Breaking News

Ghazal By Kashif Zareef

شجر اب کٹ چکے سارے گھروں سے
پرندے ہٹ گئے ہیں منظروں سے

گلابِ سرخ تو مہکا ہے لیکن
اڑے ہیں رنگ تتلی کے پروں سے

ترے سینے میں گر نازک سا دل ہے
بنا میں بھی نہیں ہوں پتھروں سے

حسیں ہے وہ مگر اک سانپ جیسا
نہ قابو آسکے گا منتروں سے

چلا آیا بڑھا کر پیاس اپنی
پیا پانی نہ اس کی گاگروں سے

ابھی اک راستہ باقی ہے لوگو!
ابھی گزرا نہیں پانی سروں سے

منا سکتا تھا میں ہر شخص کاشف
مگر پالا پڑا ہے منکروں سے

کاشف ظریف

About iliyas

Check Also

Article By Qaisar Nazir Khawar

تصوف ، فقیری اور منصوری روایت کے قائل ، ہفت زبان درویش شاعر سچل سرمست …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *