Breaking News

Sukoot Ghazal By Naheed

الہام کو تم نے زبان کیا دی
آنکھوں نے دھڑکنا ہی چھوڑ دیا

“تمہارے بغیر تو میرا دل ڈوب رہا ہے”
صرف تمہارا دل نہیں ڈوبا تھا، ماں
مجھ سے رُو بہ رُو کی ہوئی
تمہاری اس آخری بات نے
میری بھی جان نکال لی تھی
جتنا جینا قسمت میں طے تھا
وہ تمہارے جانے تک ہی تھا
اب تو سانسوں کی بس گنتی ہے
اور یہ بھی کب تک ۔۔۔

سکوت کے چہرے پر
نظروں کو جمانا
اور فضاؤں میں بہتی
درد کی لہریں پڑھنے کا ہُنر
تمہیں بہ طورِ خاص ودیعت تھا ۔۔۔

اب میرے جھوٹے پُر سکون لہجے میں
کوئی بھی درد کی پرچھائیں دیکھ نہیں پاتا
مُسکان کے پردے کے پیچھے
اُداس بھیگی آنکھوں میں
کرب کے کتنے ڈورے ہیں
کوئی جان نہیں پاتا ۔۔۔

اب تو ہر ایک سے ہم کلام ہوتے ہوئے
پلکوں کو جُھکانا پڑ جاتا ہے
آناً فاناً
لہجے کے رنگ بدلنا پڑ جاتے ہیں
امّاں
میرے سکوت کو زبان تم ہی دے سکتی تھیں ۔۔۔

ناہید ورک

About aseem khazi khazi

Check Also

وار فکشن شام اک داستان ِعشق -افسانہ- Qaisar Nazeer Khawar

تین خواتین کا مشترکہ طور پر لکھا افسانہ برائے تنقید و تبصرہ ( یہ مئی …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *