Breaking News

Hikayat Qaisar Nazir Khawar

صوفی سنتوں کی کہاوتوں سے انتخاب ۔ 40
متقّی
اردو قالب ؛ قیصر نذیر خاور

یہ کوئی گیارہ سو برس پہلے کی بات ہو گی کہ ملک فارس کے شہر بسطام میں ایک متقی اس بزرگ صوفی کے پاس گیا جو بایزید بسطامی کے نام جانا جاتا تھا۔ اس متقی نے بایزید سے کہا؛
” میں پچھلے تیس برس سے نہ صرف روضے رکھ رہا ہوں بلکہ عبادت میں بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ پر ایسا کیا ہے کہ مجھے وہ اطمینان قلب اور روشنی نہیں ملی، جس کا بیان آپ کی تعلیمات میں ہے۔“
بایزید نے جواب دیا؛
” تم اگر تین سو سال تک بھی عبادت کرتے رہو اور روضے رکھتے رہو ، تب بھی تم اس روشنی اور اطمینان قلب کو نہیں پا سکتے۔“
متقی نے سوال کیا؛
” بھلا ایسا کیوں ہے؟“
” وہ اس لئے کہ تمہارا زعم تمہارے راستے میں حائل ہے۔ ” بایزید نے کہا۔
” تو مجھے اس کا حل بتائیں ۔ “ متقی بولا۔
” اس کے لئے تمہیں جو کرنا پڑے گا ، وہ تم نہیں کر پاﺅ گے۔“
” آپ بتائیں تو سہی!“
یہ سن کر بایزید بولا؛
” حجام کے پاس جاﺅ، اپنی داڑھی منڈواﺅ، اپنے لباس سے چھٹکارا پاﺅ اور’ کچھا‘ پہنو، ایک ’توبڑے‘ میں اخروٹ بھرو اور اسے اپنے گلے میں لٹکا کر بازار میں نکل جاﺅ اور آواز لگاﺅ کہ تم ہر اس شخص کو ایک اخروٹ دو گے جو تماری گُدی پر تھپڑ لگائے گا ۔ یہ عمل اس وقت تک کرنا ہے جب تک بسطام کے سب لوگ تمہاری گُدی پر تھپڑ نہ لگا لیں ۔“
” لیکن میں یہ نہیں کر سکتا۔ مجھے کوئی اور راستہ بتائیں ۔“ متقی نے کہا۔
بایزید بسطامی نے جواب دیا؛
”یہ پہلا اور آخری راستہ ہے۔ میں نے تو تمہیں پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ جو میں بتاﺅں گا وہ تم نہیں کر پاﺅ گے۔اس کے سوا تماری نجات کسی اور میں نہیں ہے۔ “

About meharafroz

Check Also

Short Story by Shamoil Ahmed

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *