بھی نہیں لگاتے تھے جس کے نتیجے میں دو واضع طبقے وجود میں آ رہے تھے ایک ’ صاف ‘ جبکہ دوسرا ’ گندے لوگوں ‘ کا ۔ اس سے لوگوں کے پرانے تعصبات بھی ابھرنا شروع ہوگئے تھے ؛ صاف لوگ گندوں کو حقیر گردانتے جبکہ گندے صاف لوگوں سے نفرت کرتے ۔ اس تفریق کو ختم کرنے کے لئے ریاست کو ’ دھلائی‘ کا عمل اپنے ہاتھ میں لینا پڑا ؛ اب ہر شہری کو سرکاری اہلکار دن میں دو دفعہ دھوتے ہیں اور ’ نجی‘ دھلائی پر پابندی لگا دی گئی ہے ۔ “
میں نے دیکھا کہ ہم گھروں کے پاس سے نہیں بلکہ بڑی بڑی بیرک نما ، ایک ہی طرز اور سائز کی عمارتوں کے ایک بلاک سے دوسرے بلاک کے آگے سے گزر رہے تھے ۔ کبھی کبھار کسی نکڑ پر ہمیں نسبتاً چھوٹی عمارت نظر آتی جس پر ” عجائب گھر“ ، ” ہسپتال “، ” مباحثہ گاہ “ ، ” غسل خانے“ ، ” ورزش گاہ “ ، ” اکیڈیمی آف سائنسز“ ، ” صنعتوں کی نمائش گاہ “ ، ” بات چیت کا سکول “ وغیرہ وغیرہ لکھا ہوتا ؛ لیکن مکان کوئی نہ تھا ۔
میں بولا ؛ کیا اس قصبے میں کوئی نہیں رہتا ؟ “
وہ بولا؛ ” تم سچ میں احمقانہ سوال کر تے ہو ، یقین کرو کہ تم ایسا ہی کر رہے ہو، تمہارا کیا خیال ہے کہ لوگ کہاں رہتے ہوں گے ؟ “
میں بولا ؛ ” یہی تو میں جاننا چاہتا ہوں ۔ مجھے یہاں کہیں بھی مکان دکھائی نہیں دے رہے ! “
اس نے جواب دیا ؛ ” اب ہمیں رہنے کے لئے مکانوں کی ضرورت نہیں ہے ، اُس طرح کے گھر جیسا کہ تم سوچ رہے ہو ۔ اب ہم اشتراکی ہو چکے ہیں اور رفاقت و برابری کے ساتھ ایک دوسرے کے ساتھ رہتے ہیں ۔ ہم اب ان بلاکوں میں رہتے ہیں جنہیں تم دیکھ رہے ہو ۔ ہر بلاک میں ایک ہزار شہریوں کے رہنے کی جگہ ہے ۔ اس کے ہر کمرے میں سو سو بسترلگے ہوئے ہیں ۔ ۔ ۔ اسی نسبت سے غسل خانے ، کپڑے بدلنے کے لئے کمرے اور باورچی خانے بھی ہیں ۔ ہر روز صبح سات بجے ایک گھنٹی بجتی ہے ، ہر کوئی اٹھ کر اپنا بستر سنوارتا ہے ۔ ساڑھے سات بجے وہ کپڑے بدلنے والے کمروں میں جاتے ہیں ، انہیں نہلایا جاتا ہے ، داڑھی صاف کی جاتی ہے اور بال سنوارے جاتے ہیں ۔ آٹھ بجے انہیں ڈائنگ ہال میں ناشتہ دیا جاتا ہے جو ، ہر بالغ شہری کے لئے ، ایک پِنٹ ( آدھا لیٹر ) جو کے دلیے اور آدھا پِنٹ ( چوتھائی لیٹر ) گرم دودھ پر مشتمل ہوتا ہے ۔ اب ہم سب سبزی خور ہیں ۔ پچھلی صدی کے دوران سبزی خوروں کے ووٹ بہت زیادہ ہو گئے تھے اور وہ چونکہ زیادہ منظم ہیں اس لئے پچھلے پچاس سالوں سے ہونے والے انتخابات میں وہ ہر باراپنی بات منوا لیتے ہیں ۔ دوپہر ایک بجے ایک اور گھنٹی بجتی ہے اور لوگ کھانے کے لئے واپس آتے ہیں ، کھانا لوبیے ، ابلی سبزیوں و پھلوں پر مشتمل ہوتا ہے ، ہفتے میں دو بار ’ رولی ۔ پولی‘ پڈنگ اور ہر ہفتے آلو بخاروں یا آلوچوں کا حلوہ بھی شامل ِ کھانا ہوتا ہے ۔ شام پانچ بجے چائے دی جاتی ہے اور رات دس بجے بتیاں بجھا دی جاتی ہیں اور ہر کوئی سو جاتا ہے ۔ ہم سب اب برابر ہیں اور سب ایک سی زندگی بسر کرتے ہیں ۔ ۔ ۔ کلرک ، خاکروب ، مستری ، دوا فروش ۔ ۔ ۔ سب ساتھ ساتھ بھائی چارے اور آزادی کے ساتھ رہتے ہیں ۔ مرد قصبے کے اِیک طرف بلاکوں میں رہتے ہیں جبکہ عورتیں دوسری طرف کے بلاکوں میں رہائش پذیر ہیں ۔ “
” شادی شدہ جوڑے کہاں رکھے جاتے ہیں ؟ “ ، میں نے پوچھا ۔
اوہ ، یہاں شادی شدہ جوڑے نہیں ہوتے “ ، ” ہم نے ’ شادی ‘ کو دو صدیاں پہلے سرے سے ختم کر دیا تھا ۔ شادی شدہ زندگی ہمارے نظام میں اچھی طرح کام نہیں کر پائی ۔ گھریلو زندگی ، اپنے رجحانات کی وجہ سے ، مکمل طور پرغیر اشتراکی ہے ۔ مرد ریاست کے مقابلے میں ،اپنی بیویوں اور خاندانوں کے بارے میں زیادہ سوچتے تھے ۔ وہ سارے سماج کی بہتری کی بجائے اپنے پیاروں کے محدود دائرے کے لئے محنت کرنا چاہتے تھے ۔ انہیں انسانیت کے مقصد کی بجائے اپنے بچوں کے مستقبل کی فکر زیادہ تھی ۔ محبت اور خون کے بندھنوں نے مردوں کوایک بڑی سماجی برادری کی بجائے چھوٹے چھوٹے گروہوں میں بانٹ رکھا تھا ۔ انسانی نسل کی بڑھوتی کے بارے میں سوچنے کی بجائے وہ اپنے بچوں کی ترقی کے بارے میں سوچتے تھے ۔ انسانوں کی بڑی تعداد کی بڑی خوشی کی بجائے مرد ان چند کی خوشی کو ترجیح دیتے جو ان کے قریبی اور پیارے تھے ۔ مردوں اور عورتوں نے خفیہ طور پر فالتو محنت کرکے پیسے جمع کر دئیے تھے تاکہ اپنے اپنے محبوبوں و عاشقوں کو خوش کرنے کے لئے تحفے دے سکیں ، یوں انہوں نے زیادہ محنت کرکے اپنے ساتھ زیادتی بھی کی ۔ محبت نے مردوں میں دل کی اطاعت کو بڑھاوا دیا ۔ ان عورتوں ، جن کو وہ محبت کرتے تھے ، کی مسکراہٹ کو جیتنے اور اپنے بچوں کے ساتھ اپنا نام چھوڑ جانے ، جس پر بچے شاید فخر کر سکیں ، کے لئے انہوں نے خود کو عمومی سطح سے بالا سمجھنا شروع کر دیا تھا ۔ کچھ ایسا کرنا شروع کر دیا تھا کہ دنیا ان کو ان کے ساتھی مردوں کے مقابلے میں زیادہ توقیرسے دیکھیں ، یوں وہ زندگی کی گرد بھری شاہراہ پر اپنے پیروں کے نشانات کچھ زیادہ ہی گہرے چھوڑ رہے تھے ۔ سوشلزم کے بنیادی اصول روزانہ پامال ہونے کے علاوہ حقارت کا شکار ہونے لگے تھے ۔ ہر گھر انفرادیت پسندی اور شخصیت پرستی کے ’ پروپیگنڈا ‘ کا مرکز بن گیا تھا ۔ ہر گھر کے چولہے کی گرمائش سے قدیم زمانے کے زہریلے سانپ پھر سے پلنے لگے تھے جو ’ کامریڈ شپ ‘ ، ’ آزادی ‘ اور ریاست کو ڈنگ مارنے کے علاوہ مردوں کے دماغوں کو بھی زہر آلودہ کر رہے تھے ۔ “
میرا ساتھی بولتا رہا ، ” مساوات کے نظریات کھل کر متنازع ہونے لگے تھے ۔ ایسی عورت ، جس سے کوئی مرد محبت کرنے لگتا تھا خود کو دوسری عورتوں سے برتر سمجھنے لگتی تھی اور اپنے خیالات کو بدلنے کی ذرا بھی کوشش نہیں کرتی تھی ۔ محبت کرنے والی بیویاں اپنے خاوندوں کو دوسرے مردوں کے مقابلے میں زیادہ عقل مند ، بہادر اور بہتر سمجھتیں ۔ مائیں اس خیال کا تمسخر اڑاتیں تھیں کہ ان کے بچے کسی طور دوسرے بچوں کے مقابلے میں بہتر نہیں ہیں ۔ بچے بھی اس خوفناک الحاد کا شکار ہوتے ہوئے یہ سمجھنے لگے تھے کہ ان کے باپ اور مائیں دنیا کے بہترین والدین ہیں ۔ “
اس نے میری طرف دیکھا اور اپنی بات جاری رکھی، ” یہ بات بھی تھی کہ جہاں ’ خاندان ‘ موجود تھے وہاں خوشی و غمی کے فرشتے بھی موجود تھے ؛ اس معاشرے میں جہاں خوشی اور غم کے جذبات ہوں وہاں مساوات پنپ نہیں سکتی۔ ایک عورت اور مرد اپنے بچے کے پالنے کے پاس کھڑے رو رہے ہوں اور دیوار کی دوسری طرف ایک نوجوان جوڑا ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے ایک غوں غوں کرتے بچے کی مضحکہ خیز حرکتوں پر ہنس رہا ہو ۔ ایسے میں بیچاری ’ برابری ‘ کیا کرے ؟
ایسی باتوں کی اجازت نہ دی جا سکتی تھی ۔ محبت کا جذبہ پر موڑ پر ہمارا دشمن ثابت ہوا ۔ اس نے مساوات کو ناممکن بنا دیا تھا ۔ یہ اپنے ساتھ خوشی ، غمی ، درد ، سکون اور اذیت ساتھ لاتا تھا ۔ یہ انسانوں کے تصورات کو ڈگمگاتا اور انسانیت کے مقصد کو خطرے میں ڈال رہا تھا چنانچہ ہم نے اسے اور اس کے مضر اثرات کو سرے سے ہی ختم کر دیا ۔
وہ مزید بولتا رہا ؛ ” اب ، یہاں شادیاں نہیں ہوتیں ؛ کوئی گھریلو جھگڑے نہیں ، کوئی معاشقے نہیں ، نہ دل کا درد ، نہ کوئی چاہت ، چنانچہ کوئی الم نہیں ، نہ بوسے ہیں اور نہ آنکھوں میں آنسو ۔
اب ، ہم ، خوشی اور رنج کے علائم سے آزاد ، برابری کے ساتھ زندہ ہیں ۔ “
میں بولا ؛ ” یہ سب یقیناً بہت پرسکون اور شانت ہو گا ؛ لیکن ، مجھے بتائیں ۔ ۔ ۔ میں صرف سائنسی حوالے سے پوچھ رہا ہوں ۔ ۔ ۔ آپ لوگ مردوں اور عورتوں کی مزید فراہمی کیسے یقینی بناتے ہیں ؟ “
اس نے جواب دیا ؛ ” اوہ ، یہ بہت سادہ بات ہے ۔ تم لوگ اپنے وقت میں گھوڑوں اور گائے بھینسوں کی دستیابی کو کیسے برقرار رکھتے تھے؟ ہم بھی بہار کے موسم میں ریاست کی ضرورت کے مطابق بچوں کی تخم ریزی کرتے ہیں ، طبی نگرانی میں ان کی احتیاط سے نگہداشت کرتے ہیں ۔ پیدائش پر انہیں ان کی ماﺅں سے الگ کر لیا جاتا ہے ( ظاہر ہے کہ اگر ایسا نہ کیا جائے تو ان میں بچوں کے لئے محبت کا جذبہ پیدا ہو جائے گا ) ، اور انہیں عوامی نرسریوں اور سکولوں میں اس وقت تک رکھا جاتا ہے جب تک وہ چودہ سال کے نہ ہو جائیں ۔ پھر ریاست کے انسپکٹر ان کا معائنہ کرتے ہیں اور یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ انہوں نے زندگی میں کون سا پیشہ اختیار کرنا ہے ، پھر وہ ان شعبوں میں تربیت کے لئے بھیج دیئے جاتے ہیں ۔ بیس سال کی عمر میں انہیں ’ شہری‘ قرار دے دیا جاتا ہے اور وہ ووٹ دینے کے حقدار ہو جاتے ہیں ۔ مرد و زن میں کوئی تفریق نہیں کی جاتی اور ان دونوں کوبرابری کی مراعات حاصل ہوتی ہیں ۔ “
میں نے کہا ؛ ” کونسی مراعات ؟ “
اس نے جواب دیا ؛ ” کیا ؟ اب تک میں تمہیں یہی کچھ تو بتا رہا تھا ۔ “
ہم نے کچھ اور فاصلہ طے کیا لیکن دیو ہیکل بلاکوں والی گلیوں کے علاوہ راستے میں اور کچھ نظر نہ آیا ۔ میں نے کہا ؛
” کیا اس شہر میں دکانیں یا سٹور وغیرہ نہیں ہیں ؟ “
” نہیں “ ، اس نے جواب دیا ، ” ہمیں دکانوں یا سٹوروں کی ضرورت ہی کیا ہے ؟ ریاست ہمیں کھلاتی پلاتی ہے ، کپڑے مہیا کرتی ہے ، رہنے کو رہائش دیتی ہے ، ہماری صحت کا خیال رکھتی ہے ، نہلاتی اور تیار کرتی ہے اور ہماری مشکلات کو رفع کرتی ہے ، یہاں تک کہ ہمیں دفناتی بھی ہے ۔ ہمیں دکانوں کی کیا ضرورت ہے ؟ “
میں چلتے چلتے تھکن محسوس کرنے لگا تھا ، میں نے کہا ؛ ” کیا ہم کسی جگہ جا سکتے ہیں اور کچھ ’ پی ‘ سکتے ہیں ؟ “
وہ بولا ، ” یہ ’ پینا ‘ کیا ہوتا ہے ؟ ہمیں کھانے میں چوتھائی لیٹر ’ کوکا ‘ پینے کو ملتا تو ہے ۔ کیا تم اس کی بات کر رہے ہو؟
مجھے لگا کہ میرے سمجھانے پر بھی وہ سمجھ نہ پائے گا اس لئے میں نے کہا ؛ ” ہاں ، میرا یہی مطلب تھا ۔ “
ذرا آگے جانے پر ایک خوش شکل آدمی ہمارے پاس سے گزرا ۔ میں نے نوٹ کیا کہ اس کا ایک بازو نہیں ہے ۔ میں نے اس سے پہلے بھی صبح سے اب تک دو تین عام آدمیوں سے زیادہ تنومند لوگ دیکھے تھے جن کا ایک ہی بازو تھا ، مجھے تجسس تھا جس کا ذکر میں نے اپنے رہبر سے کیا ۔ اس نے کہا ؛
” ہاں ، جب کوئی شخص عام جُثے اور طاقت سے زیادہ کا مالک ہو تو ہم اس کی ایک ٹانگ یا بازو کاٹ دیتے ہیں تاکہ وہ باقیوں کے برابر ہو سکے ۔ قدرت بسا اوقات ‘ وقت ‘ سے پیچھے رہ جاتی ہے اور ہمیں اس کے سدھار کے لئے ایسا ہی کچھ کرنا پڑتا ہے ۔ “
یہ سن کرمیں نے کہا ؛
” میرا خیال ہے کہ آپ قدرت کو سرے سے تو ختم نہیں کر سکتے ! “
” صحیح ہے، مکمل طور پر تو نہیں “ ، وہ بولا ، ” ہماری خواہش تو ہے کہ ہم ایسا کر سکیں ، لیکن “ ، اس نے ذرا وقفے سے ایسے تکبر ، جسے معاف کیا جا سکتا ہے ، سے مزید کہا ، ” ہم نے اس پر بہت حد تک قابو پانے کے علاوہ اس کے سدھار کے کئی طریقے وضع بھی کر لئے ہیں ۔ “
” خصوصی طور پر ذہین و فطین لوگوں کے بارے میں کیا خیال ہے ۔ ان کے ساتھ آپ کیا کرتے ہیں ؟ “
” اس معاملے میں اب ہمیں کچھ زیادہ تردد نہیں کرنا پڑتا “ ، اس نے جواب دیا ، ” ہمیں اس حوالے سے زیادہ عرصے کے لئے تشویشناک صورت حال کا سامنا نہیں کرنا پڑتا ۔ جب کبھی ایسا ہوتا ہے تو ہم اس بندے کے دماغ کا آپریشن کرکے اس کو عمومی دماغ کی سطح پر لے آتے ہیں ۔
بوڑھے نے مزید کہا ، ” میں کئی دفعہ سوچتا ہوں کہ یہ بدقستی کی بات ہے کہ ہم انسانی دماغ کو بلند سطح پر نہیں لے جا پاتے ، شاید ایسا کرنا ممکن ہی نہیں ہے ۔ ہمیں اسے نیچے ہی لانا پڑتا ہے ۔ “
میں بولا ؛ ” کیا یہ درست ہے کہ آپ لوگوں کی اس طرح کاٹ پیٹ کریں اور انہیں نچلی سطح پر لے کر آئیں ؟ “
” بالکل ، یہ صحیح ہے ۔ “
” آپ اس بارے میں کچھ زیادہ ہی پُر یقین ہیں “ ، میں نے ترکی بہ ترکی جواب دیا ، ” یہ کیوں درست ہے؟ “
” کیونکہ ایسا ’ اکثریت ‘ کے کہنے پر کیا جاتا ہے ۔ “
” اکثریت کے کہنے پر کیا جاتا ہے ۔ ۔ ۔ اس سے یہ کیسے درست ہو گیا ؟ “ ، میں نے پوچھا ۔
” اکثریت کبھی کچھ غلط نہیں کرتی “ ، اس نے جواب دیا ۔
” اوہ اچھا ، کیا وہ لوگ بھی ایسا سوچتے ہیں جن کی تراش خراش کی جاتی ہے ؟ “
” وہ ! “ ، اس نے میرے سوال پر حیران ہو کرجواب دیا ، ” ارے بھئی ، تمہیں پتہ ہونا چاہئیے کہ وہ اقلیت میں ہیں ۔ “
” ہاں ، میں جانتا ہوں کہ وہ تعداد میں کم ہیں لیکن اپنے بازوﺅں اور ٹانگوں پر تو ان کا حق ہے ، نہیں ہے کیا ؟ “
” اقلیت کا کوئی حق نہیں ہوتا “ ، اس نے جواب دیا ۔
” اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ یہاں رہنے کے لئے ’ اکثریت ‘ کا حصہ بننا پڑے گا ، ایسا ہی ہے کیا ؟ “، میں نے کہا ۔
” ہاں ، زیادہ تر لوگ ایسا ہی کرتے ہیں ۔ انہیں اسی میں بھلائی نظر آتی ہے ۔ “
مجھے یہ شہر خاصا غیر دلچسپ لگا اور میں نے پوچھا کہ کیا ہم تبدیلی کے لئے مضافات میں نہیں جا سکتے ۔ میرے رہبر نے جواب دیا ؛ ” ہاں ، ہاں کیوں نہیں ، لیکن تم شاید اسے دیکھنا پسند نہ کرو ۔ “
” اچھا ، وہ کیوں ، مضافات اور دیہاتی علاقے تو خوبصورت ہوتے ہیں “ ، میں نے جواب دیا ، ” میرے بستر پر جانے سے پہلے تو ایسا ہی تھا ۔ وہاں بڑے بڑے سبز درخت ، گھاس والے مرغزار اور کھیت ہوتے ہیں جو ہوا میں لہلہاتے ہیں اور وہاں چھوٹے چھوٹے پتھروں سے بنے جھونپڑے ہوتے ہیں ، اور۔ ۔ ۔ “
”اوہ ، ہم نے یہ سب بدل دیا ہے “ ، بوڑھے نے میری بات کاٹی ، ” اب یہ سب ایک بڑا مارکیٹ باغ ہے جس کو سڑکیں اور نہریں عمودی طور پر کاٹتی ہیں ۔ اب مضافات اور دیہاتوں میں خوبصورتی نہیں رہی ۔ ہم نے خوبصورتی کو مٹا دیا ہے ؛ یہ ہماری مساوات میں رکاوٹ بنتی ہے ۔ یہ قطعاً مناسب نہیں کہ کچھ تو دل کو موہ لینے والے نظاروں میں رہیں جبکہ دوسرے بنجر اور دلدلی علاقوں میں چنانچہ ہم نے ہر جگہ تمام علاقوں کو ایک سا کر دیا ہے ۔ اب کوئی جگہ خود کو دوسرے سے بہتر نہیں گردان سکتی ۔ “
”کیا بندہ کسی دوسرے ملک ہجرت کر سکتا ہے؟ “، میں نے پوچھا ، ” یہ اہم نہیں ہے کہ کس ملک میں ۔ ۔ ۔ کسی بھی دوسرے ملک میں ۔ “
” ہاں ، ہاں ، کیوں نہیں ، اگر وہ چاہے تو “ ، میرے ساتھی نے جواب دیا ، ” لیکن وہ ایسا کیوں چاہے گا ؟ سب جگہیں ایک سی ہیں ۔ ساری دنیا اب یکجا ہو چکی ہے ۔ ۔ ۔ ایک زبان ، ایک قانون اور ایک طرح کی زندگی ۔ “
” کیا اب تنوع کہیں نہیں رہا ، کوئی فرق ؟ “ ، میں نے پوچھا ، ” آپ لوگ خوشی اور تفریح کے لئے کیا کرتے ہیں ؟ کیا یہاں کوئی تھیئٹر ہیں؟ “
” نہیں “ ، میرے ساتھی نے جواب دیا ، ” ہم نے تھیئٹر ختم کر دئیے ہیں ۔ اداکارانہ مزاج کے لئے مساوات کے اصول کو برداشت کرنا ممکن نہ تھا ۔ ہر اداکار خود کو دنیا کا سب سے اچھا اور برتر اداکار سمجھتا تھا ، اسی طرح دوسرے فنون کے لوگ بھی ، مجھے نہیں معلوم کہ تمہارے زمانے میں بھی ایسا تھا کہ نہیں ؟ “
” بالکل ایسا ہی تھا “ ، میں نے جواب دیا ، ” لیکن ہم اس کی پرواہ نہیں کرتے تھے ۔ “
” اچھا ، لیکن ہم نے پراوہ کی “ ، وہ بولا ، ” جس کا نتیجہ تھیئٹر کی بندش میں نکلا ۔ اس کے علاوہ ہماری ’ سفید ربن والی چوکسی سوسائٹی‘ نے کہا تھا کہ تفریح کی تمام جگہیں گھٹیا اور قابل مذمت ہیں ۔ یہ چونکہ ایک توانا اور جسیم تنظیم ہے لہذٰا اس نے جلد ہی ’ اکثریت ‘ کو اپنے خیالات سے قائل کر لیا چنانچہ اب ہر طرح کے شغلوں اور تفریحات پر پابندی ہے ۔ “
” کیا آپ لوگوں کو کتابیں پڑھنے کی اجازت ہے ؟ “ ، میں نے پوچھا ۔
” اصل میں ، اب کچھ زیادہ لکھا ہوا ہے نہیں ۔“ ، اس نے جواب دیا ، ” ہماری زندگیاں کامل ہیں اور چونکہ دنیا میں کچھ غلط نہیں ہو رہا اور اس میں نہ دکھ ہے نہ امید ، محبت یا غم ، سب کچھ اتنی باقاعدگی اور عمدگی سے ہو رہا ہے کہ اب لکھنے کو کچھ رہا ہی نہیں ۔ ۔ ۔ ماسوائے انسانیت کے مقصد پر لکھنے کے ۔“
” درست ! “ ، میں نے کہا ، ” میں یہ دیکھ سکتا ہوں ۔ لیکن پرانے کام کا کیا ہوا ۔ کلاسیکی؟ آپ کے پاس شیکسپئیر تھا ، سکاٹ اور تھیکرے اور ایک دو چیزیں میری بھی تھیں ، جو شاید کچھ زیادہ بُری نہ تھیں ۔ ان سب کے ساتھ آپ نے کیا کیا ؟ “
” اوہ ، ہم نے اس سارے پرانے کام کو جلا ڈالا “ وہ بولا ، ” یہ سب فاسق و بد زمانوں کے پرانے اور غلط خیالات سے بھرے ہوئے تھے جب انسان محض ایک بوجھ ڈھونے والا اور ایک غلام تھا ۔ “
اس نے یہ بھی بتایا کہ کئی پرانی تصاویر ، پینٹنگز اور مجسمے بھی اسی بنا پر ضائع کر دئیے گئے تھے جبکہ دیگرکو ’ سفید ربن والی چوکسی سوسائٹی‘ ، جو اب ایک اہم طاقت تھی ، نے نازیبا قرار دیا تھا ۔ اسی کے کہنے پر نیا آرٹ اور ادب تخلیق کرنے پر بھی پابندی لگا دی گئی تھی کیونکہ یہ مساوات کے بنیادی اصولوں کی جڑیں کھوکھلی کر سکتے تھے ۔ یہ انسانوں کو سوچنے کی طرف راغب کر سکتے تھے اور اس سے انسان ، نہ سوچنے والوں کے مقابلے میں چالاک بن سکتا تھا جس پر ’ اکثریت ‘ معترض ہو سکتی تھی ۔
اس نے یہ بھی کہا کہ ان جیسی وجوہات کی بنا پر کھیلوں پر بھی پابندی تھی کیونکہ ان کی وجہ سے مقابلہ بازی کا رجحان فروغ پا سکتا تھا اور یہ پھر عدم مساوات کو جنم دیتا ۔
میں نے پوچھا ؛ ” آپ کے شہریوں کو دن میں کتنے گھنٹے کام کرنا پڑتا ہے؟ “
” تین گھنٹے “ ، اس نے جواب دیا ، ” اس کے بعد باقی سارا وقت ہمارا ہوتا ہے ۔ “
” اچھا ، میں اسی طرف آ رہا تھا “ ، میں نے جملہ کسا ، ” تو آپ لوگ دن کے بقیہ اکیس گھنٹے کیا کرتے ہیں ؟ “
” ہم آرام کرتے ہیں ۔“
” کیا ! پورے اکیس گھنٹے آرام ؟ “
” ہاں ، آرام ، سوچ بچار اور آپس میں باتیں کرنا ۔“
” آپ لوگ کیا سوچتے اور کیا باتیں کرتے ہیں؟ “
” یہی کہ پرانے وقتوں میں زندگی کتنی بدحال ، ناقص اور دکھ بھری تھی جبکہ اب ہم کتنے خوش ہیں ۔ ۔ ۔ اور ۔ ۔ ۔ اور انسانیت کے مقصد بارے میں بھی ۔ “
” کیا آپ لوگ انسانیت کے مقصد سے کبھی تنگ نہیں آتے ؟ “
” نہیں ، کچھ زیادہ نہیں ۔ “
” اور اس سے آپ کامطلب کیا ہے ؟ آپ کے نزدیک انسانیت کا مقصد آخر ہے کیا ؟ “
” اوہ ! ۔ ۔ ۔ کیا مطلب ۔ ۔ ۔ اسی طرح جئے جانا جیسے کہ ہم اس وقت جی رہے ہیں ۔ ۔ ۔ ہر کوئی زیادہ سے زیادہ برابری حاصل کرتا جائے ، بجلی و سائنس سے زیادہ سے زیادہ کام لئے جائیں اور ۔ ۔ ۔ اور ہر کسی کو ایک ووٹ کی جگہ دو دو ووٹ ڈالنے کا حق مل جائے اور ۔ ۔ ۔ “
شکریہ ، یہ سب کافی ہے ، کیا کچھ اور نہیں ہے ، جس کے بارے میں آپ سوچ و بچار کرتے ہوں ؟ کیا آپ لوگوں کا کوئی مذہب یا دھرم ہے ؟ “
” اوہ ، ہاں ہے ۔ “
” تو کیا آپ خدا کی عبادت کرتے ہیں ؟ “
اوہ ، ہاں “
آپ اسے کیا کہہ کر پکارتے ہیں ؟ “
” اکثریت “
” ایک سوال اور۔ ۔ ۔ اگر آپ برا نہ منائیں تو ، ویسے میں اتنی دیر سے آپ سے سوال پر سوال کئے جا رہا ہوں آپ نے برا تو نہیں منایا ؟ “
”ارے نہیں ، یہ تو میری آج کے دن کی تین گھنٹوں کی محنت ، جو میں ریاست کے لئے کرنی تھی ، کا حصہ ہے ۔ “
” اچھا ، میں یہ سن کر خوش ہوا ہوں ۔ میں نہیں چاہتا تھا کہ میں آپ کے آرام کے وقت میں خلل ڈالوں ۔ ہاں تو میں پوچھنا چاہتا تھا کہ کیا یہاں لوگ زیادہ خودکشیاں کرتے ہیں ؟
” نہیں ، انہیں ایسا کوئی خیال نہیں آتا ۔ “
میں نے پاس سے گزرتے لوگوں کے چہروں پر نظر دوڑائی ، ان پر ایک طرح کا قابل فسوں صبر نظر آتا تھا ۔ مجھے لگا کہ یہ صبر میں نے پہلے کہیں دیکھ رکھا تھا ۔ یہ خاصا مانوس لگ رہا تھا ۔
ایک دم مجھے یاد آیا ۔ یہ تو وہی خاموش ، دکھی اور متلاشی سا تاثر ہے جو اُن گھوڑوں اور بیلوں کے چہروں پر ہوتا تھا جب ہم پرانی دنیا میں انہیں پالا پوسا کیا کرتے تھے ۔
****
عجیب بات ہے ! میرے ارد گرد سب کے چہرے اتنے دھندلے اور ایک جیسے کیوں ہیں ! اور میرا رہبر کدھر ہے؟ اور میں فٹ پاتھ پر کیوں بیٹھا ہوں اور ۔ ۔ ۔ سنو ! یہ یقیناً میری بوڑھی مالک مکان ، مسز بگلز کی آواز ہے ، کیا یہ بھی ہزار سال تک سوئی رہی ہے؟ یہ کہہ رہی ہے کہ دن کے بارہ بج رہے ہیں ۔ ۔ ۔ صرف بارہ ؟ اور میں ساڑھے چار بجے تک نہلایا نہیں جا سکتا ؛ جبکہ میں گندا پن محسوس کر رہا ہوں اور مجھے گرمی بھی لگ رہی ہے ۔ ۔ ۔ اور میرا سر بھی دکھ رہا ہے۔ اور ۔ ۔ ۔ او خدایا ! میں بستر پر کیوں ہوں ! کیا یہ سب خواب تھا ؟ اور میں واپس انیسویں صدی میں واپس آ گیا ہوں ؟
گو کہ میں کھلی کھڑکی سے پرانی زندگی کی جنگ کی ہلچل اور شور شرابا سن رہا ہوں ۔ لوگ لڑ رہے ہیں ، کوشش کرکے اپنا راستہ بنا رہے ہیں اوریہ اپنی ہمت اور تلوار کی طاقت سے آگے بڑھ رہے ہیں ۔ یہ ہنس رہے ہیں ، یہ رنجیدہ بھی ہیں ، محبت بھی کر رہے ہیں ، غلط کاموں کے ساتھ ساتھ اچھے اور بڑے اعمال کے مرتکب بھی ہو رہے ہیں ۔ ۔ ۔ گرتے پڑتے ، جدوجہد کرتے ، ایک دوسرے کی مدد کرتے ۔ ۔ ۔ یہ ’ زندہ ‘ ہیں !
اور مجھے آج تین گھنٹوں سے کہیں زیادہ کام کرنا ہو گا کیونکہ ایک اچھے سودے کو پورا کرنے کے لئے مجھے صبح سات بجے اٹھنا تھا جبکہ اب بارہ بج رہے ہیں ۔ ۔ ۔ اور اے پیارو ! کاش میں نے گزشتہ شب اتنے زیادہ ، تیز تمباکو والے ، سگار نہ پئے ہوتے ۔۔

About meharafroz

Check Also

Short Story By Hamid Siraj

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *