Tuesday , 23 May 2017
Latest
Tribute to Banu Qudsiya

Tribute to Banu Qudsiya

شاہکار ناول ’راجہ گدھ‘کی مصنفہ بانو قدسیہ انتقال کر گئیں

ایک نظر ان کی حیات پر

معروف ادیبہ بانو قدسیہ 28 نومبر 1928 کو مشرقی پنجاب کے ضلع فیروز پور میں پیدا ہوئیں اور تقسیم ہند کے بعد لاہور آ گئیں تھیں۔ ان کے والد بدرالزماں ایک گورنمنٹ فارم کے ڈائریکٹر تھے اور ان کا انتقال 31 سال کی عمر میں ہو گیا تھا۔ اس وقت ان کی والدہ ذاکرہ بیگم کی عمر صرف 27 برس تھی۔ بانو قدسیہ کی اپنی عمر اس وقت ساڑھے تین سال تھی۔ ان کا ایک ہی بھائی پرویز تھا جن کا انتقال ہو چکا ہے۔

بانو قدسیہ نے ابتدائی تعلیم اپنے آبائی قصبے ہی میں حاصل کی۔ انھیں بچپن سے ہی کہانیاں لکھنے کا شوق تھا اور پانچویں جماعت سے انھوں نے باقاعدہ لکھنا شروع کر دیا تھا۔ جب پانچویں جماعت میں تھیں تو ان کے اسکول میں ڈراما فیسٹیول کا انعقاد ہوا جس میں ہر کلاس کو اپنا اپنا ڈراما پرفارم کرنا تھا۔ بہت تلاش کے باوجود بھی کلاس کو تیس منٹ کا کوئی اسکرپٹ دستیاب نہ ہوا۔ چنانچہ ہم جولیوں اور ٹیچرز نے اس مقصد کے لیے بانو قدسیہ کی طرف دیکھا جن کی پڑھنے لکھنے کی عادت کلاس میں سب سے زیادہ تھی۔ ان سے درخواست کی گئی کہ تم ڈرامائی باتیں کرتی ہو لہٰذا یہ ڈراما تم ہی لکھ دو۔ بانو قدسیہ نے اس چیلنج کو قبول کیا اور بقول ان کے جتنی بھی اُردو آتی تھی اس میں ڈراما لکھ دیا۔ یہ ان کی پہلی کاوش تھی۔اس ڈرامے کو اسکول بھر میں فرسٹ پرائز کا حقدار ٹھہرایا گیا۔ اس حوصلہ افزائی کے بعد وہ دسویں جماعت تک افسانے اور ڈرامے ہی لکھتی رہیں۔ طویل عرصے تک وہ اپنی کہانیوں کی اشاعت پر توجہ نہ دے پائیں اور ایم اے اُردو کرنے کے دوران اشفاق احمد کی حوصلہ افزائی پر ان کا پہلا افسانہ ’’داماندگی شوق‘‘ 1950 میں اس وقت کے ایک سرکردہ ادبی جریدے ’’ادبِ لطیف‘‘ میں شائع ہوا۔ اپنے لکھنے کے حوالے سے بانو قدسیہ کہتی ہیں کہ میں نے کسی سے اصلاح نہیں لی اور نہ کبھی کچھ پوچھا تاوقتکہ میری شادی نہیں ہو گئی۔ اس کے بعد اشفاق احمد صاحب میرے بڑے معاون و مددگار بلکہ استاد ہوئے۔ انھوں نے مجھ سے کہا اگر تمہیں لکھنا ہے تو ایسا لکھو کہ کبھی مجھ سے دو قدم آگے رہو اور کبھی دو قدم پیچھے تاکہ مقابلہ پورا ہو۔ اس کا مجھے بڑا فائدہ ہوا۔ اشفاق صاحب نے ہمت بھی دلائی اور Encourage بھی کیا اور حوصلہ شکنی بھی کی۔ میری کئی باتوں پر خوش بھی ہوئے۔ آخر تک ان کا رویہ استاد کا ہی رہا۔ میں انھیں شوہر کے ساتھ ساتھ اپنا استاد بھی سمجھتی رہی ہوں۔

بانو قدسیہ نے ایف اے اسلامیہ کالج لاہور جب کہ بی اے کنیئرڈ کالج لاہور سے کیا جس وقت انھوں نے بی اے کا امتحان دیا اس وقت 47 کے فسادات کی آگ پھیل چکی تھی۔ گورداس پور اور شاہ عالمی اس آگ کی لپیٹ میں آ چکے تھے۔ اس آگ کے دریا میں بانو قدسیہ بی اے کے پیپرز دینے کے لیے ایف سی کالج جاتی رہیں کیونکہ فسادات کی وجہ سے کنیئرڈ کالج میں امتحانی سینیٹر نہ کھل سکا تھا۔ بی اے کا امتحان کسی طرح دے دیا۔ فسادات پھیلتے چلے گئے بانو قدسیہ اپنے خاندان کے ہمراہ گورداس پور میں جہاں مسلمانوں کی اکثریت تھی مطمئن تھیں کہ یہ حصہ پاکستان کے حصے میں آئے گا مگر رات بارہ بجے اعلان ہو گیا کہ گورداس پور پاکستان میں نہیں ہے چنانچہ بانو قدسیہ اپنے کنبے کے ہمراہ پتن پہنچیں جہاں سے رات کو قافلے نکل کر جاتے تھے اور اکثر قافلے رات کو قتل کر دیے جاتے تھے۔ بانو قدسیہ کا آدھا قافلہ بچھڑ گیا تھا اور آدھا قتل ہو گیا تھا۔ تین ٹرک پاکستان پہنچے ایک میں بانو قدسیہ، ان کی والدہ اور بھائی بچ گئے تھے جبکہ دوسرے رشتے دار قتل کر دیئے گئے۔ پاکستان پہنچ کر بانو قدسیہ کو بی اے کے رزلٹ کا پتا چلا جس میں انھیں کامیابی ملی تھی۔ 1949 میں انھوں نے گورنمٹ کالج لاہور میں ایم اے اُردو میں داخلہ لیا۔ یہاں اشفاق احمد ان کے کلاس فیلو تھے۔ دونوں کی مشترکہ دلچسپی ادب پڑھنا اور لکھنا تھا۔ دسمبر 1956 میں بانو قدسیہ کی شادی اشفاق احمد سے ہو گئی۔ دونوں لکھاری تھے اور ادب سے گہرا شغف رکھتے تھے۔ شادی کے بعد دونوں رائٹرز کام میں جُت گئے۔ایک سال بعد انھوں نے ایک ادبی رسالے ’’داستان گو‘‘ کا اجراء کیا تمام کام خود کرتے تھے۔ رسالے کا سر ورق بانو قدسیہ کے بھائی پرویز کا فنِ کمال ہوتا تھا جو ایک آرٹسٹ تھے۔ چار سال تک ’’داستان گو‘‘ کا سلسلہ چلا پھر اسے بند کرنا پڑا۔ اشفاق احمد ریڈیو پر اسکرین رائٹر تھے وہ دونوں ریڈیو کے لیے ڈرامے لکھتے تھے۔ ’’تلقین شاہ‘‘ 1962ء سے جاری ہوا۔ اس کے ساتھ ساتھ اشفاق احمد ایوب خان کے ہاتھوں تازہ تازہ جاری ہونیوالے سرکاری جریدے ’’لیل و نہار‘‘ کے ایڈیٹر بن گئے تھے۔ ٹیلی ویژن نیا نیا ملک میں آیا تو اس کے لیے اشفاق احمد اور بانو قدسیہ مسلسل لکھنے لگے۔ اشفاق احمد کی کوئی سیریز ختم ہوتی تو بانو قدسیہ کی سیریل شروع ہو جاتی تھی۔ ٹی وی کے پہلے ایم ڈی اسلم اظہر نے اشفاق احمد کو ٹی وی کا سب سے پہلا پروگرام پیش کرنے کی دعوت دی۔ اس پروگرام میں انھوں نے ٹیلی ویژن کو متعارف کرایا تھا۔ اشفاق احمد ٹی وی کے پہلے اناؤنسر تھے۔ ان کا ریڈیو پر بہت وسیع تجربہ تھا۔ یہاں ایک اطالوی فلم بنی تھی۔ اس کے بھی اشفاق احمد مترجم تھے۔ ٹی وی پر سب سے پہلا ڈراما ’’تقریب امتحان‘‘ ان ہی کا ہوا تھا۔

ریڈیو اور ٹی وی پر بانو قدسیہ اور اشفاق احمد نصف صدی سے زائد عرصے تک حرف و صورت کے اپنے رنگ دکھاتے رہے۔ ٹی وی پر بانو قدسیہ کی پہلی ڈراما سیریل ’’سدھراں‘‘ تھی جب کہ اشفاق احمد کی پہلی سیریز ’’ٹاہلی تھلے‘‘ تھی۔ بانو قدسیہ کا پنجابی میں لکھنے کا تجربہ ریڈیو کے زمانے میں ہی ہوا۔ ریڈیو پر انھوں نے 1965 تک لکھا پھر ٹی وی نے انھیں بے حد مصروف کر دیا۔ بانو قدسیہ نے ٹی وی کے لیے کئی سیریل اور طویل ڈرامے تحریر کیے جن میں ’دھوپ جلی‘، ’خانہ بدوش‘، ’کلو‘ اور ’پیا نام کا دیا‘ جیسے ڈرامے شامل ہیں۔ اس لکھاری جوڑے کے لکھے ہوئے ان گنت افسانوں، ڈراموں، ٹی وی سیریل اور سیریز کی مشترقہ کاوش سے ان کا گھر تعمیر ہوا۔

لاہور کے جنوب میں واقع قیامِ پاکستان سے قبل کی ماڈرن بستی ماڈل ٹاؤن کے ’’داستان سرائے‘‘ میں اشفاق احمد اور بانو قدسیہ کی یادیں بکھری ہوئی ہیں۔ ان دونوں کا تخلیقی سفر جیسے جیسے طے ہوتا گیا ’’داستان سرائے‘‘ کے نقوش اُبھرتے گئے۔ آج ’’داستان سرائے‘‘ ان دونوں کی شب و روز محنت کا امین ہے۔ بقول بانو قدسیہ کے ’’شادی کے بعد مفلسی نے ہم دونوں میاں بیوی کو لکھنا پڑھنا سکھا دیا تھا۔ اشفاق احمد نے ایک فلم ’’دھوپ سائے‘‘ بھی بنائی تھی جو باکس آفس پر فلاپ ہو گئی تھی اور ایک ہفتے بعد سینما سے اُتر گئی تھی۔ ’’دھوپ سائے‘‘ کی کہانی بانو قدسیہ نے لکھی تھی۔ ڈائریکشن کے علاوہ اس فلم کا اسکرین پلے اشفاق احمد نے لکھا تھا۔

بانو قدسیہ نے افسانوں، ناولز، ٹی وی، ریڈیو ڈراموں سمیت نثر کی ہر صنف میں قسمت آزمائی کی۔ 1981 میں شائع ہونے والا ناول ’’راجہ گدھ‘‘ بانو قدسیہ کی حقیقی شناخت بنا۔ موضوع کے لحاظ سے یہ ناول درحقیقت ہمارے معاشرے کے مسائل کا ایک ایسا تجزیہ ہے جو اسلامی روایت کے عین مطابق ہے اور وہ لوگ جو زندگی، موت اور دیوانگی کے حوالے سے تشکیلی مراحل میں گزر رہے ہیں۔ بالخصوص ہمارا نوجوان طبقہ ان کے لیے یہ ایک گراں قدر حیثیت کا حامل ناول ہے۔ یہ ناول مڈل کلاس کی جواں نسل کے لیے محض اسی لیے دلچسپی کا باعث نہیں ہے کہ ناول کے بنیادی کردار یونیورسٹی کی کلاس میں ایک دوسرے سے آشنا ہوتے ہیں بلکہ اس لیے کشش کا باعث ہے کہ بانو قدسیہ نے جذبات اور اقدار کے بحران کو اپنے ناول کا موضوع بنایا ہے اور اسلامی اخلاقیات سے عدم وابستگی کو اس انتشار کا سبب اور مراجعت کو ’’طریقہ نجات‘‘ بتایا ہے۔ راجہ گدھ کا مطالعہ کرنے والے خوب جانتے ہیں کہ یہ کتنا اچھا ناول ہے۔ راجہ گدھ کے 14 سے زائد ایڈیشن شایع ہوچکے ہیں۔

بانو قدسیہ نے 27 کے قریب ناول، کہانیاں اور ڈرامے لکھے، راجہ گدھ کے علاوہ بازگشت، امربیل، دوسرا دروازہ، تمثیل، حاصل گھاٹ اور توجہ کی طالب، قابلِ ذکر ہیں۔ ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں حکومتِ پاکستان کی جانب سے انھیں 2003 میں ’’ستارۂ امتیاز‘‘ اور 2010 میں ’’ہلالِ امتیاز‘‘ سے نوازا گیا۔ اس کے علاوہ ٹی وی ڈراموں پر بھی انھوں نے کئی ایوارڈز اپنے نام کیے۔ انگنت، ڈراموں، افسانوں اور شاہکار ناول کی مصنفہ بانو قدسیہ آج خالق حقیقی سے جا ملیں۔ وہ گزشتہ دس روز سے ہسپتال میں زیرعلاج تھیں۔

آپا بانو قدسیہ :(
انا للہ وانا الیہ راجعون ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اک عہد جو تمام ہوا

ممتاز مفتی نے آپا کے متعلق کہاتھا کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آپ بانو کو جانتے ہیں چونکہ وہ مصنفہ ہے – قدسیہ کو نہیں جانتے جو فرد ہے- میں قدسیہ کو جانتا ہوں بانو کو نہیں جانتا- بانوقدسیہ ایک نہیں دوافراد ہیں جس طرح کسی کسی بادام میں دومغز موجود ہوتے ہیں- اسی طرح بانوقدسیہ کی شخصیت کے دو پہلو ہیں الگ الگ – ایک بانودوسری قدسیہ-
میں بانوقدسیہ سے واقف نہیں لہذا اس کی شخصیت قلم بند کرنے سے قاصر ہوں- صرف یہی نہیں کہ واقف نہیں سچی بات ہے میں اس سے واقف ہونا ہی نہیں چاہتا میں ہی نہیں اس کے گھرمیں بھی کوئی اس سے واقف نہیں نہ اشفاق ، نہ نوکی ، نہ سیری ، نہ کیسی کوئی بھی بانوسے واقف نہیں ہونا چاہتا-
گھرمیں تین مظلوم رہتے ہیں – بانو، قدسی اوراشفاق احمد – بانو کو قدسی جینے نہیں دیتی ، قدسی کواشفاق جینے نہیں دیتا، اشفاق احمد کو خود اشفاق احمد جینے نہیں دیتا- اشفاق احمد پٹھان ہے قدسیہ جاٹ ہے ، بانوبے ذات ہے- اشفاق براہمن ہے، قدسیہ شودہرہے ، بانوہاری ہے شہد کی مکھی ہے- قدسیہ پروانہ ہے ،

اے رب ! بانوآپا کو اپنی جوارِ رحمت میں خصوصی جگہ عطافرما ۔۔۔۔۔۔۔۔ آمین یا رب

*بانو قدسیہ*
پیدائش-: بانو قدسیہ28 نومبر 1928ء
فیروزپور، پنجاب، برطانوی راج، موجودہ پنجاب، بھارت
وفات-: 4 فروری 2017ء
قلمی نام-: بانو قدسیہ
پیشہ-: مصنف، ڈراما نویس، دانشور، روحانی
زبان -:اردو، پنجابی
قومیت-: پاکستانی
نسل مہاجر
تعلیم-: ایم اے (اردو)
صنف-: افسانہ نگاری، فلسفہ، تصوف
مضمون-: ادب، فلسفہ، نفسیات، اشتراکیت
ادبی تحریک-: صوفی ادب
شریک حیات-: اشفاق احمد
اولاد-: انیس احمد، انیق احمد، اثیر احمد
بانو قدسیہ پیدائش: 28 نومبر، 1928ء اردو اور پنجابی زبان کی مشہور معروف پاکستانی ناول نگار، افسانہ نگار ، ڈراما نویس ہیں جو اپنے ناول راجہ گدھ کی وجہ سے شہرت رکھتی ہیں۔

*زندگی*

اُن کا تعلق ایک زمیندار گھرانے سے ہے۔اُن کے والد زراعت میں بیچلر کی ڈگری رکھتے تھے۔ اُن کا انتقال بانو قدسیہ کی چھوٹی عمر میں ہی ہو گیا تھا۔تقسیم ہند کے بعد وہ اپنے خاندان کے ساتھ لاہور آ گئیں۔لاہور آنے سے پہلے وہ وہ مشرقی بھارت کے صوبہ ہماچل پردیش دھرم شالا میں زیر تعلیم رہیں۔ اُن کی والدہ مسز چٹھہ (Chattha) بھی تعلیم یافتہ خاتون تھیں۔ بانو قدوسیہ نے مشہور ناول و افسانہ نگار اور ڈراما نویس اشفاق احمد سے شادی کی۔

*تعلیم*

وہ اپنے کالج کے میگزین اور دوسرے رسائل کے لیے بھی لکھتی رہی ہیں۔ انہوں نے کنیئرڈ کالج برائے خواتین لاہور سے ریاضیات اور اقتصادیات میں گریجویشن کیا۔ بعد ازاں انہوں نے 1951ء میں گورنمنٹ کالج لاہور سے ایم اے اردو کی ڈگری حاصل کی۔

*ادبی خدمات*

بانو قدسیہ نے اردو اور پنجابی زبانوں میں ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے لیے بہت سے ڈرامے بھی لکھے۔ اُن کا سب سے مشہور ناول راجہ گدھ ہے۔ اُن کے ایک ڈرامے آدھی بات کو کلاسک کا درجہ حاصل ہے

*تصانیف*

آتش زیر پا
آدھی بات
ایک دن
امر بیل
آسے پاسے
بازگشت
چہار چمن
چھوٹا شہر، بڑے لوگ
دست بستہ
دوسرا دروازہ
دوسرا قدم
فٹ پاتھ کی گھاس
حاصل گھاٹ
ہوا کے نام
ہجرتوں کے درمیاں
کچھ اور نہیں
لگن اپنی اپنی
مرد ابریشم
موم کی گلیاں
نا قابل ذکر
پیا نام کا دیا
پروا
پروا اور ایک دن
راجہ گدھ
سامان وجود
شہر بے مثال
شہر لازوال آباد ویرانے
سدھران
سورج مکھی
تماثیل
توجہ کی طالب

About meharafroz

1,815 comments

  1. Hey! I just wanted to ask if you ever have any trouble with hackers?
    My last blog (wordpress) was hacked and I ended up losing a few
    months of hard work due to no back up. Do you have any methods
    to prevent hackers?

  2. It is truly a great and helpful piece of info. I am happy that you just shared this useful info with us.
    Please keep us up to date like this. Thank you for sharing.

  3. Howdy would you mind sharing which blog platform you’re using?

    I’m planning to start my own blog soon but I’m having
    a difficult time choosing between BlogEngine/Wordpress/B2evolution and Drupal.
    The reason I ask is because your design seems different then most blogs
    and I’m looking for something unique.
    P.S Sorry for getting off-topic but I had to ask!

  4. Very, in that case what are the factors to bear
    in mind when buying such a machine? Well, cost is certainly one,
    but additionally payback. Once again, disregard
    the product sales spiel, when you shell out decent money
    for such a machine you will find a point where payback happens plus
    the future is clear income. Today a smart business owner desires a
    definite, noticeable rapid return on the investment, and in addition they should.
    When doing exercises an ROI you will need to think about your therapy rate, and
    is dependant on the machine expense. An incredibly valued equipment indicates greater therapy costs, or a distant ROI.

    You can lower your price to draw more custom or contend
    with companies who’re paying less because of their gear, but your ROI then is gone in to the distant future.

    Britain has actually among the highest obesity rates in all of
    European countries. Usually being also known as the ill guy of Europe.
    Needless to say, obesity provides numerous bump on medical problems and that is one good reason why folks are embracing “the knife” as
    a way of dropping extra fat. Recently released figures demonstrate that
    physicians are doing more than half a million methods a-year to fight this growing problem.
    Indeed, a lot more people are flipping to “Lipo” as it
    is known well, whilst the silver round correct.
    A recently available development by means of Non unpleasant laser lipo, or “Lipolysis” claims
    instant and measurable effects, without pain or recovery time.
    Much is reported from inside the press and so much, the outcome tend
    to be remarkable.

    To know about lipolaser treatment, please go to our website
    lipolasers (Pearline)

    When considering losing body weight and having your body into perfect shape, reaching this purpose is never effortless.
    For a few, even most loyal of exercise routines and healthier diet plans still
    struggle to shift those excess pounds.

    But this is certainly not an issue; Laser Lipo is a strong brand-new, improved
    technologies which will enable you to acquire the great human body
    without the need to follow a gruelling fitness program, get eager, or have an invasive
    procedure.

    For guys, common regions of putting on weight are tummy or chest area, where an accumulation of body fat is formed in the long run and is also hard to move.
    For ladies, troublesome areas tend to be the belly and legs, and also the
    existence of undesirable bumpy skin. Gaining weight can be very distressing, generating anxiety, depression and often can lead to ill health.

    Conventional liposuction tends to be risky, distressing the other individuals are reluctant to consider as a result of the recovery time included.
    Laser Lipo, but, has become the industry’s top approach
    to fat elimination and skin tightening, for celebrities and people alike, because of its security and
    effectiveness.

  5. I know this if off topic but I’m looking into starting my own blog and
    was wondering what all is needed to get setup? I’m assuming having a blog like yours would cost a pretty penny?
    I’m not very web smart so I’m not 100% sure. Any tips or advice would be greatly appreciated.
    Cheers

  6. Hey there! I’ve been reading your weblog for
    some time now and finally got the courage to go ahead and give
    you a shout out from Humble Texas! Just wanted to tell
    you keep up the fantastic work!

  7. Wow, this piece of writing is good, my sister is analyzing these kinds of things, thus I am going to inform her.

  8. I think this is one of the most vital info for me. And i am glad reading your article.
    But want to remark on some general things, The site style is great, the articles is really great :
    D. Good job, cheers

  9. There are no devoted laws and regulations for on-line poker in India as on date.
    Relying on the Double Tax Avoidance Settlement (DTAA) between India and different nations, some activities may be exempt from double taxation. These games can be legally played on-line however, the operator needs to get a license
    from the State government. The very best Indian poker rooms allow you to play the poker video games
    you’re keen on head-to-head in opposition to actual
    folks or in event format for actual cash. I like playing at totally different
    poker websites and since the entire sites I discussed above take this residue option, it allows me to use my bankroll in any respect
    3 of the websites from the identical ewallet.

    To obtain the free app Star Poker India by Manjunath Kulkarni, get iTunes now.
    The legality gives a protected atmosphere for poker web
    sites in India to offer seamless gaming expertise as properly.
    The grey” space that online playing is perceived has led to certain circumstances such as the next. Sure, there are some dangerous beats in which despite all of the skill, a nasty card can destroy your game. Most of the Indian operated poker rooms supply free games, as do the main world rooms.

    GoPoker is house to some of India’s biggest poker gamers, and so they’re here that will help you! Whether or not your favor game is Texas Hold’em or Omaha you could find all the newest data on the market right here. We offer you the latest breaking information and movies straight from the poker industry. In order so as to add additional to this online poker having fun with pleasure we have now on-line poker tournaments that are listed on the main page with required details. One of the things they do distinguish between is one thing that does play an enormous position in modern playing law though, and that is the distinction between video games of talent and games of chance, with only the latter falling underneath the regulation.

    In association with few new born poker rooms like Excessive 5, it organizes large tourneys which have elicited poker execs in current times from several cities including Kolkata, Delhi and Guwahati. That is essential, particularly when taking part in in opposition to glorious gamers, as a result of something you do at the poker desk may give your opponent an indication of energy or weakness. You may even study different game variations and uncover new strategies to master each variant. Coming back to your primary question-I started searching for online poker softwares, then I came to know about the one and only POKERSTARS.

    I simply wish they’d supplied a more strong packaging to hold all the chips in place once faraway from the unique packaging. There’s an exemption for games of skill, but the Indian government is still deciding whether or not or not on-line poker games fall into that category. Poker followers are hopeful that the sport will sometime be recognized by the International Thoughts Sports association, which is able to put it it alongside different mind-games like Chess, Bridge and Draughts. This contains on-line poker which has six lakh registered Indian customers on a single web site, Scores of young folks have given up profitable careers to play full time.

    The Sikkim state government has issued its first license to a web-based playing operator; Future Gaming Solutions Non-public Limited. Most of the suppliers of online poker, online rummy, on-line card video games, etc are openly flouting the legal guidelines of India particularly the techno authorized obligations and cyber legislation due diligence (PDF) necessities. Aspires to become one of the best poker website of India and has invested heavily to supply world class poker sport software that gives the very best poker expertise to its gamers on LAPTOP and Mobile phone.

    Barely totally totally different from Texas Holdem, Omaha is preferred amongst poker video games for the problem it affords. KhelPlay Poker Blog brings you the knowledge on taking part in on-line poker in India. Rs three.36 crore prize money has been declared for the winners of this distinctive league, which might involve a lot of brain energy, calculations and luck. The 2 corporations have formed an equal joint venture to develop the net poker market in India, with Mojo Video games offering the iGaming expertise, payment processing, back workplace and advertising and marketing assist options for the community.

    Thrill Poker, after launching in May of 2014, is also promoting poker in India. With gradual regulatory acceptance, and put up Delta’s acquisition of Adda52, extra traders are eyeing the principally bootstrapped online poker sector. Get the latest info on poker tournaments, poker presents, poker ideas and tips, offline poker occasions, poker information and rather more. Poker bonus and promotions are one of the vital enticing elements which carry extra players to register on the web site. Any recreation/sport that offers thrill and pleasure is price investing time on. You may see so much altering and so much going down round poker in India very quickly.

    They rely on the standard and belief they supply to herald players and keep them there. For those who liked this short article and also you would like to receive particulars on the subject of poker india you may try these out i implore you to visit our web-web page. We believe that any online poker web site of India that needs to interact in authorized enterprise should adjust to Indian laws like Indian Penal Code, 1860, Code of Criminal Procedure, 1973, Indian Data Know-how Act, 2000, the Public Gambling Act, 1867, Foreign Trade Management Act (FEMA) 1999, and so on.

    We provide our free service that recommends one of the best of the perfect Indian on-line poker websites. Any sport/sport that gives thrill and pleasure is worth investing time on. You will see a lot changing and so much occurring round poker in India very soon. The tournament was designed to advertise poker in India and is held at the Casino Carnival in Goa. As legendary poker participant and commentator Antonio ‘The Magician’ Esfandiari put it, that was a very large transfer by Farber. A gaming enthusiast who need to enjoy and enhance his skills is never barred from taking part in poker.

    Gamers at our website could make a exceptional improvement in their total sport by using promo codes like DEPKQ, KQSIGN, and RELOADBONUS and many others. Right here is excellent app Play Poker at Poker Sq. for learning and enjoying on-line poker legally in India. United Kingdom Playing Fee (UKGC), world’s strongest federal body to regulate legal guidelines pertinent to on-line gaming, regulates real money online poker games. The highest Indian poker rooms let you play the poker games you’re keen on head-to-head against actual individuals or in match format for actual money. http://www.honningvineriet.dk/content/online-poker-legal-india-2

  10. Typical Liposuction can be quite intense, and there are numerous videos on YouTube revealing
    precisely how intrusive and physical this particular
    treatment solutions are. It involves putting a vacuum pipe according to the skin and literally drawing the actual
    surplus fat. The end results are less fat, but can also outcomes is saggy epidermis, plenty of bruising,
    disease, pain and a lot of remainder. This kind of
    therapy can just only be provided with by clinically competent people, indicating it can be pricey and out of the areas of treatment
    options that a beauty salon can offer.

    Lately we have seen a more recent therapy going around, that getting Laser Liposuction that will be nevertheless
    invasive and involves a rod with a laser emitter becoming driven underneath the epidermis and successfully, the
    laser dissolves the fat. This is simply not very so intense
    as standard lipo, nonetheless it continues to have a number of evident downsides.
    Equipment is massively high priced, and once again you have to be clinically qualified to
    give the procedure, very again, not a thing a beauty salon manager could ordinarily supply.

    To know about lipolaser reviews treatment, kindly visit our
    very own website lipolaser reviews

    Laser lipo is actually an awesome liposuction process as it
    involves the usage of a minimally-invasive innovation for extra fat removal.
    The laser tip from the device breaks the oils after coming into exposure to all
    of them with the small cut built in the specific area of therapy.
    Unwanted fat that is actually melted through laser liposuction can be removed
    through the body immediately. This lipo dissolve approach helps in flushing out the unnecessary fats from
    the human body with the lymphatic system. The doctor adjusts the
    intensity of the laser based on the requirements of this
    client. Laser liposuction treatment necessitates the use of neighborhood anesthesia just for the
    reason that that the recovery duration is drastically reduced.

    You have to find out whether you will be the ideal candidate for laser lipo surgery after consulting the
    doctor or physician. For the reason that laser liposuction treatment procedure cannot bring desired effects on all parts
    of the body. It can work with particular places merely such as the
    throat, face, hands and legs etc. Laser liposuction is a body sculpting process that is much like
    the conventional liposuction treatment solution.
    However it gets rid of most of the harmful side effects associated with
    the second.

  11. Appreciate this post. Will try it out.

  12. Exceptional post but I was wondering if you could write a litte more on this subject?
    I’d be very grateful if you could elaborate a little bit more.
    Thanks!

  13. Organic Store is India’s greatest on the internet retailer of organics and all-natural products.

  14. Why viisitors still use tto reawd ews papers when in this technological wlrld everything is existing oon web?

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*