Breaking News

Hikayat By Qaisar Nazir Khawar

پیسے پورے کرنا
ترکی ادب؛ حکایات خواجہ نصیرالدین، مُلا سے انتخاب ۔ 1
اردو قالب؛ قیصر نذیر خاور

یہ اس زمانے کی بات ہے جب خواجہ نصیرالدین، مُلا کو ملک ملک پھرنے کا جنون چڑھا تھا ۔
ایک دن وہ کافرستان کے بلند و بالا پہاڑوں سے اترا اور ہندوستان کی یاترا پر چل پڑا، جوں جوں میدانی علاقہ قریب آتا گیا ، راستے گرد سے اٹنے شروع ہوگئے۔ وہ گرد سے اٹی ایک سڑک پر بوجھل قدموں سے چل رہا تھا ۔
پھلوں اور گوشت کی فراوانی والے ملک کے رہنے والے نصیرالدین ، جس نے ’سالن ‘ کبھی کھایا نہ تھا ، کو سخت پیاس نے آ ستایا ۔ ‘مجھے جلد ہی کوئی اچھا رسیلا پھل کھانے کو ملنا چاہئیے تاکہ پیاس سے جان چھوٹے’، اس نے سوچا۔
ابھی ان الفاظ نے اس کے ذہن میں ترتیب پائی ہی تھی کہ وہ سڑک کے اس حصے پر پہنچا جہاں سے وہ مڑ رہی تھی ۔ وہیں نکڑ پر ایک درخت کے سائے میں ایک مقامی شفیق آ دمی ایک ٹوکرا رکھے نظر آیا ۔
اس کا ٹوکرا بہت سے لال چمک دار پھلوں سے لدا ہوا تھا۔’ مجھے بس انہیں کی ضرورت تھی،‘ نصیرالدین نے خود سے کہا ۔ اس نے اپنی پگڑی کی ایک تہہ سے تانبے کے دو سکے نکالے اور پھل بیچنے والے کے حوالے کئے۔ اس نے بنا کچھ کہے پورا ٹوکرا نصیرالدین کے حوالے کیا اور خود اٹھ کر ایک طرف کو چل دیا ۔ اسے گمان بھی نہ تھا کہ اس کے پھل سارے کے سارے یوں ایک ہی گاہک کے ہاتھوں بک جائیں گے کہ ہندوستان میں تو لوگ اس پھل کے دو تین دانے ہی خریدتے تھے۔
نصیرالدین ٹوکرے کے پاس اس جگہ پر بیٹھ گیا جو پھل بیچنے والے نے خالی کی تھی اور پھلوں کو چبانا شروع کر دیا ۔ چند ہی لمحوں میں اس کا منہ جلنا شروع ہو گیا ۔ آنکھوں سے پانی بہہ بہہ کر اس کے گال تر کرنے لگا ۔ گلے میں آگ بھڑک اٹھی جو کھانے کی نالی سے ہوتی معدے کو بھی جلانے لگی لیکن وہ کھاتا چلا گیا ۔
گھنٹہ یا شاید دو گزرے ہوں گے کہ ایک افغان پہاڑیا پاس سے گزرا ۔ نصیرالدین نے اس سے سلام دعا لی اور اسے بتایا؛ ” بھائی یہ بیہودہ پھل یقیناً شیطان کے منہ کی پیداوار ہوں گے!“
”بےوقوف!“ پہاڑیے نے کہا۔ کیا تم نے کبھی ہندوستان کی لال مرچوں کے بارے میں نہیں سنا؟ انہیں کھانا فوراً بند کرو ورنہ اس سے پہلے کہ سورج سر پر چڑھ آئے، تمہاری موت یقینی ہے۔“
” میں یہاں سے اس وقت تک نہیں ہل سکتا جب تک میں پورا ٹوکرا نہ ختم کر لوں ۔“
”پاگل! یہ پھل سالن بنانے میں استعمال ہوتا ہے! انہیں فوراً پھینکو۔“
” میں اب پھل تو نہیں کھا رہا ، “ نصیرالدین نے تڑ سے جواب دیا۔ ” بھائی ! میں تو اپنے پیسے پورے کر رہا ہوں ۔“

About iliyas

Check Also

Short Story by Shamoil Ahmed

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *