Breaking News

Tukhm E Khoon A Novel By Sagheer Rahmani A Review By Mehr Afroz

تخم خون ۔ضغیر رحمانی کا ناول
ایک تبصرہ مہر افروز

صغیر رحمانی بہار ریاست کے آسمان ادب کا وہ مایہ ناز ستارہ ہیں جس پر بہار کی سرزمین کو ہمیشہ ناز رہیگا۔۔صغیر رحمانی ایک کہنہ مشق ادیب اور مصنف ہیں ۔انکے اب تک چھ کتابیں منظر عام پر آ چکی ہیں پرانے گھر کا چاند ہندی افسانوی مجموعہ ۲۰۰۰ آشیش ہندی ناول ۲۰۰۱واپسی سے پہلے افسانوی مجموعہ۲۰۰۲ جہاد افسانوی مجموعہ ۲۰۱۱ تخم خون ناول ۲۰۱۶داڑھی افسانوی مجموعہ ۲۰۱۶ان کا ایک اور ناول منتظر اشاعت ہے چندا ۔۔۔۔

صغیر رحمانی ایک نیم سرکاری ملازم ہیں اپنے کنبے کا واحد معاشی سہارا،درمیانی معاشی طبقے کے فرد ہونے کے ناطے انکے وہی تمام مسائل ہیں جو میرے یا آپ کے ہوسکتے ہیں ۔ اس کی ایک خوبی یہ ہوئی ہے کہ متوسط طبقہ کے فرد ہونے کی وجہ سے انہوں نے زندگی کے نچلے طبقہ کے افراد کو اور انکے مسائل کو بہت قریب سے دیکھا ہے نچلی زندگی کے کرب کو محسوس کیا ہے اور اس منظر نامے کو اپنے ادبی منظر نامے پر پوری صداقتوں کے ساتھ منعکس کیا ہے ۔ نہ صرف من وعن منعکس کیا ہے بلکہ اسکے لئے کچھ بہتری کی راہیں اور مسائل کا حل بھی سمجھانے کی کوشش کی ہے ۔میں نے انکے چیدہ چیدہ افسانے بھی پڑھے ہیں جو روز مرہ زندگی کے اطراف گھومتے ہیں ۔

انکے پہلے اردو ناول تخم خون نے مجھے بہت متاثر کیا ہے یہ ناول ایک کہانی نہیں بلکہ بہار کی پچھڑی ذات کے لوگوں کا نوحہ ،درد ،دکھ،کرب ،غصہ ،نفسیات ،اور ان پر ہوتے مظالم کی ایک ایسی داستان ہے جسے ہندوستان کی آزادی کے ستر سال بعد پڑھکر نہ صرف حیرت ہوتی ہے بلکہ انسانیت کی اس تذلیل پر رونگٹھے کھڑے ہو جاتے ہیں ،کہ کیا ہندوستان میں اب بھی ایسا ہوتا ہے ۔،،ہندوستان کی شہری زندگی ترقی کر چکی مگر دیہی زندگی کا منظر نامہ بہت زیادہ نہیں بدلا ہے ۔مگر ناول کے اختتام تک پچھڑی ذات کے افراد کی سوچ کی تبدیلی اور انکے غم و غصے کا ایک انقلابی سورج کی شکل میں اگنا ہمیں ایک خوش کن اطمنانی جذبے سے بھی روشناس کرواتا ہے ۔

جب میں نے ناول پڑھنا شروع کیا اور پہلے دو ابواب ختم کئے ،تو پہلا جملہ جو ذہن میں آیا وہ یہی تھا ،
“کیا میں منشی پریم چند کا کوئی ناول پڑھ رہی ہوں “۔۔
ناول کا بیانیہ ،دیہاتی زندگی کا پس منظر اور دیہاتی زبان ،دیہاتی کلچر ،نچلے طبقے کے کچلے افراد کی نفسیات ،اتنی جاندار ہیں کہ ناول کا پڑھنا رکا نہیں ۔۔

ناول کی اگلی قراءت نے ایک اور چیز مجھ پر افشاں کی کہ بیانیہ پریم چند کی طرح جاندار سہی مگر کرداروں کا ٹریٹمینٹ اور پیش کشی پریم چند کی نہیں بلکہ صغیر رحمانی کی ہے کیونکہ وہ انکا نقاد نندک نہیں بلکہ مسیحا ہے انکے درد کا شراکت دار اور انکا اپنا ہے جب کہ کفن میں رذالت کی انتہا پر پہنچے نچلے ذات کے لوگ یہہاں بھی ہیں مگر رذالت انکی ذاتی نفسیات کا حصہ نہیں بلکہ صدیوں کا وہ استحصال ہے جو کسی قوم کی اجتماعی سوچ کو بناتا ہے ۔انکے اس منطقی جواز سے نہ صرف ہمیں کرداروں سے ہمدردی پیدا ہوتی ہے بلکہ یہی کردار ناول کے مثبت کردار ،ہیرو اور مرکزی توجہ بنتے ہیں ،بلکہ ناول کا کلائمیکس بھی انہی پچھڑی ذات کے کرداروں کی وجہ سے وقوع پذیر ہوتا ہے ۔یہ شعوری کوشش ناول تخم خون کو پریم چند کے ناول سے منفرد ممتاز اور الگ بناتا ہے ۔

پریم چند کے ناول میدان عمل کا بیانیہ گوؤ دان کا بیانیہ جتنا جاندار ہے اتنا ہی جاندار تخم خون کے ہر باب کا بیانیہ ہے ۔ناول پڑھتے وقت لگتا ہے ،واقعات ہمارے سامنے وقوع پذیر ہورہے ہیں ،اور ہم کوئی فلم دیکھ رہے ہیں ۔

ناول کی دوسری خصوصیت اسکی کردار نگاری ہے خاص کر بلایتی کا کردار ،اسکے شوہر ٹینگر رام کا کردار اور پنڈت کا کردار بہت ہی زبردست درشائے گئے ہیں اور یہ کردار اردو ادب کی تاریخ میں انکے نفسیاتی ٹریٹمینٹ اور انکی اندرونی کشمکش کے بیانیہ کے لئے یاد رکھے جایئں گے ۔صغیر رحمانی ایک مرد ہیں ۔ مگر ایک عورت کے جذبات کو خاص کر بلایتی کے ان جذبوں کو جب وہ بچہ کو پانی نہلاتی ہے تیل کی مالش کرتی ہے گود میں لیتی ہے تو جو ہوک اسکے اندر اپنے خود کے بچہ نہ ہونے کے لئے اٹھتی ہے وہ اتنے خوبصورت اور حقیقی انداز میں اجاگر کئے گئے ہیں کہ بیساختہ ایک ادیب کے قلم کو سلام کرنے کو جی چاہتا ہے

ناول کی تیسری خوبی اسکی پلاٹنگ ہے ۔پلاٹ کا بننا ،واقعات کی ترتیب ،کچھ اس انداز میں پیش کرنا کہ قاری کا تجسس باقی رہے ،اپنے آپ میں ایک کمال ہے ۔چوتھے باب کے بعد بلایتی کے گرد گھومتی کہانی اچانک ایک ایسا موڑ لیتی ہے کہ بلایتی کا کردار بالکل غایب ہو جاتا ہے اور کہانی کا مرکزی خیال اس کشمکش کی طرف موڑ دیا گیا ہے جہاں اونچی اور نچلی ذاتوں کے درمیاں زمین کے تنازعے کو لیکر اختلاف کی خلیج بنتی ہے ۔صدیوں کے غلام مزدوروں کا استحصال انکے خلاف سازشیں اور انکے خلاف قتل و غارت گری کے واقعات پر توجہ مبذول ہوگئی ہے،جس سے ایک سنگھرش کا ماحول بن جاتا ہے ۔ساری برداری برہمنوں کے خلاف ہے تب کہیں لگا بلایتی کے کردار کو ضائع کردیا گیا ۔مگر اختتام میں اسی کردار کی واپسی بڑی شاندار لگی ۔درمیانی حصوں میں بیانیہ کچھ بوجھل ضرور ہوا ہے مگر کہانی پن اور پلاٹ کی گوندھن کہیں بھی متاثر نہیں ہوئی۔پلاٹ کو مسلسل۔ پیچیدگی کے ساتھ ایک چونکا دینے والے انجام کی طرف لے جانا، ادیب کا کمال ہوتا ہے اور صغیر رحمانی اس میں بہت کامیاب رہے ہیں ۔گتھیاں الجھانا اور پھر انہیں تہہ داریوں کے ساتھ کھولنا کہ کرداروں کی نفسیات پوری طرح کھل کر سامنے آئے یہ مصنف نے بہت کمال کے ساتھ کر دکھایا ہے

۔

ناول اپنے وقت کی زندگی کی وہ مسلسل عکاسی ہے جو زمانے کو ۔جلاتی ،دکھاتی ،تجزیہ کرتی ،عمل کا ردعمل پیش کرتی اور ساتھ میں جواز اور وجوہ کی تشریح بنتی وہ زندگی ہے جو ایک پیغام بھی دیتی ہے جو کسی بڑی تبدیلی یا انقلاب کا پیش خیمہ ثابت ہوتی ہے ۔یہ کر دکھانا کسی معمولی ذہن کا کام نہیں ہے ۔صغیر احمد ایک ذہین ادیب ہیں جو اپنے کمال فن پر عبور رکھتے ہیں اور اپنے فن کی خوبیوں کو پیش کرنے کا ہنر بھی جانتے ہیں ۔

ناول لکھنے سے پہلے شاید صغیر رحمانی پچھڑی ذات کے لوگوں کے درمیان رہے ،بسے ہیں ،تاکہ ان کی زندگی اور طرز زندگی کا بخوبی مطالعہ کرسکیں ۔یہی وہ فرسٹ ہینڈ تجربہ ہے جو تخم خون کو حقیقت نگاری کے اتنا قریب کرتا ہے کہ ہمعصر ناولوں میں تخم خون ممتاز ہوگیا ہے ۔

ایک مصروف سرکاری ملازم ہونے کے باوجود صغیر رحمانی کی ادبی خدمات اس عمر میں قابل ستائش ہیں ،اور یہ بات ادب کے تئیں ان کی سنجیدگی کو اجاگر کرتی ہیں ،ان سے مستقبل میں اور بہتر ادبی شہہ پاروں کی تخلیق کی امید ہے ۔اللہ کرے زور قلم اور زیادہ ۔۔۔,

جدید ادب کے لکھنے والوں میں اور لکھے گئے ناولوں میں تخم خون کی حیثیت ممتاز اسلئے ہے کہ یہ ایک سوچ کی تبدیلی کا مظہر اور ایک انقلابی پیغام کا پیش خیمہ ہے جو ایک نسل ،ایک ذات کی سوچ کو نہ صرف منعکس کرتا ہے بلکہ متاثر بھی کرتا ہے ۔پچاس سال کے بعد اگر اردو ناول کی گریڈنگ یا درجہ بندی کی جائیگی تو تخم خون کو اردو کے دس بہترین ناولوں میں گنا جائیگا۔

ناول کی جو چیز پسند نہیں آئی وہ اسکی لکھاوٹ یا تحریری انداز ہے جو اردو زبان کے تحریری پیٹرن کو متاثر کرتا ہے ۔کرداروں کی زبان میں حقیقی رنگ لانے کے لئے ایسا اگر کیا گیا ہے تب بھی اس میں ایک یونیفارمیٹی کی ضرورت تھی ،جیسے ق کی آواز اگر ک سے لکھی گئی تو اسے ک سے ہی لکھنی ہے ہر جگہ،کسی بھی جگہ خ نہیں بنانا ہے نہ ک سے بدلنا ہے ۔ز ،ض ،ذ ،اگر ج سے بدلا گیا ہے تو وہی پیٹرن ہر جگہ رکھنا ہے آوازوں اور حروف تہجی کا غلط استعمال زبان کے تحریری ڈھانچے کو متاثر کرتا ہے ۔آج سے پچاس سال بعد زبان اگر تبدیلی کے موڑ پر آگئی جسکی سازش ابھی سے جاری ہے بلکہ عصمت چغتائی کے زمانے سے شروع ہو چکی ہے تو یہ کوشش اگر شعوری ہے تو فسادیوں کے ہاتھ کا ہتھیار بن سکتی ہے ۔اگر لاشعوری ہے تو میری درخواست ہے کہ اگر ناول کا دوسرا ایڈیشن آتا ہے تو اس میں درستی کر لیا جائے.

نئی صدی میں اردو کو ایک بہترین ناول دینے کے لئے دلی مبارکباد ،داد اور بہت دعائیں، صغیر رحمانی کا قلم اور بہترین خدمات کے لئے استعمال کیا جائے.

مہر افروز
دھارواڑ
کرناٹک ۔

About meharafroz

Check Also

Short Story By Hamid Siraj

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *