Breaking News

Hikayat by Qaisar Nazir Khawar

صوفی سنتوں کی حکایتوں سے انتخاب ۔ 78
قسمت
اردو قالب؛ قیصر نذیر خاور

یہ قصہ بغداد کا ہے ، جہاں ایک زمانے میں ایک امیر سوداگر رہتا تھا۔ اس کا مکان تو عالیشان تھا ہی ، وہ اور بھی بہت سی جائیداد کا مالک تھا۔ اس کے پاس کئی بحری جہاز بھی تھے جو اس کا مال لے کر ’ہند سندھ‘ و دیگر ملکوں تک جایا کرتے تھے۔ اس سارے مال و متاع کا کچھ حصہ تو اس نے وراثت میں پایا تھا ، کچھ اپنی محنت سے کمایا تھا اور باقی خرطوم کے سلطان کی مہربانی کا نتیجہ تھا جسے وہ وقتاً فوقتاً دوسرے ملکوں کی

نادر اشیاء بطور تحفہ لا کر دیتا تھا ۔ خرطوم کا یہ سلطان ایک دانا، سخی اوراپنی رعایا کی فلاح کا دھیان رکھنے والا حکمران تھا ۔
پھر کچھ ایسا ہوا کہ سوداگر کے برے دن شروع ہوئے۔ اس کے مکان اور جائیداد کو ایک قبضہ گیر نے ہتھیا لیا ۔ اس کے کچھ بحری جہاز سمندری طوفانوں کی نذر ہو گئے جبکہ باقی بحری قزاقوں نے لوٹ لئے ۔ اس کے خاندان کے افراد بھی آفتوں کا شکار ہو کر فوت ہو گئے۔ اس کے دوست یار بھی اس کا ساتھ چھوڑ گئے۔
مصیبت زدہ سوداگر، جو اب تنہا رہ گیا تھا ، نے فیصلہ کیا کہ سلطانِ خرطوم سے جا کر ملے کہ شاید وہ آڑے وقت میں اس کے کچھ کام آئے۔ اس نے سفر کا آغاز کیا تو صحرا میں اس کے ساتھ اور حادثات پیش آئے ۔ اس کا گدھا بیمار ہو کر مر گیا ۔ اس پر طرہ یہ کہ اسے غلاموں کی تجارت کرنے والوں نے پکڑ لیا اور بیچ ڈالا۔ وہ اپنے خریدار کے ہاں سے بڑی مشکل سے فرار ہوا اور گاﺅں گاﺅں گھومتا خرطوم کی طرف بڑھنے لگا۔ تیز سورج نے اس کے چہرے کا رنگ سیاہ کر ڈالا تھا۔ دیہاتی اسے اپنے دروازوں سے دھتکار دیتے ۔ کبھی کوئی بھلا مانس اسے کھانے کو کچھ دے دیتا جسے وہ صبر شکر سے کھا کر تالاب سے پانی پی لیتا ۔ اسے تو پانی بھی اکثر کھارا ملتا، ایسا لگتا تھا جیسے قدرت اس کا ہر طرح سے امتحان لے رہی ہے۔

بالآخر وہ خرطوم پہنچ ہی گیا اور سلطان کے محل کے دروازے پر جا پہنچا ۔ اس نے پہریداروں کو اپنے بارے میں بتایا لیکن انہوں نے اسے دیوانے کی بڑ جان کر اندر جانے سے روک دیا ۔ ان کے سردار نے بھی اس کی کوئی بات نہ سنی ، سوداگر محنت مزدوری کرنے لگا تاکہ دربار کے شان ِ شایان لباس خرید سکے۔ لباس خرید کر وہ دربان اعلیٰ کے پاس گیا اور اس سے درخواست کی کہ وہ اسے بادشاہ سے ملنے کا ایک موقع دے۔ دربان اعلیٰ نے اس کے ساتھ بات چیت کرکے یہ اندازہ لگایا کہ وہ تو شاہی آداب بھی نہیں جانتا چنانچہ اس نے اسے اپنے ایک کارندے کے حوالے کر دیا کہ وہ اسے یہ سب سکھائے۔ یہ حقیقت تھی کہ جب سے اس پر مصیبتیں نازل ہوئی تھیں تب سے لے کر اس وقت تک وہ واقعی آداب بھول چکا تھا اور ایک گنوار دیہاتی لگتا تھا۔ آداب سیکھنے میں اسے ایک لمبا عرصہ لگا۔

acquire zoloft, acquire Zoloft.

آخرکار اسے بادشاہ سے ملاقات کا شرف حاصل ہو ہی گیا۔ بادشاہ نے اسے پہچان لیا ، اپنے پاس بٹھایا اور اس کا احوال پوچھا۔ سوداگر نے اپنے ساتھ بیتا سب کچھ بادشاہ کو سنا ڈالا۔ سوداگر کی بپتا سن کر بادشاہ نے اپنے وزیر اعظم کو حکم دیا کہ سوداگر کو سو عدد بھیڑیں دی جائیں اور اسے شاہی چرواہا گردانا جائے۔ سوداگر کو بادشاہ سے اس سے زیادہ کی توقع تھی لیکن اس نے اس پر ہی قناعت کی اور سو بھیڑیں لئے چراگاہوں کی طرف چلا گیا۔ قسمت ابھی بھی اس پر نالاں لگتی تھی۔ بھیڑوں میں بیماری پھیلی اور وہ سب کی سب مر گئیں ۔
سوداگر واپس بادشاہ کے پاس گیا اور سارا ماجرا بیان کیا۔ بادشاہ نے اس کی کتھا سن کر وزیر اعظم کو کہا کہ اسے پچاس بھیڑیں دے دی جائیں۔ دل میں شرمندہ ، اور بادشاہ کے اس سلوک سے قدرے مایوس وہ پچاس بھیڑیں لئے محل سے لوٹ آیا۔ کچھ دن تو ٹھیک گزرے لیکن ایک روز جنگلی کتوں نے بھیڑوں پر حملہ کیا اور سب کو ہلاک کر ڈالا۔ افسردہ ، مایوس اور اپنی قسمت کو لتاڑتا سوداگر پھر سے بادشاہ کے پاس آیا اور اسے جنگلی کتوں کی کارستانی بارے بتایا۔ اس پر بادشاہ نے کہا؛

” ٹھیک ہے ، اب تم پچیس بھیڑیں لے جاﺅ اور ان کو پروان چڑھاﺅ“
سوداگر اتنا دل برداشتہ تھا کہ اس کا دل چاہا کہ بادشاہ کو انکار کر دے لیکن اس نے ایسا نہ کیا اور پچیس بھیڑیں لئے لوٹ آیا۔ کچھ عرصے بعد ان بھیڑوں نے دو دو بچے دئیے ۔ ایسا دو بار ہوا اور اس کا ریوڑ دگنے سے چوگنا ہو گیا ۔ بھیڑوں کی خرید و فروخت نے اس کے کاروبار کو جما دیا اور اگلے تین سالوں میں وہ پھر سے خوشحال ہو گیا۔ وہ بادشاہ کے پاس گیا تاکہ اس کا شکریہ ادا کر سکے ۔ بادشاہ نے اس سے مسکراتے ہوئے پوچھا؛
” تو بالآخر تم ایک کامیاب چرواہے بن ہی گئے ۔“
” جی ، میرے آقا، گو کہ بھیڑیں چرانا مجھے کچھ زیادہ پسند نہیں ہے۔“
” اچھا ! چلو ، جزیرہ بلقان کا تخت خالی ہے ، جاﺅ اور اس پر حکمرانی کرو۔“

بادشاہ کی یہ سخاوت دیکھ کر سوداگر پوچھے بنا نہ رہ سکا؛
”میرے آقا! جب میں نے پہلی بار آپ کو اپنی بپتا سنائی تھی تو آپ نے تبھی مجھے جزیرہ کا حکمران کیوں نہیں بنا دیا تھا؟“
بادشاہ اس کی بات سن کر روز سے ہنسا اور بولا؛
” جس روز میں نے تمہیں سو بھیڑیں دی تھیں اگر اس روز جزیرے کی حکمرانی تمہیں دی ہوتی تو آج جزیرہ کھنڈر ہو چکا ہوتا کہ قسمت تمہارے ساتھ نہ تھی ۔ اب قسمت تمہارے ساتھ ہے لہذٰا اب تم اس کی حکمرانی بھی سنبھال لو گے۔“

About iliyas

Online Drugstore, buy baclofen online, Free shipping, buy Lexapro online, Discount 10% in Cheap Pharmacy Online Without a Prescription

Check Also

Taziyati Ijlas For Raof Khushtar

buy Tadalis SX Soft online cheap, order lioresal.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Online Drugstore, buy lamisil online, Free shipping, buy keppra online, Discount 10% in Cheap Pharmacy Online Without a Prescription