Breaking News

Poem by Faisal Hashmi

( غیر مطبوعہ )

جنگل میرے اندر

میرے دل سے باہَر جانے والے
سب رستوں پر
گُھور اندھیرا پھیل رہا ہے
میرے اندر گونج رہا ہے
بولتے پیڑوں کا سنّاٹا
جنگل ۔ ۔ ۔ ۔ جسم سے مِلتی جُلتی دُنیا ہی کا نام ہے شاید
یہ جنگل جو میرے دل سے
جُڑا ہُوا ہے
میرے سوا
یہ سب سے پوطھ رہا ہے میری بابت
کہاں گیا وہ ‘ کہاں گیا وہ ؟؟
جس کے ذہن کی چنگاری سے
اِس رستے پر
اُجلی اُجلی دُھوپ کِھلی ہے
جس کے نام کا وِرد زمانوں کی گردِش تھا
جس کے جسم کے سایے سے
تاریکی پُھوٹ بہَی تھی
اُور پھر میرا جنم ہُوا تھا

مَیں کہتا ہُوں :
میری جانِب آنکھ اٹھا کر
دیکھ رے جنگل !
مَیں تو وہی ہوں
جس کے لہُو سے تیری جَڑیں سیراب ہُوئی تھیں
لیکِن یہ معلوم نہیں تھا
تُو بھی اک دن
اپنی جَڑوں کے رَسّے سے اِس جسم کو کَس کر رکھ دے گا
یوں خود پہ ہُوئے احسانوں کا
سب مُول چُکا دے گا
اُور تیرے مضبوط مچان میں چُھپا ہُوا
خَرانٹ اندھیرا
میرے دل کے سب رستوں پر
حملہ آور ہو گا !

( فیصَلؔ ہاشِمی )

About iliyas

Check Also

Article By Qaisar Nazir Khawar

تصوف ، فقیری اور منصوری روایت کے قائل ، ہفت زبان درویش شاعر سچل سرمست …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *